40

وید کے تمثیلی مجسمات

طبقہ ثانی دیوتاؤں کو جو غور و فکر کے ذریعے سے فطری دیوتاؤں سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ایک تیسرے طبقے کے دیوتاؤں سے بالکل الگ رہنا چاہیے ۔ جو قصہ کہانیاں ہیں یعنی خصائل اور تجریدات تمثیلی مجسمے کے مجسمات ہیں ۔ ان کا جسمانی وجود کبھی نہ تھا ۔ مثلاً ایمان (شرادھ) سخاوت (دکشنا پجاریون کو انعام دینا) غضب (کاینوس) یعنی ان لوگوں کا غصہ جو بھوتوں اور دنیاوی دشمنوں سے لڑتے ہیں ۔ ایرانیوں کی افسانہ اخلاقیات کا بھی یہی طریقہ تھا ۔ اور ہندوستان کے فطرت پرست آریاؤں کو اس سے مناسبت نہ تھی ۔ اس لیے رگ وید میں اس کا زیادہ پتہ نہیں چلتا ہے ۔ مگر اتھرون وید کے بعد کے زمانہ کے حصوں میں زیادہ اثر ہے اور زمانہ ، خواہش اور زندگی وغیرہ کو دیوتاؤں کی طرح اسی شان و اعزاز کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے ۔ جیسے کہ ابتدائی بھجنوں میں اندر ، اگنی ، سوما اور دوسرے دیوتاؤں کو برہمنوں میں یہ عنصر برابر بتدریج زیادہ ہوتا جاتا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں