88

پشتون قبیلہ

نظری طور پر ایک قبیلہ یک جدی ہوتا ہے ۔ عزیز و اقارب کے کئی گروہوں سے مل کر بنتا ہے ۔ صرف وہی وارث ہوتے ہیں جو نسلی طور پر درست پوتے ہیں ۔ خاندان کو آباء اجداد سے جدا نہیں سمجھا جاتا ہے اور فرد قوم سے نہیں بلکہ خاندان سے پہنچانا جاتا ہے ۔ نسل باپ کے توسط سے چلتی ہے اور بیٹا باپ کے خون کا حامل ہوتا ہے ۔ 
فظری طور پر ایک پشتون قبیلہ بھی یک جدی ہوتا ہے اور عزیز و اقارب کے کئی گروہوں سے مل کر بنتا ہے اور نسل باپ کے توسط سے چلتی ہے اور بیٹا باپ کے خون کا حامل ہوتا ہے ۔ لیکن قبیلہ کے گروہ بہت سے حصوں میں مستقیم ہوتے ہیں ، جن کا سراغ لگانا محال ہے اور یہ چار رائج العام ہیں ۔ 
(۱) قوم = یعنی من حثیت الکل ۔
(۲) خیل یا زئی = یعنی پارہ قبیلہ جو مشترکہ علاقہ میں مقیم ہے ۔
(۳) حصہ = جو ایک دوسرے کے قریب رہتا ہے اور غالباً مشترک الجائداد ہوتا ہے ۔ 
(۴) کہول = یعنی خاندانی گروہ جو رشتہ داریوں میں بندھا ہوتا ہے ۔
جب ہم پشتون قبائل کا مطالع کریں تو کئی پیچدیگیوں کا سامنا کرنا پڑھتا ہے ۔ اکثر قبائل کے ساتھ غیر نسلی گروہ بھی مسلک ہوتے ہیں ۔ جنہیں ہنڈون یا ہمسایہ کہتے ہیں ۔ ان کے لئے رشتہ داری کی شرط نہیں ہوتی ہے ۔ ایسے خاندان یا فرد مشترکہ دکھ سکھ کے حوالے سے قبیلے سے مربوط ہوتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں مشترکہ خونی عدات اتحاد قبیلہ کا بنیادی اصول ہے اور یہ مشترک خون یعنی رشتہ خون یعنی یک جدی خون کے مفروضہ کا روپ دھار لیتا ہے ۔ 
افغان قبائل کے اکثر نام کلمہ خیل سے بنتے ہیں یا لائقہ زئی ہوتا ہے ۔ لیکن بعض صورتوں میں اس مراد پورا قبیلہ ہوتا ہے ۔ ہم جب ان کے شجروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں آریائی اقوام سے لے کر ترکوں کی باقیات کا پتہ چلتا ہے ۔ جو اب مختلف قبائل کی شاخوں صورت میں پائے جاتے ہیں اور ان کے مشترک ناموں سے بخوبی اس کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یہ وہ نام جو مختلف صورتوں یعنی منفرد ، مرکب اور معرب کی صوتوں میں ملتے ہیں اور اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی قوم یا گروہ کی باقیات ہیں ، جو بکھر جانے کی وجہ سے اب مختلف قبائل میں جذب ہوگئے ہیں اور اب اپنی شناخت کو کھود کر نئی شناخت اپنالی ہے اس لئے اب ان کی اصلیت کا پتہ چلانا دشوار ہے ۔ اس کی ایک مثال سہاکزئی ہے جو امتعداد زمانہ سے اسحٰق زئی کہلانے لگے یہ سیتھی یا ساکا قبائل ہیں جو اب بہت سے قبائل کی ذیلی شاخ بنے ہوئے ہیں ۔ یہ سھتی یا ساکا قبائیل جنہوں نے قدیم زمانے میں افغانستان کے علاوہ وسطہ برصغیر تک کو زیر کرلیا تھا اور ایرانی بادشاہوں کے لیے عذاب بنے ہوئے تھے ۔ ان کی سورشوں کی روک تھام میں کتنے بادشاہ اپنی جانیں گوا بیٹھے ۔
ایسی صورت حال میں یہ بعید نہیں ہے کہ کسی قبیلے کی کوئی شاخ طاقتور ہوگئی تو رفتہ رفتہ اور پورا قبیلہ اس شاخ کی نسبت سے پہچانا جانے لگا اور اصل قبیلہ یا قوم پس پردہ میں چلی گئی اور اس نے رفتہ رفتہ اس نے ایک ذیلی شاخ کی حثیت اختیار کرلی یا غائب ہوگئی ۔ یہی وجہ ہے وقت کے ساتھ بہت سے اہم قبائل پس پردہ ہو جاتے ہیں ۔ اگرچہ نئے جنم لینے والے قبیلے بھی قدیم قبیلے سے کی ہی باقیات ہوتے ہیں ، مگر ان کا روپ بدل جاتا ہے ۔ 
عہد قدیم میں طاقت کا انحصار کسی قبیلے کی افرادی قوت پر ہوتا تھا اور ایسا بھی ہوتا تھا کہ حملہ آور جب کسی قوم یا قبیلے پر حملہ آور ہوتے تھے تو مقامی باشندے شکست خوردہ ہونے کی صورت میں وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے تھے ۔ باقی پس مندگان حملہ آورں میں جذب ہوجاتے تھے ۔ کیوں کہ اسی میں فاتحین کا مفاد ہوتا تھا اور اس طرح ان کی افرادی قوت بڑھ جاتی تھی ۔ اس طرح نہ صرف ان کی حکومت کو استحکام حاصل ہوتا تھا ، بلکہ مزید جارہانہ اقدام بھی کر سکتے تھے ۔ اس کی ہمارے سامنے بڑی مثال منگولوں کی ہے ۔ جو کہ ایک معمولی قبیلہ تھا اور چنگیز خان نے ہر شکست خوردہ قبیلے کو اپنے ساتھ ملا کر منگولیا سے ترکستان تک کے قبائل کو اپنے اندر جذب کر کے نصف دنیا کو روند ڈالا ۔ 
افغانوں کی بعض شاخوں کا دعویٰ ہے کہ وہ سیّد النسل ہیں ۔ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ دعویٰ چاہے کتنا ہی بے حقیقت ہو ، لیکن ان کا نسلی تقدس ہی وہ حقیت ہے جس نے انہیں جذب ہونے سے روکے رکھا ۔ کیوں کے انہیں نسلی برتری کا دعویٰ تھا اس لئے انہوں نے اپنے کو مکمل طور پر انضمام سے روکے رکھا ۔ ورنہ قبائل کی بعض ذیلی شاخوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ کمتر نسل سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ منسلک ہونے والے قبیلے میں جذب نہیں ہوسکے ۔ گویا اس کو قبیلے میں مفاد کے تحت شامل کرنے کے باوجود اس کی نسلی کمتری نے اسے شامل ہونے سے روکے رکھا ۔ ایک فرد یا خاندان یا گروہ با آسانی ایک افغان قبیلے میں مشترکہ مفاد کے تحت جذب ہوجاتا ہے ۔ گویا اس طرح افغان قبائل میں ٹوٹ پھوٹ اور اشتراک کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے ۔  
اس ٹوٹ پھوٹ اور اشتراک عمل سے نئے نئے قبیلے جنم لیتے ہیں ۔ گویا کوئی گروہ عروج حاصل کر لیتا ہے تو اسے اپنا قبائل گروہ تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے جب کوئی ذیلی گروہ طاقت ور ہوجاتا ہے تو وہ قبیلے کے لئے خطرہ بن جاتا ہے کہ وہ اسے جذب نہ کرلے ۔ اس لئے اس کی جداگانہ تنظیم کردی جاتی ہے ۔ ہمارے سامنے اس کی مثال بارک زئیوں کی ہے ۔ احمد شاہ ابدالی نے بارک زئیوں کی روز افزؤں تعداد سے ڈر کر انہیں سواد اعظم سے علحیدہ جدا گانہ تنظیم بنادی ۔ 
اس طرح مختلف قبائلی گروہ اپنے مفادات کے تحت اس نو تشکیل گروہ میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور جب اس ذیلی شاخ کو عروج حاصل ہوجاتا ہے تو اس کو خارجی امور کی پشت پناہی سے ہی اس کو قائم رکھ سکتا ہے ۔ دوسری صورت میں شکست و رنجیت کی صورت میں وہ قبیلہ انتشار کا شکار ہوکر غائب ہو جاتا ہے ۔ ہمارے سامنے اس کی بڑی مثال سیانی قبیلے کی ہے جو ایک طاقت ور قبیلہ تھا مگر خارجی پشت پناہی نہ ہونے کی وجہ سے انتشار کا شکار ہو کر غائب ہوگیا ۔ 
جب ٹوٹ پھوٹ اور اشتراک کا عمل جاری رہتا ہے تو گویا قوم کی تشکیل نو ہوتی رہتی ہے ۔ کیوں کہ مختلف قوموں کی باقیات متحد ہو کر نئی قوم کی تشکیل کا موجب ہوتی ہیں اور مختلف قوموں کی روایات جو ٹوٹ پھوٹ اور اشتراک عمل کی بدولت بہت حد تبدیل ہوجاتی ہیں اور وہ اشتراک عمل کی بدولت مشترک ہوجاتی ہیں اور وہ قوم کی تشکیل نو کی بدولت وہ قومی روایات بن گئیں ۔ اگرچہ ان کی حقیقت بہت حد تک تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اس کی مثال ہمارے سامنے کشن یا کشان خاندان کی ہے جو ’کش‘ کی صورت میں مشترکہ مورث اعلیٰ بن گیا ۔ دوسری مثال یادو قبیلے کی ہے جو ایک ہند آریائی گروہ تھا اس نے اب یہود کی شکل میں پٹھانوں کا مورث اعلیٰ بن گیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں