pakhtoon sadaat 87

پختون سادات

سادات عادات و اطوار اور قدو قدامت میں وہ برائے نام افغانوں سے مختلف ہیں اور اکثر انہی میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ جہاں تک سانجے دکھ سکھ اور سماجی رسم و رواج کا تعلق ہے وہ عام طور پر ان ان ہی قبائل میں گھلے ملے ہوتے ہیں جن میں وہ رہتے ہیں اور انہی کے ساتھ رشتے ناتے کرتے ہیں  ۔

افغان دور حکومت میں وہ بہت بااثر تھے اور مقامی امیر ان پر شاذ نادر ان پر مالیہ نافذ کرنے کی جرت کرتے تھے ۔ سیاسی وجوہات کی بنا پر برطانوی نظم و نسق کے تحت یہ معافی جاری رکھی گئی ۔ گو پہلی سی بات نہیں ہے تاہم اب بھی لوگوں پر ان کا اثر ہے ۔ ان کے کچھ معتبرین جرگوں میں بیٹھے ہیں ۔ لیکن ان اثر رسوخ سیاسی مقاسد کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا ہے ۔ یہ لوگوں سے نذرانہ بطور ٹھک وصول کرتے ہیں اور اس کے لئے دور دراز کے علاقوں میں گشت کرتے ہیں ۔

شیر محمد گنڈاپور کا کہنا ہے کہ مصنف مرات الافغانہ ، مولف مخزن افغانی اورمصنف بحر الانساب کے مورخوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سادات کی نو قومیں سیّد و نجیب صحیح النسب ہیں ۔ اتفاق و روابطہ سکونت و ازواج کے باعث اور زمانے کے عام اسباب کی بناء پر افغانوں کے مختلف فرقوں سے ملحق ہوگئے اور ان کے ساتھ مل گئے ۔ انہوں نے افغانوں کے رسم و رواج لباس ، تودہ اور غیرت اختیار کرکے سیدی چھوڑ دی اور افغانی مشہور ہوگئے ۔ نعمت اللہ ہروی کا کہنا ہے کہ یہ گیارہ قبیلہ ہیں اور ماؤں کی نسبت یا رشتہ داریوں کی وجہ سے افغانوں میں داخل ہوئے ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ یہ اقوام اپنے کو سیّد نہیں کہتی ہیں ۔ شیر محمد نے اس کی وجہ یہ تحریر کی ہے کہ ان فرقوں کے اصلاف نے تحریری طور پر اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ ہم نے خود کو سادات کے قبیلہ سے علیحدہ کرلیا ہے اور افغانوں نے میں گھل مل گئے ہیں اور اسی قوم سے رشتہ داری اور نسبت قائم کرلی ہے ۔ اب خود کو سیّد کہلانا مواغات اور احسان سے دور ہے ۔ اس لئے ہماری اولاد میں خود کو جو سیّد کہے گا وہ ہماری اولاد نہیں ہے اور نیز سادات دریوز گری اپنا پیشہ بنا لیا ہے اور ہر لائق نالائق اور ہر قوم کے شریف کیا رذیل کیا سب کے آگے دست سوال پھیلاتے ہیں اور سوال کرتے اور بھیک مانگنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے ہیں ۔ اس وجہ سے ذیل قوموں سے بھی گئے گزرے نظر آتے ہیں ۔ افغانی غیرت اس اس حالت میں گوارہ نہیں کرتی ہے کہ خود کو سیّد کہلائیں ۔

شیر محمد گنڈاپور لکھتا ہے ہوسکتا ہے کہ گزشتہ زمانے میں کوئی ایسی صورت پیش آئی ہو جس کے باعث ان قوموں نے خود کو سیّد کہلانا چھوڑ دیا ہو اور افغانیت اختیار کرلی ہو ۔ لیکن اس قوم کے اسلاف کے افغانوں میں ضم ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جب ان کے مورثان اعلیٰ نے افغانوں سے شادیاں کیں اور ان کی اولاد نے افغانوں میں تربیت پائی اور اپنے ننہیال کے خاندانوںمیں کتخدا ہوکے افغانی زبان و لباس اختیار کرلی اور ہر برائی ، بھلائی میں اور زمہ داری میں افغانوں کے شریک رہے تو اپنے کو سیّد کہلانا مناسب نہیں سمجھا اور یہ فرقے صدہا سال سے افغان مشہور ہیں اور موجودہ قومیت کو چھوڑ کر سیکڑوں سال پہلے کی چھوڑی ہوئی قومیت کو اپنانا چائیں تو اپنے کو سیّد کوئی نہیں مانے گا ۔ اس بناء پر ان کے شجروں اور نسب ناموں میں جس زمانے سے ان کے آبا اجداد نے افغانیت اختیار کرلی اور یہ افغان مشہور ہوئے اور اپنے بزرگوں کے ساتھ خان لکھتے ہیں اور زمانہ مزکورہ سے پہلے یہ لوگ اپنے اشراف کے ناموں کے ساتھ سیّد لکھتے ہیں ۔ شیر محمد گنڈہ پور کے بیان سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے یہ اپنے کو سیّد نہیں جانتے تھے ۔ مگر انہوں نے اب اپنے کو سیّد کہتے یئں ناموں میں لائقہ شاہ لگاتے ہیں ۔

جب ہم ان کے سیّد کے شجروں کا مطالع کرتے ہیں تو گنجلک کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ کیوں کہ ان کی ابتدا دیو مالائی داستان گوئیوں سے شروع سے ہوتی ہیں ، جو بہت حد تک ملتی جلتی ہیں اور ان کی تفصیلات مختلف لوگوں نے مختلف دی ہیں ۔ یہ اکثر لے پالک بچے تھے اور ان کو پالنے والے افغان تھے اور اہم یہ ہے یہ تفصیلات تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں ۔ مثلاً قیس جس کو ان کی روایتوں میں صحابی رسول بتایا گیا ہے ۔ اس کے بعد کی چند پشتوں نے ان سیّد کو لے پالک بنایا تھا ۔ جس کی مدت دو سے تین سوسال ہوتی ہے اور اس دور میں اس علاقہ میں اسلام آیا ہی نہیں تھا ۔ دوسری طرف ان لے پالکوں کی پندرہ سے زائد پشتوں کے بعد ان کا شجرہ نسب حضرت علیؓ سے ملتا ہے ۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے ؟ یہ عجیب تضاد ہے جس کی طرف دعویٰ کرنے والوںکی نظریں نہیں گئیں ۔ یہی وجہ ہے حیات افغانی کے مصنف اور الفسٹن نے ان کے سیّد ہونے سے انکار کیا ہے ۔

سیّد کے شجروں اور ان کے دعوں میں اس قدر تضاد ہے کہ انہیں سیّد تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ ہم بالاالذکر لکھ چکے ہیں کہ یہ خود کو بھی سیّد نہیں کہتے تھے اور تاریخی حقائق ان کی نفی کرتے ہیں ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ سیّد نہیں ہیں تو کون ہیں ان کا پس منظر کیا ہے اور انہیں سیّد کہلانے پر افغانوں اصرار کیوں ہے ؟ اس کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

افغانستان میں اسلام سے قبل اس علاقہ میں علوم و فنون سے دور اور جاہلیت کادور دورہ تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ان کے ذہنوں میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں واقع ہوئی۔ کیوں کہ ایک جاہلی معاشرہ بظاہر مذہب کی تبدیلی کو تسلیم کرلیتا ہے اور اس کے ظاہری احکامات بھی پورے کرتا ہے ۔ مگر اس کی کوتاہ بینی اور قدامت پسندی کے باعث زندگی ، عقائد اور دستور میں تبدیلی کو پسند نہیں کرتی ہے ۔ اس کے نذدیک قدیم مذہبی روایات بدستور مذہبی تقدس کے حامل رہتے ہیں ۔ اس کی محدود عقلی سطح اپنے عقائد اور روایات کو درست ثابت کرنے کے لئے انہیں نیا لبادہ پہنا دیتی ہے اور اسے اس کی سچائی پر اصرار رہتاہے ۔ کیوں کی اس کی ذہنی سطح اتنی بلند نہیں ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کو پرکھ سکیں اور حقائق کو جان سکیں ۔ گویا مذہب کی تبدیلی سے ان کے تصورات اور خیالات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی ہے اور بدستور ان سے چمٹا رہتا ہے ۔ گویا صرف چولا بدل جاتا ہے ۔

بالالذکر خاندان مسلمان ہونے کے پہلے مذہبی تقدس کے حامل تھے اور مسلمان ہونے کے بعد بھی یہ بدستور تقدس کے حامل رہے اور ان کے تقدس کے پیش نظر ان کے جاہلی ذہن نے انہیں سیّد تسلیم کرلیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے اس کے پس منظر میں وہ مذہبی تقدس ہے جو عہد قدیم میں انہیں حاصل تھا اور وہ افغانوں کے ذہنوں اور دلوں میں پوری طرح راسخ ہے جس کے وجہ سے انہیں سیّد کہلانے پر ان کا اصرار ہے ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں