97

پشتونوں میں شادی

خوشحال لوگوں میں شادی کے وقت لڑکے کی عمر عموماً پچیس برس ہوتی ہے اور دلہن اس سے چار سال چھوٹی ہوتی ہے ۔ لیکن غریب طبقہ میں دونوں بڑی عمر کے ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ ولور کی کی ادائیگی انہیں ادھیڑ عمر تک پہنچ جاتی ہے ۔ بہت قریبی رشتہ داروں میںکبھی کبھار بچپن میں منگنیاں کر دی جاتی ہیں ۔ گو قریبی رشتہ داروں میں شادی ضروری نہیں ہے لیکن قابل ترجیع ہے ، کیوں کہ ادلہ بدلہ کم ہو جاتا ہے یا ولور کم ہوجاتا ہے اور طرفین ایک دوسرے سے آشنا بھی ہوتے ہیں اور یہ رشتہ ازواج ان کے قبائلی تعلقات مستحکم کرتا ہے ۔ 
دلہن کے انتخاب میں مرد کی رائے نہیں لی جاتی ہے لیکن والدین شادی کرتے وقت مناسب لڑکی تلاش کرتے ہیں ۔ پہلے پہل کسی رشتہ دار خاتون کو لڑکی کے گھر بھیجتے ہیں تاکہ لڑکی کی صورت و شکل و دیگر صفات کا اطمنان کرلے ۔ غربا اور بڑی عمر کے امیر آدمی اپنی بیوی کا انتخاب خود کرتے ہیں ۔ 
ہر شخص جتنی جلد ہو شادی کرلیتا ہے ، لیکن ولور کی ادائیگی اکثر انہیں اڈھیر عمری تک پہنچادیتی ہے ۔ لڑکی کی شادی لازماً بلوغت کے بعد ہوتی ہے ، اس کی وجہ ایک بیوی کو ایک بار گراں سنھالنا پڑھتا ہے ، جس کی اہل ایک بالغ لرْکی ہی ہوسکتی ہے ۔ کیوں کہ روزمرہ کی ذمہ داریوں کے علاہ اسے سامان اتارنا اور لادنا ، کڑوی ( خیمہ ) گاڑنا اور اکھاڑنا ، ڑیور چڑانا ، اونی کپڑے بنانا ، چارا کاٹنا اور گھر لانا اور زراعتی کاموں میں ہاتھ بٹانا ہوتا ہے ۔
لڑکی پسند آجانے پر لڑکے کا باپ کچھ عزیزوں کے ساتھ (جنہیں مرکہ کہا جاتا ہے) لڑکی کے گھر جاتا ہے ۔ اگر ابتدائی مزاکرات تسلی بخش ہوں تو ولور کی رقم اس کی نقد ادائیگی اور بصورت ادائیگی اور جہز (کور/غوٹہ/غوڑاشہ) جو باپ بوقت شادی اپنی بیٹی کو دے گا زیر بحث آتے ہیں اور ان کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ کبھی کھبار جہز کی قیمت ولور میں سے وضع کرلی جاتی ہے اور اس صورت میں لڑکی کے والدین لڑکی کو جہز یا تحفے تحائف نہیں دیتے ہیں ۔
اب ہوکرہ کے وقت ملا کو بلا لیتے جو دعا کرتا ہے اور اسی وقت نکاح پڑھا دیتے ہیں اور دلہا کی نماندگی اس کا وکیل کرتا ہے ۔ بعض قبائل میں دلہن کے بڑے بھائی اس موقع پر گاؤں چھوڑ دیتے ہیں ۔ 
بعض جگہ یہ رسم ہے کہ منگنی کے بعد داماد خسر کے یہاں رات میں بھی قیام کرتا ہے ۔ اس کے لئے سسر سے اجازت لینی پڑتی ہے ۔ پھر دن اور تاریخ کے تعین کے بعد لڑکا اپنے چند دوستوں اور قریبی خواتین کے ہمراہ لڑکی کے گھر جاتے ہیں ۔ رات کو سب کی ضیافت ہوتی ہے لڑکے کے دوست کھانا کھا کر واپس آجاتے ہیں ۔ جب کہ لڑکا اور خواتین رہے جاتی ہیں ۔ کبھی ایک رات کبھی مسلسل دو تین رات گزاتا ہے ۔ تیسری رات گزانے کے بعد دن چڑھنے اور ناشتے کے بعد وہاں سے رخصت ہوتا ہے ۔ اگر رات گزارے تو اعلیٰ الصبح ہی خسر کے گھر سے نکل جاتا ہے یہ رسم گرونے یا بازی کہلاتی ہے ۔ 
کوژہ یعنی منگنی کے بعد دولہا کو ساس کی مرضی سے دلہن سے ملنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن کھلا کھلم نہیں ۔ اس کو ’ غل گرانی ‘ ( خفیہ انباط ) کہتے ہیں ۔ لیکن پشتہ حلاصول یا گردنی بھی رائج ہے ۔ جس کے مطابق دولہان چند دوستوں کے ہمراہ دلہن کے گھر جاتا ہے اور دلہن کو ایک جوڑا جس میں چادر ، پرونے ، قمض ، شلوار اور جوتا ہوتا دیتا ہے ۔ بعض اس موقعہ پر ایک ٹوپی بھی پیش کرتے ہیں ۔ ساتھیوں کی ضیافت ہوتی ہے اور وہ ضیافت کے بعد واپس لوٹ جاتے ہیں ۔ لیکن دولہا دلہن کے گھر ٹہرتا ہے ۔ جس کے دوران اسے ہم خوابی کی اجازت ہوتی ہے ۔ اس کے بعد دولہا کو ایک جوڑا دے کر رخصت کردیا جاتا ہے ۔ لیکن وہ دلہن سے کسی وقت بھی مل سکتا ہے اور اس کو شوہر کی تمام مراعت حاصل ہوتی ہیں ۔ اس دوران لڑکی اپنے میکے میں حاملہ ہو جائے تو بعض میں لڑکے والوں کو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے ۔ نکاح عموماً دلہن کے گھر ہوتا ہے بعض قبائل میں دلہن کو دلہا کے گھر لے جاکر وہاں نکاح پڑھایا جاتا ہے ۔ ولور پورا ہوجائے تو نکاح کی تاریخ مقرر ہوجاتی ہے ۔ اسے نیٹہ کخیول یعنی وقت مقرر کرنا کہتے ہیں ۔
ار طریقہ شادی - کوئی شخص کسی لڑکی پر فریضہ ہوجائے ، لیکن لڑکی کے والدین راضی نہ ہوں تو وہ اس کے گھر جاکر بھیڑ یا بکری کی سری پھینک دے گا اور گھر کے سامنے بندوق چلائے گا یا لڑکی کی زلفیں کاٹ کاٹے گا ، زیور (ڈونگی) اتار دے گا ، اس کی چادر (سری یا ٹکری) لے بھاگے گا اور ساتھ یہ اعلان کردے گا کہ وہ اس کی ہے اور اسی سے شادی کرے گا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ لڑکی کے والدین شادی کے لئے راضی ہوجاتے ہیں اور ولور ادا کردیا جاتا ہے ۔ یہ طریقہ شادی اب ناپید ہے ۔ 
لمن شکول - دامن پھاڑنا ۔ لڑکی زبردستی اپنے نام سے منسوب کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ جب وہ لڑکی کو ہر طریقہ سے مانگ چکتے ہیں اور والدین انکار پر بضد ہوتے ہیں تو لڑکا موقع پاکر لڑکی کا دامن پھاڑ ڈالتا ہے اور لڑکی کو کہتا ہے کہ ماں باپ کو جاکر دیکھا دو میں نے دامن پھاڑ دیا ہے اور ساتھ ہی مکان کے پاس جاکر ایک دو فائر کرکے چلا جاتا ہے ۔ اب لڑکی کو کوئی دوسرا نہیں مانگ سکتا ہے ۔ چاہے لڑکی ساری عمر یوں ہی بیٹھی رہتی ہے ۔ اس طریقہ کو درست کرنے کے دو طریقے ہیں ، ایک جرگہ کے ذریعہ لڑکی کے والدین کو راضی کرنا اور دوسرا لڑکے کو مار کر مستقل دشمنی مول لینا ۔ 
آر ڈڑے کول - کسی کی بہن بیٹی پر دعویٰ کرنا ۔ دستور کے مطابق باقیدہ لڑکی مانگی جاتی ہے اور لڑکا ہر شرط پورا کرنے کو راضی ہوتا ہے ۔ لیکن پھر بھی والدین لڑکی دینے سے انکار کردے تو اس صورت میں لڑکا لڑکی کے مکان کے قربب جاکر اعلان کردے گا کہ اس کا دعوے دار میں ہوں ، یہ کہہ کر ایک دو فائر کر کے چلا آئے گا ۔ اب اس لڑکی کو کوئی اور نہیںمانگ سکتا ہے ۔ اگر کوئی اور اس کو بیاہ نے کو کوشش کرے گا تو وہ اتنا طاقتور ہو کے کہ ہر حال میں اس کا مقابلہ کرے اور اس پر غالب آسکے ۔ مگر یہ معاملہ مخالفت بلکہ دشمنی کا سبب بن جاتا ہے ۔ کیوں کہ لڑکی کے دعوے دار کو نہ صرف لڑکی کے گھر والوں سے خطرہ ہوتا ہے بلکہ لڑکی والوں کو دعوے دار کی طرف سے بھی خطرہ ہوتا ہے اور اس میں کبھی کبھی بڑا زبردست کشت و خون ہوتا ہے اور بڑی مشکلوں سے تصفیہ ہوتا ہے ۔ 
مرندہ - کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے کہ ایک لڑکی سے شادی کرنے کے دو دعوے دار اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور جب تک ان کے جھگڑے یا دعوے کا فیصلہ کسی ایک کے حق میں نہ ہوجائے لڑکی کو مجبوراً بیٹھا رہنا پڑتا ہے ۔ یہ لڑکی جس کی شادی نہیں ہوسکتی ہے ’ مرندہ ‘ کہلاتی ہے ۔ 
شادی کی یہ رسوم چند تبدیلیوں کے ساتھ تمام پشتون قبائل میں رائج میں ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں