50

پرش

پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ سوریا ایک درخت سے مشابہ قرار دیا گیا ہے ۔ جس کی شاخیں نیچے ہوں اور جڑیں اور اور آسمان عجیب و غریب پتوں کا درخت ہے ۔ ان منفردضات سے سوالات مزکورہ بالا یعنی لکڑی کیا تھی ؟ درخت کیا تھا ؟ کا پیدا ہونا قرین قیاس ہے ۔ آفرینش کے متعلق ہم اس قسم کے فقروں سے واقف ہوچکے ہیں ۔ مثلاً روشن ہستی (دن) تاریک ہستی (رات) سے پیدا ہوتی ہے یا آسمان و زمین جن کے بچے دیو ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ رگ وید میں اس قسم کے معمے بہت سے ہیں ۔ ہم نے قربانی پر تفصیل سے بحث کی ہے ، مگر اب ایک نہایت اہم بھجن پر نظر ڈالیں گے ۔ جس میں قربانی کی انتہاہی شکل بیان کی گئی ہے ۔ یہ مشہور بھجن ہے جو پرش سکتا کے (رگ وید دہم ۹۰) کے نام سے مشہور ہے اور پہلے ذکر ہوچکا کہ اس کا تعلق رگ وید کے آخری زمانے سے ہے بلکہ اس کے بعد کے زمانے سے جب جب کہ آریا گنگا کے کنارے آکر آباد ہوگئے تھے ۔ کیوں کہ صرف اسی میں ذات کا باضابطہ ذکر ہے اور تینوں اصلی ویدوں کا اور شاید اتھرون وید کا بھی ۔ یہ بھجن ایک طور پر ان ذو معنی اشعار کی تکمیل و تضیح کرتا ہے ۔ جس میں وش وکرمن (تعمیرات و انجینرنگ کا دیوتا) کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ ’’اپنے اعلیٰ ، اوسط اور ادنیٰ مقامات کا علم اپنے دوستوں کو قربانی میں عطا کر ، تو اپنی ذات کی قربانی کر ، اپنی ذات کو خوش کر‘’۔ اگنی کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے ’’اے دیو آسمان میں اپنے دیوتاؤں کو قربانی کر اور اس طرح اپنی ذات کو قربانی کراؤ خوبصورت پیدائش والے’’۔ ان عبارتوں سے یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ دیوتا کس چیز کو اور کس کو آفرنیش عالم کے لیے قربانی کرتے تھے ۔ 
ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس کو مبہم چھوڑنا ہی اس کا بہترین جواب ہے ۔ کیوں کہ اس سے ہمیں یہ فرض کرنے کا موقع ملتا ہے کہ مناظر آسمانی (روشنی ، طوفان وغیرہ) وہ مقدس افعال ہیں جو قانون ازلی کے مطابق دیوتا اپنی ذات کو خوش کرنے کے لیے کرتے ہیں’’۔ مگر بعد کے پیشوان مذہبی کو شاعری سے مناسبت نہ تھی مگر ان کے دماغ بہت تیز تھے اور یہ ابہام انہیں ناگوار تھا ۔ انہوں نے ہر چیز کی توضیح و تشریح کی فکر کی تاکہ شاعرانہ تخیلات کے لیے کوئی موقع باقی نہ رہے ۔ پرش سکتا میں آفرنیش کا قصہ وضاحت اور تفصیل سے بیان کیا ہے اور اسے آفرنیش عالم کا ایک پورا نظریہ کہہ سکتے ہیں ۔ جس کا اثر دیگر ہم نسل اقوام پر بھی پڑا ہے ۔ اس نظم کا مضمون غالباً انسانی قربانیوں کی قدیم رسم جاری تھی سے ماخوذ ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بھجن دراصل انسانی قربانیوں (پرش مید) میں گایا جاتا تھا ۔ جس سے اس کی مزید تصدیق ہوتی ہے ۔ پرش وہ قدیم ترین دیوزاد یا مرد ہے جس کی دیوتا بھینٹ چڑھاتے ہیں اور جس کے جسم کی قطع و برید سے (جو اصل و مواد ہے جس سے دیوتا کام کرتے ہیں یا اس سے مراد اس قدیم مادہ حادث سے ہے ۔ جس میں زندگی کو پیدا کرنے کی مخفی ہے) عالم موجودات کے مختلف حصے اور موجودات وجود میں آتے ہیں خصوصاً وہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں ۔ جس حد تک ہندی آریوں کو اس کا علم تھا ۔ ان چند اشاروں اور ان معلومات سے جو ہمیں برہمن مذہب کتھاؤں کے متعلق حاصل ہوچکے ہیں ۔ ہمیں پرش سُکت کے سمجھنے میں اس دقت نہ ہوگی ۔ اس کا ترجمہ حسب ذیل ہے ۔
’’ہزار سر ، ہزار آنکھوں ، ہزار پاؤں والا پرش زمین کو ہر طرف سے چھپائے ہوئے تھا اور دس انگلیوں کی چوڑان ادھر اُدھر بھی’’۔
’’پرش تمام دنیا ہے ، جو کچھ وجود میں آیا ہے ، جو وجود میں آئے گا ۔ وہ حیات ازلی رکھتا ہے ، جو غذا (قربانی) سے بڑھتی ہے’’۔
’’پرش نہ صرف اتنا بڑا ہے بلکہ سب سے بڑا ہے ۔ اس کا ایک ربع تو وہ چیزیں ہیں جو وجود میں آئی ہیں اور تین ربع آسمان پر رہنے والی غیر فانی ہستیاں ہیں’’۔
ـ(یہاں تین پیر اور ایک برگین کا لفظی ترجمہ ہے ۔ دوسرے لوگ ایک ربع اور تین ربع کرتے ہیں ۔ اسی ترجمے کی ہم نے تیسرے شعر میں پیروی کی ہے ۔ جہاں دوسرا ترجمہ محض لایعنی ہوتا ۔ پیر کے اصل معنی ہم آگے چل کر بیان کریں گے ۔) 
’’تین پیروں سے پرش اور چڑہا ، ایک پاؤں سے وہ یہاں رہا ۔ اس کے بعد وہ ہر طرف پھیل گیا اور متبدل ہوگیا اور ان چیزوں میں جو کھاتی ہیں وہ نہیں کھاتی ہیں’’۔ 
(واضح رہے کہ یہ وہی جانور ہیں جو انسان (پرش) کے ساتھ قربانی کے لائق قرار دیئے گئے ہیں ۔)
’’اس سے ویراج پیدا ہوا ۔ ویراج سے پھر پرش’’۔ 
’’جب دیوتاؤں نے قربانی کی تیاری کی اور پرش کو بھینٹ قرار دیا ، موسم بہار قربانی کا گھی تھا ، موسم گرما ایندھن تھا اور موسم خزاں قربانی کے ساتھ کی نذر’’۔ 
’’قربانی گھاس میں اس کا تیل لگایا گیا ، وہ پرش جو آغاز میں پیدا ہوا تھا اس کی قربانی کی ۔ اس کی اور رشیوں کی نذر عنایت کا طالب گار ہونا چاہیے’’۔ `
’’جب قربانی ختم ہوگئی انہوں نے چربی کو جمع کیا جو لاش سے ٹپک رہی تھی ۔ اس سے وہ جانور پیدا ہوئے جو ہوا میں اڑتے ہیں یا جنگلوں میں رہتے ہیں یا گاؤں میں رہتے ہیں (جنگلی اور پالتو)’’۔ 
’’جب یہ قربانی ختم ہوگئی تو اسی سے رگ وید اور سام وید کے بھجن پیدا ہوئے اور منتر (غالباً بعد کے زمانے کی اتھرون وید کے) اور یا جو پیدا ہوئے’’۔ 
’’اسی سے گھوڑے اور مویشی پیدا ہوئے جس کے اوپر نیچے دانت ہوتے ہیں ۔ اسی سے گائیں ، بھیڑ اور بکریاں پیدا ہوئیں’’۔ 
’’جب انہوں نے پرش کی قطع و برید کی ، اس کے بعد انہوں نے ٹکڑے کیے ، اس کا منہ کیا تھا ـ؟ اس کے بازو کیا تھے ؟ اس کی رانوں اور پیروں کو کیا کہتے ہیں’’؟ 
’’برہمن اس کا منہ ہے ، راجن (چھتری) اس کے بازوؤں سے بنایا گیا ہے ، ویش اس کی ران ہے ، شودر اس کے پاؤں سے پیدا ہوا’’۔ 
’’چاند اس کے دماغ سے پیدا ہوا ، آفتاب اس کی آنکھوں سے ۔ اندر اور اگنی اس کے منہ سے ، اس کی سانس سے آندھی پیدا ہوئی’’۔    
’’اس کی ناف سے ہوا پیدا ہوئی ، اس کے سر سے آسمان ، اس کے پیر سے زمین ، اس کے کان سے مختلف ممالک ، اس طرح انہوں نے عالموں کو پیدا کیا’’۔ 
’’جب دیوتاؤں نے پرش کو بھینٹ چڑھانے کے لیے باندھا اور قربانی کی تیاری کی ، انہوں نے لکڑی کے سات ڈنڈوں کے درمیان اسے رکھا اور اکیس تہیں ایندھن کی اس پر رکھیں’’۔ 
’’اس طرح دیوتاؤں نے قربانی کرکے قربانی کرنے کا حق حاصل کیا ، یہ پہلے قوانین تھے یہ ذی اقتدار ہستیاں اعلیٰ ترین آسمان کو پہنچ گئیں جہاں قدیم دیوتا رہتے ہیں ۔ جن کی عنایت کا طلب گار ہونا چاہا’’۔    
ویران ایک مقدس بحر طویل ہے جس میں ۴۰ مقطع ہوتے ہیں ۔ یہ بحر قربانی سے پیدا ہوئی ہے اور بحروں کی قربانی ایک مشہور عارفانہ تخیل ہے ، یہی تشریح شت پتھ برہمن میں ہے جو سادہ ہونے کے علاوہ تخیلات کے ہم آہنگ ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں