57

ویدوں کا سندھو دریا

ایک رشی نے رگ وید میں گنگا ، جمنا ، سرسوتی ، درشدنی اور پنجاب کی پانچ ندیوں کا ایک ہی سوکت (75) کا جائزہ لیا ہے ۔ لیکن سندھو ندی کی تعریف کرتے ہوئے اس کا جی نہیں بھرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے ، سندھو ندی تو اجیت ہے (کسی کے جیتنے والی نہیں) وہ سیدھی بہتی ہے ۔ اس کے پانی میں تیزی بہت ہے ۔ اس کا رنگ سفید و روشن ہے (پانی سا میلا نہیں ) اور وہ بڑی ندی ہے اس کے پانی میں تیزی بہت ہے اور چاروں طرف سیلاب لاتی ہے ۔ جو بھی محترک چیزیں ہیں اتنی تیز رفتار نہیں ہیں جس طرح یہ یہ سندھو ہے ۔ 
ٰٓوہ رشی مزید لکھتا ہے کہ اے سندھو تو میدانوں میں بہتی ہے تب اپنے ساتھ بے شمار کھانا لاتی ہے (یعنی تیرے پانی سے بے شمار فضلیں ہوتی ہیں) ۔ تیرا پانی اتم ہے اے سندھو تیری خوبصورتی کا موازنہ کیا جائے تو نویلی دلہن جیسی ہے ۔ سندھو تم سدا جوان سدا خوبصورت ہو ۔ 
وہ مزید لکھتا ہے سندھو کی گرج سے زمین کانپ اٹھتی ہے اور اس سے آسمان بھر جاتا ہے ۔ سندھو نہایت زور سے بہتی ہے وہ سندر دیکھتی ہے ۔ اس کے پانی کی آواز آتی ہے جو دل کو یوں لگتی ہے جیسے گویا برسات کے پرنالے گرج کر برس رہے ہوں ۔ دیکھو سندھ بیل کی طرح دکاڑتی ہے ۔ 
اے سندھو جس طرح دودھ دیتی گائیں دودھ سے بھرے تھنوں کے ساتھ اپنے بچھڑے کی طرف ڈورتی ہیں ، اس طرح دوسری ندیاں علحیدہ علحیدہ جگہوں سے پانی لے کر تمہاری طرف ڈکارتیں ہوئی آتی ہیں ۔  
اے سندھو ، جس طرح کوئی راجہ جنگ کرنے کے لیے نکلتا ہے اور اس کے پیچھے لشکر ہوتا ہے ۔ اس طرح تو بھی ( شان و شوکت سے) ندیوں کے آگے پیشوا بن کر چلتی ہے اور دوسروں ندیاں ایک قطار میں تیرے پیچھے اس طرح چلتی ہیں گویا ایک ہی رتھ میں سوار ہو ۔
اس وقت دریائے سندھ مٹھن کوٹ کے مقام پر پنجاب کے دریاؤں کے ساتھ مل کر ایک دریا کی صورت میں آتی ہے ۔ لیکن رگ وید کے زمانے میں اس کی بہت سی شاخیں بن جاتی تھیں ۔ اس لیے اسی دسویں منڈل میں سوکت 75 میں کہا گیا ہے کہ سندھو ورن دیوتا نے تیرے لیے بہت سارے راستے بنائے ہیں ۔ ان راستوں کا تذکرہ پارسی پستکوں میں بھی ملتا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں