73

ویدی کے سلسلے کی کتب

ہم بتا چکے ہیں کہ آریا اس ملک میں آنے کے بعد چند صدیوں میں اپنی زبان بھول گئے ۔ اس وقت انہوں نے ویدوں کی تفسیر لکھنی شروع کیں جو براہمی کے نام سے مشہور ہوئیں ۔ مگر یہ بھی ناقابل فہم ہوتی گئیں اور تشفقی بخش ثابت نہیں ہوئیں تو انہوںنے ایک نیم مذہبی ادب ویدانگ Vedang کی بنیاد رکھی اور کلپہ Kulpa کے زمرہ میں چار رسالے سروثہ سترہ ، سلو سترہ ، گریہہ سترہ اور دھرم سترہ تصنیف کیے اور اہم ایک معنوں میں ہم ہندو کے جملہ ادبیات کو ویدوں سے ماخوذ قرار دے سکتے ہیں ۔ رگ وید ہندوستان کی روحانی زندگی کا منبع ہے اور مادی زندگی کے جملہ شعبوں پر حاوی ہے ۔ ہم ان ادبیات کو تین قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں ۔ 
(۱) منتروں کا عہد یعنی وہ زمانہ جس میں صرف بھجنوں کو جمع کرنے کا خیال ہوا ۔ 
(۲) برہمنوں یعنی تفسیروں کا زمانہ جس مراد برہمنوں کی برتری کا قیام تھا ۔ 
(۳) سُتروں کا عہد یعنی مختصر رسالوں کا زمانہ جو مدرسورں اور قربانیوں میں استعمال کیے جاتے تھے ۔ 
یہ بہ لحاظ سنین سب عہد ایک دوسرے کے بعد نہیں ہیں ۔ جسیے کہ عہد حجری یا لوہے کا زمانہ جو ایک دوسرے میں مخلوط ہیں ۔ عہد ثانی آریوں کی فتح کے ایک خاص دور کے مطابق ہے ۔ یعنی اس زمانے سے کہ جب آریا پیش قدمی کرکے گنگا اور جمنا کی آبادیوں میں آباد ہو رہے تھے ۔ تیسرا دور زمانہ حال تک چلا آیا ہے ۔ کیوں کہ سَایَنَا رگ وید کی تفسیر جس پر برہمنوں کا دارو مدار ہے ۔ چودھویں صدی میں لکھی گئی تھی ۔
دوسرے مذہب کے پیروؤں کی طرح ہندو بھی اپنی مذہبی کتب کو آسمانی کتب خیال کرتے ہیں اور اس کے مصنفین نے انہیں الہام سے حاصل کیا تھا ۔ لہذا اس پر ایمان رکھنا اور ان پر عمل کرنا ضروری تھا ۔ ہندوؤں میں مقدس کتابوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ ان میں ویدوں کے علاوہ برہمن اور اپ نے شد بھی شامل ہیں ۔ ہندو ان کتابوں کو ’شروتی’ یعنی سنی ہوئی بمقابلہ ’سمرتی’ یعنی یاد رکھی ہوئی کے جس میں غلطی کا امکان ہے اور اب اس لیے ان کتب پر کلی ایمان رکھنا نجات کے لیے ضروری سمجھتے ہیں ۔ اگرچہ ان کا تقدس کمتر ہے ۔ 
سمرتی میں قانون کی کتابیں مثلاً منو دھرم شاشتر ، اتھاس اور پران شامل ہیں ۔ جب کہ بعض کا خیال ہے کہ صرف رگ وید ہی شروتی یعنی الہامی کہی جانے کی مستحق ہے ۔ یہ کتابیں ہندوؤں کی مذہبی زندگی کا منبع ہیں اصل میں رشیوں کے اقوال ہیں مگر یہ برہمن نہیں  ہیں ۔ برہمنوں نے اپنے پیروؤں سے لغو اور بہودہ باتوں کو منوا کر ان پر اپنی دینی و دنیاوی حکومت قائم کرنی چاہی ۔ جب ہندو انہیں نہیں مانتے ہیں توانہیں یہ باور کرایا گیا کہ یہ ایشور کے احکام ہیں ۔ 
مگر برہمنوں کے دعوؤں کی رگ وید سے تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔ مثلاً ویدوں کے الہامی ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔ کیوں کہ رشیوں نے فخریہ کہا ہے کہ بھجن خود ان کی تصنیف ہیں ۔ جیسے بڑھئی گاڑی بناتا ہے ۔ ویدوں کے الہامی ہونے کے متعلق مختلف اشلوکوں میں اشارے ہیں جن کی برہمنوں نے اپنے منشاء الفاظ کے معافی کو توڑ مڑوڑ کر تفسیر کرلی ہے اور اس طرح پانچ سو سے آٹھ سو سال کے زمانے میں مختلف مصنفین نے مقدس کتابوں کا ایک زبردست مجوعہ تیار کرلیا ہے جو ’شروتی’ یعنی الہامی کے نام سے مشہور ہیں ۔ اس افراط و تفریط سے اختلافات اور نزاع پیدا ہوگیا ۔ مثلاً برہمنوں کو اکثر ان کے مصنفین کے نام سے یاد کیا گیا ہے یا جن فرقوں سے ان کا تعلق ہے اظہار کیا گیا ہے ۔ ان میں سے بعض پرانے اور بعض نئے کہہ جاتے ہیں ۔ برہمنوں کے خیال میں یہ کفر ہے ۔ کیوں کہ شروتی نہ نئی ہوتی ہے اور پرانی یا الہامی ہونے کی وجہ سے روز ازل سے ایک ہی صورت قائم ہے ۔
ویدانگ
چونکہ وید کو سمجھنے میں مشکلات پیدا ہوگئی تھیں اس لیے وید انگ لکھے گئے جس میں میں صوتیات ، عروض اور صرف و نحو سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ تعداد میں چھ ہیں اور دعویٰ کیا گیا کہ ویدوں کو پوری طرح سمجھنے اور پرستش کے طریقوں سے واقف ہونے کے لیے ان مضامین سے واقف ہونا ضروری تھا ۔ یہ مضامین ویدانگ یعنی وید کے اعضا یعنی وید کے مضامین کہلاتے ہیں ۔ یہ مضامین حسب ذیل ہیں ۔ 
(۱) سِکشَا ۔ صوتیات یعنی تلفظ اور لہجہ 
(۲) چھند ۔ عروض
(۳) دیا کرن ۔ نحو
(۴) ہرکت ۔ تشریح الفاظ صَرف ، ہم آواز الفاظ وغیرہ 
(۷) ہیئت ۔ جوتش
(۶) کلپ ۔ رسوم
ان مضامین پر بہت سی تصانیف رفتہ رفتہ وجود میں آگئیں ۔ جن کی خصوصیت یہ ہے کہ بکھرے ہوئے مختلف مضامین کو یکجا کیا گیا ہے ۔ ان کو مختصر فقروں یا جملوں میں قلمبند کیا جائے ۔ ان کا اختصار اس قدر دشوار ہے کہ معافی میں ابہام پیدا ہوگیا اور بعض اوقات تو ان کا سمجھنا بھی اس قدر دشوار ہے کہ محققین کی عمریں انہیں معنی پہنانے میں صرف ہوگئیں ۔ ان مجموعوں کو ُستر یعنی سیئے ہوئے کہتے ہیں ۔ بعض اوقات سُتر کا شمار ویدانگ میں بھی ہوتا ہے ۔ مگر اس پر بہت سے سوال اٹھائے گئے ہیں کہ ویدی عہد میں جب صرف و نحو مکمل تھی تو کیا وجہ ہے اب بھی وید کے بہت سے حصہ اب بھی ناقابل فہم ہے ۔ اس کے بہت سے اشلوک ایسے ہیں جن کی تفسیر برہمن نہیں کرسکے اور بعض کی تعبیر سے یورپی محقیقن بھی عاجز آگئے ۔ اگرچہ ان علوم کی روشنی میں میں وید پوری طرح قابل ہونی چاہیے ۔ جیسا کہ خود مغربی محقیقین کا کہنا ہے ان کو سمجھنا بہت دشوار ہوگیا ہے ۔ 
ویدوں میں ابتدا پوجا کا طریقہ نہایت سادہ تھا ، مگر اور رفتہ رفتہ قربانیوں اور مذہبی رسوم کا ایک ایسا سلسلہ چل نکلا کہ کسی لفظ کے غلط تلفظ یا پوجا کی چیزوں میں سے زرا سی کمی ہونے سے کہا جاتا تھا کہ ثواب جاتا رہے گا اور پوجا کرنے والوں پر بھی عذاب ہوگا ۔ مگر قدیمی زبان بالکل متروک ہوگئی تھی اس لیے نادانستگی میں اس قسم کی غلطیوں کا احتمال بڑھتا جاتا تھا ۔ لہذا سالا سال تک عروض و نحو پر کتابیں لھی جاتی رہیں اور مختلف فرقے اپنے طریقہ تلفظ اور اپنے اور اپنی تفسیروں کی اشاعت میں کوشاں تھے ۔ ان رسالوں میں اکثر ضائع ہوچکے اور وہ باقی ہیں ان تعلق ویدی عہد سے نہیں بلکہ ان کا تعلق سنسکرت سے ۔  
یہ سوال پانی کی نحو کی کتاب کے بارے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب چوتھی یا پانچویں صدی ق م میں لکھی گئی ہے اور اس تعلق ویدانگ سے ہے ۔ مگر اس میں زبان کی تحلیل میں نہایت سے کمال کی ہے وہ ویدوں کی زبان نہیں ہے اور ویدوں لسانی خصوصیات کا ذکر اس نے بطور باقیات قدیم کیا ہے ۔ جب کہ سنسکرت ہم دیکھتے ہیں تیسری صدی عیسوی تک ناقص تھی ۔ یہ کتاب غالباً ساتویں صدی صدی سے پہلے کی نہیں ہے جب کہ سنسکرت اس قابل ہوچکی تھی کہ اسے ادبیات کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا اور اس کا شمار ویدی ادبیات میں نہیں ہوسکتا ہے ۔ 
براہمن
برہمن کے لغوی کئی معنی ہیں ۔ مثلاً دعا ، مقدس علم ، افسوں پڑھنا اور جادو وغیرہ ۔ دوسرے معنوں میں ایک شخص جو پجاریوں کی ذات سے تعلق رکھتا ہو یا مقدس علم رکھتا ہو اور قربانی کی رسمیں ادا کرتا ہو ۔ تیسرے معنی میں ایسا رسالہ جس میں قربانی کی رسومات اور دوعاؤں کی تفصیل درج ہو ۔ یہاں تیسرا مفہوم مراد ہے ۔ 
ویدی زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے اس کے اساطیر اکثر فراموش ہوگئے یا ناقابل فہم ہوگئے ۔ لہذا ضروری تھا ان کی تفہیم کی جائے اور رسوم ، قوانین اور روایاتوں کو ویدوں سے ماخوذ قرار دیا جائے جو مقدس و متبرک خیال کیے جاتے تھے اور اس کا آغاز نثر کی عبارتوں سے ہوا جو یجر وید کے منتروں کے درمیان میں واقع ہیں اور جن کی وجہ سے وید ایک پوجا کی کتاب ہوگئی ۔ اس طرح قدیم پرستش سادگی سے کی جاتی رہی ۔ یہ کل کے کل منتر ہیں اور ان میں منتروں کے معافی اور موضع بتائے گئے ہیں ۔ مگر زیادہ تر اساطیری واقعات خرافاتی قصوں اور قربانی کے متعلق ہدایتیں ہیں ۔ یہ براہمن تعداد میں کافی لکھے گئے تھے ، مگر اب صرف سات باقی بچے ہیں ۔ انہی کتابوں پر برہمنوں کا طویل عرصہ تک دارومدار تھا ۔ کیوں کہ جب قدیم آریاؤں نے قربانی کی رسم میں ترقی کی اور چاروں وید ان کے قواعد بتانے سے قاصر ہوئے تو برہمنوں نے ہر وید کے ساتھ نثر کا حصہ شامل کیا جس کا نام برہمن رکھا ۔ رگ وید برہمن میں لفظوں کا تلفظ کرنا ، یجر وید برہمن میں یجہ کرنا ، سام وید میں راگ گانا بتلایا اور اتھرون وید برہمن میں منتروں کی تشریخ کی ۔ یہ کتابیں غالباً اسی زمانے میں لکھی گئیں تھیں جب کہ آریا گنگا و جمنا کے علاقہ میں پہنچ گئے تھے ۔ ان کتابوں کا تعلق اس درمیانی عہد سے ہے جو بعد ویدوں کے عہد اور برہمنی دور کے درمیان سے تھا ۔ یہ کتب برہمنوں کا تفوق قائم کرنے میں مدگار ثابت ہوئیں ۔ 
انہیں ہندو الہامی خیال کرتے ہیں ۔ ان میں قربانیٰوں اور مذہبی رسموں کی تفصیل بیان کی گئی اور ایک مقدس خیال اندر خیال علامتی نظام تخلیق کیا گیا ہے ۔ ہر وید سے متعلقہ الگ برہمن ہیں ۔ رگ وید سے متعلقہ دو براہمن بچے ہیں ۔ ایئتریہ برہمن اور کوشتکی یا کوشنکھیان برہمن ۔ ان میں جن رسومات کا ذکر ہے ان میں گوائین (گایوں کا جانا) دَواؤشامہ (بارہ دنوں کی رسمیں) ، اگنی ہوتر (روزانہ صبح شام کی رسمیں) اگنی آدھان (قربانی کی آگ کو روشن کرنا اور اس کے علاوہ نئے اور پورے چاند کی رسمیں ، چار مہینوں کی رسمیں اور راجہ کی تاجپوشی کی رسمیں شامل ہیں ۔ 

ٍٍ سام وید کے ۲۶ برہمن تھے ان کی رسمیں مندرجہ والا سے ملتی جلتی ہیں ۔ یجر وید کے برہمن پہلے تو وید کے اصل متن کے اندر جگہ جگہ درج کیے گئے تھے ۔ بعد میں میں علحیدہ بھی جمع کیے گئے ہیں مشہور شست پتھ برہمن یجر وید سے تعلق رکھتا ہے ۔ شت کے معنی سو اور پتھ کے معنی مقدس راستہ ۔ یعنی مقدس راستہ پر چلنے والا ۔ ست پتھ میں ایک سو اسباق تھے اور یہ سفید یجر سے وابستہ تھا ۔ یہ تاریخی ، سماجی اور علمی اہمیت میں رگ وید کے بعد دوسری اہم ترین کتاب ہے ۔ ست پتھ برہمن کے دو نسخے ہیں جن کے متن میں اختلاف ہے ۔ ایک کانو اور دوسرا مدھَیمَ وِن ۔ یجر وید سے متعلقہ گوپتھ برہمن ہے جو زیادہ اہم نہیں ہے ۔
ان کتابوں کی تدوین کی وجہ سے بہت سے مذہبی فرقے وجود میں آگئے ۔ جن میں سے ہر ایک اپنے برہمنوں کو مستند کہتا تھا اور چاہتا تھا ان کی کتابیں رائج ہوں ۔ اس سے قبل ویدوں کے متعلق بھی باہمی اختلافات تھے ۔ ان اختلافات سے مغربی محقیقن کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ کیوں کہ ہر ایک وید سے مسلک کئی براہمن ہیں اور ان میں سے بعض ضائع ہوچکے ہیں ۔ جو برہمن دستیاب ہیں ان کی اہمیت اور مقبولیت مسلم ہے ۔ ہر ایک برہمن میں ایک ضمیہ بھی ہوتا ہے جو ’آرنیا’ کہلاتا ہے ۔ یہ ضمیے ان برہمنوں کے لیے مخصوص ہیں جو جنگلوں میں عبادت کی غرض سے چند سال کے لیے یا اپنے آخری ایام میں جنگلوں میں گوشہ نشین ہوجاتے تھے ۔ اس قسم کے چار ضمیے دستیاب ہوئے ہیں ۔
آرن یک
براہمنوں کے بعد آرن یک کا نام آتا ہے جو بطور ضمیہ براہمنوںمیں شامل ہیں ۔ ان کو جنگلوں کی بیاض بھی کہتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ اس قدر پاک ہیں کہ ان کو صرف جنگلوں میں ہی پڑھا جاسکتا ہے ۔ اس میں پوجا کے لئے ہدایتیں درج ہیں ۔ یہ براہمن کی طرح ہیں مگر اس میں رسومات کے برخلاف معنوں سے سروکار کیا گیا ہے ۔
آرن یک یعنی جنگل کا رسالہ ایک مختصر رسالہ ہے ۔ آرن یکوں میں عملی و مادی قربانیوں کی نفی کی گئی ہے ۔ اس کے برعکس قربانیوں کے عملی مفہوم کی خفیہ تفصیلات بیان کی گئی ہیں ۔ ان میں ایک طرح کے مادرائی فلسفہ کا آغاز کیا گیا ہے ۔ برہد آرن یک کے شروع میں ہے کہ بجائے گھوڑے کی قربانی کے یہ تصور کر لیا جائے کہ اُوشا (صبح) گھوڑے کا سر ہے سورج س کی آنکھ ہے اور ہوا اس کی زندگی ۔
آرن یک مذہبی رسومات کی ادائیگی سے زیادہ مراقبے استفراق اور غور و فکر کی تعلیم دیتے ہیں ۔ یہ ایک طرح سے رسومات ہرستی کے خلاف آزاد خیالی کا رجحان ہے ۔
آرن یک اور اُپنشد بطور جزو لانیفک شامل ہے ۔ مثلاً رگ وید کا انتریہ برہمن ۔ اسی کے اندر ایک انتریہ آرن یک ہے اور ایک اُپنشدے ہے ۔
اپ نے شد
یہ ویدی دور کا آخری ضخیم حصہ ہے ۔ جسے معنویت اور فلسفیانہ گہرائی کی وجہ سے بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اپ نے شدUpnishad کے معنی کسی کے آگے بیٹھنا کے ہیں اور اصلاحی معنی اسرار کے ہیں ۔ یہ بہت سے ہیں ، بعض نظموںمیں اور بعض نثروں میں ہیں ۔ انہیں عام طور پر ودیانت Vedant کہتے ہیں جس کے معنی وید کا تمتہ ۔ بعض لوگوں نے بھاگوت گیتا اور سوتروں کو بھی ودیانت میں شمار کیا ہے۔
اگرچہ ویدی مذہب و فکر ۱۵۰۰ ق م تا ۵۰۰ ق م تک بلادست طبقات کا مغوب مذہب و فکر رہا ہے ۔ ۔ لیکن ہمیشہ ہر دور میں اس فلسفہ کا مخالف دھارا بھی رہا ہے اور آخر میں اپ نے شد تو یکسر ویدی نظام کے خلاف ہے ۔
رگ وید کی ایک مناجات میں ایک لفظ منی آیا ہے ۔ یہ اک ایسا شخص ہے جو لمبے بالوں والا (جٹاؤں) تااریک دنیا جس نے زرد لباس پہنا ہوا ۔ ایسا جٹادھار فقیر منی کہلاتا تھا ۔ جو تاریک الدنیا ہوتا تھا ۔ رگ وید کا منی روُز کے ہمرا وِش (زہر) کا پیالہ پیتا ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں رگ وید ویدوں کا سارا زور قربانیوں اور قربانیوں کے طریقوں کو سیکھنے پر تھا اور اس کا پس منظر ودیا تھی ۔ اس کے برعکس اپ نے شدوں میں ودیا کا مطلب ایسا علم جس سے ہر چیز معلوم ہوجائے ۔ (چھاندوگیہ اپ نے شد ۶۔۱۔۳) اور برہمن کا مطلب ایسے علم سے متصف ۔ کل اپ نے شد ۱۱۲ ہیں ۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر بعد میں لکھے گئے اور الحاقی ہیں ۔ اصل غیر متنازعہ اب نے شد ۱۲ ہیں ۔ ان اپ نے شدوں کی تصنیف کا زمانہ ۷۰۰ ق م تا ۵۰۰ ق م مانا جاتا ہے ۔ بعد کے اپ نے شدوں میں ان مضامین کو دھرایا گیا ہے ۔ اصل اپ نے شد یہ ہیں ۔ (۱) ایش (۲) کین (۳) کٹھ (۴) پُرشن (۵) منڈک (۶) مانڈوکہ (۷) تیتریہ (۸) اَیَتریہ (۹) چھاندوگیہ (۱۰) برہدآرن یک (۱۱) شوتیاشوتیرک (۱۲) کاوشتکی یا کوشتیگی ۔
اپ نے شدوں کو اکثر محقیقین نے ویدی فلسفہ اور برہمن بالادستی کے خلاف بغاوت قرار دیا ہے ۔ کیوں کے اپ نے شد قربانیوں کے خلافہ ہیں ۔ ذات پات کو چنداں اہمیت نہیں دیتے تھے ۔ برہمنی رسومات کو ترک کرنا سکھاتے تھے اور خاص فلسفیانہ تحقیق و جستجو کی تلفین کرتے ہیں ۔ بعض محقیقین نے اس بنا پر اس خیال کی ترید کی ہے کہ اپ نے شدوں کے عظیم اساتذہ خود برہمن تھے ۔ اپ نے شد ایک حد تک یقینا ویدی علمی نکتہ نظر اور برہمن بالادستی کے خلاف اور کشتری مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ اپ نے شدی فلسفہ کے مطابق کائنات کا آخری جوہر ایک ہے ۔ اسے وحدت الوجود یا وحدت الجوہر کہنا چاہے ۔ ان کے خیال میں برہمنا کائنات کی حتمی حقیقت ہے اور آخری شے ہے ۔ کائنات کی تخلیق ایک وجود واحد سے ہوئی ہے ۔ یہ وجود واحد برہما تھا ْ ذی شعور تھا ، یہ واحد تھا اور احد تھا اور دوسرا کوئی نہیں ہے ۔ یہ روح تھی جس نے اپنے آپ میں سے کائنات کو جنم دیا ۔
اُپنشد پر غیر آریائی مذہبی روایات کا زیادہ اثر ہے ۔ ویدی علما کا خیال ہے کہ اُپنشدوں میں جو غیر آریائی اثرات ہیں وہ ان اثرات سے عبارت ہیں ۔
۱ ۔ اہنسا ۔ (عدم تشدد)
۲ ۔ کرم ۔ (دنیاوی اعمال اور ان کی سزا)
۳ ۔ سنسار ۔ (مصیبت جھیلنا)
۴ ۔ یوگ یا دھیان ۔
۵ ۔ پراجیہ یا پراگیہ ۔ (حال کھلنا ۔ باطنی بیداری)
۶ ۔ وِگیان یا وجیان ۔ (معرفت)
کل اپ نے شد ۱۱۲ لکھے گئے ہیں اور پندویں صدی عیسوی تک لکھیں جاتی رہیں ۔ ان میں سے داراشکوہ نے پچاس اپنشد کا فارسی میں ترجمہ کرایا تھا ۔ برہمنی مذہب میں اپنشد اہم مقام رکھتے ہیں ۔ جدید بھاری مفکرین بھی اپنشدوں کی بہت زیادہ عظت بیان کرتے ہیں اور نئے سرے سے اسے نئے مقام دیتے ہیں ۔ آج کل جب ہندو وید کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد نہیں بلکہ یہی اپنے شد ہوتے ہیں ۔ اُپنشدوں کا سب سے بڑا مفکر شنکر اچاریہ (۷۸۸ء تا ۸۲۰ء) اور رامانج ۱۰۱۷ء تا ۱۱۳۷ء) تھے ۔ ہندوؤں کا فلسفہ ویدانت انہی اپنشدوں سے ماخوذ ہے بلکہ انہی کی تعبیر و تشریح پر مشتمل ہے ۔ اُپنشدوں کا سب سے مُتہم نظریہ آتما کا حقیقی ہونا ہے ۔ آتما کا مطلب خودی ہے ۔ اپنشد کہتے ہیں آتما ابدی ہے ، پرمسرت ہے اور یہ کائناتی خودی ہے ۔ بعد میں بدھ نے اناتما ۔۔ خودی کی تعلیم دی ہے ۔ اپنشدوں کا نظریہ آتما بعد میں بھگوت گیتا میں منظم طور پر بیان کیا گیا ہے اور گیتا کے ذریعے اسے عوام میں مقبول کرنے کی کوشش کی گئی ۔
سمرتیاں
برہمنوں کو مختصر رسالے کی صورت میں لکھنے کا طریقہ پسندیدہ تھا ۔ انہوں نے ویدوں کے علاوہ دوسرے مضامین مثلاً قانون ، فلسفہ ، طب اور فنون میں بھی برہمنوں کو رائج کیا تھا ۔ یہ مضامین قدیم ادبیات کی شاخ سمرتی یعنی روایات میں شامل تھے اور یہ سَمارت سُتر کہلاتے تھے ۔ براہمنوں کی طرح ان کے بھی کئی مجموعے ہر وید کے ساتھ مختلف مضوعات پر مشتمل ہیں ۔ ویدانگوں کی باریک باریک قسمیں کی گئیں ۔ یہاں تک مقدس بھجنوں پر گانے کے فن پر سُتروں کا ایک مجموعہ ہے ۔ بلاخوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں نظم عروض اور نحو نہ صرف مقدس ادبیات کا ایک جزو خیال کئے جاتے ہیں بلکہ الہامی کتب کے بھی ۔ کیوں کہ جس مواد سے ستروں کے مصنفین نے کام لیا ہے وہ درحقیقت میں برہمنوں میں موجود ہے اور یجر وید کی ستر کی عبارتوں میں عروض اور نحو کا مقدس کتب جزو ہونا پہلے پہل ذرا دور از خیال اور بے معنی معلوم ہوتا ہے ۔ مگر دونوں کا تعلق معلوم ہوجانے سے کوئی شک باقی نہیں رہتا ۔
یہ علوم مذکورہ لوگوں کی تعلیم کے لیے ضروری سمجھے جاتے تھے اور زمانہ قدیم سے ان پر خاص توجہ تھی ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل ہند نے اپنی زبان کے متعلق اس محنت و کاوش کے ساتھ مکمل تفتیش کی کوئی اور قوم ان کا مقالہ نہیں کرسکتی ہے ۔ وید انگوں میں صوتیات ، عروض اور صرف و نحو سے بحث ہے ۔ ویدوں کا طریقہ پرستش ابتدا میں میں نہایت سادہ تھا اور رفتہ رفتہ قربانیوں اور مذہبی رسوم کا ایک طریقہ قائم ہوگیا جس میں کسی لفظ کے غلط تلفظ یا پوجا کی چیزوں میں سے زرا سی کمی ہونے سے خیال کیا جاتا تھا کہ صرف ثواب جاتا رہے گا بلکہ پوجا کرنے والوں پر بھی عذاب ہوگا ۔ قدیم زبان متروک ہوچکی تھی اس لیے اس قسم کی غلطیوں کا احتمال بڑھتا جاتا تھا ۔ اس لیے سالا سال تک ہند کے بہترین دماغ عروض اور نحو کہ باریک مسائل کے مطالعے میں مصروف رہے اور ہر فرقہ اپنے تلفظ کو مستند تھا اور اپنی تفسیروں کی اشاعت میں کوشاں تھیں ۔ اس کوششوں کے نتیجے میں اعلیٰ درجہ کے رسالے وجود میں آگئے جن میں سے اکثر ضائع ہوچکے اور وہ جو زیادہ بہتر تھے باقی ہیں ۔
ٍٍ سمرتی یعنی مقدس روایات میں مختلف مضامین شامل ہیں اور زمانے کے لحاظ سے بھی ان میں فرق ہے اور اس ایک علمی مجموعہ بھی شامل ہے جو ویدوں سے متعلق ہے اور براہمنوں اور اپ نے نشد کا ضمیہ ہے ۔ یہ کتابیں براہمن کے متعلق ہیں اور ان کا جاننا ہر اس برہمن کے لیے ضروری تھا جو ویدوں میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ ان کی تعدداد چھ ہے اور ان کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ویدوں اور خصوصاً رگ وید کا زمانہ قدیم سے کس باریکی سے مطالعہ کیا جاتا تھا ۔ مضامین حسب ذیل ہیں ۔ مگر ان کا تعلق وید سے نہیں بلکہ ہندو مذہب سے ہے ۔
پرانPuran
پران کے لغوی معنوں میں پرانے قصے کے ہیں جو اتہاس سے مشابہ ہیں ۔ مگر فرق یہ ہے اتہاس اور دوسری چھوٹی زرمیہ نظموں کو کہتے ہیں ۔ ان میں صرف انسانی یا نیم انسانی فانی اشخاص کے کارناموں کا ذکر ہوتا ہے ۔ مگر پرانوں میں دیوتاؤں کے کارناموں اور آفرنیش عالم وغیرہ کے حالات درج ہیں ۔ جو اگر مذہبی نہ ہوں تو متبرک ضرور خیال کیے جاتے ہیں ۔ پرانوں میں پانچ قسم کے واقعات درج ہیں ۔
(۱) تخلیق کائنات یعنی کائنات کس طرح وجود میں آئی ۔
(۲) کائنات کی تخلیق نو یعنی یوگ Yuga چکر کے بعد مہایوگ Maha Yuga شروع ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے تین یوگ ست یوگ Sata Yuga ، ترتیا یوگ Yhrat Yuga اور دواپر یوگ Dwapar Yuga گزر چکے ہیں ۔ اب آخری یوگ کالی یوگ Kaly Yuga چل رہا ہے ۔ ہر یوگ تنتالیس لاکھ سال کا ہوتا ہے ۔
(۳) دیوتاؤں کے نسب نامے جو خترافات پر مبنی ہیں ۔
(۴) دنیا کے ادوار اور ان پر دیوتاؤں کی حکومت ۔
(۵) بادشاہوں کے نسب ناموں کے متعلق ۔
پران کی تصانیف میں ہندو مذہب کا تمام دینی ذخیرہ شامل ہے ۔ بے شمار پران تصنیف کئے گئے ۔ جن میں وشنو پران ، شیو پران گنش پران ، بھاگوت پران ، اسکندر پران ، مارکنڈے پران ، بہوشٹ پران ، برہم پتی ورنگ پران ، کورم پران ، پدم پران ، برہم پران ، بایو پران ، گڑر پران ، یتسہ پران ، اگن پران ، بارہ پران ، نارہ پران اور مچھ پران اہم ہیں ۔ ان میں سے بہت پرانوں کا یورپ کی زبانوں کا ترجمہ ہوچکا ہے ۔ ان میں بعض نظم اور بعض نثر میں لکھے ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ دو اور پران ہیں اس طرح یہ تعداد بیس ہو جاتی ہیں ۔
ان میں صرف بالاالذکر اٹھارہ پران معتبر سمجھے گئے اور ان پر ہندو دہرم کا انحصار کیا گیا ۔ یہ پران اگرچہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں لیکن ہندو کل پرانوں کے دیوتاؤں کو مانتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر دیوتا میں شکتی ہے جس کو ہم نہیں جانتے ۔ ان پرانوں کا اہمیت اور مقبولیت میں بھی فرق ہے اور ان میں کوئی خصوصیت نہیں ہے ۔ ان کا تعلق بھی وید سے نہیں بلکہ ہندو مت سے ہے ۔
پرانPuran
ہندوستان کی نظمیں بہت طویل ہیں ۔ مگر مہابھارت رامائن سے دگنی ہے ۔ یہ دونوں نظمیں ہندوؤں کے بارے میں معلومات کا ایک خزانہ ہے ۔ اس میں قصے ، افسانے ، اہم فلسفیانہ ، سیاسی اور تمدنی مضامین بھی شامل ہیں ۔ ان نظموں میں ہر طرح کے مضامین پھرے ہوئے ہیں ۔ یہ کتابیں ویدی مذہب اور ہندو مت کا اعلان ہے ۔ اس میں نئے دیوتاؤں کی پرستش کی ترغیب دی گئی ہے ۔
سوتر
سوتر کا مطلب ہے دھاگہ سوت اور ان سے مراد وہ کتابیں جنہیں ویدانگ کہا گیا ۔ جس کے لفظی معنی ویدوں کے بازو اور ٹانگیں ۔ ابتدائی سوتروں کی حثیت مقامی مختلف علوم و فنون کے مختلف قواعد و ضوابط بتائے گئے ہیں ۔ اولین سوتر گھریلو رسومات و قربانی کے اصول بیان کیے گئے ہیں اور بعد کے سوتروں میں فرد کے سماج اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات کے اصول و ضوابط بیان کیے گئے ہیں ۔ انہیں گھری سوتر اور دھرم سوتر کہے ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ انہیں ناکافی سمجھا گیا اور ان کی جگہ نئے سوتر تخلیق کیے گئے ۔ اس سلسلے کی معراج منو دھرم سمرتی ہے ۔ اسے پہلی صدی عیسوی کی تخلیق بتایا جاتا ہے ۔ جو مشکوک ہے ۔
سوتروں کو مختلف مکتبہ فکر کے علما کی تصنیف سمجھا گیا ۔ ان کتابوں نمایاں خصوصیت ان کا مبالغہ آمیز اختصار ہے ۔ جس کی بدولت بعض اوقات مفہوم سمجھ میں نہیں آتا ہے ۔ تمام سوتر ویدوں کے بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
دھرم سترہ
ہندو مت کی بنیاد جن کتابوں پر رکھی گئی ان میں پہلا نام دھرم سترہ کا آتا ہے ۔ اس کو ہندو قانون میں ماخذ کی حثیت حاصل ہے ۔ دھرم کے معنی مذہب ، فرائض اور اعمال کے ہیں اور سترہ کے معنی دھاگہ کے ۔ مگر اصطلاحی معنوں میں مقدس کتابوں کی طرف رہنمائی کرنے والے کے ہیں ۔
اس نوع کے متعدد کتابیں لکھی گئیں ۔ جن میں چار دھرم سترہ جو گوتم ، بودھایں ، دششت اور آپس تمب کی طرف منسوب ہیں اور زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں ۔ ہندو دور کے اوائل میں یہی دھرم سترہ قانون کا ماخذ رہیں ہیں اور اجتماعی زندگی میں ان عمل درآمد ہوتارہا ہے ۔
دھرم شاستر
کچھ دنوں کے بعد جب ان آریوں نے جو اپنی خصوصیت کھو کر ہندو اور غیر آریائی بن چکے تھے ۔ یہ محسوس کیا کہ ایک طرف بدھ مت ان کی مذہبی عالم گیریت سے متصادم ہے اور دوسری طرف شودر ان کی نسلی برتری سے نبرد آزمائی ۔ انہوں نے اپنی نسلی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ۔ انہیں پورا یقین تھا کہ دھرم سترہ وقت کے مطالبہ کو پورا نہیں کرسکتے اور ایسے پرخطر موقع پر اگر کوئی شے انہیں فنا ہونے بچاسکتی ہے ، تو معاشرہ کی نئی تشکیل ہے جو کہ ذاتوں کی تفریق کی بناء پر کی جائے ۔ چنانچہ انہوں نے دھرم شاشترہ رکھا ۔ دھرم سترہ جو کہ نثر میں تھیں یہ ان کے برعکس نظم میں ہیں ۔ ان میں سب سے اہم منو ہے ۔ اس کے بعد یجن والکی ، وشننو و نارو ہیں ۔ یہ دھرم سترہ کی طرح غیر الہامی ہیں ۔ اس لیے ان کو سمرتی کہا جاتا ہے اور اسی نام سے یہ کتابیں زیادہ مشہور ہوئیں ۔ اس لیے عام طور پر سمرتی کہا جاتا ہے ۔ دھرم شاشترہ کی تصنیف غالباً پہلی صدی عیسوی میں ہوئی ہے ۔
اس کے بعد یہی کتابیں ہندو قانون کا ماخذ قرار پائیں اور ان کی تعلیم کے تحت پورے معاشرے کا چلانے کی کوشش کی گئی ۔ عنلی زندگی میں منو سمرتی کو اولیت اور فوقیت حاصل ہے ۔ عدالتوں کے اندر اس کے تحت فیصلے ہوتے ہیں ۔ دھرم شاشترہ کی بنیاد ذات پر رکھی گئی تھی اور مقدمہ کے طور پر اس اصول کو تسلیم کیا گیا کہ انسانی آبادی چار ذاتوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ برہمنی ، کشتری ، ویش اور شودر ۔ ان میں اول الذکر تین دوئج ہیں ، یعنی مرنے کے بعد پھر جنم لیتے ہیں ۔ لیکن شودر کا صرف ایک ہی جنم ہے ۔ دوم ذاتوں میں برہمن کی ذات سب سے اعلیٰ ہے ۔ کیوں کہ برہمانے اسے سر سے پیدا کیا ہے ۔ برہمن بحثیت دیوتا کہ ہیں ، گو وہ انسانی شکل میں ہیں ۔ ان کے حقوق سب سے زیادہ ہیں ، وہ علم و دھرم کا محافظ ہے ۔ اس کے وسیلہ کے بغیر فلاح نہیں ہے ۔
برہموںکے بعد کشتری ہے جس کو برہماکے بازو سے پیدا ہوئے ہیں شجاعت ان کا لازمی صفت ہے ، اس لیے حکومت کرنے کا ان کو پیدائیشی حق حاصل ہے ۔ اس کے بعد ویش کی ذات ہے ، برہما نے ران سے پیدا کیا ہے اور تجارت و صنعت کے لیے انہیں منتخب کیا ہے ۔ شودر کا درجہ سب سے آخر ہے ۔انہیں تینوں ذاتوں کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ، کیوں کہ انہیں برہمانے پیر سے پیدا کیا ہے ،
مہابھارتMaha Bhart
مہابھارت رامائن سے زیادہ ضخیم ہے ۔ اس کے اندر ایک لاکھ اشعار ہیں جو بیس ہزار قطعات میں بٹے ہوئے ہیں ۔ ان کے علاوہ نظموں کا ایک اور مجموعہ بھی ہے جو چوبیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے ۔ اس کتاب کا مصنف ویاس بتایا جاتا ہے ۔ یہ کتاب بھی کسی ایک مضمون کے متعلق نہیں ہے بلکہ اس میں قصے بھی ، پند نصائم بھی ، زرمیہ کارنامے بھی ، فلسفیانہ بحثیں ہیں اور یوگیانہ درس بھی ہیں ۔ ان میں سب سے اہم بھاگود گیتا Bhagavad Gita ہے ۔
یہ حقیقتاََ نئے مذہب کی کتاب ہے جس کے اکثر تصورات گو اپنشد سے ماخوذ ہیں تاہم نتیجے کے لحاظ سے ان سے مختلف ہیں ۔ اس میں دوسرے دیوتاؤں پر وشنو Vishnu کی عظمت قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور وشنو کو برھما مانا گیا ہے ۔ نیز تناسخ کے فلسفہ پر زور دیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ خود کرشن Krishna نرائن بھی ، واسدیو بھی ، وشنو بھی اور برہما بھی ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں وہی معبود اور روح کل بھی ہے ۔ ہندؤں کے خیال میں اس میں ایک ہستی کو تسلیم کرکے وحدت الوجود کی تعلیم دی گئی ہے ۔ اس میں قدیم دیوتاؤں کو نظر انداز کر کے ایک نئے مذہب کی داغ بیل ڈالی گئی ہے جس میں کرشن کو ہی سب کچھ بتایا گیا ہے ۔ اس تعلیم نے کچھ عرصہ کے بعد ایک بڑے فرقے کی صورت اختیار کرلی ۔ اس حقیقت کو سمجھانے کے لئے بھاگود گیتا میں تین طریقے بتائے گئے ہیں ۔ (۱) جنان مارگ Jnana Marga یعنی علم کے ذریعے (۲)کرمہ مرگ Karma Marga یعنی عمل کے ذریعے (۳) بھگتی مرگ Bhakti Marga یعنی گیان یوگ کے ذریعے ۔ یہاں بھی اپنشد کی طرح آرواگون Arvagona سے رہائی پاجانے یا مکتی Makti یا نجات بتایا گیا ہے ۔
رامائنRamayana
رامائن ماروا لطیفی اور فلسفیانہ بحث سے خالی ہے ۔ اس میں جو کچھ قابل تذکرہ ہے وہ رام چندر اور سیتا کی سیرتیں ہیں ۔ جنہں ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ بعد میں چوں کہ رام چندر اور سیتا کو وشنو اور لکشمی کا اوتار مانا گیا ہے ۔ اس سے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور یہ وشنو کے مانے والوں کی سب سے اہم کتاب بن گئی ہے ۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ویدی معبودوں کے ساتھ نئے دیوتاؤں کا نام بھی آتا ہے ، جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ آریائی مذہب ہندو مذہب میں تبدیل ہورہا تھا ۔ گو انہیں برتری نہیں ہوئی تھی ، نیز تناسخ کا عقیدہ پختہ ہوچکا تھا اور عام انسانوں کو اوتار سمجھنے کی بدعت جاری ہوچکی تھی ۔
اس کتاب کا مصنف والمیکی Valmmiki بتایا جاتا ہے اور اس کو رام چندر کا ہم عصر قرار دیا گیا ۔ اس کتاب کے مختلف مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ۶۰۰ ق م سے پہلے کی نہیں ہے ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں