45

ویدوں کے دوسرے درجہ کے دیوتا

اشیا کی تفریق و تقسیم کبھی قابل اطمنان طریقے پر نہیں ہوسکتی اور خرابی یہ ہوتی ہے جن اشیا کو متبادل قرار دیا جائے ۔ ان میں کچھ نہ کچھ فرق رہ جاتا ہے اور ایک تقسیم سے وہ بالکلیہ متعلق نہیں ہوسکتیں ۔ لیکن جب مواد بہ کثرت ہو اور اس میں سے تھوڑا سا انتخاب نہ کرنا ہو تو کسی اصول تقسیم و تفریق کی ضرورت لازمی ہوتی ہے ۔ خوا اس میں کتنا ہی سقم ہو اشتباہ کی گنجائش ہو ۔ یہ دقت ہر اہم مضمون میں ہوتی ہے ۔ خصوصاً رگ وید میں جس کے مطالبہ میں ہزاروں دقتیں پیدا ہوتی ہیں اور اس کے مضامین کی تفریق و تقسیم کرکے ان کو عام فہم بنانا سخت دشوار ہوتا ہے ۔ کیوں کہ عام فہم سے یہ مراد ہوتی ہے کہ کسی خاصٓ فن کے ماہرین کے نتائج افکار کو اس طور پر پیش کیا جائے کہ معمولی قابلیت کے ناظرین اس کو آسانی سے سمجھ سکیں ، مگر ایک ایسے فن کے نتائج کو عام فہم بنانا جن کے متعلق ابھی یقین نہیں ہے اور بھی مشکل ہے ۔ کیوں کہ ابھی تک تلاش و جستجو جاری ہے ۔ علما اپنے قیاسات کا ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنی غلطیون تضیح کر رہے ہیں ۔ اس لیے مستشرقین میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ہند قدیم کے متعلق اگر کوئی کتا ب لکھی جائے تو آخر باب تک پہنچتے پہنچتے پہلے باب پر نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیے مناسب یہ ہے کہ ایک خاص طریقہ تفتیش اختیار کرلیا جائے اور ہر واقعہ کی خوب چھان بین کی جائے اور ان کی تفریق کی جائے ۔
یہ خیال رکھنا چاہیے کہ بعد کے چھوٹے دیوتا کا اطلاق ہمیشہ ایک ہی دیوتا پر نہیں ہوسکتا ہے ۔ کیوں کہ جس حد تک کسی دیوتا کا تخیل تنہا ہوتا جاتا ہے تو مناظر فطرت سے اس کا ابتدائی تعلق دور ہوتا جاتا ہے یا اس منظر کے کسی چیز پر زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ اس حد تک ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ بعد کے زمانہ کا ہے ۔ مثلاً آسمان کے دیوتا وارن کا اعلیٰ اخلاقی تخیل آسمان کے قدیم دیوتا دیاؤس سے پیدا ہوا ہے ۔ جس کے شروع میں فقط آسمان مراد تھا ۔ یا اگر ہم ان تین دیویوں کا ذکر پڑھیں جس سے مراد چاند کی تین کیفیتوں (بڑھنا ، پورا ہونا اور گھٹنا) سے ہے ۔ تو ہم اس سے یہ نتیجہ نکلا سکتے ہیں کہ ان دیویوں سے پہلے کسی وقت چاند کی پرستش ضرور ہوتی ہوگی ۔ گو ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ یہ ارتقاء کس وقت عمل میں آیا اس وقت سے ہم بالکل ناواقف ہیں ۔ اور اگر اندرونی شہادتوں کی بنا پر ہم کچھ قیاس کرسکتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ رگ وید کا فلاں حصہ یا فلاں بھجن یا فلاں دیوتا یا تخیل نہایت قدیم ہے یا قدیم یا بعد یا بہت بعد کا ہے ۔ حالانکہ ان عہدوں میں صدیوں کا فرق ہے ۔ قدیم ترین یا جدید ترین ایسے الفاظ کا استعمال بے جا ہوگا ۔ کیوں کہ ان کی حدودوں سے ہم بالکل ناواقف ہیں ۔ 
چھوٹے دیوتاؤں کی تعریف میں بھی تاویل کی ضرورت ہے ۔ اول تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بڑے اور چھوٹے میں تمیز کا کیا معیار ہے ۔ یہ معیار صرف ایک ہی ہے اور نہایت سادہ یعنی یہ کہ رگ وید میں کسی خاص دیوتا کی کیا قدر منزلت ہے ۔ کتنے بھجن اس کی تعریف میں ہیں ؟ دوسرے دیوتاؤں کے بھجنوں میں اس کا نام کثرت سے آیا ہے یا نہیں ؟ یہ معیار بظاہر جامع و مانع نہیں ہے ۔ مگر بہ حثیت مجموعی اس میں دھوکا نہیں ہوتا ہے ۔ اس معیار کے لحاظ سے ویدیوں کے دیو مالا کے تین رکن اراکین اندر ، اگنی اور سوما ہیں ۔ ایک دوسرا معیار یہ ہوسکتا ہے کہ بھجنوں میں کسی خاص دیوتاؤں کی تعریف و توصیف میں کس قدر جوش ظاہر کیا گیا ہے اور مختلف دیوتاؤں سے کیا کیا قوتیں منسوب کی گئی ہیں ۔ مگر پرانے رشیوں میں ایک نقص (اب بھی یہ نقص موجود ہے ۔ ہندو جس دیوتا کی پوجا کرتے ہیں اس کو دوسروں برتر بتاتے ہیں) تھا کہ وہ جس دیوتا کی تعریف کرتے اسے دوسروں سے خوب بڑھا چڑھا دیتے اور یکے بعد دیگر ان کے ساتھ عالم کا پیدا کرنا تک منسوب کر دیتے ہیں ۔ مثلاً آسمانوں کو پھیلانا ، زمین و آسمان کو الگ رکھنا بلکہ دوسرے کو پیدا کرنا یا کم از کم اس سے قدیم تر ہونا ۔ اس لیے پہلے معیار کو ترجیع دی ہے ۔ مگر یہ معیار اس زمانے کے متعلق کام دیتا ہے جب کہ بھجنوں کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا اور رگ وید کی تکمیل ہوئی تھی ۔ مگر اس زمانے سے قبل ایک عہد ہے ۔ جس کے حالات ہم پر کبھی دریافت نہیں ہوسکیں گے ۔ اس کے بعد بھی ایک وسیع عہد ہے جس میں رگ وید کے مذہب نے برہمنوں اور ہندوؤں کے مذہب کا رفتہ رفتہ جامہ پہن لیا ۔ اس لیے ویدک دیو مالا کے بعض دیوتا اور افسانے نہایت قدیم ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اس وقت وجود میں آرہے تھے ۔ طبقہ اول میں علاوہ دوسروں کے غالباً پراجنیا اور ردرا ہیں ۔ اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو رگ وید میں ردرا کی عظمت معرض التوا میں تھی ۔ مگر بعد کے زمانے میں اس کی عظمت پھر ہونے لگی اور وہ برہمنوں کی تری مورتی (تثلیث) کا مہیب رکن شیو ہوگیا ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں