64

پراجنیا

پراجنیا اور ربھو فضا کے دیوتا ہیں جو کہ بہت چالاک اور ہوشیار تصور کیے گئے ہیں ۔ قدیم زمانے کے ان بہادروں اور شجاعوں کے آدرش ہیں جن کا ذکر آریہ ورت کی رزمیہ کتب میں آیا ہے ۔ ایک دیوتا جو اندر کے قریب قریب فرائض انجام دیتا ہے ۔ لیکن ویدوں زیادہ مشہور نہیں ہے اور اندر سے پہلے مشہور تھا جس کا نام پراجینا ہے ۔ آریا نسل کے لوگ اسے جرمنی اور بحیرہ بالٹک کے ساحل پر لے گئے ۔ بعض جگہ پرجینا دیاوا کی جگہ آتا ہے ۔ چنانچہ اتھرا وید میں آیا ہے ’’پرتھی زمین (ماتا) اور پراجینا پتا (باپ) ہے ۔ میں زمین کا پتر ہوں وہ ہمارے مدد کرے’’ ایک دوسری جگہ (اتھرا ادھیائے ۱۲ منترا ۴۲) پرتھوی بجائے آسمان کی استری ہونے کے پراجینا کی استری کہلاتی ہے ۔  
نئی تحقیقات سے پرانے الفاظ اب ازسرنو زندہ ہو رہے ہیں ۔ دیوتاؤں اور بہادروں کے قدیمی ناموں میں پھر جان پڑنے لگی ہے ۔ ایک لفظ پراجنیا ہمیں ایک ایسی دنیا میں لے جاتے ہیں کہ جہاں آریہ نسل کے باپ دادے بود و باش رکھتے تھے اور پراجنیا کی مشک سے پانی پی لیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے ’’او پرجنیا ! ذرا ٹہر جا تو نے ہماری طرف مینہ بھیجا ہے ۔ تو نے جنگلوں کو قابل گذر بنا دیا ہے اور پودوں کو نشو و نما دی ہے تو نے انسانوں کی پرشتہ حاصل کی ہے’’۔  
پراجنیا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین پر تخم برساتا ہے جو پودوں میں داخل ہوکر ان میں جان ڈالتا ہے ۔ جہاں اس کا نام آئے گا ۔ وہاں اس کے اس فرض کی طرف ضرور اشارہ ہوگا اور اس لیے اسے پودوں کے محافظ کا خطاب دیا گیا ہے ۔ مثلاً ’’اے پراجنیا جو ہمیں پودوں کے ذریعے غذا پہنچاتا ہے’’۔ یہ خیال بھی قدیم ایرانیوں کے اس عجیب توہم سے مشابہ معلوم ہوتا ہے کہ تمام پودوں کے تخم زمین پر بارش کے ساتھ آئے تھے ۔
امور مذکور بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ پراجنیا کا وجود قدیم ترین آریا عہد سے تھا اور بڑے بڑے محققین نے اس کی تائید کی ہے کہ اس کا شمار قدیم دیوتاؤں میں ہوسکتا ہے مگر کوئی صریح ثبوت موجود ہے اور یہ امر یقینی ہے کہ اندر اور پراجنیا دو علحیدہ دیوتا ہیں اور ایک دوسرے سے متبادل نہیں ہوسکتے ہیں ۔ کیوں کہ ایک جگہ مزکور ہے کہ ’’باعظمت اندر جو قوت میں پراجنیا کے مشابہ ہے’’۔ اغلب یہ ہے کہ دونوں ایک ہی زمانے میں مماثل دیوتا تھے ۔ یعنی دو بڑے آریا قبائل باد و باران کے دیوتا کو ان دو مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں اور ان کے فرائض میں بھی کچھ فرق تھا ۔ مگر چونکہ اندر جنگجو اور ترقی یافتہ قبائل کا دیوتا تھا اس لیے وہ فاتح دیوتاؤں کا مربی ہوگیا اور رفتہ رفتہ ہر دلعزیز ہوکر اپنے رقیب کو اس نے پس پشت ڈال دیا ۔ 
اب یہ سوال یہ ہے کہ یہ پراجینا کون ہے ۔ اس امر پر بہت طویل بحث ہے کہ یہ دیاؤس (آسمان) ہے یا اندر یا آسمان یا بادل یا بارش کا دیوتا ہے ؟ دیو کے معنی دیوتا اور پراجینا کے معنی بادل کے ہیں ۔ لیکن سنسکرت میں پراجینہ دیاوا کے معنوں میں بادلوں کا کوئی دیوتا نہیں ہے ۔ دیو یا دوگن باہر سے نہیں آتا ہے جو کہ بادل آسمان یا زمین میں شامل کیا جائے ، بلکہ وہ زمین آسمان یا بادل سے نکلتا ہے ۔ قدیم زبانوں کے کئی الفاظوں ہم تشریح نہیں کرسکتے ہیں ۔ الفاظ لکھنے والوں کے دلی خیالات اور مطالب کو ہی ظاہر کرسکتے ہیں ۔ اس طرح دیوتاؤں کے نام بھی قدیم زمانہ کی زبان میں جس میں ایک ایک لفظ کے کئی معنی ہیں ۔ اس طرح کئی منتروں میں پراجینا کے معنی بادل ، کہیں بارش ، کہیں آسمان یا اندر کی جگہ یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہ طریقہ بہت غلط معلوم ہو لیکن قدیم زبان و خیالات کی خوبی یہی ہے اور انہیں مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔
کئی منتر ایسے بھی ہیں جہاں پرجنیا کے معنی عظیم دیو کے ہیں وہ دیاوا (آسمان) باپ کہلاتا ہے ۔ اس کو اسر(زندہ دیوتا) بھی کہتے ہیں ۔ یہ نام قدیم اور بڑے دیوتاؤں کے لیے عجیب ہے ۔ ایک رشی کہتا ہے کہ ’’وہ تمام دیوتاؤں کی طرح حکومت کرتا ہے ۔ تمام مخلوق اس میں آرام پاتے ہیں ۔ وہ تمام کائنات کی آتما ہے’’۔ جو کچھ پراجینا کے بارے میں کہا گیا اس سے بڑھ کر پرماتما کی نسبت کہنا مشکل ہے ۔ لیکن بعض رچاؤں میں آیا ہے کہ پرجینا ، متر اور ورن کی آگیا انورسار (سوامی یا مالک) زمین پر بارش بھیجتا ہے ۔
پراجانیہ کے متعلق شبہ نہیں ہے جو صرف بادوبارں کا دیوتا ہے اور جس سے مراد ابتدا میں بادل تھے اور رگ وید میں اس کے معنی بادل کے آئے ہیں ۔ کئی عبارتوں میں یہ لفظ آیا ہے مگر ذیل کی عبارت میں یہ معنی صاف ظاہر ہے ۔ ’’دن کے وقت ماروت پانی سے بھرے ہوئے پراجنیا سے اندھیرا کر دیتے ہیں’’۔ کیوں کہ بادل کے سوا دن کوئی چیز اندھیرا نہیں کرسکتی ہے ۔ اگنی سے استدعا کی جاتی کہ ’’پانی سے بھرے پراجنیا کو یہاں بھیج دے’’۔ اس لفظ کو یہاں جمع کی صورت میں استعمال کیا گیا ہے ۔ ’’پراجنیا (بادل) زمین پر مسرت اپنے ساتھ لاتے ہیں’’ مگر صرف چند منتشر عبارتیں ہیں جو باقی رہ گئی ہیں ۔ باد و باراں کا دیوتا اندر بادلوں سے ہمیشہ علحیدہ رکھا گیا ہے ۔ بادل کبھی اس کا رتھ ہے اور کبھی وہ پانی کی مشک جس سے وہ زمین پر پانی گراتا ہے ۔ اندر آسمان کا بیٹا ہے جس کی گونجتی جس کے ساتھ خفیف سی روشنی ہوتی ہے اور دنیا تر و تازہ ہوجاتی ہے ۔
دیواپی اپنے بھائی کے حق میں بارش کے لیے پراتھنا کرتا ہے ۔ وہ کہتا ’’اے میرے سوامی (برہسپتی) تو متر وارن یا پوشن ہے ۔ میرے یگ (قربانی) میں آ شریک ہو ۔ خواہ تو آدیتہ ، سوریا مروت کے ساتھ ہو ۔ بادل (پراجنیا) سنتنھ کے لیے بسنے دو ۔ اور ایک جگہ آیا ہے ’’اے بادل (پراجینیا) حرکت کر’’ (یعنی بارش کر) کئی مقامات پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا خواہ ہم پراجنیا کا ترجمہ بادل یا بارش کریں ۔ کیوں کہ دونوں ایک دوسرے کے مترادف ہیں ۔ ایک اور منتر جو مینڈکوں کی طرف مخاطب ہوکر کہا گیا ہے جو برسات کے آغاز میں خشک تالابوں سے نکلتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور بات چیت کرتے ہیں جنہیں رشیوں نے پجاریوں سے تشبیہ دی ہے جو قربانی کے موقع پر گاتے کرتے تھے ۔ رشی کے منہ سے ایسے الفاظ اچھے نہیں لگتے ہیں جو خود بھی برہمن (کاہن) کا کام کرتا ہے ۔ ایک رچا کا ترجمہ حسب ذیل ہے ۔   
’’بھجنوں سے زبردست دیوتا کو پکارو ۔ پراجنیا کی فرمابرداری کرو اور سچے دل کے ساتھ اس کی پوجا کرو ، کیوں کہ وہ گرجنے والے بیل کی طرح قطروں کو منتشر کرتا ہے اور پودوں کو بیج دار پھل دیتا ہے’’۔
’’وہ درختوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرتا ہے اور بری روحوں کو مار ڈالتا ہے ۔ اس کے زبردست شکتی کے آگے تمام دنیا کاپنتی ہے ۔ بلکہ بے گناہ بھی اس کے آگے بھاگتے ہیں ۔ جب کہ پراجینا اپنی کڑک سے برا کرنے والوں کو مار بھگاتا ہے’’۔
’’رتھ بان کی طرح اپنے گھوڑوں کو چابک سے ماتا ہے اور بارش کے قاصدوں کو آگے بھیجتا ہے ۔ دور سے شیر کے گرجنے کی آواز آتی ہے ۔ جب کہ پراجنیا بارش سے آسمان کو پر کر دیتا ہے’’۔
’’ہوائیں زور سے چلتی ہیں ، بجلیاں کوندتی ہیں پودے نکلتے ہیں اور آسمان برستا ہے ، تمام دنیا کے لیے خوراک پیدا ہوتی ہے ۔ جب کہ پراجنیا پرتھوی کو اپنے محور سے برکت دیتا ہے’’۔
’’او پراجنیا تیرے ہی کام سے زمین جھکتی ہے ۔ تیری ہی برکت سے کہردار ، جاندار ادھر ادھر پھرتے ہیں ۔ تیرے ہی طفیل سے پودے نشو و نما پاتے ہیں اور رنگا رنگ کی صورتیں اختیار کرتے ہیں تو ہم پر رحم کر’’۔
’’او مروت تو ہمیں آسمانی بارش عطا کر ، ندیوں کو بہنے دے اور اپنی رعد کے ساتھ نیچے آ پانی کو برسا ، کیوں کہ تو زندہ دیوتا ہے ۔ تو ہمارے باپ کی طرح ہے’’۔
’’تو اپنی کڑک اور گرج دکھلا اور ہمیں پھل پھول عنایت کر ، ہمارے ارد گرد کو اپنے رتھ کے ساتھ جو پانی سے بھرا ہوا ہے چکر لگا ۔ اپنی مشک (ڈول) کو نکال اور بلند و نشیب والی جگہوں کو ہموار کر’’۔
’’بڑے ڈول کو باہر نکال اور اس کو گرادے ۔ ندیوں کو بغیر کسی روکاوٹ کے بہنے دے ، آسمان اور زمین کو تر کردے اور گایوں کے لیے عمدہ فضل و کاشت ہونے دے’’۔
’’او پراجنیا ! جب تو گرجتا ہے بد اندیشں کو مار ڈالتا ہے تب روئے زمین کی ہر ایک مخلوق کو سکون ہوتا ہے’’۔
’’تو نے بارش بھیجی ہے اب ٹہر جا ، تو نے جنگلوں کو قابل گذر بنا دیا ہے تو نے پودے خوراک کے لیے اگائے ہیں ، انسان تیری پرستش کرتے ہیں ۔ (رگ وید ۵۔۸۳)
یہ وید کی ایک رچا ہے اور زمانہ قدیم رچاؤں کا ایک نمونہ ہے ۔ اس میں کوئی بڑی اعلیٰ اور شاعرانہ خوبی نہیں ہے ۔ تاہم ہزاروں دیہاتی جن کی زندگی کا انحصار بارش پر ہے ۔ بارش کے لیے ایسی دعا نہیں بنا سکتے ۔ اگرچہ تین ہزار برس سے زیادہ گزر چکے ہیں ۔ جب کہ پراجنیا کو پوجا جارہا تھا ۔ جس نے گرم ملکوں میں بادل کی کڑک دیکھی ہے وہ ان جملوں کی صداقت کے قائل ہوں گے کہ پراجنیا آسمان سے ڈول (مشک) بھر بھر کر پانی زمین پر ڈالتا ہے اور لوگوں کو سکون دیتا ہے ۔ اس رچا میں ایک قسم کا اخلاقی خیال بھی پایا جاتا ہے ۔ رشی کہتا ہے ۔ ’’جب کہ طوفان گرجتے ہیں اور بجلی کڑکتی ہے اور بارش پڑتی ہے ۔ بے قصور آدمی کانپتا ہے بلکہ برا کرنے والے (مجرم) تباہ ہوجاتے ہیں ۔
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ بارش سے رشی کا منشا صرف قدرت کے نظارہ کا ظاہر کرنا ہی نہیں ہے بلکہ اس مہان شکتی کا اظہار ہے جس سے بے گناہ بھی کانپتا ہے ۔ کیوں کہ کوئی انسان نہیں جو قصور سے بالکل آزاد ہو ۔ اگر ہم پھر بھی معلوم کرنا چاہیں کہ پراجنیا کون ہے تو جواب یہی ہے کہ پراجینا سے مراد بادل ہے ۔ کیوں کہ وہ بارش برساتا ہے ۔ لیکن جوں ہی بارش دینے والے کا خیال پیدا ہوا تو بادل بیرونی شکل یعنی بارش دینے والے کا جسم بن گیا اور اصلی بارش دینے والے کا پتہ نہیں کہ کہاں ہے ۔ بعض منتروں پراجنیا دیاؤس (آسمان) کے بجائے آتا ہے اور پرتھوی (زمین) اس کی استری ہے ۔ بعض مقامات پر وہ آسمان کا بیٹا ہے ۔ اگرچہ اس ابتدائی زمانہ میں یہ خیال کسی کو نہیں گزرا کہ اس طرح پراجنیا ماں کا شوہر بن جائے گا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ویدک رچاؤں میں کئی جگہ اندر اپنے باپ کا باپ نظر آتا ہے اور رشی لوگ ایسے خیال سے کبھی حیرت زدہ نہیں ہوئے بلکہ صرف یہی کہتے ہیں کہ بعض دفعہ پراجنیا اندر کے فرائض ادا کرتا ہے ۔ (رگ وید منڈل ۸۔۶) 
پراجنیا کی تعریف میں رگ وید میں پانچ چھ بھجن ہیں ۔ ان میں ایک (۵۔۸۳) کا شمار ان چند بھجنوں میں ہوتا ہے جس میں محاسن شاعری بھرے ہوئے اور بہودہ و طفلانہ خیالات نہیں ہیں ۔
’’ان بھجنوں کو گا کر زبردست دیوتا کو سناؤ ، پراجنیا کی ستائش کرو اور پرستش کرو ۔ سانڈ زور سے چلا رہا ہے ، وہی درختوں میں تخم اور پھل ڈالتا ہے’’۔ 
’’درختوں کو چیز ڈالتا ہے ، راکشوں کو قتل کرتا ہے ، سب ذی روح بجلی گرانے والے سے ڈرتے ہیں ۔ بے گناہ بھی اس پانی دینے والے سے ڈرتے ہیں ، کیوں کہ وہ اپنی بجلی سے گناہگاروں کو مارڈالتا ہے’’۔ 
’’جیسے کہ گاڑی ہانکنے والا اپنے گھوڑوں کو چابک سے بڑھاتا ہے ویسے ہی وہ (پراجنیا) بارش کے پیام لانے والوں کو وجود میں لاتا ہے ۔ جب پراجنیا بادل کو بارش سے بھر دیتا ہے’’۔
’’ہوا اپنا زور دیکھاتی ہے ، بجلی ہوا میں چمکتی ہے ، پودے زمین سے اگتے ہیں ، آسمان میں طوفان آجاتا ہے اور جب پراجنیا زمین کو پانی سے سیراب کرتا ہے تو سب مخلوقات تر و تازہ ہوجاتے ہیں’’۔ 
’’پراجنیا تو ہمیں خوب محفوظ رکھ ، تو ہی زمین کو ہلاتا ہے ، کھر والے جانوروں کو رزق پہنچاتا ہے اور ہر قسم کی جڑی بوٹیوں کو اگاتا ہے ۔
’’اے آسور ! ہمارے باپ ! گرجنے والے بادل لے کر ہمارے پاس آ جن میں سے پانی گرتا ہے’’۔
’’گرجو ، پھل دو ، اپنے رتھ پر جس میں پانی بھرا ہے ہمارے ارد گرد اڑو ۔ مشک کو خوب کھنچو ، جس کا منہ نیچے کی طرف ہے اور خوب بندھا ہوا کاش وادیاں اور پہاڑوں کی چوٹیاں برابر ہوجائیں’’(پانی سے لبریز ہوکر سطح ایک ہوجائے) ۔ 
’’بڑی مشک کو اٹھاؤ اور انڈیل ، ندیاں پانی سے بھر کر زور سے بہیں ، زمین اور آسمان کو تر کردو ، مویشوں کو خوب پانی پلاؤ’’۔  
’’تو نے خوب پانی برسایا ، اب بس کر ، تو نے خشک زمین کو قابل گزر کردیا ، تو نے ان نباتات کو روئیدگی بخشی جو ہم کھاتے ہیں اور تمام مخلوقات کی ستائش کا مستحق’’۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں