81

پتر

(۱) آبا و اجداد ، اسلاف 
(۲) قبیلے کے جد امجد
پتروں کا اولین حوالہ رگ وید میں ملتا ہے ۔ دوسرا حوالہ اتھر وید کا ہے ۔ ان میں پتروں کا تین درجات میں مستقیئم بتایا جاتا ہے ۔ ہر طبقہ کو تین عالموں یا تین کروں (لوکوں) میں سے ایک تفویض کیا گیا ہے ۔ یہ تین لوک یا عالم افلاک ، کرہ ہوائی اور زمین ہے ۔ یہ عالم پتروں کے مرتبہ کے مطابق دیے جاتے ہیں ۔ ویدوں سے پہلے کے زمانے میں پتروں کا سات طبقات میں تقسیم ہونا بھی تسلیم کیا جاتا ہے ، جن میں تین غیر مادی اور کوئی شکل بھی اختیار کرنے پر قادر تھے ۔ ان کی پیدائش کے متعلق اساطیر میں سے ایک میں ان کا پرہما کے پہلو سے پیدا ہونا بتایا گیا ہے ۔ یہ انسانی زمانی پیمانوں کے پابند نہیں اور ماضی ، حال اور مستقبل کچھ ان سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ پتروں کو بالاخر برہما کی رسوم میں شامل کرلیا گیا ۔ بلاخر پرجاپتی کو ثانوی خالق کا درجہ ملا اور مخلوقات کے ساتھ دیوؤں اور اسروں کا ارشتہ از سر نو استوار ہوا ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب طبقاتی کشمکش میں برہمنوں نے کیا ۔ جس طرح دیوؤں کی خوراک یگیہ اور نور روشنی قرار پایا ، اس طرح پتروں کی فکر کی تیزی اور چاند (سوم) کی روشنی بطور نور عطا ہوئی ، انسان کو موت سے متصف کیا گیا ۔
پتروں کے یگیہ میں کچھ چیزیں جیسے خرگوش ، سور ، چتکارے اور گینڈے کا گوشت خصوصیت سے شامل ہوئیں ، اسی طرح کچھ بالکل ممنوع قرپائیں ۔ 

ٍ لسن ، پیاز گاجر ، تل اور ہر نمکین چیز ممنوعہ اشیاء میں شامل تھی ۔ تدفین کی رسم (شرادھ) ان سے منسوب کی گئیں اور ان میں پیش کی گئی چیزیں بھی ۔ لیکن سرادھ میں مرنے والے کے بیٹے کی موجودگی سب سے ضروری قرار دی گئی ۔
کہا جاتا ہے کہ اولین ادوار میں انسان ، دیوتا اور پتر اکھٹے مے نوشی کرتے تھے ۔ بعد ازاں یہ عمل ممنوع قرار پایا گیا (ست پنتھ برہمن) اور پتر دیوتاؤں کی طرح غیر مروئی ہوگئے ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

پشاچ
لغوئی مطلب سائے ۔ کام لوک میں نوع انسانی شکست و ریخت سے دوچار ہوتے قول یا باقیات یا بالاخر بدشست ہیولوں میں بدل جاتے ہیں ۔ کسی خاص جنم میں مسلسل بدی کی زندگی گذانے والے اسی انجام سے ہدچار ہوتے ہیں ۔ جنوبی ہند کی لوک داستانوں میں انہیں بدرحیں ، بھتنے اور خون آشام مخلوق کے روپ میں دیکھایا گیا ہے ۔ ان داستانوں میں یہ عموما مونث ہوتی ہیں اور انسانوں کو آسیب زدہ کرتے ہیں پرانوں کے مطابق برہما کے پیدا کرتے چھلاوے اور بھٹکے ہوئے ہیں ۔ 
قدیم ہندو ادب میں ان کا تعلق دیتوں اور ونووں سے دیکھایا گیا ہے ۔ یہ محض ہیولے نہیں بلکہ ہماری پہلے والی نسل کے ارتقاء پذیر انسانوں کے طور پر پیش کیے گئے ہیں ۔ ویدوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ونو ، دیت ، پشاچ اور راکشس خاصے متقی ہیں اور ان میں سے کچھ بلند مرتبہ یوگیوں کے درجہ پر بھی پہنچے ۔ لیکن یہ رسم و مذہبی اجارداری کے علم برداروں کے مخالف ہیں اور آج کے ہندوستان میں بھی یوگیوں کا رویہ اس سے مختلف نہیں ہے ۔ اپنے اس روئیے کے باعث انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔  

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں