100

ویدی داستانوں کی خصوصیت

قدیم زمانے کی داستانوں میں فطرت کے واقعات جو روزانہ یا سالانہ پیش آتے ہیں ۔ مثلاً دن اور رات اور سردی ، گرمی اور بہار کو جنگ کی صورت تاریخی واقعہ کی طرح پیش کیا گیا ہے ۔ چنانچہ بعض قدرتی واقعات کو ان لڑائیوں کے ساتھ آمزیش کردی گئیں جو کبھی ہوئیں تھیں ۔ لہذا رفتہ رفتہ لوگ حقیقی واقعہ کو بھول گئے ہیں اور فطرت کے درمیان جنگوں مثلاً رات کے بعد دن کی آمد یا سردی کے بعد بہار کی آمد کو جنگ یا کشمکش کا نتیجہ بتایا گیا ۔ اس طرح ویدیک زمانہ میں کوئی لڑائی کا نتیجہ یا دشمنوں کو نقصان پہنچانے کا فعل اندر کا کارنامہ پیش کیا جاتا تھا ۔ طوفان کا قصہ جو مختلف ملکوں اور قوموں میں ملتا ہے یہ اصل کسی طوفان خیز بارشوں کے واقعات ہیں جو قدیمی داستانوں نے بیان کیے ہیں ۔ آسمان اور زمین کا جدا ہونا ، سیاہ تاریک رات وقت ایسا لگتا ہے کہ آسمان نے زمین کو دھانپ لیا اور دونوں مل کر ایک ہوگئے ۔ صبح صادق اور پھر دن نمودار ہونا کا نظارہ اور پھر شفق کا نمودار ہونا اور اس کا اپنی چمکیلی کرنوں سے سیاہ رات کے پردے کو ہٹانا اور پھر چھوٹا سا بچہ پست قامت (سوریا) یک لخت نکل آتا ہے اور افق کے نیچے سے آسمان کی طرف کرنوں کے تیر چلا کر رات کو آسمان سے دور بھگا دیتا ہے اور روشن دن پرندے کے طرح زمین پر آجاتا ہے اور صبح کے آسمان پر ہیبت ناک شکل میں نمودار ہوتا ہے ۔ اب شفق بھی بھاگ جاتی ہے ۔ آسمان زمین کے اوپر بہت اٹھ کر بلند ہوجاتا ہے اور سورج موجودہ اونچائی تک آسمان کو پہنچا کر خوشی خوشی خراماں سفر کرتا ہے ۔
رگ وید میں آسمان اور زمین کا جدا ہونا اور الگ رہنا کئی جگہ آیا ہے اور یہ دیوتاؤں کا کارنامہ کہا گیا ہے ۔ اس طرح اگنی دیوتا زمین کو پکڑے ہوئے اور آسمان کو سہارا دیتا ہے ۔ ایک جگہ اندر انہیں الگ کرتا ہے ۔ ایک اور جگہ سوم دیوتا یہ کام کرتا ہے اور دیوتا بھی یہی کام انجام دیتے ہیں ۔ ایتری برہمن میں ہے کہ زمین و آسمان ملے ہوئے تھے اور الگ الگ چل پڑے تو نہ تو بارش ہوئی نہ آفتاب نے اپنا جلوہ دیکھایا اور پانچ فرقوں کا باہمی اتفاق نہ رہا تب دیوتاؤں نے زمین و آسمان کا بیاہ رچایا ۔ یعنی یہ خیال کرنا کہ پہلے زمین و آسمان ملے ہوئے تھے اور جب وہ الگ ہوگئے تو فطرت میں میں جنگ نہ ہونے سے بارش ہوئی نہ سورج نمودار ہوا ۔ آخر آسمان اور زمین ملائے گئے ۔  
اس لیے زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے ان کے مالک ہیں اور انہوں نے ہی پیدا کیا ہے ۔ اس لیے دیوتا ، سورج ، شفق ، آگ ، ہوا اور بارش سب ان کی اولاد ہیں اور آسمان و زمین تمام دنیا کے ماں باپ ہیں ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر زمین اور آسمان دیوتا تھے تو حثیت میں وہ دیوتا تھے ؟ قدیم زمانے میں دیوتا نہ تو جاندار ہیں اور نہ ہی جسم رکھتے ہیں ۔ دیو دراصل ایک صفت ہے جو آسمان اور زمین ، سورج ، چاند ، صبح شفق اور سمندر میں پائی جاتی تھی ۔ یعنی روشن اور دیوتا کا خیال صرف چمکیلے وجودوں سے تھا ۔
چنانچہ رشی بھی سوال کرنے لگے کہ زمین و آسمان کو کس نے بنایا ۔ ایک رشی کا کہنا ہے کہ وہ سب سے زیادہ ہوشیا کاریگر دیوتا ہے جس نے دو عظیم دیوتا زمین اور آسمان بنائے جو تمام مخلوق کو پیدا کرنے والے ہیں ۔ اس نے دانشمندی سے زمین اور آسمان سے سہارا دے کر قائم کیا ہے ۔ یہ کام اندر دیوتا سے منسوب کیا گیا کہ پہلے پہل اندر (بارش کے دیوتا) نے چمڑے کی طرح زمین اور آسمان کو پھیلایا اور ان کو اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھا اور اب بھی اس نے زمین اور آسمان کو سہارا دے رکھا ہے اور اپنے بھگتوں کو زمین اور آسمان کی برکتین دیتا ہے اور اندر کی تعریف کی جاتی کے اس نے زمین اور آسمان بنایا ۔ لیکن جب کہ رشی کو خیال آتا ہے کہ زمین اور آسمان کو دیوتاؤں اور اندر کا بھی ماں باپ مانا گیا ہے تو وہ کہتا ہے کہ وہ کون ودان ہیں جو پہلے گزرے ہیں جو تیری مہانتا تک پہنچے ہیں ۔ کیوں کہ تو نے اپنے ماں باپ کو اپنے ہی جسم سے پیدا کیا ہے ۔ یہی خیال ایک اور رشی نے بھی ظاہر کیا ہے کہ اندر زمین و آسمان سے بڑا ہے اور دونوں مل کر اندر کے آدھے کے برابر ہیں ۔ چنانچہ آگے چل کر آتا ہے کہ آسمان نے اندر کے آگے سجدہ کیا اور زمین نے بھی اس کے آگے سر کو جھکایا ۔ تیری پیدائش کے وقت آسمان کانپ اٹھا اور زمین غصہ سے ڈر سے لرزہ گئی ۔ پس ایک طرف زمین و آسمان سب سے بڑے دیوتا تھے ۔ وہ ہر چیز کے پرکھے تھے اور اس لیے اندر اور دوسرے تمام دیوتاؤں کے بزرگ تھے ۔ لیکن کہیں سوم اور پوشن اور ایک موقع پر ہرن گریہیہ کو اور ایک جگہ پر دہاتری یا وشنو کرنا کو زمین و آسمان بنانے والا مانا گیا ہے ۔ متر اور ساوتری کی تعریف کی گئی ہے کہ انہوں نے زمین اور آسمان کو سہارا دیا ہوا ہے اور بعض جگہ ورن دیوتا بھی یہی کام انجام دے رہا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف یہ دیوتا الگ الگ اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں اور کبھی کوئی بڑا ہوجاتا ہے اور کبھی دوسرا دیوتا اس فرض کو ادا کر رہا ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں