91

پشتون حکومتیں

پشتونوں کا اثر و رسوخ
کیرو لکھتا ہے کہ ترکی النسل محمود غزنوی کی حکومت لودھیوں کی شکست اور بابر کا عہد 1526ء کے آغاز اور پھر شیر شاہ سوری 1539ء تا 1555ء کا عرصہ افغانوں کے عروج و ملکی اثرات و غلبہ اور ان کے مسلمان ہونے اور پشتونوں کے قیام سلطنت (نہ کہ آبائی وطن) کا زمانے ہے ۔ اس زمانہ کی پہلی دو صدیوں میں مرکز حکومت غزنی رہا اور آخر کی تین صدیوں میں دہلی و ہندوستان کے دوسرے علاقہ میں ۔ ان دونوں زمانے میں افغان ہر اول دستہ رہے ۔ پہلے بطور تنخوادار ملازموں کے اور بعد میں خود صاحب حکومت ہونے کے ۔ اس تمام عرصہ میں ان کے وطن پر کسی نے باہر سے حملہ ہوا اور نہ انہوں نے خود منعظم حکومت قائم کی ۔ اس عرصہ میں ان کا وطن مختلف قبیلوں کی پروش گاہ رہا ۔ جہاں سے جنگ آزما سپاہی مہیا ہوتے رہے ۔ مگر کیرو کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا ہے اور پشتون حکومت ہر دور میں قائم رہی ہیں اور اس بارے میں مختصر سی تفصیلات سے ہم آگاہ کر رہے ہیں ۔ 
    غوری

ٍٍ عربوں کے حملے کے وقت علاقہ غور میں جہان پہلوان کی حکمرانی تھی ۔ بعد کے دور میں یہاں غوری حکمران ہوئے ۔ غالباً یہ جہان پہلوان کے اخلاف تھے اور اس علاقے کی نسبت سے غوری مشہور ہوئے ۔ اس طرح پہلی پشتون یا افغانوں کی پہلی آزاد حکومت غوریوں کی مملکت تھی جو مسلمانوں کی آمد سے قبل غور کے علاقے میں قائم ہوئی تھی اور بعد میں اپنے عروج کے زمانے میں بنگال سے لے کر خوارزم تک پھیلی ہوئی تھی ۔ ان کی سلطنت تیرویں صدی میں پہلے خوارزم شاہیوں اور پھر منگولوں نے مٹا دیا اور اس علاقے میں ایلخانی سلطنت قائم ہوگئی ۔ شہاب الدین غوری کے نائب قطب الدین ایبک نے 1193ء میں دہلی پر قبضہ کیا ۔ لیکن غزنوی دور کے امراء اور سالاران فوج کے اثر و رسوخ میں کوئی فرق نہیں آیا ۔ کیوں کہ ترکی امراء کی تعداد تھوڑی تھی ۔ لہذا سلطنت کے تحفظ اور توسیع اکا انحصار پشتون سپاہیوں کی کار کردگی پر تھا اور منگولوں کے پے درپے حملوں کے باعث ترکستان اور ایران سے آمد و رفت کا سلسلہ التمش کے زمانے میں ٹوٹ گیا تھا اور سلاطین دہلی نے ہندوستان کو ہی اپنا وطن تسلیم کرلیا تھا ۔ سلطان بلبن ترکوں سے زیادہ پشتون لشکریوں پر بھروسہ کیا کرتا تھا ۔ چنانچہ اس کی فوج کا نگران اعلیٰ ملک فیروز خلجی تھا ۔
خلجی
بلبن کی وفات کے بعد کیفباد حکمران ہوا ۔ جب کیفباد پر فالج گرا اور وہ بے دست پا ہوگیا تو ملک خلجی فوج لے کے چڑھ آیا ۔ افغان سرداروں نے ملک فیروز خلجی کو بادشاہ منتخب کرلیا ۔ اس طرح 1290ء میں دہلی میں پہلی پٹھان سلطنت قائم ہوگئی ۔ جلال الدین فیروز خلجی کے اس کارنامے پر کہ اس نے ہندوستان میں پہلی پشتون سلطنت قائم کی تھی اس کے ہم وطن صدیوں تک اس پر فخر کرتے ہے ۔ چنانچہ خوشحال خٹک 1650ء میں لکھتا ہے کہ
بیا سلطان جلال الدین پوہ سربر کخئا ست چمیہ پو اصل کخے غلچی داد لایت ودہ
اس خاندان کا سب سے مشہور بادشاہ علاؤالدین خلجی تھا ۔ جو جلاؤالدین فیروزکا بھتیجا اور داماد تھا ۔ جو اپنے چچا کو قتل کرکے تخت پر بیٹھا تھا ۔ یہ پہلا حکمران تھا جس نے جنوبی ہند کو فتح کیا ۔ اس کے علاوہ یہ اپنی دور رس اصلاحات کی وجہ سے تاریخ میں مشہور ہوا ۔ اس خاندان کا آخری حکمران اس کا بیٹا قطب الدین مبارک خلجی تھا جس کو اس کے نومسلم غلام خسرونے قتل کرکے اس خاندان کا خاتمہ کردیا ۔
مالوہ کے خلجی
1426ء میں مالوہ کی حکمرانی خلجیوں نے حاصل کرلی ۔ اس خاندان کا بانی محمود خلجی تھا ۔ اس نے اپنے برادر نسبتی کو ذہر دے کر ہلاک کردیا اور خود تخت پربیٹھ گیا ۔ یہ ایک بیدار مغز بادشاہ تھا ۔ اس کا سنتیس سالہ دور حکومت کا بیشتر حصہ گرد و نواع کی حکومتوں سے لڑنے اور سلطنت کی توسیع میں گزرا ۔ اس خاندان کا آخر حکمران باز بہادر تھا ۔ اس کو اکبر کی فوجوں نے 1561ء میں تخت سے محروم کردیا ۔
لودھی
تیمور نے برصغیر کی حکمرانی سید خاندان کے حوالے کردی تھی اور سید خاندان کے مبارک شاہ کو بہلول لودھی نے 1451ء میں سیّد خاندان کو تخت سے بے دخل کر کے خاندان لودھی خاندان کی بنیاد رکھی ۔ اس طرح برصغیر میں ایک پشتون حکومت پھر قائم ہوگئی ۔
لودھیوں نے ہندوستان پر 1451ء تا 1526ء تک حکومت کی ہے ۔ اس خاندان کا سب سے نامور حکمران سکندر لودھی تھا ۔ اس کا بیٹا ابراہیم لودھی جو اس کے بعد حکمران بنا ۔ اس نے اپنی کوتا بینی سے امراء کو دشمن بنا لیا ۔ جنہوں نے بابر کو ہندوستان پر حملہ کرنے کی دعوت دی ۔ بابر نے پانی پت کے میدان میں اسے شکست دی اور ابراہیم لودھی مارا گیا ، اس کے ساتھ ہی ہندوستان پر سے لودھی خاندان کو خاتمہ ہوگیا ۔
سوری
سوری خاندان کی حکومت (1540ء تا 1555ء) تک رہی ہے ۔ اس خاندان کا بانی شیر شاہ سوری نے اپنے فہم و فراست سے اور سازشوں کے ذریعے ایک اتالیق سے ترقی کرکے بہار و بنگال کی حکومتوں کو زیر کرلیا اور اپنی طاقت بڑھایا تھا کہ ہمایوں شیر شاہ کی سرزش کے لئے بنگال پہنچا ۔ شیر شاہ جو علاقائی حکمران تھا اور اس قابل نہیں تھا کہ ہمایوں سے دو بدو جنگ کرسکے ۔ لہذا اس نے ہمایوں کو اپنی اطاعت کا یقین دلایا اور ہمایوں مطمین ہوگیا ۔ شیر شاہ سوری نے ہمایوں کی غفلت کا فائدہ اٹھایا اور اس کے لشکر پر شب خون مارا جس سے ہمایوں کے لشکر میں انتشار اور بگڈر مچ گئی اور مغل حکومت کا بنیادی ڈھانچہ مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے اور اپنے بھائیوں کی دغابازی کی وجہ سے ہمایوں کہیں رک نہ پایا اور نہ ہی لشکر فراہم ہوسکا ۔
فرشتہ لکھتا ہے کہ سوری اپنا شیر شاہ سوری نے جب مغلوں سے لڑنے کے لئے کمر باندھی تو اس نے پشتونوں کو یہ کہہ کر جوش دلایا کہ مغل غاصب اور غیر ملکی ہیں ، انہوں نے تمہای سلطنت پر قبضہ کرلیا ہے ۔ لہذا تمہارا قومی فریضہ ہے کہ مغلوں کے خلاف نبرآزما ہو جاؤ ۔ چنانچہ اس کی دعوت پر بہت سے پشتون فوج میں شامل ہوگئے ۔
شیر شاہ سوری کے براقتدار میں آنے کا بڑا سبب مغلوں کی داخلی کمزوری اور ہمایوں کی لاپروائی تھی ۔ اس کی حکومت کے مستحکم ہونے میں اس کی قائدانہ صلاحیتوں سے زیادہ حالات تھے جس کا اس نے فائدہ اٹھایا ۔ اس کا دور حکومت مختصر لیکن شاندار تھا ۔ یہ پورا دور جدو جہد کا تھا ۔ اس نے مغلوں کو غیر اور غاصب کہہ کر اپنے بھائی بندوں کو اکھٹا کرلیا ۔ مگر اس کی موت کے بعد ہی یہ طلسم ٹوٹ گیا ۔ ایک بار پھر اس کے بیٹوں کے درمیان میں تخت نشینی کی جنگوں کے علاوہ درباری سازشیں ابھر آئیں ۔ یہی وجہ ہے مغلوں کو دوبارہ ہند پر قبصہ کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی ۔
ہوتکی
اٹھارویں صدی میں قندھار کے علاقہ میں قندھار کے علاقہ میں غلزئیوں کی ہوتکی شاخ نے میر اویس کی سردگی میں ایرانی حکومت کے انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکومت قائم کرلی ۔ لیکن اس کو استحکام حاصل نہیں حاصل ہوسکا ۔ کیوں کے اسے دوسرے قبائل کی حمایت حاصل نہیں تھی اور اسے افغان قبائل کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔ جن میں ابدالی سرفہرست تھے ۔ دوسری طرف ایرانی حکومت بھی اس کی مخالفت کررہی تھی ۔ مگر ایرانی خود بھی انتشار کا شکار تھے ۔ اس لئے وہ خود اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرسکے ۔ جب کہ میر اویس کے پوتے اشرف نے ایرانی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اصفہان پر قبضہ کرلیا ۔ اصفہان پر دوبارہ قبضہ اور ہوتکی حکومت کا خاتمہ نادر شاہ افشار نے کیا ۔
درانی
اٹھارویں صدی عیسوی میں نادر شاہ افشار نے افغانستان پر مکمل قبضہ کرلیا ۔ مگر نادر شاہ کے قتل ہوتے ہی ایرانی حکومت ایک دفع پھر انتشار کا شکار ہوگئی ۔ نادر شاہ درانی کے افغانی جرنیل احمد شاہ ابدالی نے اس انتشار کو دیکھتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قندھار آگیا اور اس نے موجودہ افغانستان کی بنیاد رکھی ۔
پشتون حکومتوں کا انتشار
بالاالذکر ہوچکا ہے کہ افغانوں کی عصبیت خاندانی اور قبائیلی ہوتی ہے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پشتونوں نے مختلف حکومتوں کے قیام اور استحکام کے لئے بہت مختلف خذمات انجام دیں ہیں ، جنہیں ہم نذر انداز نہیں کرسکتے ہیں ۔ تاہم جہاں پشتون حکومتوں کے قیام میں جہاں یہ مدد گار ہوئے وہاں یہ ان کی شکست و رنجیت میں بھی ان کا حصہ رہا ہے ۔ برصغیر میں پشتون حکمرانوں کی دعوت پر ان کی بڑے پیمانے پر آمد اور آباد کاری بھی ہوئی اور ان حکمرانوں کی حکومتوں میں یہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے ۔ مگر ان کی شورش اور سازشوں کی وجہ سے یہ حکومتیں ذوال پزیر ہوئیں ۔ ان میں لودھی ، سوری کے علاوہ بنگال اور بہار کی حکومتیں قابل ذکر ہیں ۔ یہاں تک افغانستان کی ابتدائی ہوتک حکومت بھی ان کی مخالفت کا شکار رہی ۔ جب کہ افغانستان کی بنیاد رکھنے والے ابدالی خاندان کی حکومت سازشوں اور مخالفتوں کی وجہ سے صرف تین پشت تک قائم رہی ۔ یہی حال افغانستان کی دوسری حکومتوں کا ہوا ۔
تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں