47

پجاریوں کی دکھشنا

رگ وید کے پجاریوں نے اپنا ایک علحیدہ گروہ بنالیا تھا مگر اس گروہ میں ذات کی خصوصیات نہیں آئی تھیں اور بعد کے زمانہ کے برہمنوں کی طرح ان کا نظام تمدنی مکمل نہ تھا ۔ مختلف درجہ کے پجاریوں کی فوج کے مقابلے جن میں سے ہر ایک کسی خاص رسم میں ماہر تھا ۔ انہیں دو اقسام میں منقسم کرسکتے ہیں ۔ اول ہوتر معمولی پجاری اور دوسرا پروہت قبیلے یا خاندان کا پجاری ۔ مگر رگ وید کے بھجنوں سے معلوم ہوتا ہے رسومات پیچیدہ تھیں اور باقاعدہ طور پر ادا کی جاتی تھیں ۔ اس میں پجاریوں کی خدمات پسندیدہ تھیں اور ان کو حسب مقدرت انعام دیا جاتا تھا ۔ رگ وید میں وانس توتی کے نام سے بہت سی ملحقہ عبارتیں ہیں ، جن میں ان تحفوں کی فہرستیں ہیں ، جو رئیسوں اور راجاؤں سے ملی تھیں ۔ ان منتروں میں علاوہ اپنے مربیوں کی تعریفوں کے ساتھ ان مواقع کی تصویر پیش کرتیں ہیں کہ جب پجاریوں کو یہ دکشنا (خیرات) ملی تھی ۔ 
یہ منتر اس لحاظ سے قابل قدر ہیں کہ ان میں معاصرین کی تمدنی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے ۔ رگ وید کے تاریخی اجزا میں قبائل اور راجاؤں کے نام ان منتروں میں موجود ہیں ۔ مثلاً بیان کیا گیا ہے کہ قبیلہ ترت سو کا ڑاجہ دِوَوُداس ان تین راجاؤں میں تھا جنہوں نے پہاڑی سردار شمبر پر فتح حاصل کرکے مال غنیمت حاصل کیا اور اس کا کثیر حصہ پجاریوں کو دے دیا ۔ جس میں دس سانڈ ، ملبوسات اور دیگر اشیا کی دس ٹوکریاں ، سونے کے دس ڈلے اور ایک سو مویشی شامل تھے ۔ وُدوداس کے بیٹے سوداس نے بھی ایک موقع پر انہیں سرفراز کیا تھا ۔ ترواسو کے ایک راجہ نے پجاریوں کے دو مشہور خاندانوں کو ساٹھ ہزار مویشی عطا کیے تھے ۔ یادو کے ایک راجہ نے پرسو (پارسی) قبیلہ پر فتح حاصل کرنے کی خوشی میں جو اس نے کنوا خاندان کے پجاریوں کی دعاؤں سے حاصل کی تھی انہیں تین سو گھوڑے ، دس ہزار مویشی اور بہت سے بیل بطور دکشنا عطا کئے تھے ۔ پورو کے زبردست راجہ کت سا کے نواسے تراسا داسیو نے کنوا پجاریوں کو پجاس لونڈیاں عطا کیں تھیں ۔ خوبصورت رتھوں اور گھوڑوں کے ساز کی بہت قدر تھی ۔ اکثر بیان کیا گیا ہے کہ گھوڑے موتیوں سے مزین تھے ۔ کنوا خاندان کا ایک پجاری مویشی کی دکشنا کی امید میں خوشی ظاہر کرتا اور کہتا ہے کہ ان کی تعداد اس قدر ہوگی کہ لوگ کہنے لگیں گے کہ غار کے ویو والا نے اپنے مویشی کھول دیئے ہیں ۔ عطیات دینے والوں کی تعریف و توصیف ان کے عطیات کی مناسبت سے ہوتی تھی ۔ خاندان کنوا کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ انعام ملتا تھا ۔ ان کے خاندان کا ایک فرد فخریہ بیان کرتا ہے کہ مسمی داسیا ویو ریکا (داسیو کو کھانے والا بھیڑیا) نے سیاہ فام دیسی اقوام پر فتح حاصل کرنے پر ایک سو راس سفید مویشی جو آسمان کے ستاروں کی طرح چمکتے تھے ۱۰۰ عدد بانس ۱۰۰ کتے ۱۰۰ گھاس کے بورے اور ۴۰۰ سیاہی مائل سرخ گھوڑیاں اسے عطا کی تھیں ۔ ایک راجہ مسمی چترا نے غیر معمولی سخاوت دیکھائی تھی ۔ اس لیے خاندان کنوا کا ایک پجاری اس کی تعریف میں کہتا صرف اندر ہی اس قدر دے سکتا ہے یا دولت دیوی سرسوتی ۔ چترا اصل راججہ (راجن) ہے ۔ دوسرے سب بدحثیت چھوٹے چھوٹے راجہ (راجگ) ہیں ۔ چتر کی مثال ایک بارش کے گرجنے والے بادل کی ہے ۔ 
بعض اوقات تشکر کا اظہار سرد مہری کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی پجاری ناراض ہوجائے تو وہ اپنی ناراضی کا اظہار طنزاً کرتا ہے ۔ ایک پرتھو (پرتھو) راجہ نے اپنی فتح کی خوشی میں صرف دو گھوڑے اور بیس گائیں دیں تھیں اس کے متعلق طنزاً کہا گیا ہے کہ اس کی جیب سے کچھ نکلنا دشوار ہے اور اس لیے پجاری بربوگی تعریف کرتے ہیں ۔ جو راج کماروں میں دیالو ترین ہے ۔ ماگھون (راج کمار) دکھانے کے لیے دیا کرتے ہیں ۔ یہ طعن و تشنیع ایک وسشٹھا پجاری کی زبانی ہے ۔ جس مزاج میں اپنے مورث کی تیز مزاجی نظر آتی ہے ۔ مگر طمع و تشنع میں زمانہ حال کی کوئی مخالفانہ تقریر نیچے دی گئی کا دو دانس توتیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے جو غالباً بخیل بادشاہوں کو ہمیشہ کے لیے بدنام کرنے کے لیے لکھی گئی تھیں ۔
’’اے دوستوں اپنے جوش کو بڑھاؤ ۔ سخی مزاج شارا کی ہم پورے طور پر تعریف کس طرح کرسکتے ہیں ۔ بہت سے پجاری جو قربانی کی گھاس بچھاتے ہیں ۔ تیری مناسب حال تعریف کریں گے ۔ اگر تو انہیں فی کس ایک بچھڑا دے جیسا کے تو نے ہمیں دیا ہے ۔ شور دیو کا معزز بیٹا جو ایک دولت مند رئیس ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک ایک بچھڑا کان پکڑے ہوئے لایا جیسے کہ کوئی بکری کا کان پکڑ کر لائے تاکہ وہ کھڑی رہے اور بچے اس کا دودھ پئیں’’۔
ایک دوسرا پجاری جسے اشونوں کی تعریف میں چند فصیح ، بلیغ بھجنوں کی تصنیف کے صلے میں صرف ایک رتھ بغیر گھوڑوں کے ملا تھا ۔ اس کا مزاق اڑاتا ہے اور اشونوں کو اپنی مایوسی کا باعث قرار دیتا ہے ۔
’’اشونوں سے جن کے بہت سے گھوڑے ہیں مجھے ایک بے گھوڑے کی رتھ ملی ۔ مجھے اس خوبصورت گاڑی کو کسی نہ کسی طرح کھنچ کر اس مقام پر لے جانا ہوگا جہاں لوگ سوما پیتے ہیں ۔ میں خوابوں اور دولت مند بخیلوں سے کوئی سروکار نہ رکھوں گا ۔ کیوں کہ دونوں موہوم اور خیالی ہیں’’۔
داد و ہیش کے معملات کے اذکار کو مقدس سمتھا میں آنے والی نسلوں کے لیے جان بوجھ کر شریک گیا تھا اور مقصد یہ تھا کہ تعریف و توصیف طعن و تشنیع اور گزشتہ بزرگوں کی قابل تقلید مثالوں کو بیان کرکے آئمہ قوم پجاریوں کو بے انتہا مال و دولت دینے کی ہدایت کی جائے ۔ البتہ فہرستوں میں دس ہزار اور ساٹھ ہزار کی تعداد دیکھ کر شبہ ہوتا ہے کہ پجاریوں کے دعاوی اور اعزاز کو بڑھانے کے لیے مبالغے سے یقینا کام لیا گیا ہے ۔ مگر اس کے باوجود اس کے ایک شبہ پھر بھی باقی رہتا ہے کہ انعام و اکرام کی مقدار ایک معمولی خدمت یعنی مذہبی رسوم ادا کرنے کے صلے میں بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے اور اس زیادتی کی کوئی اور وجہ ہوگی ۔ یہ قیاس صحیح ہے آریوں کا عقیدہ تھا کہ پجاری نہ صرف مذہبی معاملات میں قوم کے پیشوا ہیں اور فتوحات اور کامیاب مہموں کے لیے اظہار تشکر میں ان سے مدد ملتی ہے اور وہ فضلوں ، مویشیوں ، اولاد اور دولت کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ بلکہ ان کا یہ راسخ عقیدہ تھا کہ ان کی کامیابی اور فلاح کا دارو مدار پجاریوں کے برہما (دعا ، وید پاٹ اور قربانیوں پر) تھا اور یہ کہ اگر پجاری ان رسوم کو ادا نہ کرتے یا ان کی ادائیگی میں صحت کی پابندی نہ کرتے تو انہیں یہ فتوحات حاصل نہ ہوتیں ۔ وسشٹھا کے تاریخی بھجنوں کی ایک عبارت سے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے ۔
’’تمہاری زد کو کوئی برداشت نہیں کرسکتا اے اندر اور وارن ! تم نے سوداس کا ساتھ دیا ۔ تم نے برہما کو سنا جو تمہیں زور سے بلا رہا تھا ۔ ترت سو پرہتوں کی قربانی قبول ہوگئی ۔ دونوں فوجیں اثنائے جنگ میں تم سے فتح و مال و غنیمت کی طالب تھیں ۔ جب کہ تم نے سو داس اور ترت سو کی مدد کی ۔ حالانکہ دس بادشاہ انہیں گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ دس متحد بادشاہ جو قربانی نہ کرسکتے تھے ۔ سوداس کو مغلوب نہ کرسکے ۔ پجاریوں کی قربانیاں قبول ہوگئیں ، دیوتا ان کی قربانیوں میں شریک ہوئے ۔ سوداس کی تم نے دس بادشاہوں کی جنگ میں مدد کی جب کہ وہ سخت پریشانی میں تھا ۔ اے وارن اور اندر ، جب کہ ترت کے سفید پوش اور بٹے ہوئے بالوں والے پجاریوں نے تم سے عاجزی سے التجا کی’’۔
’’دس بادشاہ جیسا کہ بیان ہوچکا ہے سب داسیو یا خالصاً داسیو نہ تھے اور اگر وہ آریا دیوتاؤں کو جنگ میں مخاطب کرتے تھے تو ان کے لیے قربانی بھی کرتے ہوں گے ۔ مگر غالباً ان کے پجاریوں نے غلطی کی ہوگی ، کیوں کہ اگر قربانی صحیح طریقے پر کی جائے تو حسب دلخواہ نتیجہ برآمد ہونا لابدی ہے ۔ اس لیے جب راجا کو فتح پجاریوں کی دعا اور قربانیوں سے حاصل ہوئی تو پھر اس کے سیم و زر کی کوئی انتہا نہ ہونی چاہیے ۔   
اس سے ہر گز یہ خیال کرنا چاہیے کہ تمام پجاری دولت مند تھے ۔ پجاریوں کے آہ و نالے کا بھی اکثر ذکر آیا ہے ۔ مثلاً ایک پجاری شکوہ کرتا ہے کہ اس کے رقیب ہر طرف پیدا ہوتے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کے قریب ہے کہ وہ افلاس اور بے بضابعتی سے بہوش ہوجائے اور فکر معاش اس کو اس طرح پریشان کر رہی ہے ۔ جیسے کہ چوہا اپنی دم کترے اور پھر درد ناک آواز میں کہتا ہے ، میری یہ حالت ہے اے زبردست اندرا ! حالانکہ میں تیری ستائش میں گانے والا ہوں’’۔ (دہم ۳۳۳۔۴) طنزیہ بھجن (نہم ۱۱۲) میں لکھا ہے کہ ان پجاریوں کی جو قربانی کرنے والوں کی تلاش میں ہوں ایسی کثرت تھی جسیے بیکار لوہاروں طیبوں کی ۔ یہ امر یقینی ہے کہ یہ مفلس لوگ پجاریوں کے مشہور اور مشہور اور معزز خاندانوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے ۔ مثلاً وسشٹھا ، کنوا ، بھدواج وغیرہ ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں