72

ویدک سے سنسکرت

اس زبان میں آریاؤں کی مذہبی کتاب اس زبان میں لکھی گئی تھی ۔ ایک غلط خیال کے تحت ویک زبان کو سنسکرت کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ سنسکرت بعد کی زبان ہے اور یہ زبان ویک سے نکلی ہے ۔ آریاؤں کی زبان ویدک نہیں تھی بلکہ یہ مذہبی طبقہ کی زبان تھی ۔ اس کے الفاظوں کا ذخیرہ محدود ہونے کی وجہ سے روز مرہ کی ضرورتیں پوری نہیں کرسکتی ہے ویدوں میں ایسے بہت کم الفاظ ملتے ہیں جن سے عام لوگوں کی صوتی خصوصیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ یہ عام لوگوں کی بولی نہیں معلوم ہوتی ہے بلکہ ایک خاص جماعت (پروہت) کی بولی ہے ۔ یعنی اوستا کی طرح کسی علاقہ کی نہیں بلکہ مذہبی علوم کی جماعت تھی ۔ وید ایران کی اوستا سے قریب تھی ۔ جب کہ سنسکرت قدیم فارسی کے قریب ہے ۔
تحریر
ہندوستان میں ۵۰۰ ق م میں تحریر کا علم آیا ۔ رگ وید کا سب سے قدیم نسخہ ۱۵۰۰ء کا ہے ۔ حالانکہ رگ وید کی بعض رچائیں ۱۵۰۰ ق م پائی گئیں ہیں اور اس کے درمیان ۳۰۰۰ ہزار سال وقفہ ہے ۔ تین سو برس قبل مسیح سے پہلے کوئی کتبہ ہندوستان میں نہیں پایا جاتا ہے اور یہ کتبے بھی راجہ اشوک کے ہیں ۔ راجہ اشوک (۲۵۹ تا ۲۲۲ق م) نے اپنی عظیم انشان سلطنت کے بہت سے حصوں میں یہ کتبے نصب کروائے تھے ۔ ان کتبوں میں دو طرح کے رسم الخط پائے جاتے ہیں ۔ ایک تو خروشتی جو دائیں بائیں لکھا جاتا تھا جو شمال مغربی علاقوں کے کتبوں میں ملا ہے دوسرا بائیں سے دائیں لکھا جاتا تھا اور کہلاتا تھا اور برصغیر کی زبانوں کی ضرورت کے مطابق تھا ۔ اسی رسم الخط سے ہندوستان کے دوسری رسم الخط اور دیو ناگری نکلا ۔ جس کو بعد میں سنسکرت لکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ۔
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں کتبات تیسری صدی ق م سے پہلے لکھے گئے ہیں ۔ لیکن تجارتی مقاصد کے لیے تحریر استعمال ہوتی رہی تھی ۔ اگرچہ میگاستھر کا کہنا ہے کہ اہل ہند لکھنا نہیں جانتے ہیں اور ان کے قوانین تحریر شدہ نہیں ہیں ۔ لیکن نبارکس سکندر کے سالار نے لکھتا ہے کہ ہندوستانی کپاس کو خوب کوٹ کر اس پر لکھا کرتے ہیں ۔ ایسا یونانی سیاح بھی بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان میں میلوں کے پتھر اور مویشیوں کو شمار کرنے کے خاص نشانات ہوتے تھے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سکندر کے حملہ سے بہت پہلے فن تحریر ہندوستان پہنچ چکا تھا ۔ مگر علمی استعمال نہیں کیا جاتا تھا اور دہرم شاستروں کو تحریر نہیں ہوتی تھیں ۔ اگرچہ ہندوستان میں علم و ادب کے لیے تحریر استعمال ہوتی تھی ۔ 
ہندوستان میں تحریر کا جو سب سے قدیم ثبوت ملا ہے وہ ایک رسالہ ’سیلس’ ہے ۔ جو تیرہ مکالمات ستنتون یا مکالمات بدھ کا پہلا باب یا حصہ ۔ یہ رسالہ غالباً بدھ کی موت کے بعد سو سال کے اندر یا اس سے کچھ پہلے کتاب کی شکل میں موجود ہوگا ۔ اس رسالے میں بدھ کے ابتدائی چیلوں نے اس کے مکالمات کو جمع کیا تھا اور سیلس کی تدوین کی تاریخ ۴۵۰ ق م خیال کی جاتی ہے ۔ اس رسالہ میں ان چیزوں کا ذکر ہے جن کی بدھ کیش کے اراکین کو اجازت نہیں تھی ۔ ان ممنوع چیزوں میں کھیلوں کی ایک فہرست شامل ہے ۔ ان میں ایک کھیل کو ’اک کھریکا’ (حروف بنانے) کا نام دیا گیا ہے اور اس کی تشریح یوں کی گئی ہے ان حروف کا قیاس کرنا جن کی شکل ہوا میں یا کسی ہمجولی کی کمر پر بنائی جاتی تھی ۔ چونکہ یہ اک کھریکا بچوں کی کھیلوں کی فہرست میں شامل ہے اس لیے اک کھریکا کو بھی تقریباً بچوں کا کھیل تصور کیا گیا ہے ۔ بچوں کے لیے ایسا کھیل ایجاد کرنا اور حروف بنانے سے موسوم کرنا دلیل ہے کہ اس زمانہ میں لوگ حروف تہجی کے بارے میں جانتے تھے اور اراکین کیش کے لیے انہیں ایک کتاب میں جمع کرنا اور اس کا نام وینائے (تربیت) رکھنا تحریر (لیکھا) کو دینائے میں ایک ممتاز نوع کا فن قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو بھی اس فن کو سیکھنے کی اجازت تھی ۔ مجرموں کو کیش داخل کرنے کی ممانعت تھی ۔ لڑکے کے پیشہ کے انتخاب میں والدین کا کہنا تھا کاتب کا پیشہ اختیار کرنے سے زندگی عیش و آرام سے گزرتی ہے ۔ لیکن اس میں انگلیاں درد کرتی ہیں اور ایک اور جگہ آیا ہے کہ بدھ کیش کا کوئی رکن کسی کو خودکشی کے فوائد لکھ کر بھیجے گا تو اس کے ہر حروف سے ایک خطا سرز ہوتی ہے ۔
ان مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتابت کا فن رواج پاچکا تھا ۔ جس میں سرکاری اعلانات اور خط و کتابت کا کام لیا جاتا تھا اور یہ ایک معزز پیشہ یا ذریعہ معاش تھا اور اس کی تحصیل میں مرد و عورتیں سب حصہ لیتے تھے ۔ لیکن اسے اس منزل تک پہنچنے میں کئی صدیاں لگی ہوں گیں ۔ لیکن باوجود مختلف اعلانات اور تحریروں کے اس کا استعمال کتابیں لکھنے کے لیے استعمال نہیں ہوا تھا ۔ اس رسالے میں بھی بدھ کیش کے لیے احکامات و ہدایات ہیں مگر کتابیں لکھنے کی کوئی شہادت نہیں ملتی ہے ۔ عجیب بات ہے اہل ہند لکھنے پڑھنے کے فن سے آشنا ہونے کے باوجود انہوں نے کتابیں لکھنے سے احتراز کیا ۔ حالانکہ وہ صدیوں پہلے لکھنا اور پڑھنا سیکھ چکے تھے ۔ اس کی دو وجوہ ہوسکتی ہیں ۔  
اول ان لوگوں نے فن تحریر سے آشنائی سے صدیوں بہت پہلے لوگ حافظہ کی مدد سے اپنے علمی و ادبی خیالات کو محفوظ رکھنے میں کمال حاصل کرلیا تھا اور وہ اسے آسانی سے خیرباد نہیں کہہ سکتے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے ان سے دوسرے بھی آگاہ ہوں اور وہ شاید کتابوں لکھنے کے سامان سے نا آشنا ہوں ۔ بعد مین نوکیلے قلم کی مدد سے پتوں یا چھال کے ٹکروں پر خاص کر صنوبر یا بید کی چھال پر بغیر سیاہی کے گھسیٹ کر لکھا جاتا تھا ۔ چھال یا تاڑ کے پتوں پر جو قدیم ترین قلمی نسخے پتھر اور دھاتوں پر کندہ ابتدائی تحریریں بدھوں کی ملی ہیں ۔ یعنی بدھوں نے سب پہلے اپنے مذہب کے ضخیم لٹریچر کو تحریر کے ذریعے محفوظ کیا تھا ۔ مگر پرہتوں اور پجاریوں نے اپنے لٹریچروں میں محفوظ نہیں کیا اور تحریر ہندوؤں میں تحریر کا سب سے پہلے ذکر ایک کتاب ’واشٹھ دھرم سوتر’ جو کہ متاخر عہد کی قانونی کتاب میں ملتا ہے اور یہ کتاب بدھوں کی کتابوں کی تصنیف کے بہت بعد میں لکھی گئی تھی ۔       
پجاری اور پروہت جن کے روزگار کا دارو مدار مذہبی اور قربانی کی رسوم پر تھا اور انہیں برہمن زبانی یاد رکھتے تھے کہ دوسروں کی دسترس سے دور رہیں ۔ بہت بعد ہندوؤں کی قانونی کتب لکھی گئیں اور ان قواعد و ضوابط کو تحریری شکل میں لایا گیا ۔ ان کتب میں تعلیم کا مورثی حق صرف برہمنوں کو عطا کرکے ان کے تقدس نے انہیں دیوتا بنا دیا گیا ۔ تعلیم عام ہونے سے برہمنوں کو خطرہ تھا کہ کتابیں عام لوگوں کے ہاتھ میں چلی جائیں گیں اور وہ اپنی وافر آمدنی سے ہاتھ دھولیں گے اور ان کے تقدس کو مجروع ہونے کا زبردست خطرہ تھا ۔ 
برصغیر میں ابتدا میں اینٹیں اور تختیاں اور مہریں پائی گئی ہیں اور ان پر جملے کندہ ہیں اور یہ معماروں نے لکھے ہیں ۔ یہ چھوٹے اور معمولی فقرے ہیں ۔ اس طرح عام لوگ بھی مٹی کی تختیوں کو مختصر عبارتیں لکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے ۔ بعد کے دور میں تانبے اور سونے کی تختیوں کو بھی لکھنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے ۔ یہ تختیاں اکثر ان عطیات کے بارے میں ہیں جو مختلف راجاؤں نے برہمنوں اور دوسرے لوگوں کو دیئے تھے اور یہ تختیاں مختلف نمونوں کی ہیں اور مختلف جگہوں سے ملی ہیں ۔   
برصغیر میں تحریر کا سب سے قدیم قلمی نسخہ ختن سے تیرہ میل کے فاصلہ پر گوسنگ دھار کے کھنڈروں سے ملا تھا ۔ یہ نسخہ صنوبر کی چھال پر خروستی ابجد میں سیاہی سے لکھا گیا تھا ۔ یہ نسخہ سن عیسوی سے کچھ پہلے یا بعد میں گندھارا میں لکھا گیا تھا ۔ اس میں بدھ مذہب کے اصولوں کو نظم کی صورت پالی میں لکھا گیا تھا ۔ 
دوسرا قلمی نسخہ قدامت میں بہت بعد کا ہے ۔ اسے کیپٹن باور نے گوچار کے قریب سے دریافت کیا تھا ۔ یہ نسخہ چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی میں بید کی چھال پر سیاہی سے لکھا گیا تھا ۔ اس میں سانپ کو مسحور کرنے کے منتر اور طبی نسخے درج ہیں اور یہ نسخہ پانچ چھوٹے چھوٹے مختلف رسالوں پر مشتمل ہے اور اس کی زبان قدیم سنسکرت ہے اور اس نسخہ کی سنسکرت بھی اچھی نہیں ہے اور اس میں روز مرہ کے بہت سے فقرے درج ہیں ۔ یہ نسخہ چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی میں بید کی چھال پر سیاہی سے لکھا گیا تھا ۔ اس میں سانپ کو مسحور کرنے کے منتر اور طبی نسخے درج ہیں اور یہ نسخہ پانچ چھوٹے چھوٹے مختلف رسالوں پر مشتمل ہے اور اس کی زبان قدیم سنسکرت ہے اور اچھی سنسکرت نہیں ہے ۔ اس میں روز مرہ کے بہت سے فقرے درج ہیں ۔
گوسنگ کے نسخہ کی زبان پالی ہے اور باور کے نسخے کی زبان سنسکرت ہے ۔ عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ سنسکرت پالی سے قدیم ہے ۔ اس لیے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا تھا ہے کہ باور کے نسخہ کی عبارت زیادہ قدیم ہوگی ہے ۔ لیکن تحقیقات سے پتہ چلا کہ گوسنگ کا نسخہ اور اس کی نظمیں بھی باور کے نسخہ سے بھی زیادہ قدیم ہیں ۔ سنسکرت جسے پالی سے زیادہ قدیم زبان سمجھا ہے ۔ حالانکہ اصولاً پالی میں سنسکرت کی آمزش ہونی چاہیے ۔ لیکن اس کے برعکس قدیم سنسکرت کے سب سے قدیم کتبات اور نسخوں کی زبان ناقص اور غلطیوں سے بھری ہوئی ہے اور اس میں پالی کے محاوروں اور نحوی ترکیبوں کی آمزش ہوتی تھی ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس وقت تک سنسکرت اس قابل نہیں ہوئی تھی کہ وہ پالی سے مدد لیے بغیر اظہار کا ذریعہ بن سکے ۔ اگرچہ پالی اپنے ابتدائی دور میں بھی اغلاط سے پر تھی ۔ اگر پانی سنسکرت کی صرف و نحو ترتیب دے چکا تھا تو پالی نے جو آریائی زبان ہے سنسکرت سے اکتساب کیوں حاصل نہ کیا ۔ اس لیے اشوک کے کتبے اور دوسرے کتبات مثلاً ساکیہ کے استوپ کے ایک برتن کے کتبے کی زبان غلطیوں بھری ہوئی ہے ۔ 
اشوک کے کتبوں کے بعد جو کتبے ملیں ہیں وہ پالی میں ہیں ۔ یہ سلسلہ دوسری صدی عیسوی تک جاری ہے ۔ البتہ کبھی کسی کتبہ میں کوئی سنسکرت (ویدک) کا نظر آجاتا تھا ۔ خالص سنسکرت (ویدک) کا سب قدیم کتبہ رور دامن کا کندہ کرایا ہوا اور کاٹھیاواڑ کے علاقے میں دریافت ہوا ہے ۔ جس پر (بلاشک و شبہ سمت ساکا) کا ۷۶ء؁ پڑا ہوا ہے ۔ لہذا یہ سن عیسوی کی دوسری صدی کے وسط سے تعلق رکھتا ہے ۔ جب کہ اشوک کو گزرے ہوئے چار صدیاں گزر چکی تھیں اور دیسی زبان کا استعمال اگرچہ ہنوز جاری تھا ۔ لیکن ویدی زبان کو اظہار علمیت کے لیے موڑ توڑ کر کتبوں میں استعمال کیا جانے لگا ۔ پانچویں صدی عیسوی کے بعد مردہ ویدی زبان نے جب دوسری زبانوں کے الفاظ کے خزانے کی بدولت وسیع و فصیح ہوئی تو سنسکرت کہلائی اور اس کی حکومت کا ڈنکا بلا شرکت غیر سے بجنے لگا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ویدی زبان علمی کاموں میں استعمال کی جاتی تھی ۔ 
سنسکرت میں لکھا گیا سب سے پہلا سکہ مغربی کشترب خاندان کا جس کی تاریخ لگ بھگ ۲۰۰ء؁ ہے ۔ اس سکے سے پہلے کے سکوں کی عبارت یا تو پالی میں ہوتی تھی یا کسی اور دیسی زبان میں ۔ کہیں کہیں کسی سکے پر ایک آدھ حروف ویدی زبان کا نظر آتا تھا ۔ یہ حروف دارالضرب کے افسروں یا عمال کی خواہش کا اظہار ہوتا تھا ۔ لیکن عام لوگ سکوں پر سنسکرت کی عبارتوں کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ اس لیے وہ ویدی سنسکرت زبان میں سکوں کی عبارت لکھنے سے پرہیز کرتے تھے ۔ 
پانچویں صدی عیسوی تک ویدی سنسکرت ایک مردہ زبان کی حثیت رکھتی تھی ۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اسے درس و تدیس کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ۔ کیوں کہ سنسکرت اس قابل نہیں تھے اور ویدی زبان فہم سے باہم ہوچکی تھی ۔ ہم اس بارے زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ زبان صرف رٹا لگانے مروج تھی لیکن اس میں تعلیم نہیں دی جاتی تھی اور ویدک مردہ زبان تھی جو بھینٹ چڑھانے یا قربانی میں مستعمل ہوتی تھی جب کہ مختلف کتابیں پالی زبان میں لکھی جارہی تھیں ۔ سنسکرت کو کچھ امتیاز و تقدس حاصل تھا وہ زیادہ تر مذہبی نوعیت کا تھا اور مذہبی طبقہ ہی اس کا محافظ تھا ۔ اس لیے کسی خاص دیسی بھاکا کے مقابلے میں تعلیم یافتہ طبقے سے اس زبان میں زیادہ وسیع دائرے سے خطاب کیا جاسکتا تھا اور اپنا اثر ان پر ڈالا جاسکتا ہے ۔ لیکن جن لوگوں نے مذہبی زبان کے بجائے پہلے پہل دیسی یا ملکی زبان سے کام لیا وہ عام لوگوں کو مخاطب اور انہیں اپنے خیالات سے متاثر کرنا چاہتے تھے ۔ یہ اپنی دانست میں ایسے خیالات کی اشاعت کرنا چاہتے تھے جسے وہ اصلاحات سے تعبیر کرتے تھے ۔ 
ویدوں ترجمہ اور تفسیر
ویدوں کا پڑھنا اور پڑھانا ہمیشہ برہمنوں کی ذات سے وابستہ تھا اس لیے یہ صرف برہمنوں تک محدود رہا ۔ ویدوں تفسیریں اور ترجمہ جس قدر لکھے گئے ہیں وہ سب برہمنوں نے لکھے ہیں ۔ ویدوں کی پہلے پہل شت پتھہ ، اتیرے ، گوپتھ ، سام و دھان چار تفسیریں لکھیں گئیں ۔ ان کے بعد راون ، اوٹ اور مہی دہر وغیرہ نے سنسکرت میں ترجمہ کیا ۔ تقریباً ۱۳۰۰ء؁ اسلامی سلطنت کے عہد میں سائیں اچاریہ نے جو بیجانگر کے وزیر کا بھائی تھا کئی ہزار برہمنوں کو ملازم رکھ کر ان سے ویدوں کی تفسیر لکھوائی ۔ 
یہ تفسیر تین حصوں میں منقسم ہوئی ۔ پہلے حصہ میں ہرجملے کا ترجمہ اور موقع محل پر تفصیل و تشریح درج کی گئی ۔ دوسرے حصہ میں صرفی قواعد نحوی ترکیب معقولی قوانین اور تیسرے حصہ میں سنسکرت محاورات درج کئے ۔ جس میں وید کے منتروں کو بڑی احتیاط سے درج کیا اور احتیاط کی گئی کہ کسی لفظ میں کمی و بیشی نہ ہوپائے اور آسان ترجمہ کیا کہ ہر شخص کی سمجھ میں آجائے اور حل طلب مضامین کی تفصیل و تشریح بھی ہو ۔ اس لیے ہندوؤں نے اس تفسیر کو پسند کیا اور دوسری تمام تفسیروں پر اس تفسیر کو ترجیع دی ۔ اس تفسیر کا بنگالی ، جرمنی ، انگریزی وغیرہ میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے ۔ 
آریہ سماج کا بانی دیانند سرستی جس کا دعویٰ تھا اس کے دھرم کی بنیاد ویدوں پر ہے ۔ وہ وید منتروں کا ترجمہ و تفسیر اپنے فہم کے مطابق کرتا تھا اور دوسرے اس سے متفق نہیں ہوتے تھے ۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اگنی ، وایو ، ادیتھ اور انگرا رشی کے برابر کوئی نہیں تھا اور یہ لوگ پاک صاف جیون رکھنے والوں پر پرماتما نے ان کی آتما میں ایک ایک وید ظاہر کیا ۔ 
سناتن دھرمیوں نے اس دعویٰ کی تردید کی کہ یہ بات غلط ہے ۔ وید روحانی قوانین کا مجموعہ ہے اور اسے مختلف زمانوں میں مختلف مدوؤن کی ہے ۔ ان کی تدوین کرنے والے رشی تھے ۔ جن کو ہم معزز ممتاز اور کامل سمجھتے ہیں اور بلند آواز سے کہنے کو تیار ہیں کہ اعلیٰ درجہ کے تدوین قانون میں عورتیں بھی شامل ہیں ۔ یہ فخر بجز اہل ہنود کے اور کسی اہل مذہب کو حاصل نہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر منتر کی پیشانی پر اس دیوتا کا نام جس کی تعریف میں وہ منتر تصنیف کیا گیا اور تصنیف کرنے والے کا نام لکھا ہوا ہے ۔ جس کو دیکھنا ہے وہ ان ویدوں کو دیکھ لے ۔ 
دیانند سرستی نے سناتن دھرمیوں کی ترید میں کہا کہ منتر کی پیشانی پر جو نام لکھا ہے وہ اس رشی کا ہے جس کو ابتدا میں اس منتر کا علم ہوا اور اس نے اس منتر کو دوسروں پر ظاہر کیا اور منتر پیشانی پر مداح اور ممدوح کے علاوہ راگ ، سر اور تال کا حوالہ بھی درج کیا ہے  تاکہ گانے والوں کو کسی قسم کی دقت نہ ہو ۔ چوںکہ گانے والے گانے شروع کرنے کے قبل بے معنی الفاظ کا استعمال اس لیے ضروری سمجھتے ہیں کہ آواز کو سنبھالیں ۔ جیسے کہ قوال ا ، آ ، آ ، اہی ، واکتھک تاتہی تہی تہیا ۔ ستاریہ ڈاڈور ڈارا ، ہارمونیم بجانے والے گا ما پادنی وغیرہ کہہ کر گانا بجانا شروع کرتے ہیں ۔ اس طرح قدیم زمانے میں رگ وید اور یجر وید کے گانے والے اوم کہہ کر گانا شروع کرتے تھے ۔ دیانند نے اوم پیدا کرنے والے نام بتلا دیا ۔ لیکن وہ یہ بتلانا بھول گئے کہ ہیں کس کا نام ہے جس کو یجر وید گانے والے استعمال کرتے ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں