70

پاکستان کا یوم آزادی

پاکستان کا پہلا اور دوسرا یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا گیا تھا اور یہ تاریخ پاکستان کے ڈاک کے ٹکٹوں اور دوسری دستایزات پر درج ہے ۔ مگر 1950 سے یوم آزادی چودہ اگست کو منایا جانے لگا ۔ یقینا یہ لوگوں کے لیے ایک معمہ ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان کا یوم آزادی پندرہ اگست کے بجائے پندرہ اگست کو کیوں منایا جانے لگا ہے ۔   
جب برطانیہ نے ہندوستان کی آزادی کا فیصلہ کیا تو انتقال اقتدار کی تاریخ پندرہ اگست طہ ہوئی تھی اور یہ تقریب دہلی اور کراچی میں ہونا تھی ۔ یہ تقریب پہلے دہلی میں ہوتی اور اس کے اگلے روز یعنی سولہ اگست کو کراچی میں ہوتا تھی ۔ جب کہ دہلی کی تقریب میں ان دونوں ملکوں کی آزادی کا اعلان ہونا تھا ۔ مگر جب لارڈ ماونٹ بیٹن کو کانگریس نے جب بھارت گورنر جنرل بنانے کا اعلان کیا تو صورت حال بدل گئی ۔ کیوں کہ ایسی صورت میں جب سولہ اگست کو پاکستان کے اقتدار کی منتقلی کی تقریب حلف برداری ہوتی تو اس کا مطلب تھا کہ پاکستان نے بھارت سے آزادی حاصل کی ۔ جو کہ مسلم لیگ کی قیادت کو منظور نہ اور انہوں نے اس صورت حال احتجاج کیا ۔ لہذا یہ طہ پایا کہ پہلے چودہ اگست کو کراچی میں اقتدار منقل کردیا جائے اور پندرہ اگست کو بھارت میں اقتدار کی منتقلی اور ان ملکوں کی آزادی کا اعلان کیا جائے ۔ چنانچہ لارڈ مانٹ بیٹن کراچی آئے اور چودہ اگست کو اقتدار کی منتقلی کی تقریب ہوئی اور اس تقریب کے بعد وہ دہلی روانہ ہوئے ۔ جہاں اگلے روز انتقال اقتدار اور دونوں ملکوں کی آزادی کا اعلان ہوا ۔ چنانچہ ابتدائی دو سالوں تک اعلان آزادی کے مطابق یوم آزادی  ۱۵ اگست کو منایا جاتا رہا ۔ مگر اس کے بعد یہ طہ پایا کہ جب اقتدار چودہ اگست کو منتقل ہوگیا تھا پندرہ اگست کو رسمی اعلان ہوا تھا ۔ چنانچہ اس کے بعد یوم آزادی پندرہ اگست کو منایا جانے لگا ۔      

تہذیب و ترتیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں