85

وینداد

پارسی روایت کے مطابق وینداد اوستا کے اکیس نسکوں میں سے واحد نسک ہے جو کہ مکمل حیثیت میں محفوظ ہے ۔ یہ ایک ایسا بیان ہے جس پر اعتماد کرنا مشکل ہے ۔ کیونکہ اگر وہاں کوئی ایسی چیز ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ پارسی کتنے درست ہیں کہ یہ تسلیم کریں گے کہ اوستا صرف ٹکڑوں کا ایک مجموعہ ہے ، تو یہ صرف وینداد کا حصہ ہے ۔

یہ عہد پارتھی میں تصنیف ہوا جس کو ونداؤاد (دِیو داد یعنی شریعت دیو شکن) کہا جاتا ہے جو زرتشت کے احکام شریعت پر مشتمل ہے ۔ یہ قواعد و رسوم کا ایک مجموعہ ہے جو کہ ملک کے مختلف حصوں مں اختلاف کے ساتھ رائج تھے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ کہیں کہیں تناقضات دیکھنے آتے ہیں ۔ اس میں مختلف قسم کے گناہوں اور نجاستوں پر بحث کی گئی ہے اور توبہ و تطہیر کے وسائل بتائے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ افعال جور و تعدی اور مخلوقات مطہرہ (انسان ، کتا اور اودبلاؤ) کی خونریزی سے بحث کی گئی ہے ۔ پھر مردو کی تجر و تکفین کے مسائل ہیں جن کے متعلق حکم ہے کہ ان دخموں (مینار خاموشیاں) پر کھلا چھوڑا جائے کہ شکاری پرندے انہیں کھا جائیں ۔ کیوں کہ لاشوں کو دفن یا جلانے سے عناصر کو ناپاک کرنا قطعاً ممنوع ہے ۔ اس کے ان ناپاکیوں کو ذکر ہے جو مردہ جسم کو چھونے سے ہوجاتی ہے ۔ وندی داد میں کئی جنوں یا دیوؤں نیز دُرُج یعنی چڑیلوں اور پائریکا (پریوں یا جادوگرنیاں) کے نام بتائے گئے ہیں ۔ یہ سب روح شر (انگر مینیو) یعنی اہریمن کے لشکری ہیں ۔ مثلاً ایک دایوئو کا نام اندرا ، ایک اہل ساؤدَ ، ایک ناؤن ہَیدیا ہے ، یہ تینو ہندو ایرنی دیوتا ہیں ۔ ایک اور دایوئو کا نام اپاؤش ہے جو مخصوص طور پر تَشُتریا (شعری یمانی ستارہ) کا دشمن ہے ۔ ایک بُوشِیَستا ہے جو بہوشی یا نیند کی چڑیل ہے ، ایک نَسو ہے جو مردہ اجسام کا جن ہے وغیرہ وغیرہ ۔  

وندیداد یعنی قانون دافع شیاطین ۔ بقول گاڑنر کہ یہ پارسیوں کے احبار یا قوانین مذہب کی کتاب ہے ۔ جس میں آداب طہارت و استغفار اور کفاروں کے طریقے ہیں ۔ وندیداد کے فارگر (ابواب) کی تعداد ۲۲ اور پہلے باب میں ان پاکیزہ زمینوں کے خطوں کی پیدائش کا بیان ہے جو اہورا مزدہ نے پیدا کیں ہیں اور اہورا مزد کے مقابلے میں اہرمن (انرومین یوش) کی خراب زمینوں کا بیان ہے ۔ ان ممالک کے متعلق جو اہل اوستا کو معلوم تھے ۔ تمام بحثوں کا دارو مدار اسی باب پر ہے ۔ دوسرا حصہ جمشید کی داستان ہے اور تیسرا دینوی خوشی و ناخوشی کے متعلق ہے ۔ بقیہ ابواب میں دینی احکام و مذہبی قوانین کے متعلق ہے ۔ ان میں زیادہ تر حثیت ارواح (دیوؤں) سے بچنے کے طریقے ، کفارہ ، توبہ ، تزکیہ ، طہارت ناخن و بال تراشنے کے اصول درج ہیں ۔ پہلا باب اہرمزد کی مخلوقات اور انوامینیو (اہرمن۔شیطان) کی مخالف مخلوقات پر بحث کرتا ہے ۔

وینداد کو اکثر پارسیوں کے قوانین کی کتاب کہا جاتا ہے ۔ اس کو صاف طور پر ضابطہ اخلاق کہا جاسکتا ہے ۔ تاہم درست معنوں میں طہارت کے قوانین ہی اس کا بڑا حصہ ہیں ۔

میرخوندہ نے فارس کے ابتدائی بادشاہوں کی تاریخ میں لکھا ہے کہ پارسی اب سخت توحید پرست ہیں اور ان کا ایک سب سے بڑا خدا اہورا مزدا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ انگرا مینیو کے بارے میں ان کے خیالات اس لحاظ سے مختلف نہیں تھے جو شیطان کے بارے میں عیسائی قدامت پسند خیال کرتے ہیں ۔ ہاگ  Haugنے سترہویں صدی میں پارسی ازم توحیدی مذہب کے طور پر جانا جاتا  تھا ۔

وینداد کا کلمہ برائی کے خلاف قانون ۔ وداؤ دیتم Vîdaêvô dâtem (دیتم) کی ناپاکی ہے اور اس کا اطلاق بعض اوقات پورے قانون (وینداد صدا) پر ہوتا ہے ۔

پہلے دو ابواب وینداد کے عمومی براہ راست تعلق کے بغیر افسانوی کے متعلق ہیں اور یہ ایک قدیم دیومالائی اور آفاقی ادب کی باقیات ہیں ۔ اہورا مزدا اور انگرا مینیو کی تخلیقات اور انسداد تخلیقات سے متعلق ہے اور اس میں تہذیب کے بانی یما کا ذکر ہے ۔ اگرچہ اس کو وینداد میں رکھنے کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی ۔ کیونکہ اس میں دنیا کے پہلے دور کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ اس کتاب کے آخر میں افسانوی طریقہ علاج کے بارے ہیں اور یہ نہاد سروش یاشت ہیدوخت نسک کا حصہ ہے اور انیسویں فرگارد میں اہورہ زرتشت پر قانون کا نزول کرتا ہے ۔

دوسرے سترہ ابواب مذہبی عقیدے کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ اگرچہ اس کے خرافاتی یا منتشر حصے یہاں کم و بیش الحاقی ہیں اور غالباً ان عبارتوں کے ساتھ نہیں لکھے گئے تھے ۔

ان سترہ بابوں میں باقاعدہ ترتیب سے پانچواں تا بارہواں کے آٹھ ابواب میں تقریبا بنیادی طور پر انسانوں سے نجاست اور اس کو ختم کرنے کے طریقے درج ہیں ۔ لیکن اس مضمون کو دوبارہ اس اور دوسرے فارگروں غیر متعلقہ ہیں اور ان مضامین نے ان آٹھ فارگردوں میں شامل کیا گیا ہے ۔ فارگرد تیرہ اور چودہ کتے کے بارے میں اور اسے پندرواں فارگرد میں مکمل کیا گیا ہے ۔ فارگرد سولہ ، سترہ اور اٹھاراں کا بیشتر حصہ کئی طرح ناپاکیوں اور ان کو دور کرنے طریقہ درج ہے ۔ اس کی بہتر جگہ بارواں فارگرد کے بعد ہے ۔ تیسرے فارگرد زمین کے لیے وقف ہے ۔ فارگر چہارم میں سول اور تعزیراتی قوانین ہیں ۔ ایک ہی موضع پر متعدد حصے بغیر تسلسل کے مختلف فارگردوں میں بکھرے ہوئے ہیں اور بے جا تکرار ہیں ۔ اس لیے شاذ و نادر ہی تسلسل ہے ۔ لیکن یہ قوانین اہورا کے زرتشت سے کے کئے گئے سوالوں کے جوابات کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔

ان کی تفصیلات کا حوالہ دیں تو یہ سلسلہ بہت طویل ہوجاتا ہے ۔ لہذا ہم تطہیر کے سول قوانین اور آخر میں مذہبی اور عام سزاؤں کا ذکر کریں گے ۔

اس کتاب میں انسان کا پہلا مقصد پاکیزگی (یازدو yaozdau) پاکیزگی انسان کے لیے زندگی کے بعد سب سے بڑی بھلائی ہے ۔ لیکن پاکیزگی اور نجاست ان معنوں میں نہیں ہے جو ہم سمجھتے ہیں ۔ اس میں باطنی حالت کے حوالے دو فرق ہے ۔ ایک جنازے کے بارے میں اور دوسرا مالک کے متعلق ہیں ۔ اس میں جسمانی افزائش کے بارے میں ایک وسعت پائی جاتی ہے ۔ جس کا تعلق اصل طور پر فارگر سے ہونا چاہئے ۔

ویندداد کی ظاہری شکل کا موازنہ دوسری توحیدی کتابوں سے نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ ان کتب میں خدا سے بات نہیں ہوتی ہے اور بس خدا حکم دیتا ہے ، جواب نہیں ۔ ویندداد میں اس کے برعکس یہ زرتشت کی خواہش ہوتی ہے خدا کی مرضی نہیں ۔ یعنی انسان کو لازمی طور پر اہورا سے پوچھنا چاہئے ۔ جو سب کچھ جانتا ہے اور جواب دیتا ہے ۔ آہورائی فرسانو frasnô میں قانون اہورہ سے سوال ہے ۔ لیکن بنیادی طور پر انسان کی جسمانی حالت کی طرف ناپاکی یا کسی ایسی حالت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جس پر شیطان کا قبضہ ہے اور طہارت کا مقصد شیطان کو نکالنا ہے ۔ ناپاکی انسان کے اندر داخل ہونے کا بنیادی ذریعہ موت ہے ۔ کیوں کہ موت شیطان کی فتح ہے ۔ جب انسان کی موت ہوجاتی ہے ۔ جیسے ہی جسم مردہ ہوجاتا ہے ناپاک نسو یا لاشوں کی ناپاکی جہنم سے مردوں پر ٹوٹ پڑتی ہے اور اس کے بعد جس نے بھی لاش کو چھوا وہ اور وہ جس کو چھوتا ہے وہ بھی ناپاک ہوجاتا ہے ۔ ساگداد کے ذریعہ ناپاکی کو مردہ سے نکالا جاتا ہے ۔ یہ کتے کی شکل کا چار آنکھوں والا کتا یا ایک پیلا کانوں والا سفید مردے کے قریب لایا جاتا ہے اور اسے دیکھتے ہی ناپاکی واپس جہنم کی طرف بھاگ جاتی ہے ۔ اس ناپاکی کو زندہ انسانوں سے دور کرنے کے لیے بیل کے پیشاب (گومز gômêz یا نارنگnîrang) اور پانی سے دھونے کے بعد ساگداد کے ساتھ مل کر دور کیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر جو الفاظ جو پکارے جاتے ہیں ۔ جس میں فنا اے منحوس ناپاکی ! اے شیطان ہلاک ہو ! اے شیطان کی دنیا ہلاک ہو ! اے ناپاکی بھاگ جا ! اے برائی ہلاک ہو ! اے ناپاکی شمال کے علاقوں کو بھاگ جاؤ اور کبھی بھی روح القدس کی زندہ دنیا کو موت کے گھاٹ اتارنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

اس طرح یہ خیال کہ ایک انسان کی موت میں شیطان ناپاکی کے ذریعے ملوث ہے اور موت کی طاقت کو جہنم سے پکارا جاتا ہے ۔ لہذا ایک لاش سے پوری زندہ دنیا کو خطرہ ہے اور ایک مضبوط مرکز پوری دنیا کو زندہ رہنے کو تیار کرتا ہے ۔ انسانوں کو ناپاکی سے دور کرنا اور مردوں سے زندوں کو ناپاک کرتا ہے اور زندوں پر چھاجاتا ہے ۔ اس لیے جب کسی گھر میں کوئی مر جاتا ہے تو تین دن تک خطرہ رہتا ہے کہ کہیں اس گھر میں کوئی اور مر نہ جائے ۔

شیطان مکھی کی شکل میں اڑتا ہے اور جہاں اسے لاش کی خوشبو آتی ہے پہنچ جاتا ۔ اس بارے میں یہ خیال کیا گیا تھا کہ وہ لاش کی روح ہے جو اہریمن کے لیے مردہ پر قبضہ کرنے آتی ہے ۔ یہ خیال یا احساس کا عجیب پہلو یہ ہند یورپی کی دیگر قوموں کے لئے کسی حد تک نامعلوم نہیں تھا جو مزدایت کا عجیب و غریب پہلو تھا ۔ یہ انتہا تک پہنچایا اور کہیں مدھم اور دھندلا ۔ جب یونانی کبھی اپنے مکان سے باہر نکتے اور باہر کسی لاش کو دیکھتے تو اپنے دروازے پر اپنے دروازے پر پانی چھڑکتے کہ موت وہاں سے چلی جائے ۔ رگ وید میں درج موت کے بعد ویدی ہندوستانیوں کی رسومات کا مقصد بنیادی طور پر مردہ افراد کو خطرہ سمجھاجاتا اور لاش کو جلا دیتے ہوئے بلند آواز سے پکارتے دور ہو جاؤ اے موت ! ہمارے بیٹوں اور آدمیوں کو مت ہلاک کر ۔

جہاں تک ان رسوم کے ذریعہ جو ناپاکی کو نکالا جاتا ہے وہ خرافات ہیں اور پوجا میں اس کے سوا کچھ نہیں ہے جو اس سے پہلے کے افسانوں میں موجود تھا اور وہ صرف دیوتاؤں کی تقلید ہے ۔ ایک یونانی (اومیوائس اواج omoiwsis oewj) اس لیے عمل کرتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق چیزوں کو قابو میں لا سکتا ہے اور وہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح دیوتاؤں چیزوں کو وجود میں لاتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں