68

پاکستانی زبانوں کا قتل عام

دور جدید میں جہاں فاصلہ مٹ گئے ہیں وہاں اس کا اثر ترقی یافتہ زبانوں پر بھی پڑا اور ان زبانوں کو مزید مقبولیت حاصل ہوئی ۔ جب کہ اس کا نقصان علاقائی یا چھوٹی زبانوں کو ہو اور وہ مزید پستی میں چلی گئیں ۔ ہمارے ملک کو لیں پڑھے لکھے طبقہ پر انگلش اور دوسرے یا عام لوگوں پر اردو تیزی سے اثر انداز ہورہی ہے ۔ الفاظ بدلتے رہتے ہیں وہ اتنے اہم نہیں ہوتے اور کسی زبان کے زندہ رہنے کے لیے اس کے الفاظوں میں قطع برید ضروری ہے ۔ کسی زبان کا لب و لہجہ اہم ہوتا ہے ۔ لیکن یہ مشاہدے میں آئی ہے کہ مختلف زبانوں کے بولنے والے اب اردو کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ یہاں تک تو غیمت تھا مگر لوگوں کے لہجہ بھی تیزی سے بدل رہے ہیں ۔ سندھی کی مثال ہے اس میں چار حرورف دوہرے بولے جاتے ہیں ۔ مگر سندھی بولنے والے خاص کر شہروں میں رہنے والے ان حروفوں کو اپنی اصل آواز میں بولنا چھوڑ رہے ہیں ۔ 
میں اپنے خاندان کے ساتھ زیارت گیا ۔ وہاں راستہ میں چائے پینے کے لیے ایک جھیل کے قریب رکے ۔ وہاں ایک پٹھان بچہ ملا ۔ اس نے سلام دعا کے بعد کہا آپ کی اردو کتنی اچھی ہے ۔ ہمارا ٹیچر کا اردو بہت خراب اور وہ ہمیں صحیح اردو بولنا نہیں سکھتا ہے ۔ میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ میں اس کو اگر یہ کہتا کہ تمہار استاد صحیح کر رہا ہے تو وہ میری بات کب مانتا ۔ پنجابی جو لکھنے پڑھنے کے لیے اردو استعمال کرتے تھے اور بولتے پنجابی تھے ۔ مگر وہ بھی تیزی سے اردو بولنے کی طرف راغب ہو رہے ۔ میں نے ایک پڑھے لکھے پنجابی سے اس کا شکوہ کیا تو اس نے جواب میں کہا کہ اس کے مرحوم باپ نے کہا تھا کہ پنجابی کنجروں کی زبان ہے اور نہ تم بولنا اور نہ بچوں کو سیکھانا ۔ مجھے اس کے جواب دیاسے صدمہ پہنچا ۔ حالانکہ کوئی زبان بری نہیں ہوتی ہے اور نہ اسے استعمال کرنے والے سب برے ہوتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کسی زبان لب و لہجہ سخت ہوتا ہے اور کسی کا نرم ۔ مثلاً پنجابی کے بعض لہجہ سخت ہوتے اور بعض کے نرم ۔ 
اب لوگوں کے لیے اردو کا لہجہ اتنا اہم ہوگیا ہے کہ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ ناگاہ پربت کے دامن میں ایک گاؤں چیورٹ گیا ۔ وہاں ہمیں ہمیں مہمان خانہ میں ٹہرایا گیا ۔ ہم سے بہت سے لوگ ملنے آئے ۔ ان میں باتیں تو کم لوگوں نے کیں زیادہ تر خاموش رہے ، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے ۔ میں نے گائیڈ سے پوچھا کیا یہاں لوگ نہیں آتے ہیں ۔ اس نے جواب میں کہا نہیں ، لوگ تو بہت آتے ہیں ۔ لیکن اردو بولنے والے نہیں آتے ہیں ۔ اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوئی کہ بچے آپس میں کہنے لگے ان کی اردو کتنی اچھی ہے ۔   
تقسیم ہند کے وقت بھارت میں نقل مکانی کرنے سب اردو نہیں بولتے تھے ، بلکہ مختلف زبانیں بولتے تھے ۔ مگر وہ اب اپنی زبانیں بھول چکے ہیں اور اب ان کی مادری زبان اردو ہوچکی ہے ۔ اس کی ایک مثال گجراتی کی ہے ۔ ہجرت کرنے والوں میں کثیر تعداد گجراتی زبان بونے والوں کی تھی ۔ مرحوم فخر ماتری کی سردگی میں ایک گجراتی روز نامہ ملت نکلتا تھا اور کراچی حیدر آباد کے بہت سے اسکولوں میں گجراتی کی تعلیم دی جاتی تھی ۔ جلد گجراتی لوگوں نے گجراتی پڑھنا بند کردی اور   اور آہستہ آہستہ گجراتیوں کے بچوں نے گجراتی میں پڑھنا چھوڑ دیا ۔ اب اردو اور انگلش پڑھ رہے ہیں ۔ روز نامہ ملت بھی بند ہوگیا ۔ اب ان کی نئی نسل گجراتی بولنا تو درکنار سمجھتی بھی نہیں ہے اور بہت کم لوگ گجراتی بول سکتے ہیں ۔ 
کیا آپ اس سے انکار کر جاسکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اردو بہت سی بولیوں بلکہ زبانوں کو بھی کھارہی ہے ؟ جب اخبار ، رسائل اور ریڈیو دور تھا تو ان کا زبانوں پر محدود اثر ہوتا تھا ۔ بلکہ ریڈیو اور پھر چند سرکاری ٹی وی نے زبانوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ کیوں اس میں مختلف زبانوں کے پروگرام بھی پیش کئے جاتے تھے ۔ لیکن جب سے پرائیوٹ ٹی وی چینل آئے ہیں وہ کاروباری مقاصد کے لیے چلائے جاتے ہیں اور اس کے لیے صرف ترقی یافتہ زبان کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔ اس لیے پاکستان میں بشتر چینلوں نے اردو کا انتخاب کیا ہے اور علاقائی زبانوں صرف سندھی کے علاوہ دوسری زبانوں کے چینل قابل ذکر ہی نہیں ہیں اور بلوچستان کی زبانوں کا کوئی چینل نہیں ہے ۔ اردو کے علاوہ دوسری زبانوں کے بشتر پروگرام اردو میں ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو ٹی وی چینل میں لوگوں کی دلچسپی کے لیے وہ سب کچھ ہوتا ہے جو لوگ چاہتے ہیں ۔ اس لیے یہ چینل لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہورہے ہیں ہے ۔ ان چینلوں کے آنے کے سے جہاں ترقی یافتہ زبانوں کو مزید مقبولیت حاصل ہوئی وہاں یہ چینل چھوٹی زبانوں اور بولیوں کے لیے سم قاتل ہیں ۔ اب تو ہمارے سیاست دانوں نے صرف ٹی وی پر آنے کے لیے اسمبلی کیا عام اجتماعات میں اپنی علاقائی زبانوں میں خطاب کرنا چھوڑ دیا ۔ اب تیزی سے پڑھے لکھے لوگوں کے گھروں میں مادری زبان کے بجائے اردو بولنے لگے ہیں ۔  حیرت کی بات ہے صحافیوں کی اردو تو عمدہ ہوتی ہے مگر بشتر سیاسی لیڈروں کی اردو بہت اچھی ہوتی ہے ۔ اس میں قوم پرست سیاسی لیڈر بھی شامل ہیں ۔
یہ تو علاقائی زبانوں کی بات ہوگئی ۔ لیکن ہمارے ملک میں بہت سی زبانیں قریب المرگ ہیں ۔ ان میں سے کچھ زبانیں ایسی ہیں جو کسی وقت بھی مٹ سکتی ہیں ۔ اگرچہ یونیسکو نے پاکستان کی تمام زبانوں کو زندہ قرار دیا ہے ۔ اس وقت ہمارے ملک میں تقریباً ۵۸ کے لگ بھگ زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ ان میں زبانوں کے لہجے شامل نہیں ۔ ان میں اردو ، گجراتی ، انگلش اور مختلف لہجوں کو شامل کرلیا جائے تو ان کی تعداد ۶۹ ہوجاتی ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ تمام زبانیں زندہ زبانیں ہیں اور اپنے اپنے دائرہ میں بولی جاتی ہیں ۔ ان زبانوں اس کے علاوہ سات بولیاں ایسی ہیں جو فنا ہونے کے قریب ہیں ۔ کیوں کے ان کے بولنے والوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ۔ ایسی زبانوں کا مختصر ذکر ذیل میں درج ہے ۔ 
۱۔ اوشو Ushojo =  اس زبان کو بولنے والے سوات کے اطراف میں آباد ہیں اور ان کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے ۔ یہ زبان ساوی سے ملتی جلتی ہے اور ہند آریائی کی درد گروہ کی شاخ سے اس کا تعلق ہے ۔ 
۲۔ آئر Aer = یہ زبان جنوب مشرقی سندھ میں حیدر آباد ، کنری اور بھارت کے گجرات کے ملحقہ علاقوں میں بولی جاتی ہے ۔ جہاں گجراتی زبان اسے تیزی سے نگل رہی ہے ۔ پاکستان میں اس کے بولنے والے ۱۵۰ سے ۲۰۰ تک رہ گئے ہیں ۔ اس زبان کو بولنے والے ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ زبان سندھی اور گجراتی زبانوں سے ملتی جلتی ہے ۔ اندیشہ ہے کہ اس زبان کو بچانے کی کوشش نہ کی گئی تو جلد ہی فنا ہوجائے گی ۔
۳۔ بھایا Bhaya= جنوبی سندھ کے علاقہ کھپرو ، میرپور خاص اور حیدر آباد میں بولی جاتی ہے ۔ تقسیم ہند کے بعد اس کے بولنے والے زیادہ تر بھارت چلے گئے ۔ جہاں یہ فنا ہونے کے قریب ہے اور پاکستان میں اس زبان بولنے والوں کی تعداد پانچ سو سے بھی کم رہ گئی ہے ۔ اس زبان کا تعلق بھی ہند آریائی خاندان سے ہے ۔  
۴۔ Domaki= یہ زبان گلگت ، نگر اور شمالی علاقہ جات کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے ۔ یہ زبان شینا سے ملتی جلتی ہے اور ہند آریائی کی شاخ درد گروہ سے تعلق رکھتی ہے ۔ 
۵۔ ساوی Savi= یہ اصل میں افغانستان میں بولی جاتی ہے ۔ روس کی مداخلت کے بعد اس زبان کے کچھ لوگ پاکستان اور ایران ہجرت کر گئے ۔ ان کچھ صوبہ پختون خواہ کے تیمرگر اور دروش کے مہاجر کیمپ میں بس گئے ۔ ان میں سے کچھ لوگ واپس افغانستان چلے گئے اور کچھ پاکستان میں مختلف جگہوں پر آباد ہوگئے ہیں ۔ اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں ہیں ۔ اس زبان کا تعلق ہند آریائی کی شاخ درد گروہ سے ہے ۔
۶۔ کبوترا Kabutra= یہ زبان عمر کوٹ ، نارو ، ڈھورو ، کنری اور جنوبی سندھ کے بھارت سے ملحقہ علاقہ میں بولی جاتی ہے ۔ اس زبان کو بولنے والے ہندو مذہب ہیں اور ان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہیں ہے ۔ اس زبان کو بولنے والوں زیادہ تعداد گجرات اور راجستان میں آباد ہے ۔ تھر کی خشک سالی کے وجہ سے ان میں کچھ حیدر آباد اور کراچی آگئے ، ان میں کچھ واپس چلے گئے اور کچھ وہیں آباد ہوگئے ۔
۷۔ گوڑو Gowro= صوبہ پختون خواہ میں دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد ہیں اور ان کی تعد دو سو کے لگ بھگ ہے اور اس زبان کا تعلق ہند آریائی کی شاخ درد گروہ سے ہے ۔ 
یاد رہے یہ زبانیں نہیں بولیاں ہیں اس لیے لکھی نہیں جاتی ہیں اور لکھنے کے لیے دوسری زبانوں کا انتخاب کیا جاتا ۔ ان زبانوں کو فنا نہیں ہونا چاہیے ۔ ان ترقی کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر اقدامات کی شدید ضرورت ہے ۔ کیوں کہ ایک زبان کی موت ایک ثقافت کی موت ہے 
اس مضمون میں قریب المرگ زبانوں کے بارے میں مواد سید خالد جامعی کی کتاب زبانوں کا قتل عام : مغربی تہذب سے لیا گیا ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں