78

وید

واحد ماخذ
اثری ثبوت کے مقابلے میں اہم ثبوت رگ وید ہے ۔ جو نسبتاً تفصیل سے آریاؤں کے مقابلے میں معلومات ملتی ہیں ۔ رگ وید کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ مثلاً رومیلا ٹھاپر کا خیال ہے کہ ۱۰۰۰ ق م تک لکھا جاچکا تھا ۔ کوسامبی ۵۰۰ا ق م بتاتا ہے ۔ جوشی کا خیال ہے کہ رگ وید پانچ سو سال کے عرصہ میں لکھا گیا تھا اور اس کا آغاز تصنیف ۱۵۰۰ ق م میں شروع ہوا تھا اور ۱۰۰۰ ق م میں مکمل ہوا ۔ رگ وید کا زمانہ تصنیف کا تعین صرف اور صرف رگ وید کی زبان اور اس کے واقعات ہیں اور اس سلسلے میں اثریات سے کوئی مدد نہیں ملتی ہے ۔ بہر حال لوگ اس پر متفق ہیں کہ اس کے ابتدائی حصہ ۱۵۰۰ ق م لکھے گئے ہیں اور یہ سلسلہ کئی صدیوں تک جاری رہا ۔ اس قدیم حصوں میں آریاؤں کی آمد اور مقامی لوگوں سے ٹکراؤ کی داستانیں قلمبند ہیں ۔ البتہ یہ بات طہ ہے کہ رگ وید کے کی رچائیں آج تک ہم تک لفظ بہ اور حروف بہ حروف ہم تک پہنچی ہیں ۔ کیوں کہ نسل در نسل ویدی علما اور حافظ جنگلوں میں دنیا کو چھوڑ کر حفظ کرتے اور ایک حروف کی تبدیلی کے روادار نہ ہوئے ۔ یہ وہ سب سے بڑی طاقت تھی جو رگ وید کو مطالعہ کے قابل بناتی ہے ۔ ابتدا میں مورخین کا خیال تھا کہ رگ وید میں درج  واقعات وادی سندھ کی تہذیب کی تباہی اور آریاؤں کی فتح کا زمانہ ۱۵۰۰ ق م ہے ۔ اس کی اندرونی شہادت رگ وید کے اندرونی شواہد پر تھے ۔ لیکن اب اثری شواہد اور رگ وید کے تقابلی واقعات سے مورخین اس پر متفق ہیں کہ وادی سندھ کی تہذیب کا ذوال ۱۷۰۰ ق م میں ہوا تھا اور اس داستانیں رگ وید میں درج ہیں ۔ رگ وید کے علما سنسکرت اس کے متن کی صحت کو شک و شبہ سے بالاتر سمجھتے ہیں ۔ رگ وید کی ہر مناجات (سوکت) کے متعلق عقیدہ رکھتے ہیں یہ ازل سے اسی طرح ہیں اور ابد تک رہیں گے ۔
رگ وید میں ۱۰۲۸ بھجنوں میں ہزاروں نام اور تلمحیات ہیں جن سے دماغ پراگندہ ہوجاتا ہے ۔ مگر رگ وید دوسری مذہبی کتابوں سے مختلف اس لیے ہے ہ اس کتاب لاکھوں دماغوں صدیوں تک محنت کا نتیجہ ہے اور بڑی قوم کی مسلمہ مذہب کتاب ہے جس میں ہزارہا تغیرات کی گنجائش ہے ۔ اس میں جس مذہب کی تلفین کی گئی ہے اس کی تعریف دشوار ہے ۔ اوستا کا وید سے مقابلہ کرنا دشوار ہے ۔ کیوں کہ ہندوستان آکر ان کا مزاج فلسفیانہ ہوگیا تھا اور غور و فکر کا مادہ ان میں پیدا ہوگیا تھا ۔ اس کے برخلاف ان کے ایرانی سادہ مزاج اور جفاکش اور محنتی تھے ۔  

ٍ ویدوں کے مضامین سے صاف ظاہر ہے ، کہ کچھ منتروں کو چھوڑ کر بقیہ اسی سرزمین پر لکھے گئے ہیں ۔ جب یہاں آریا یہاں آئے تھے ، تو انہیں کچھ مذہبی بھجن زبانی یاد تھے اور انہیں زبانی منتقل کرتے گئے اور اب رگ وید کا حصہ ہیں اور ان بھجنوں کو تکرار اور حذف اضافے کے ساتھ دوسرے ویدوںمیں شامل کئے گئے ہیں اور ان کے بہت سے مضامین بہت بعد کے حالات پر مشتمل ہیں ۔ اس طرح ویدوںکا زمانہ ۱۰۰۰ ق م سے ۶۰۰ ق م تک متعین ہوتا ہے ، جو قرین قیاس ہے ۔ ان بھجنوں کا مطالعہ کرنے اور زبان اور طرز بیان پر غور کرنے سے ہمیں ان قدیم ترین بھجنوں کو پہچاننے کی اہلیت پیدا ہوتی ہے اور ان سے ترقی کی ایک دوسری منزل پر پہنچے اور تدریحی ترقی کا ثبوت ملتا ہے جس سے ہم آشنا نہیں ہیں ۔
ویدی مذہب کی خصوصیات اور مطالعے کا اندازہ رگ وید میں بہت سے دیوتاؤں کے وجود کی تعلیم ہے ، اس میں متوفی آبا و اجداد کی ارواح کی پرستش کا ذکر بھی ہے جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انسان پرستی ان کے خصائص میں اس سے ہے ۔ ان میں ابتدا سے ہی یہ خیال عام تھا کہ ایشور کائنات کے ہر ذرے میں موجود ہے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویدانیت (ہمہ اوست یا وحدت الوجود) کی طرف ان رجحان عہد قدیم سے ہی تھا ۔ بہت سے ایسے اشلوک ایسے ہیں جن کا مفہوم بتاتا ہے کہ مختلف دیوتا صرف اس ذات واحد کے مختلف نام ہیں ۔ اس سے واحدانیت کے خیالات کی تصدیق ہوتی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ خاص تر اور مجرد خیالات رگ وید کی آخری ترتیب کے مابعد کی صدیوں میں پیدا ہوئے ۔ گو وید کے متعلق تسلسل سنین کا ہمیں علم نہیں ہے اور ہمارے قیاسات اور خیالات کی تصدیق ویدوں کی اندرونی شہادتوں سے ہوتی ہے ۔ مثلاً ان شہادتوں کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں ویدوں میں بت پرستی کا وجود نہ تھا ۔ عالم کائنات ان کا معبد تھا اور وہ انسانوں کے بنائے ہوئے مکانوں مں اپنے دیوتاؤں کو نہیں سجاتے تھے ۔ اگرچہ وہ اپنے دیوتاؤں کو انسانی شکل اور خصائل کے ساتھ منظوم کرتے تھے ۔ وہ اپنے دیوتاؤں کو انسانی شکل میں قیاس کرتے تھے مگر ان کے بت نہیں بناتے تھے ۔
مذہب و فلسفہ کا ماخذ
رگ وید کے زمانے میں آریائی مذہب نہایت سادہ تھا ۔ رفتہ رفتہ مذہبی فکر و رسومات میں دونوں پیچیدہ اور مبسوط ہوگئیں ۔ موخر ویدی دور میں شمسی اور مجرد دیوتاؤں کی اہمیت بڑھ گئی ۔ وشنو سب سے نمایاں دیوتا ہوگیا شمسی دیوتاؤں کی اہمیت میں اضافہ کا مطلب ہے اخلاقی اسول میں اضافہ ۔
ہیوٹ کا کہنا ہے کہ شالی ہندوستان کے ابتدائی زمانے میں آریوں کے سال میں قمری ۱۳ مہینے ہوتے تھے ۔ اس کے بعد شمسی سال کا رواج ہوگیا جس میں بارہ مہینے تھے اور ۱۲ ادیتیاؤں سے ان کا تعلق تھا ۔ یہ فرقہ غالبا اس تغیر کا باعث ہوا ۔
ایرانی اور ہندی آریاؤں کا قدیم مذہب
سپت سندھو کے آریاؤں نے ہندی ایرانی دونوں قوموں کی علحیدیگی سے قبل کیا مذہبی میراث حاصل کی اس کا اب صحت کے ساتھ تعین کرنا ناممکن ہے ۔ مگر رگ وید اور اوستا میں بعض مذہبی عقائد ہیں جن کے متعلق ہم قیاس کرسکتے ہیں کہ وہ قدیم اصلی آریاؤں کے عقائد تھے ۔ جو قدیم عقائد کے خط و خال کو علحیدہ کرنا ممکن نہیں ۔ اس قدیم مذہب کی بنیاد انہی پر تھی اور زمانہ مابعد میں ہندوستانی اثرات سے متاثر ہوکر اس میں بے شمار پیچیدیگیاں پیدا ہوگئیں جن سے قدیم مذہب کے خط و خال کو علحیدہ کرنا ناممکن نہیں ۔ اس قدیم مذہب کی بنیاد خالص فطرت پرستی پر تھی اور اس میں اخلاقی احساس اور مذہبی جوش اس حد تک موجود تھا جو ایک اعلیٰ درجہ کی قوم کی مذہبی زندگی میں موجود ہونا چاہیے ۔
وید کی بازیابی
جب انگریزوں نے سنسکرت پر تحقیقات شروع کیں تو انہیں برہمن پنڈتوں نے مخطوطے کثیر تعداد میں دیئے ۔ مگر انہوں نے مذہبی اور قانونی کتب سے دور رکھنے کی کوشش کی اور اکثر لاعلمی کا اظہار کرتے یا جواب دینے سے گریز کرتے تھے ۔ جلد ہی انگریزوں کو معلوم ہوا کہ برہمنوں کی قدیم مذہب اور قوانین کی مقدس کتب غیر مذہبوں کو دیکھنے سے ناپاک ہوجاتی ہیں ۔ برہمن ان کتابوں کے محافظ تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ انگریز ان کتب سے واقف ہوں ۔ انگریزؤں نے جلد معلوم کرلیا کہ ان کے مذہب و قوانین کی بنیاد وید ہے ۔ انہوں نے کچھ وید کی کتب حاصل کرلیں ۔ مگر یہ سنسکرت میں نہیں بلکہ ویدی زبان میں لکھی ہوئی تھیں اور اسے پڑھنا اس وقت مشکل تھا ۔
انگریزوں کی دوسری نسل اس کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہی ۔ کیوں کہ کچھ روشن خیال برہمن پنڈتوں کا حجاب دور ہوگیا اور ان کے توہمات بھی دور ہوگئے ۔ اس سلسلے کا آغاز کولمبروک اور ولیم جونز نے آغاز کیا تھا اور ان کے ویدوں کے مقدس ترین کتب بھی پوشیدہ نہیں رہیں ۔ اس سلسلے کو چالیس ولکنس کے سنسکرت کے مطبع سے بہت مدد ملی ۔ اس طرح ہندوؤں کے ہر علم مثلاً مذہب ، قانون ، تمدن و رسوم ، نحو ، ہیت و حساب کے بارے میں مدد ملی اور انہوں اس بارے میں تحقیقات کیں اور اپنے نتائج اور تجیزیہ کو پیش کیا ۔ اہل یورپ نے سنسکرت کے علوم کے بارے جو تحقیقات پیش کیں اور جو ذخیرہ سنسکرت کی قلمی کتب کا انہیں ملا اس کی تعداد ہزاروں میں تھی ۔
ویدی مذہب
بہت سے محقیقین کا خیال ہے کہ مذاہب خوف و دہشت سے پیدا ہوئے ہیں ۔ اگر بجلی کی کڑک نے دہشت و خوف کے خیالات پیدا کیے اور انسان کو اپنی کمزوریوں اور ضروریات سے آگاہ کردیا ۔ ویدوں میں اندر دیوتا کہتا ہے ’’جب رعد اور بجلی بھیجتا ہوں تب تم یقین کرتے ہو’’۔ لیکن ہم جس کو درست معنوں میں دہرم کہتے ہیں وہ خوف یا دہشت سے نہیں نکلا ۔ دہرم بھی ایک قسم کا یقین و اعتماد ہے ، یہ یقین ابتدا میں ان اعتقادوں سے پیدا ہوا جو انسان کے دل و دماغ پر قدرت کی دانائی اور ترتیب کا نقشہ جماتے ہیں اور خاص کر چند باقیدہ انتظاموں کو دیکھ کر مثلاً سورج کا روزانہ مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہونا ۔ چاند کا رات کو نکلنا ، گھٹنا اور بڑھنا ۔ موسم کا تغیر و تبدل ، ہر ایک چیز کے بواعث اور نتائج وغیرہ وغیرہ دیکھ کر انسان ضرور ان کے اصل الاصول یا مسبب الاسباب تک پہنچتا ہے خواہ اس کا کوئی نام رکھیں ۔
وید
یہ سمتھا (حمدیہ مجوعہ) رگ وید کہلاتا ہے ۔ وید کا لفظ ود سے نکلا ہے ، جس کے معنی جاننے کے اور علم ہیں ۔ اس لئے وید کا اطلاق عام علوم یا مخزن علوم کے ہیں ۔جس کو سمھیتا کہتے تھے ۔ یہ مخزن علوم اوائل میں تین مجموعوں پر مشتمل تھا ، رگ سمھیتا، سام سمھیتا اور یجرسمھیتاکہتے تھے ۔ بعد میں اس میں اتھرا سمھیتا کا اضافہ ہوگیا ، جو مضمون کے لحاظ سے ایک ہیں ۔ یہ سمھیتا منتروں یا بھجنوں کا مجموعہ ہیں ، اس لئے یہ منترا بھی کہلاتی ہیں ۔ راسخ عقیدہ ہندؤں کا عقیدہ ہے یہ تمام وید الہامی ہیں اور پرمیشر کے خاص بندوں کے ذریعہ ہم تک پہنچائے گئے ہیں اور برھما نے انہیں خود اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ۔
سپت سندھو کے آریاؤں نے ہندی ایرانی دونوں قوموں کی علحیدیگی سے قبل کیا مذہبی میراث حاصل کی اس کا اب صحت کے ساتھ تعین کرنا ناممکن ہے ۔ مگر رگ وید اور اوستا میں بعض مذہبی عقائد ہیں جن کے متعلق ہم قیاس کرسکتے ہیں کہ وہ قدیم اصلی آریاؤں کے عقائد تھے ۔ جو قدیم عقائد کے خط و خال کو علحیدہ کرنا ممکن نہیں ۔ اس قدیم مذہب کی بنیاد انہی پر تھی اور زمانہ مابعد میں ہندوستانی اثرات سے متاثر ہوکر اس میں بے شمار پیچیدیگیاں پیدا ہوگئیں جن کو علحیدہ کرنا ناممکن نہیں ۔ اس قدیم مذہب کی بنیاد خالص فطرت پرستی پر تھی اور اس میں اخلاقی احساس اور مذہبی جوش اس حد تک موجود تھا جو ایک اعلیٰ درجہ کی قوم کی مذہبی زندگی میں موجود ہونا چاہیے ۔
پنجابی آریاؤں کے قدیم مذہبی رسوم کا دھندلا خاکہ جو رگ وید کے بعد کی پیچیدگیوں میں نظر آتا ہے ۔ جو ابتدا میں نہایت سادہ تھا اور خاندانی عبادت کے مشابہ تھا اور خاندان کا سردار ہی ان کا مذہبی سرگردہ رہنما ہوتا تھا ۔ وہی روزانہ پوجا میں پگھلے ہوئے مکھن کے چراغ جلاتا اور مھجنوں کو گاتا ۔ بھجنوں کا مطالعہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ ان کی پرستش میں مصنوعی امور اور تکلفات آگئے تھے ۔ ورنہ پھر مناسب بھجنوں سے کیا مطلب ؟
مذہبی رسوم کے ساتھ عبادت کی کتابوں کا ہونا لازمی ہے ۔ اس وجہ سے دوسرے دو سمھتا یا مجموعے وجود میں آگئے ۔ جو یجر وید اور سام وید کے نام سے مقدس کتابوں کے مجموعے میں شامل ہیں اور اب وید کا حصہ بن گئے ہیں ۔ ان دونوں ویدوں میں منتر اور منتروں کے ٹکڑے رگ وید سے ماخوذ ہیں اور ان کی ترقی کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے ۔ پوجا میں ہر کام اور ہر رسم کے لیے خاص منتر مقرر تھے اور قربانیوں کے لیے ان کی تعداد اس قدر بڑھ گئی تھی کہ کئی کئی پجاریوں اور بعض اوقات سترہ پجاریوں کی ضرورت پڑتی تھی ۔ پجاریوں کے بھی مختلف درجوں کے ہوتے تھے اور ہر ایک کے فرائض مخصوص و محدود تھے ۔ ان میں سے بعض منتروں کو آہستہ آہستہ پڑھتے تھے اور بعض زور زور سے گاتے تھے ۔
ویدوں کے مضامین سے صاف ظاہر ہے کہ کچھ منتروں کو چھوڑ کر بقیہ اسی سرزمین پر لکھے گئے ہیں ۔ جب یہاں آریا یہاں آئے تھے تو انہیں کچھ مذہبی بھجن زبانی یاد تھے اور انہیں زبانی منتقل کرتے گئے اور وہ جب وہ فن تحریر سے آگاہ ہوئے تو ان کی ابتدائی تحریریں یہی بھجن اور منتر ہوں گے جو اب رگ وید کا حصہ ہیں اور تکرار اور حذف اضافے کے ساتھ دوسرے ویدوںمیں شامل کئے گئے ہیں اور ان کے بہت سے مضامین بہت بعد کے حالات پر مشتمل ہیں ۔ اس طرح ویدوںکا زمانہ ۱۰۰۰ ق م سے ۶۰۰ ق م تک متعین ہوتا ہے جو قرین قیاس ہے ۔
جب رگ وید عبارت اور پوجا کے لیے منتروں کی ترتیب نو کی گئی تو تدوین نو کرنے والوں نے ان میں ریت (رسوم مذہبی) کی مناسبت سے خفیف تغیرات کردیئے اور اس سے یجر اور سام وید میں اختلاف ہوگیا ۔ یجر اور سامن ویدوں کے منتر رگ وید سے لفظ بہ لفظ نقل نہیں کیے گئے ہیں اور ان تبدیلیوں کا پتہ لگانا زیادہ دشوار نہیں ۔ مگر مقابلہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مقامات میں سخت اختلاف ہے جس کی توجیہ زیادہ دشوار نہیں ۔
رگ وید
رگ وید کی تصنیف کا زمانہ ۱۵۰۰ ق م سے ۱۰۰۰ یعنی پانچ سو سال تک پھیلا ہوا ہے ۔ وید کے ۱۰۲۸ بھجن دس علحیدہ کتابوں یا مجموعوں میں منقسم ہیں ۔ جنہیں منڈل کہتے ہیں اور ان حصوں کی مزید تقسیم عمل میں آئی ۔ ان میں سے ہر ایک کا مصنف یا مدون کرنے والوں کو رشی قرار دیا گیا ۔ ہر منڈل کو رشیوں کے الگ الگ خاندان نے نسلاً بعد نسل تصنیف کیا ۔ منڈل دوم تا ہفتم جن خاندانوں نے تخلیق کیے ان کے نام بالترتیب یوں ہیں ۔ کَرِت سمدا ، واشوامتر، دام دیو ، بھرت واج اور وسشٹھ ہیں ۔ ہر لکھنے والے فرد کو وشی کہا جاتا تھا ۔ جس کے معنی دیکھنے والا ، صاحب کشف ۔ جس نے کشف میں ان منتروں کو لکھا دیکھا اور سنا ۔ ان کے ناموں کی صحت مشتبہ ہے ۔ کیوں کہ ان کہ اس قدر افسانے اور قصے جمع ہوگئے ہیں ۔ غالباً ان ناموں سے نہ صرف خاص افراد مراد ہیں بلکہ خاندانوں کی نسلوں سے جو نسلاً بعد نسل پجاری تھے ۔ شاعر بھی انہی خاندانوں نے منتخب کیے ہوں گے اور عبادت کے طریقوں کی تدوین کی ہوگی ۔ جو ترقی کرتے کرتے (اس زمانے میں جب کہ آریوں کی فتوحات اور نو آبادیاں گنگا اور جمنا کے دو آبے تک پہنچ گئیں تھیں) ایک پیچدار اور مکمل مذہبی نظام و رسوم بن گئے جس کا دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے ۔ ان ناموں کو بعض جدید علما نے ان پر شک کا اظہار کیا ہے ۔ مگر عموماً محقیقین انہیں درست سمجھتے ہیں ۔ پہلے اور دسویں منڈل کی مناجاتیں متفرق خاندان کے رشیوں نے لکھیں ہیں ۔ ان منڈلوں کی بعض مناجاتیں عورتوں نے لکھیں ہیں ۔ آٹھواں منڈل کانو یا کانوا خاندان کے رشیوں نے لکھے ہیں اور نواں منڈل میں وہ تمام مناجاتیں ہیں جو سوم کی مدح میں ہیں اور یہ ساری مناجاتیں منڈل دوم تا ہفتم سے نکال کر اس منڈل میں جمع کی گئیں ہیں ۔ لہذا اس کی علحیدہ کوئی حثیت نہیں ہے ۔ ان میں منڈل ۲ تا ۷ قدیم ترین ہیں اور اس کے بعد ۸ اور ۹ مرتب کیے ہیں ۔ سب سے آخر میں ۱ اور ۱۰ منڈل جمع کیے گئے ہیں ۔ رشیوں کے خاندان جنہوں نے رگ وید کے اشعار کو تخلیق کیا اور انہیں حفظ کرکے نسل درنسل محفوظ کیا اور اس کی شیرازہ بندی کی پورے پنجاب کے علاقہ میں پھیلے ہوئے تھے ۔ لہذا رگ وید میں جس مذہبی تفکر کا اظہار کیا وہ وسیع علاقہ اور وقت کا اظہار کیا ۔ اس نظام یا رسوم کی محافظ پجاریوں کی وہ جماعت تھی جو اس دوران ایک طاقت ور زبردست جماعت بن گئی تھی اور ان کا اثر ہندوستان پر اب تک قائم ہے ۔ یہ مذہبی حکومت کی ایسی مثال ہے جو شاید ہی کسی اور ملک میں قائم ہوئی ہوگی ۔
یہ وہ زمانہ تھا جب آریا اور مقامی باشندوں میں کشمکش اور پھر انظمام جاری تھا ۔ جس کے نتیجے میں ایک ملا جلا سماج وجود میں آرہا تھا ۔ چنانچہ ہمیں مذہب کے دو دھارے صاف نظر آتے ہیں ۔ ایک طرف رشیوں اور پجاریوں کا مذہب تھا جو قربانی کی رسومات پر مشتمل تھا ۔ دوسرا فطرت پرستی یا مظاہر پرستی یعنی قدرت کے مختلف نظاروں کو ذی روح سمجھا جاتا تھا اور ان سے مانوق الفطرت صلاحیتوں کو منسوب کرنا عوام کا مذہب تھا ۔ رسومات پرستی پرہتوں کا مذہب تھا اور حکمران طبقات ، امرا اور اشرافیہ اس پر عمل کرتے تھے ۔ ظاہر ہے جانوروں کی قربانیاں دینا صاحب اسطاحت لوگوں کا کام تھا اور قربانی کی پیچیدہ رسومات کی ادائیگی پجاریوں کا کام تھا ۔ جب کہ عوام مظاہر فطرت کو پوجھا سے ہی اپنی ذہنی تسکین کا کام بہم پہنچاتے تھے ۔ چونکہ سماج قبائل میں منقسم تھے لہذا بیک وقت کئی خداؤں کی پوجا کی جاتی تھی ۔ رگ وید کے عظیم دیوتاؤں میں اندر ، ورن ، منتر سوم اور اگنی قابل ذکر ہیں ۔ اندر ایک فوق البشر طاقت کا دیوتا تھا ۔ انسانوں کو تباہ کرنے والا ، اژدھوں کو مارنے والا ، شہروں کو تاراج کرنے والا ، طوفان اور بارش برسانے والا اور ناقابل تسخیر قلعوں کا فاتح ۔ اس طرح اگنی دیوتا تخریب سے زیادہ زندگی کی حرارت کی علامت تھی ۔ مثلاً گھر کے اندر چولہہ پر اگنی کا سایہ اور شادیاں بھی اس دیوتا کے سامنے ہوتی تھیں ۔
ابتدا میں رگ وید اگرچہ لکھی نہیں جاتی تھی لیکن قدیم زمانے سے اس کی تعلیم مذہبی مدارس میں سرگرمی سے جاری تھی اور لوگ اس کو حفظ کرلیا کرتے تھے اور تخریف کے خوف سے ہر اشلوک اور لفظ اور ہر جزو کو گن لیا کرلتے تھے ۔ رگ وید میں شبدوں (الفاظوں) کی تعداد 153826تھی اور حروف کی تعداد 432700تھے ۔ اشلوکوں کی تعداد میں اختلاف ہے جو 10402 سے 10622 تک تھے ۔ کیوں کہ ویدک زبان جس میں وید لکھی گئی متروک ہو رہی تھی اور اس زبان کو سمجھنے والے بہت کم رہ گئے تھے اور بشتر لوگ اس سمجھے بغیر یاد رکھنے کی کوشش کرتے تھے ۔ لہذا اکثر یہ ہوتا ہے کہ بجائے اصل لفظ کے اس کا کوئی ہم معنی اور ہم آواز لفظ داخل کر دیتے اور غلطیوں کو درست کرنے کوئی تحریری کتاب موجود نہ تھی کہ جس مقابلہ یا درستگی ہوسکتی ۔ اگرچہ بعض اختلافات بھی ہیں اس لیے رگ وید کے مختلف نسخے ہیں مگر یہ اختلافات محض جزوی ہیں ۔ مگر باوجود اس کے بحثیت مجموعی کتاب مزکورہ میں تخریب بہت کم ہوئی ہے ۔
رگ وید کے زیادہ تر حصہ ابھی تک ناقابل فہم ہے اور یہ منتر ، مناجات اور حمد پر مشتمل ہے ۔ مگر ان میں جگہ جگہ رنگین خرافات بھی ملتی ہیں ۔ ان منتروں سے ان کی ارتقائی حالت ، مقاصد ، سیاسی تنظیم اور دشمنوں کے تمدنی مدارج پر کافی روشنی پڑتی ہے ۔ ان میں بہت سے معبودوں کا نام لے کر دولت و شہرت طلب کی گئی ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں اپنی فتح اور کامرانی کی دعا کی گئی ہے ۔ یہ سمتھا میں ۱۰۲۸ منتروں پر مشتمل ہے ۔ اس میں وہ منتر شامل نہیں ہیں جن کا بعد میں توصیح و تشریح کے لیے اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ یہ دنیا کی سب سے قدیم مذہبی کتاب ہے ۔ گو یہ کتابی کا صورت میں بہت بعد میں وجود میں آئی ہے ۔ کیوں کہ پجاریوں نے اسے تحریری شکل میں لانے میں صدیاں لگا دیں ۔ وہ اپنے حافظہ پر اعتماد کرتے تھے اور وہ اسے آسانی سے خیرباد نہیں کہہ سکتے تھے ۔ وہ نہیں چاہتے تھے ان سے دوسرے یا عام عوام بھی آگاہ ہوں ۔ کیوں کہ تعلیم پر برہمنوں کی اجارداری تھی اور لکھنے کی صورت میں اس کے عام ہونے کا خدشہ تھا ۔ اس وید کا بہت سا حصہ اب تک ناقابل فہم ہے ۔ اس میں اعلیٰ خیالات کہ ساتھ خرافات بھی ہیں ۔ مثلا رگ وید میں کچھ منتر اس طرح کے ہیں ۔
’’اے اگنی ہمارے دشمنوں کو جلادے ۔ اے وارن ہم سے کون سی خطا سرز ہوئی جس کی وجہ سے تو اپنے پجاریوں کو ہلاک کرنے کے درپہ ہے ۔ ہم سے جو خطا سرز ہوئی وہ شرب پینے ، جوا کھیلنے اور سخت ضرورت کو رفع کرنے کی غرض سے ہوئی ہے ۔ اے ورن ہم برا کہا ہم پر رحم کر ، ہمارے باپوں کی خطاؤں کو معاف کر ہمارے دشمنوں کو اس مدح سرائی کے صلہ میں ہلاک کر ، کالے چمڑے والوں کو غارت کر ، جس کے بدلے ہم نے تیرے لیے قرباییاں دیں ہیں ۔ جیسے بیج دینے والا سانڈ گایوں میں جفت ہونے کے اپنی طاقت سے پہنچتا ہے ۔ ویسے ہی اندر عمدہ صفات کی بارش کرنے والا ثروت والا کل دنیا کو بنانے والا اپنے بل سے دہر ماتما آدمی تک پہنچتا ہے ۔ جیسے باپ اپنی کنواری بیٹی سے جماع کرتا ہے ۔ ویسے ہی بادل زمین پر اپنی بوندیں برساتا ہے ۔ جیسے باپ اپنی بیٹی سے جماع کرتا ہے ویسے ہی سورج صبح صادق میں کرنیں چھوڑ دیتا ہے ۔ جیسے پیاسا ہرن دوڑ کر تالاب یا ندی سے پانی پیتا ہے ویسے اندر ہمارے قابل تعریف یجہ کا پانی پیتا ہے ۔ (رگ وید سوکت ۱۶ منتر ۵) جیسے کبوتر کبوتری کے پاس جاتا ہے ویسے ہی اندر ہماری فریاد پر پہنچتا ہے ۔ (رگ وید سوکت ۳۰ منتر ۴) جیسے گھوڑا گھوڑیوں سے جفت ہوتا ہے ۔ ویسے ہی لیٹی ہوئی عورت سے بھی ہوتا ہے ۔ (رگ وید سوکت ۵۶ منتر ۱) اے سیکڑوں ترکیبیں جانے والے راجہ میں تیری رعیت اور فوج کے گیت گانے والا ہوں مجھ کو پڑوسی ایسا سناتے ہیں جیسے خاوند کو اس کی بہت سی بیویاں ایذا پہنچاتی ہیں ، جیسے چوہے سوت کو کاٹ کر کھاتے ویسی ہے مجھے بھی مدد دے ۔(رگ وید سوکت ۱۰۵ منتر ۸)
رگ وید کے سماج کا اخلاقی معیار یکساں اور اعلیٰ نہیں تھا ۔ بلکہ ایک پسماندہ سماج تھا جس مذہب سے وابستگی یا گناہ یا ثواب کے تصورات واضح نہیں تھے ۔ اس میں متعدد سماجی برائیوں میں محرمات سے مباشرت ، اغوا ، میاں بیوی کا ایک دوسرے سے بے وفائی ، اسقاط حمل ، دھوکہ ، چوری اور ڈاکہ کا ذکر ملتا ہے ۔
جی این فار کیوہر کا کہنا ہے کہ اگرچہ رگ وید میں کافی توہم پرستی ہے اور عظیم دیوتا بھی ماسوائے وارن کے مقدس کردار کی ہستیاں نہیں ہیں ۔ تاہم کالے فنون کی ممانیت کی گئی ہے ، انسانی قربانیاں ، ظلمانہ ، رسومات جینسی تلذر اور دوسری بھیانک چیزیں واضح طور پر مفقود نظر آتی ہیں ۔ مذہب بحثیت مجموعی ایک صحت مند اور خوش آئند نظام ہے ۔ ترک لذات اور نہ سادگی ، نہ قنوقیت اور نہ فلسفہ اس زمانے کی دھوپ کو ماند کرتی ہے ۔
شام ویدVeda
قدامت کے لحاظ سے رگ وید کے بعد سام وید کا نام آتا ہے ۔ اس کے تمام منتر سوائے ۱۷۵ منتروں کے رگ وید سے ماخذ ہیں ۔ ان منتروںمیں خاص طور پر اکھٹا کیا گیا ہے ، کہ رسموں کی ادائیگی میں آسانی ہو ۔ اس کے تمام منتر بلند آواز میں پڑھے جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے اس کا نام سام یعنی ترنم ہے ۔
یجر وید
سام ویدکی طرح اس کے منتر بھی رگ وید سے ماخذ ہیں ۔ اس میں منتروں کے درمیان پوجا کے لئے ہدائتیں ہیں ۔ یجر وید دو غیر مساوی حصوں میں منقسم ہے ۔ جس میں سے ایک سیاہ یجر (تہ اتریہ سمھتا) اور دوسرا سفید یجر (واجتنیا سمھتا) کہلاتا ہے ۔ اس تقسیم کے متعلق ایک قصہ مشہور ہے جس سے کوئی وضاحت نہیں ہوتی ۔
اتھرا وید
عرصہ دراز تک آریوں کے مذہبی نوشتے انہی تینوں سمھتاؤں یعنی رگ ، یجر اور سامن تک محدود تھے ۔ ان میں یجر اور سامن رگ وید سے ماخوذ ہیں ۔ یہ تینوں وید ترائی ودیا (تین وید یا تین علم) کے نام سے مشہور تھے ۔ ان تینوں وید کے علاوہ ایک چوتھی کتاب اتھرا وید کا اضافہ عرصہ دراز کے بعد ہوا ۔ کیوں کہ منو دھر شاستر اور بدھ جٹاکاؤں میں اتھرا وید کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ مگر اس وید کے بعض حصے رگ وید سے بھی زیادہ قدیم ہیں ۔ اس کے مضامین و تخیل میں دوسرے ویدوں سے بہت اختلاف ہے ۔ اس میں رگ وید کے منتر بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ اس کے جدید حصوں میں ہیں ۔ ان منتروں میں بعض میں شاعری کے محاسن موجود ہیں ۔ مگر زیادہ تر منتر جھاڑ پھونک کے متعلق ہیں ۔ رگ وید کے درخشاں اور خوش طبع دیوتاؤں کے مقابلے میں رشیوں نے سیاہ اور ڈراؤنے بھوت ہیں جو مہیب معلوم ہوتے ہیں اور جو کبھی آریاؤں سے پیدا نہ ہوئے ہوں گے ۔ ان بھوتوں کی پرستش کا ذکر ملتا ہے اور ہر بری چیز خواہ وہ قحط ہو یا بخار یا انسان کے برے خصائل ہر ایک کو دیوتا بنا دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انہیں کس طرح خوش رکھا جائے یا جادو سے ان کے اثر کو دفع کیا جائے یا دوسروں کو ان کے ذریعے نقصان پہنچایا جائے ۔ جس کی وجہ سے پوجا بجائے عبادت کے سحر بن گئی اور پجاریوں کے بجائے ساحروں کا ذکر ہے ۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ یہ مجموعہ دیسی اقوام کے مذہب سے متعلق ہے ۔ جنہوں نے عرصہ دراز کے جنگ و جدل کے بعد مصلحتاً اطاعت قبول کرلی تھی اور فاتح قوم کے مذہب کو ایک حد تک تسلیم کرلیا تھا ۔ اس طرح ہم یہ قیاس کرسکتے ہیں کہ دیسی باشندوں کی مذہبی رسوم کو اپنی مقدس کتب میں طوہاً و کرہاً ضمنی طور پر شامل کرلیا ہوگا ۔ مگر ان کو پوتر کرنے کے لیے انہوں نے اپنے خود تصنیف میں نئے بھجن بھی شامل کر دیے گئے ہوں ۔ جن میں وہی دیوتا مخاطب کیے گئے جن کا رگ وید میں ذکر ہے اور تخیل بھی وہی تھا ۔ اگرچہ چوتھے وید کی یہ قیاسی تاریخ صحیح ہے تو اس سے یہ معمہ بھی حل ہوجاتا ہے کہ چاروں وید میں جدید ترین اور اس کے بعض حصے رگ وید کے سب سے قدیم حصوں سے بھی قدیم ہیں ۔ بہ حثیت ایک سمھتا وہ زمانہ مابعد کی ہے ۔ کیوں کہ بعض مقامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گنگا اور جمنا کی وادیوں میں وہ مستعمل تھی ۔ مگر جن حصوں میں ایک قدیم آریائی مذہب کا ذکر ہے وہ آریاؤں سے قدیم تر ہیں ۔ بدھ جاٹکاؤں میں بھی تین ویدوں کا ذکر ملتا ہے مگر اتھرا وید کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ اس لیے یہ وید چوتھی صدی عیسوی کے بعد ویدوں میں شامل کی گئی ہے ۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں