42

ویدی عہد میں انسانی قربانیاں

اول جلد کا اشلوک ۱۶۳ میں قربانی کے جلوس کو بیان کیا گیا ہے ’’تیرے پیچھے اے گھوڑے ، تیرے پیچھے آدمی ہیں ، تیرے پیچھے لڑکیوں کے جھنڈ ہیں’’۔ اس اشلوک پر بھجن ختم ہوتا ہے کہ ’’تمام گھوڑے کی نظر عنایت کی خواہش مند ہیں اور خود دیوتا اس کی بہادری اور طاقت کے معترف ہیں’’ ان الفاظوں کو استعارہ خیال کیا جاتا ہے ، مگر ان میں حقیقت بھی مضمر ہے ۔ گو وہ افسانے سے مخلوط ہے ۔ گھوڑے کی قربانی کی قدیم رسم میں بکری گھوڑے کے آگے رہتی تھی اور آدمی پیچھے اور سب کی قربانی کی جاتی تھی ۔ کیوں کہ بلا شک و شبہ انسانی قربانیاں آریوں کی پرستش کا ایک جزو تھیں ۔ بعض دلائل کو اگر تسلیم کرلیا جائے تو اس قربانی کا کیا جانا نہ خلاف عقل ہے نہ خلاف انصاف اور جب تک کہ انسان کے جذبات لطیف اس قدر ترقی نہ کرے کہ اس کو غلط سمجھے ۔ بنی نوع انسان کی ہر قوم اسی غلطی میں مبتلا رہتی ہے ۔
ہندوستان کے آریا اس میں سبقت لے گئے تھے ۔ وہ انسان کا شمار جانوروں میں کرتے تھے ۔ گو وہ اس کے اشرف الحیوانات ہونے کے قائل تھے ۔ قربانی بھی دو قسم کی ہوتی تھیں خونی اور غیر خونی ۔ خونی قربانی کے لیے پانچ جانور مستحسن خیال کیے جاتے تھے ۔ انسان ، گھوڑا ، سانڈ ، بھیڑ اور بکری ۔ بڑی قربانیوںمیں پانچوں بھینٹ چرھائی جاتی تھیں ۔ شروتی ستر اور یا جو رگ وید کے بعض اجزا جن کی صحت میں کوئی شبہ نہیں ہے اور اس کا شمار شروتی (الہامی) کتب میں ہوتا ہے تفصیلی بیانہے کہ اس قسم کی قربانیاں کن موقعوں پر کرنی چاہیے ۔ ان میں سے ایک تو شہر کی فصیلوں کی تعمیر تھی ۔ جب کہ پانچوں ذبیحوں کی لاشیں اینٹوں کی مٹی کے پانی میں ڈال دیتے تھے ۔ تاکہ ان کے خون سے اینٹیں پائیدار ہوجائیں اور ممکن ہے کہ برکت کے لیے بھی ۔ دوسرے گھوڑے کی اشوا میدھ ہے ۔ 
ایک خاص انسانی قربانی (پرش مید) بھی تھی ۔ جس کا درجہ سب سے اعلیٰ تھا اور جو شخص بھینٹ چڑھایا جاتا تھا ضروری تھا کہ وہ برہمن یا چھتری ہو اور ایک ہزار گائیں اور ایک سو گھوڑے دے کر خریدا جاتا تھا ۔ ایک بڑا پرش مید بھی تھا جس میں ۱۶۶ یا ۱۸۴ آدمی ایک ساتھ بھینٹ چڑھائے تھے ۔ شت پتھ برہم میں اس قتل عام کا ذکر ہے ۔ مگر رسم کا ذکر کرتے ہوئے یکایک مصنف رک جاتا ہے اور یہ لکھتا ہے کہ ’’جب کہ ذبیح قربانی کے ستونوں سے باندھ دیئے گئے اور آگ ان کے گرد پھرائی گئی اور قریب تھا کہ وہ قتل کردیے جائیں ، یکایک ایک آواز غیب سے آئی انسان اس کام سے باز رہ ، اگر تو نے ایسا کیا تو ایک آدمی دوسرے آدمی کو کھا جائے گا’’۔ واقعہ یہ ہے کہ قربانی کرنے والے ذبیحوں کا گوشت کھایا کرتے تھے اور اسی مردم خواری کے خوف سے یہ خوفناک رسم متروک ہوگئی ۔ ایک زمانے میں بجائے انسان کے سونے کے انسانی سر بنا کر رکھ دیئے جاتے تھے ۔ مگر اشو میدھ کے ساتھ انسان کی قربانی بھی کچھ عرصہ تک ہوتی رہی ۔ گو اس کے لیے ایک بوڑھے ، کمزور کوڑھی کا انتخاب کیا جاتا ۔ جس کے لیے مرنا دنیاوی تکالیف سے نجات پانا تھا ۔ مگر ضروری تھا کہ یہ کوڑھی بھی رشیوں کے کسی مشہور اور ممتاز خاندان سے ہو ۔ مگر جان لینے (سوائے جنگ کے) اور خون بہانے سے ہندوستان آریوں کو تنفر ہوتا جاتا تھا ۔ جو زمانہ بعد کے برہمن دھرم کی ممتاز خصوصیت ہے اور شت برہمن ہی اس قصے کے پیرائے میں یہ قول بھی موجود ہے کہ غیر خونی قربانیاں دیوتاؤں کو زیادہ پسند ہیں اور ان میں بھی وہی اثر ہے ۔
’’دیوتا پہلے انسان کی قربانی پسند نہیں کرتے تھے ۔ اس کے بعد میدھ (قربانی کی اہلیت) اس میں سے نکل گئی اور گھوڑے میں چلی گئی ۔ اس کے بعد گھوڑے سے سانڈ میں ، سانڈ سے بھیڑ میں ، بھیڑ سے بکری میں اور بکری سے زمین میں چلی گئی ۔ اس کے بعد میدھ کی تلاش میں زمین کو کھودا اور وہ چاول اور جو میں ملی ۔ اس لیے جاننے والے شخص کے لیے جو قربانی کی اہلیت ان پانچوں جانوروں میں تھی اب قربانی کی روٹی (بہوش چاول اور جو سے بنی ہوئی) میں ہے ۔ زمین مماثل ہے بال کے ، پانی (جس سے آٹا گوندھا جاتا ہے) چمڑے کے ، سمت (پکنے کے بعد روٹی) ہڈیوں کے اور گھی جس سے روٹی پکتی ہے نلی کے گودے کے مماثل ہے ۔ اس طرح جانور کے پانچوں اجزا بہوش میں موجود ہیں’’۔
رگ وید میں انسانی قربانی کا صریحی ذکر نہیں ۔ مگر محقیقین نہ صرف گھوڑے کے بھجن کی آٹھویں اشلوک میں اس کا پتہ لگا سکتے ہیں ۔ بلکہ دو مزید اشلوک میں بھی جس میں شونا شیپھ کے بچ جانے کا ذکر ہے ۔ جو رشی وِش متر کا متبنیٰ تھا ۔
’’بندھے ہوئے شونا شیپھ کو تو نے اے اگنی ایک ہزار ستونوں سے چھڑا دیا اس لیے کہ اس نے عجر و عاجزی کے ساتھ تجھ سے دعا کی ۔ اس طرح اے درخشاں ہوتر ہمیں بھی اپنی زنجیروں سے آزاد کرائے’’۔ (پنجم ۲۷)
’’شاہ وارن ہمیں آزاد کرائے گا جس سے مفید شونا شیپھ نے جو تین رسیوں سے بندھا ہوا تھا اَدیتا (وارن) سے فریاد کی’’۔ (یکم ۶۴،۱۲۔۱۳)   
اسی قدیم کتھا کی طرح یکم ۲۵ کے اشلوک ۲۱ میں بھی ہے ’’تاکہ میں زندہ رہوں ، اوپر کی رسی نکال لے ، بیچ کی ڈھیلی کردے اور نیچے نکال لے’’۔ بعض روایات میں جو شد و مد کے ساتھ بیان کی گئی ہیں ۔ یہ دونوں بھجن خود شونا شیپھ سے منسوب ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وارن کی تین زنجیروں یا پھندوں سے ہمیشہ تاریکی ، بیماری اور موت سے مراد نہیں ہوتی بلکہ ان کے لفظی معنی بھی یہی ہوسکتے ہیں ، جیسا کہ ان بھجنوں میں ۔ یہ قصہ آ اِثِریا برہمن میں بھی بیان کیا گیا ہے ۔ جو برہمنوں میں قدیم تر خیال کیے جاتا ہے اور رگ وید کا ایک جزو ہے ۔ اس لیے مبہم عبارتوں اور تلمیہات کی اس میں تشریح ضروری ہے ۔ اس سے یہ بھی بعض امور ایسے بیان کئے گئے ہیں جو رگ وید سے قدیم ترین ہیں ۔ کیوں کہ جن امور کے بارے میں کسی تصنیف میں بیان کیا گیا ہے وہ عام طور پر مشہور ہیں وہ اس تصنیف سے قدیم تر ضرور ہوں گے ۔ قصہ حسب ذیل ہے اور رامائن اور پرانوں میں معمولی اختلاف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں