pashtoon women 88

پشتون عورت

ماضی قریب میں ایک پشتون عورت کی زندگی کسی طرح ایک ہندو عورت سے کم کٹھن نہیں تھی ۔ اسے کسی طرح کے حقوق حاصل نہیں تھی بلکہ سارا زور فرائض پر تھا ۔ گویا عورت کی زندگی نہایت ذلت کی زندگی ہوتی تھی ۔

ایک پشتون لڑکی اگرچہ اپنے باپ کے لئے قیمتی اثاثہ ہوتی ہے لیکن اس کی پیدائش پر کسی قسم کی خوشیاں نہیں منائی جاتی ہیں ۔ جونہی لڑکی زرا کام کاج کے قابل ہوتی ہے تو اس کے والدین روز مرہ کے کاموں کے علاہ مویشی چرانے بھیج دیتے ہیں۔ ولور کا طریقہ رائج ہونے کی وجہ سے اسے شادی کی عمر پہنچتے ہی عملی طور پر بڑھ کر بولی لگانے والے کے حوالے کردیتا ہے ۔

لڑکیوں کی شادی شاز نادر ہی بلوغت کی عمر پہنچنے کی عمر سے پہلے کی جاتی ہے ۔ جس کی ایک وجہ وہ گھریلو ذمہ داریاں ہیں جو ایک بیوی پر عائد ہوتی ہیں اور وہ ایک مکمل طور پر غالب عورت ہی نبھا سکتی ہے ۔

جب کوئی لڑکی بالغ ہوتی ہے تو اس کا باپ حجروں میں اس کے حسن جمال اور سلیقہ کے گن گاتا ہے ۔ تاکہ خواہشمندحضرات رجوع کرسکیں ۔ دولت مند اور معزز افراد بھی اس سے مثتنیٰ نہیں ہیں اور وہ بھی اپنے سامان فروخت کی ترغیب و تحریض دلاتے ہیں ۔ بلکہ دلہن کا باپ جتنا امیر ہوگا اتنی زیادہ قیمت ہوگی ۔

بیوی کا کام صرف پانی لانا ، خوراک تیار کرنا اور عام فرائض ادا کرنا ہی نہیں ہے بلکہ روز مرہ کے دیگر فرائض جیسے اناج پیسنا ، ایندھن لانا ، سینا پرونا ، کپڑے دھونا اون کانٹنا وغیرہ انجام دیتی ہے ، بلکہ وہ ریوڑ چرانا ، شوہر کا گھوڑا سنبھالنے ، کاشتکاری میں ہاتھ بٹانے کی ذمہ داریاں بھی پوری کرتی تھی ۔ اس کو اپنی شادی پر ملنے والے تحفہ تحائف پر بھی کوئی حق نہیں ہوتا ہے ۔ طلاق کی صورت میں صرف اپنے بدن کے کپڑے ہی لے جاسکتی ہے اور بیوہ ہونے کی صورت میں اپنے مرحوم شوہر کی جائیداد میں صرف گزارہ الاونس لینے کی حقدار ہوتی ہے ۔

پشتون عورت کا حق مہر نظری طور پر تسلیم کیا جاتا تھا ۔ تاہم یہ واجبی سا ہوتا ہے ۔ عورتیں شاز نادر ہی مہر کا مطالعہ کرتی ہیں ۔ کیوں کہ ان کے شوہر ان سے واپس لے لیتے ہیں ۔

بعض قبائل میں یہ رسم ہے جس کے مطابق وہ بعد از مرگ ملنے والے ثواب کا حصہ اپنی بیوی کو بطور مہر دیتا ہے ۔ جس اسے دوران حیات اپنے چولے چوکے سے کی جانے والی خیرات کے بدلے توقع ہوتی ہے ۔ یہ چھٹے حصہ سے ایک تہائی حصہ ہوتا ہے اور شوہر کو اس کی زندگی میں ادا کرنے سے بچالیتا ہے ۔

افغانوں میں طلاق معیوب سمجھی جاتی ہے اور شاد نادر ہی دی جاتی تھی ۔ عام طور پر طلاق زنا کی صورت میں یا اس کے الزام میں دی جاتی ہے ۔ جب کہ خلع کا تصور ہی نہیں پایا جاتا ہے ۔ اگرچہ بعض قبائل میں نامرد ہونے پر عورت طلاق لے سکتی تھی ۔ طلاق کی صورت میں مرد اپنے ولور کا ایک حصہ لینے کا حقدار ہوتا ہے اور زنا کی صورت میں وہ معاوضہ کا حقدار ہوتا تھا ۔ افغانوں میں اب طلاق کا تصور کس قدر پایا جاتا ہے اور یہ ماضی میں بالکل ناپید تھا ۔

منوشاشتر میں ہے کہ ’کسی لڑکی یا نوجوان عورت یا بڈھی کو اپنے اختیارت سے خام نہیں لینا چاہیے ۔ ماضی میں تقریباً اسی طرح کے حالات ایک پشتون عورت کو درپیش تھے ۔

آریا بیٹوں کی خواہش کرتے تھے ۔ ایرانی اور چینی بھی بیٹوں کی خواہش کرتے تھے اور بیٹیوں کی پیدائش کو نامبارک تصور کرتے تھے ۔ پشتونوں میں لڑکی قیمتی اثاثہ ہوتی ہے جیسا کہ بالاالذکر ہوچکا ہے ۔ اس کے باوجود اس کی پیدائش پر کسی قسم کی خوشیاں نہیں منائی جاتی ہیں ۔  جب کہ لڑکے کی پیدائش پر اس کا اعلان ’شادے‘ سے ہوتا تھا ۔

بیٹیوں کو شادی کے لئے فرخت کرنے کی رسم آریوں میں بھی تھی اور یہ طریقہ ’آسر‘ کہلاتا تھا ۔ عورت کو جوئے میں ہارنے اور فروخت کرنے کا جواز ہے ۔ یونانیوں نے ٹیکسلہ کے ایک بازار کا ذکر کیا ہے ، جہاں شادی کے لئے لڑکیاں فروخت ہوتی تھیں ۔ لڑکیوں کو شادی کیلیے فروخت کرنا پشتونوں کی رسم آریائی ہے۔

آریوں میں طلاق کا دستور نہ تھا اور وہ کسی صورت میں طلاق نہیں دی جاتی تھی ۔منو شاشتر میں ہے کہ خاوند کیسا ہی بے رحم اور ظالم ہو یا دائمی مریض ہو ، مگر عورت کو اس سے علحیدہ ہونے کی اجازت نہیں ۔ آریوں میں خلع اور طلاق کے تمام راستے مسدود تھے ۔ بالالذکر ہوچکا ہے کہ ماضی میں پشتونوں میں طلاق اور خلع کا تصور ناپید تھا ۔

افغانوں میں شادی کے بعد عورت مکمل طور پر اپنے والدین سے کٹ جاتی ہے ۔ حتیٰ طلاق یا بیواہ ہونے کی صورت میں بھی اپنے والدین کے گھر نہیں جاسکتی ہے ۔ اس کا اس کی والد کی جائیداد پر کوئی حق نہیں ہوتا ہے ۔ شوہر کی موت کے بعد وہ اور اس کی بیٹیاں جائیداد کی تقسیم کے وقت اثاثہ میں شمار ہوتی ہیں ۔ اکثر یہ بھی ہوتا ہے ایک بیٹا ولور لے کر ماں کا ہاتھ کسی کو پکڑا دیتا ہے ۔ مرحوم کے بھائی کا مرحوم کے بھائی کا حق ہوتا ہے ۔ اکثر یہ شادی اسے مجبوراً کرنی پرتی ہے یا کسی قریبی رشتہ دار سے اس کی شادی کرادی جاتی تھی ۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ بھائی خود شادی نہیں کرنا چاہتا تو ولور لے کر کسی سے بھی اس کی شادی کرا دیتا ہے ۔ یہ رسم ڈیرہ کے علاقہ میں دوسرے قبائل میں بھی ہے ۔

آریاؤں میں لڑکیوں کو ترکہ نہیں دیا جاتا تھا ۔ منو دھرم شاستر میں ہے عورت اور شودر دونوں کو نر دھن (مال و دولت سے محروم) کیا گیا ہے ۔ لڑکی باپ کی جائیداد کی وارث نہیں ہوتی ہے ۔ کسی نوجوان لڑکی ، عورت یا بڈھی کو کبھی اپنے گھر کا کام اپنے اختیار سے نہیں کرنا چاہیے ۔ طفولت میں باپ کے تابع رہنا چاہیے ، جوانی میں شوہر اور بڑھاپے میں شوہر یا بیٹوں کے ، اگر وہ انہیں چھوڑ کر چلی جائے تو اپنے اور شوہر دونوں کے خاندانوں پر بدنامی کا دھبہ ڈالے گی ۔ آریوں میں دستور تھا کہ بھائی کی بیواہ سے بھائی کو شادی کرنی پرتی تھی ۔  

پشتون عورت کی زندگی جس کی ہم نے ایک مختصر سی تصوریر پیش کی ہے اور نشاندہی کی ہے کہ یہ آریائی دستور ہیں جو کہ پشتونوں میں مروج ہیں ۔ تاہم اس میں مذہب کی تبدیلی اور علاقائی یا جغرافیائی تبدیلوں کی بناء پر کچھ فروعی فرق ضرور ہے ۔ مگر اس سے نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ بھی آریائی اقوام ہیں جو کہ مشترکہ دستور اور تصورات رکھتے ہیں ۔    

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں