76

پاکستان کا ایک فیصلہ

 ۱۹۴۹؁ء میں برطانیہ اور بھارت نے اپنے سکے کی قیمت گھٹائی ۔ لیکن پاکستان نے اپنے سکے کی قدر گھٹانے سے انکار کردیا ۔ یہ بہت اہم فیصلہ تھا ، اس سے پاکستان کی خود مختاری ثابت ہوگئی ۔ اس سے بڑا سیاسی فائدہ ہوا پاکستان اپنے اس اقدام سے عالمی پریس کی شہ سرخی بن گیااور دنیا کو پتہ چل گیا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک کا نام ہے ۔  
پاکستانی روپئے کی قیمت نہ گھٹانے کا جہاں سیاسی فائدہ ہوا ، وہاں اسے اْقتصادی نقصان اٹھانا پڑا ۔ پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کا فوری اثریہ ہوا کہ روئی اور جوٹ کی قیمتیں گر گئیں اور روئی کی قیمت کم ہو کر واپس اپنی سطح پر آگئی اور یہ بیرونی ممالک برآمد کی جانے لگی ۔ لیکن جوٹ کے نرخ میں افراتفری پھیل گئی کیوں کہ پاکستان کے گھٹیا جوٹ کا واحد گاہک بھارت تھا ۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کا تجارتی توازن شروع سے ہی موافقFavourable Balance of Trade تھا ۔ اس لئے بھارت میں پاکستانی سکہ کی قیمت زیادہ رہی تھی ۔ اس لئے اقتصادی نقطہ نگاہ سے پاکستانی سکہ کی قیمت بھارت کی کرنسی سے مہنگی ہونی چاہیے ۔ لیکن اتنی مہنگی جتنی کہ پاکستان نے مقرر کی تھی ۔ یعنی پاکستانی سو روپیہ ۱۴۴ بھارتی روپیہ ۔ بین الا قوامی بازارِ زر میں پاکستان لین دین برطانیہ کی کرنسی اسٹرلنگ میں کرتا تھا ، جس کی قدر گھٹ چکی تھی ۔ اس لئے اقتصادی نقطہ سے پاکستانی سکے کی قیمت گرچکی تھی ۔ لیکن پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کے سبب پاکستان اور بھارت کے تجارتی تعلقات منطقع ہوگئے اور بھارت نے پاکستانی جوٹ اٹھانے سے انکار کردیا ۔ اس کے نتیجے میں جوٹ کے نرخ گرنے لگے ۔ جوٹ کے نرخوں کو گرنے سے روکنے کی خاطر جوٹ کا نرخ اس نرخ سے جو روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کے فیصلے سے قبل تھا نسبتاً ۲۹ فیصد کم کردیا ۔ حالانکہ پاکستانی کرنسی کی قیمت شرح مبادلہ کی رو سے اسٹرلنگ ممالک اور بھاتی روپیہ کے مقابلے میں ۴۴ فیصد زیادہ تھی ۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرکزی بینک ہونے کی حثییت سے حکومت کا خزانہ اس کی تحویل میں تھا اور یہ خزانہ بھارتی روپیہ اور اسٹرلنگ فاضلات کی شکل میں تھا ۔ اسٹیٹ بینک ان فاضلات کو پاکستانی کرنسی نوٹوں کی کفالت کے طور پر استعمال کررہا تھا ۔ پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کے فیصلے سے ان فاضلات میں پاکستانی روپیہ کے حساب سے کمی آگئی تھی ۔ اس لئے حکومت نے ۱۹۵۰؁ء کے بجٹ میں ۵۴کروڑوپیہ فاضلات کی مد میںاسٹیٹ بینک آف پاکستان کو دیئے کہ کرنسی کی زر ضمانت اور زرمحفوظ کرے ۔ اس وقت پاکستان کے وزیر خزانہ نے بیان دیا کہ سٹرلنگ اور بھارتی روپیہ کے لحاظ سے ان کی قوت خرید میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ ہم نے مانا یہ سچ ہے لیکن روپیہ کی شرح کم نہ کر نے کے فیصلے سے ۵۴ کروڑ کا خسارہ ہوا تھا اور یہ رقم رفاء عامہ کے کسی بھی کام آسکتی تھی ۔ 
جون ۱۹۵۰؁ء تک یہی سلسلہ جاری رہا ، پاکستانی روپیہ کی شرح نہ گھٹانے کا بوجھ جوٹ اور روئی پر پڑا تھا ۔ تین مہینے کے بعد کوریا کی جنگ چھڑ گئی ، جس سے بازار چڑھ گیا اور روئی اور جوٹ کی قیمتیں چڑھ گئیں اور جوٹ بورڈ جوجوٹ کی نرخوںکو سہارا دینے کے لئے مالی مدد دے رہا تھا۔ اس نے ایک کروڑ روپیہ کا منافعہ کما لیا اور پاکستان کی برآمد ۴۹،۱۹۵۰؁ء ۸۸ کروڑکے مقابلے میںیہ رقم ۵۰،۱۹۵۱؁ء ۲۰۵ کروڑ تک پہنچ گئی ۔ 
۱۹۵۱؁ء میں جب کوریا کی جنگ ختم ہوئی تو روئی اور جوٹ کی قیمتیںگر نے لگیں ۔ جوٹ کا بورڈ کام کررہا تھا ، اس کے نقصان کا اندازہ ۹کروڑ روپیہ لگایا گیا تھا ۔ جب کہ پاکستانی برآمد ۱۵۰ کروڑ روپیہ تک گر چکی تھی ۔ اس لئے ۵۳- ۱۹۵۴؁ء کے بجٹ میں ۱۴ کروڑ روپیہ اس کے نقصان کی مد میں دکھائی گئی اور پاکستان کی برآمد ۱۲۸کروڑ کی ہوئی ۔ جب کہ سخت درآمدی پابندیوں کی وجہ سے ۱۳ کروڑ کا موافق توازن تجارت رہا ۔ ۵۴-۱۹۵۵؁ء برآمد ۱۲۲ کروڑ روپیہ کی ہوئی ۔ جب کہ مندرجہ بالاسبب کے باعث ۹کروڑ کا موافق توازن تجارت ہوا ۔ اگست ۱۹۵۵ء؁ کو پاکستانی کرنسی کی قدر میں تیس فیصد کم کردی گئی ۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی اور پاکستانی برآمد کوسات سال عرصہ میں ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا تھا ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں