27

وید کا وشنو

طبقہ ثانی میں وشنو سربرآور وہ دیوتا ہے جو ایک شمسی دیوتا ہے اور اگنی کا مظہر ہے ۔ رگ وید میں اس کا درجہ نہایت ادنیٰ درجہ کا ہے اور اسے اندر کا دوست اور رفیق بیان کیا گیا ہے ۔ جو اس کو اصطبل کھولنے اور گایوں کو آزاد کرانے میں مدد دیتا ہے ۔ اس کی یہ خصوصیت یہ ہے کہ اس کہ نام کے ساتھ ہمیشہ تین قدموں والے دیوتا کا لقب رہتا ہے ۔ جو لوگ مناظر فطرت کے لحاظ سے اس لقب کی تشریح کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے سوریا کے تین مقامات مراد ہے ۔ یعنی صبح ، دوپہر اور شام ۔ مگر مزید مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بظاہہر واضح افسانے کی ایک اور تشریح ہوسکتی ہے ۔ یعنی وشنو کے تینوں قدم آسمان ، زمین اور اس اعلیٰ ترین عالم پر حاوی ہیں ۔ جس کو فانی انسان دیکھ نہیں سکتے ہیں ۔ اس کا ثبوت رگ وید کے اس جملے سے ملتا ہے ۔ ’’زمین سے ہم تیرے دو مکانوں کو دیکھ سکتے ہیں ، مگر اے وشنو ! تو ہی اپنے اعلیٰ ترین مکان کو جانتا ہے’’۔ (ساتواں منڈل ۔۹۹،ا) 
وشنو رگ وید میں ایک چھوٹا دیوتا ہے ۔ اس کی اہم صفت وہ تین بڑے بڑے ڈگ پھر سکتا ہے ۔ اس پاؤں تِری وِکرم (تین ڈگ بھرنے والے) وہ دور تک جاتا ہے اور جلدی جاتا ہے ۔ وشنو کا تعلق سورج سے بھی ہے ۔ اس کے تین قدم سورج کے طلوع ، عروج اور غروب کے استعارے سمجھے جاتے ہیں ۔ وشنو کے معنی سرایت کرنے والے کے سمجھے جاتے ہین ۔ اس ایک معنی مختلف شکلیں بدلنے والے کے ہوسکتے ہیں ۔ بعض کا خیال ہے وشنو مقامی الاصل ہے ۔ بعد کے زمانے میں وشنو عظیم دیوتا بن گیا اور کل کائنات کا مالک تسلیم کیا گیا ۔ 
بہر کیف اس لقب سے خواہ کچھ ہی مطلب ہو مگر رگ وید سے وشنو کی آنے والی عظمت کا بالکل پتہ نہیں چلتا ہے ۔ جو بعد کے زمانے میں برہمنوں کی عثلیث کا رکن ثانی اور محافظ دیوتا اور شیو کا رقیب ہوگیا ۔ تمام ہندو یا تو شیو کو مانتے ہیں یا وشنو کو مانتے ہیں ۔ مگر رگ وید میں ان دونوں فرقوں کی ابتدا کا کچھ چلتا ہے ۔ خصوصاً تاریخی بھجنوں کے ایک حصے جس میں پنجاب کے آریاؤں کی لڑائیوں اور جھگڑوں کا ذکر ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں