47

پتری

قدیم آریاؤں کا عقیدہ تھا کہ جب کے ماں باپ مرتے ہیں تو وہ پرلوک سدھارتے ہیں یا مشرق میں جاتے ہیں ۔ جہاں تمام دیوتا رہتے ہیں یا مغرب میں جہاں ہم لوگ کا استھان ہے ۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مرے ہوئے پتری اگرچہ انہیں نظر نہیں آتے مگر ضرور کہیں نہ کہیں موجود ہیں ۔ اس لیے انہوں نے پرلوک کا تصور اور ایک نیا مذہبی خیال قائم کیا کہ مرنے کے بعد پتروں کی شکتی معدوم نہیں ہوتی ہے ۔ قدیم قانون اور خانگی رواجوں میں ان کی سخت ضرورت محسوس کرتے تھے اور ان میں سے اکثر کا انحصار ان کی مرضی اور اختیار تھا اور ان کے بزرگوں کی کی رائے بمنزلہ قانون سمجھی جاتی تھی ۔ جب ان کی موت کے بعد شلوک یا تنازعات قانون یا رواج کے معاملہ پر پیدا ہوئے تھے تو ان مرے ہوئے بزرگوں کی باتوں اور زبان جھگڑے مٹانے کے لیے سند سمجھے جاتے تھے ۔ چنانچہ منوجی (ادہیائے ۴ شلوک ۷۸) میں ہے ’’جس مارگ پر تمہارے باپ دادا چلتے آئے ہیں ۔ تم بھی نیک آدمیوں کی طرح سیدھے راستے پر چلو ۔ ایسا کرنے سے تم غلطی نہیں کرو گے’’۔ اس طرح پتر اور پریت کا خیال پیدا ہوا ۔ لفظ پتر کے معنی نہ صرف باپ دادا تک محدود نہ رہا بلکہ نہ دیکھائی دینے والے ، مہربان طاقتور ، امر ، آسمانی وجود ہوگئے ۔
ہندوؤں کا یہ قدیمی مذہبی دستور سپتری یگ (مرے ہوئے بزرگوں کی پوجا) کا خیال قدیم زمانہ سے چلا آرہا ہے ۔ ہربرٹ سپنسر کا کہنا ہے کہ پتروں کی پوجا تمام وحشی قوموں کے مذہب کا قدرتی عنصر ہے ۔ رگ وید میں کئی منتر ہیں جن میں پتروں کو مخاظب کیا گیا ہے اور برہمن گرنتھوں اور سوتروں میں پتروں کی پوجا کا تفصیلی ذکر ملتا ہے ۔ زرمہ داستانوں ، سمرتیاں اور پرانوں میں پتروں کو پنڈ دیئے جانے کا ذکر ملتا ہے ۔ ایران ، یونان اور رومنوں میں ایسے دیوتا پوجا جاتے تھے جن کو ہندوؤں کی طرح گزرے ہوئے بزرگوں کی پوجا تصور کیا جاتا تھا ۔ منو سمرتی میں آیا ہے کہ اگر برہمن اپنے پتروں کو پنڈ دیتا ہے تو اس کی برکت دیوتاؤں کو پہونچتی ہے ۔ سپنسر کا خیال تھا کہ ویدوں کے بعض مطالعہ کرنے والے تسلیم نہیں کرتے کہ پتروں کی پوجا کرنا انڈو یورپی قوم کا قطعی اور کلیہ دہرم تھا ۔ یہ حالت تو ہر قوم و مذہب میں پائی جاتی ہے اور اس بارے میں ویدوں سے بڑھ کر کہیں مواد نہیں ملے گا ۔ ویدوں میں پتروں کو دیوتاؤں کے ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ دونوں میں اختلاف ہے اور دونوں کا ماخذ الگ ہے اور یہ انسانی دماغ کی دو مختلف نوعیں ظاہر کرتا ہے ۔ چنانچہ رگ وید میں ایک پرارتھنا ہے ’’پرماتما کرے کہ اشاس میری رکھشا کرے ، بہنے والے دریا میری حفاظت کریں ، بڑے پریت میری نگرانی کریں اور متر لوک کے دیوتاؤں کے میری رکھشا کریں’’۔ یہاں صاف ظاہر ہے کہ پتر اشاس ، دریاؤں اور پہاڑوں سے بالکل مختلف ہیں ۔ 
پتروں کی دو قسمیں ہیں ایک تو آبا کے پتر جن کا نام فراموش ہوجاتا ہے ۔ دوسرے نذدیکی یعنی جنہیں مرے ہوئے کچھ عرصہ گزارا ہے اور خاص طور پر یاد ہیں اور عزت کی جاتی ہے ۔ قدیمی آبا و اجداد تو دیوتاؤں کے درجے تک پہنچ جاتے ہیں ۔ ان کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ہم لوک میں چلے گئے ہیں اور دیوتاؤں کے ساتھ رہتے ہیں ۔ بعض جگہ آتا ہے کہ برمہا پتا سورگ لوک میں ہیں ، پتا مہا آسمان میں ہیں اور پتر زمین پر رہتے ہیں ۔ اول الذکر آدیتہ کے ساتھ ، دوسرے رودرا اور تیسرے وسو کے ساتھ مل کر رہتے ہیں ۔  
بعض دفعہ تو ’ہم’ کو پتر کی طرح مخاطب کیا جاتا ہے جو کہ سب سے پہلے پتروں کے راستہ مغرب میں چلا گیا ۔ تاہم اس کی دیوتاؤں والی خصوصیت باقی رہتی ۔ غروب ہونے والے سورج کی طرح وہ دیوتاؤں کا سرگروہ ہے ۔ سکھ و آرام انسانوں کو زمین پر ملتے ہیں وہی ان کے پتروں کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں ۔ جنہوں نے پہلے پرتھوی یگ (قربانی) کے ذریعے حاصل کئے ۔ بلکہ قدرت کے بڑے بڑے واقعات مثلاً سورج کا نکلنا ، دن کی روشنی ، رات کی تاریکی بسا اوقات ان سے ہی منسوب کیے جاتے تھے اور گئو (دن) کو پیدا کرتے ہیں ۔ بعد کی کی تحریروں میں لکھا ہے کہ ستارے ان نیک پرشوں کی روشنیاں ہیں جو سورگ لوگ میں داخل ہوتے ہیں ۔ اس قسیم کے خیالات ایرانی ، یونانی اور روس میں بھی ملتے ہیں ۔ وید میں پتروں کو سیتہ بدہی مان (عقل کے راستہ پر چلنے والے) ، نیک ، کوی (شاعر) پستی کرت (رہنما) اور سوم وغیرہ کہا گیا ہے ۔ اس طرح بھرگو ، انگرہ اور اہترون خاندان کے پتریوں کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ وہ آکر گھاس پر بیٹھیں اور اس بلیدان کو قبول کریں جو ان کے لیے رکھا جاتا ہے ۔ پتری یک کا نام بھی وید میں آیا ہے ۔ چنانچہ رگ وید کی ایک رچا میں حسب ذیل منتر ہیں ۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یگ میں اپنے پتروں کو مخاطب کیا کرتے تھے ۔ 
’’سوم رس کو پینے والے ہمارے پتر (کنشٹ ، اتم اور مدہم) بھدر (مبارک) اور نیک پتر جو نپر جیوت (ازسر نوزندہ) ہوئے ہیں ہماری رکھشا کریں ۔ 
’’ہماری یہ برکتیں ہمارے ان پتروں کے لیے ہو جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں ۔ خواہ وہ اب آسمان پر رہتے ہوں یا پرتھوی پر یا دیگر پوتر لوکوں کے ساتھ رہتے ہیں’’۔ 
’’میں نے عاجزی سے پتروں کو مخاطب کیا ہے کہ وہ تیزی سے یہاں آئیں اور گھاس پر بیٹھ کر ہمارے یگ (قربانی یا نذرانہ) سے اپنا حصہ وصول کریں ۔ اے پتروں تم گھاس پر بیٹھے ہو یہاں آؤ اور ہماری مدد کرو ۔ ہم نے یہ یگ تمہارے لیے تیار کیے ہیں ۔ آپ انہیں سویکار (قبول) کرو ۔ نہایت ہی برکت دینے والی تحفظ ہم پر کرو ۔ ہمیں صحت اور استقامت دو’’۔   
’’سوم رس چاہنے والے والے پتروں کو یہاں بلایا گیا ہے ۔ تاکہ وہ آکر اپنا بھوجن کھائیں ۔ جو ان کے لیے گھاس پر رکھا ہوا ہے ۔ وہ قریب آئیں اور آکر سنیں ۔ ہمیں اشیر باو دیں اور ہماری حفاظت کریں’’۔  
’’اپنے گھٹنے جھکا کر میری دائیں طرف بیٹھو اور اس تمام یگ کو قبول کرو ۔ پترو ہمارے گناہ کے لیے جو ہم نے آپ کے در وہ کیے ہمیں سزا مت دو کیوں کہ ہم انسان ہیں’’۔ 
’’جب تم مہربان کی گود میں بیٹھتے ہو تو سخی انسانوں کو مال و دولت دو ، اپنے پتروں کو مال و دولت دو ۔ ہمیں طاقت دو’’۔
’’ہمارے منتروں کی طرح ہمارا نذرانہ کو قبول کرو ، سوم رس کو پینے والے پتروں ، خصوصیات کے ساتھ جنہوں نے سوم رس کی تیاری میں شریک ہوئے’’۔
’’اے اگنی ان عقلمند اور سچے پتروں کے ساتھ آؤ جو چولھے کے نذدیک بیٹھنا پسند کرتے ہیں ۔ جو سخت بے قرار تھے ۔ جب کہ وہ دیوتاؤں کی خواہش پر یگ کرنا جانتے تھے اور اپنے گیتوں کے ساتھ بڑی تعریف کیا کرتے تھے’’۔  
’’اے اگنی ان قدیم پتروں کے ساتھ آؤ جو چولھے کے قریب بیٹھنا پسند کرتے ہیں ۔ جو ہمیشہ دیوتاؤں کی تعریف کرتے ہیں جو ہمارے قربانیوں کو قبول کرتے ہیں اور اندر وغیرہ دیوتاؤں کے ساتھ مل کر رہتے ہیں’’۔
’’اے دیو تو تم جو اگنی سے جلائے گئے ہو آؤ یہاں اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ تم ہمارے مہربان رہنما ہو ۔ ہمارے بلدان کو کھاؤ جو ہم نے گھاس پر رکھا ہے ۔ ہمیں خواہش کے مطابق اولاد دو’’۔   
’’اے اگنی غیر معمولی ہستی ! ہماری پرار تھنا پر تو نے بلدان کو قبول کیا ہے پہلے ان کو میٹھا کرلیا ہے ۔ تو نے انہیں پتروں کو دیا ہے اور انہوں نے اپنے بھاگ پر بھروسہ کیا ہے ۔ اے دیوتا تو ہماے بلدان کو بھی قبول کر’و’۔ 
’’جو پتر یہاں ہیں اور یہاں نہیں جن کو ہم جانتے ہیں اور جن کو ہم نہیں جانتے ۔ غیر معمولی ہستی آپ کو معلوم ہے کہ وہ کتنے عمدہ یگ کو قبول کرو’’۔
’’اے راجن ان منشوں کو جو آگ سے جلائے گئے یا نہیں جلائے گئے جو آسمان میں اپنے بھاگ کو لے کر احسان مند ہوتے ہیں ۔ ان کو وہی سریر پتر جنم میں دے جن کے لیے وہ خواہشمند ہیں’’۔
ابتدا سے ہی آریا اپنے مورثوں کی پرستش ، ادب اور تعظیم کرتے تھے ۔ وہ رسومات یا یگوں سے کیے جاتے تھے ۔ ان کے مرنے والوں کے یگوں سنکاروں (آخری رسومات) کی تفصیلات برہمن گرنتھوں ، گریہی ، سوتروں ، سامیہ کارک سوتروں ، دھرم شاستروں اور بعد کے پستکوں میں ملتے ہیں ۔ جن میں باریک بینی سے وقت ، موسموں ، یگوں ، اہویتوں (برکتوں) ، یگ پاتروں اور برتنوں وغیرہ کی تفصیلات درج ہیں ۔ یورپین محقیقین خاص کر کالبرک نے ان یگوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس وجہ یہ رسومات یا یگوں کا دستور شروع ہوا ۔ مگر کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا ۔ آج بھی ہندو مرنے والوں کے لیے شرادہ کیے جاتے ہیں ۔ لیکن ہم نہیں جانتے ہیں کہ قدیم دور کی رسموں سے حال کی رسومات میں کیسے بدل گئیں ۔ ان رسومات کا مطالعہ کرنے کے لیے قدیمی سوتروں کا مطالعہ کرنا مضروری کہ معلوم ہو کہ پنڈ کس طرح بنائے جاتے تھے اور مرنے والوں کو بھوگ (لطف اندوز) لگانے کا کُشا (ایک قسم کی جھاڑیاں) کی کتنی ڈنڈیاں بنائی جاتی ہیں اور وہ کیسے رکھے جاتی ہیں ان تفصیل ان میں ملتی ہیں ۔ یہ بظاہر ردیات کا ڈھیر معلوم ہوتی ہیں اور انہیں ہم نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں ۔ خاص کر یگوں کی تفصیل جو کچھ یہ ہیں ۔
(۱) پتری یگ جو پنج مہایگوں (بڑی رسموں) میں سے ایک ہے 
(۲) پنڈ پتری یگ جو ایکم و پورن ماشی پر کیے جاتے ہیں 
(۳) موت کے شرادہ جو کہ گھر سربراہ کی موت پر کیا جاتا ہے 
(۴) اگیپر(روح اور خیرات کی خاصیتیں) جن کو شرادہ کہتے ہیں ۔ 
مرے ہوئے پرکھوں کے لیے ان یگوں میں بھوجن اور دان غریبوں کو دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ دوسری اور تیسری قسم کے یگوں میں شرادھ بھی کیا جاتا مگر بنیادی طور پر آخر سے ہے ۔ کیوں کہ ان رسموں سے شرادھ کا لازمی تعلق تھا ۔ ان یگوں کی رسومات میں پتی یگ یعنی گھر کے سربراہ پانچ فرائض روزانہ ادا کرنا چاہیے ۔ 
(۱) برہم یگ یعنی سوادہیائے کرنا ، ویدوں کا پڑنا پڑھانا 
(۲) پتری یگ (پتروں کے نام پر پنڈ دینا)  
(۳) دیو یگ یعنی دیوتاؤں کے نام پر پراہوتیاں ڈالنا 
(۴) بھوت یگ سپرانیوں کو بھوجن دینا 
(۵) منش (نرمیدہ) یگ اتھتیوں کی سیوا کرنا ۔ 
پتریوں (اجداد) کی کئی قسمیں خاندانوں کے اجداد ، قبائل کے اجداد اور قوم کے اجداد ہیں ۔ قدیم زمانے میں اجداد کو اپنا محافظ خیال کیا جاتا تھا اور ان سے مدد اور حفاظت چاہتے تھے ۔ بعد کی منزل میں قومیں اپنے اجداد کو دیوتاؤں کی اولاد سمجھنے لگے اور اس طرح خاندان کے مقدس تعلق کو قائم رکھتے ہوئے اپنی اصل کو آسمانی خیال کرتے ہوئے دیوتاؤں کی اولاد ہونے کا دعویٰ اور اپنے میں روحانی اور الہی تقدس کیا ۔ یہ تقدس دنیا کی اقوام نے اپنے قدیم سورماؤں ، مقنینن ، شاہی خاندانوں کے بانیوں اور مذہب کے بانیوں کو دیا ۔ جب کہ برصغیر کے آریوں نے یہ تقدس قدیم قربانی کرنے والوں اور پجاری شاعروں (رشیوں) کی اولاد کو دیا اور دیوتاؤں کے ہم نسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس طرح ان پجاریوں کی مقدس جماعتیں وجود میں آگئیں ۔ جن میں انگیرا (بھجن گانے والے) بھرگو (آگ کی قربانی کرنے والے) وغیرہ شامل ہیں اور بعض دوسرے رشیوں جو نہ صرف پجاریوں کے خاندانوں کو جو نوع انسان کے مورث خیال کیے جاتے ہیں ۔ مثلاً وسشٹھا ، کشیپ ، وشو متر اور بہت سے دوسرے اشخاص جن کے نام رگ وید میں مذکور نہیں ہیں ۔ ان سب پتروں سے نہ صرف وسیع اختیارات منسوب کیے ہیں ۔ جن میں انسانی کاموں میں دخل ، آفرنیش عالم اور دنیا کو قائم رکھنے میں ان کا دخل ہے ۔ اس کی نشادہی رگ وید سے ہوتی ہے ۔ انگیراؤں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ’’اصطبل کھولنے اور گایوں کے آزاد کرانے میں مدد دیتے ہیں’’۔ یعنی وہ دعائوں کے ذریعے آفرنیش عالم کے کام میں شریک تھے ۔ 
اجداد متوفی (پتری) کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ ’’انہوں نے سیاہ گھوڑے (آسمان) کو موتیوں (تاروں) سے سنوارا اور رات کی تاریکی میں رکھا اور دن میں نور یا آسمان اور زمین کو سوما کی مدد سے پھیلایا ہے وہ آفتاب کے محافظ ہیں’’۔ (دہم ۱۵۴۔۱۵) اس سے آفرنیش عالم میں اجداد متوفی کی شرکت ثابت ہوتی ہے ۔ مگر یہ واضح رہے کہ ان کو یہ قوت رسوم اور قربانیوں کے باقاعدہ کرنے سے ثواب سے حاصل ہوتی ہے کہ وہ نظام قدرت میں اپنا فرض ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ انگیراس دعائے مجسم بن کر اصطبلوں کو کھولتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ دعائیں قوانین قدرت کو توڑ سکتی ہیں ۔ یعنی پانی برسا سکتی ہیں ، روشنی لاتی ہیں اور دنیا میں امن و امان رکھتی ہیں ۔ تاہم اجداد متوفی (پتریوں) اور دیوتاؤں کی راہیں جدا ہیں ۔ اجداد کی راہ موت کی ہے (دہم ۱۸،۱ ۴۲۱ ۸۸۔۱۵ ) اور تمام انسان اسی راہ سے جائیں گے ۔ اسی لیے دونوں کو جو نذریں چڑھائی جاتی ہیں وہ مختلف ہوتی ہیں ۔ اجداد بھی سوما کے عاشق گنے جاتے ہیں اور دیوتاؤں کی قربانیوں میں ان کو عام دعوت ہوتی ہے ۔ مگر پتریوں کے خاص رسم شرادھ ہیں اور ان کے لیے علحیدہ نذریں چڑھائی جاتی ہیں ۔ ان کے لیے گہیوں کی روٹیاں پکاتے ہیں جنہیں پنڈے کہتے ہیں اور ہر پتر کے لیے ایک پنڈار لیا جاتا ہے ۔ ان پنڈوں کو پنڈ پتری یجنا یعنی آبا کی نذرے کے پنڈے کہتے ہیں ۔ شرادھ بھی مختلف موقوں اور برسیوں کے موقع ہوا کرتے تھے ۔ بعض کسی ایک متوفی عزیز کے لیے ہوا کرتے تھے ۔ بعض خاندان کے تمام بزرگوں کے لیے اور بعض تمام مقدس اور باعظمت بزرگوں کے لیے ۔ بھجن (دہم ۱۵) غالباًً اسی رسم کے تصنیف کیا گیا تھا ۔ گو آخری شعر تجہیر و تکفین کی رسوم سے مخصوص معلوم ہوتا ہے ۔ ممکن ہے کہ اس کا اس غرض سے اضافہ ہوا ہے اور دوسرے موقعوں پر اس کو حذف کر دیا جاتا ہو ۔ 

ٍٍٍ ’’اب آبائے متوفی انہیں خواہ وہ اوپر ہوں یا نیچے یا بیچ میں ہو (ہر سہ عالم) آبا جو سوما کی نذر چڑھاتے تھے مہربان تھے ، قربانی کے طریقوں سے واقف تھے اور اب عالم ارواح میں ہیں جو ہماری التجاؤں کو اتفات سے سنیں’’۔
’’آج ان آبا کی مدح سرائی کریں گے جو زمانہ قدیم میں سدھار گئے اور جو ان کے بعد گئے ، جو دنیا کے کرہ ہوا میں ہیں اور جو خوبصورت مکانوں میں رہنے والی اقوام کے ساتھ ’’ بعض محقیقین اس سے بنی نوع انسان کی اقوام خیال کرتے ہیں اور بعض دیوتاؤں کی اقوام کو ۔
’’اے پتریوں ! جو تم قربانی کی گھاس پر بیٹھے ہو ۔ آؤ اور ہماری مدد کرو ۔ یہ نذریں ہم نے تمہارے لیے تیار کی ہیں ، انہیں قبول کرو اور اپنے ساتھ صحت جسمانی اور بیشمار برکتیں لاؤ’’
ہم سوما پسند کرنے والے آبا کو اس غذا کے کھانے لیے بلاتے ہیں جو وہ پسند کرتے ہیں اور جو ان کے لیے گھاس پر رکھی ہے ۔ کاش وہ ہمارے قریب آئیں ، ہماری مدد کریں ہمیں برکت دیں’’۔
ٍ ’’ہمیں نقصان نہ پہنچاؤ اے آبا ! کسی ایسے گناہ کی پاداش میں جو انسان ہونے کی وجہ سے ہم سے سرزد ہوا ہو’’۔
’’سپید صبح (اشاس) کی گود میں تم بیٹھے ہو ، اپنے پاکباز بیٹوں کو جو فانی ہیں دولت و فلاح و برکت دو’’۔
’’یاما بھی جو ہمارے بہترین ، قدیم اور مہربان آبا کے ساتھ شادمانی میں حالت رہتا ہے ۔ وسشٹھاؤں کے ساتھ خوب سوما پیئے’’۔
’’اگنی تو بھی ان لوگوں کے ساتھ آ جو پیاسے اور سوما کے منتظر ہیں ، جو دیوتاؤں کے ساتھ بیٹھے ہیں ، قربانی کے رموز سے واقف ہیں ، جو دیوتاؤں کے ساتھ بیٹھے ہیں ، قربانی کے رموز سے واقف ہیں ، جن کی رشیوں نے تعریف و توصیف کی ہے ۔ تو ان عقل مند سچے اور مخیر آبا کے ساتھ آ جو عالم نور میں رہتے ہیں’’۔
آ اے اگنی ان ہزاروں قدیم اور زمانہ بعد کے آبا کے ساتھ جو نذروں کے کھانے اور پینے والے ہیں ، جو اندر اور دوسرے دیوتاؤں سے متحدہ ہوگئے ہیں ۔ اور عالم نور میں دیوتاؤں کی ستائش کرتے ہیں’’۔
’’یہاں وہ آبا آئیں جنھیں آگ نے خاکستر کر دیا ہے (جو مرنے کے بعد جلائے ہیں)’’۔
’’جو آبا یہاں اور جو نہیں ہیں ۔ جنہیں ہم جانتے ہیں اور جنہیں نہیں جانتے ہیں ۔ اے اگنی تو سب مخلوخات کو جانتا ہے کہ کتنے آبا ہیں ۔۔۔’’
’’ان آبا کے ساتھ جو جائے گئے تھے اور نہیں جلائے گئے تھے اور جو ہماری نذروں سے پہلے آسمان میں خوش ہیں ، انہیں کے ساتھ اے درخشاں ہستی (اگنی) اس شخص متوفی کو عالم ارواح میں لے جا اور ہماری خواہش کے مطابق اس سے سلوک کر’’۔
تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں