137

پشتون (پختون)

نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ حجاج بن یوسف 80 ہجری میں عماؤالدین محمد بن قاسم کو جو اس کا بھانجہ اور داماد تھا مکران کی طرف روانہ کیا ۔ منزلیں طے کرتا ہوا محمدبن قاسم غور کے نواح میں پہنچا تو اس نے افغان قبیلے کا ایک دستہ ساتھ لیا ۔ ان پر طرح طرح کے انعام و اکرام کی بارش کی اور وہ آٹھ سال تک مکران کے علاقے میں مقیم رہا ۔ محمد بن قاسم نے سیوستان کو فتح کیا اور وہاں کے راجہ کو قتل کر ڈالا ۔ بہت سا مال غنیمت لشکر اسلام کے ہاتھ لگا ۔ 93 ہجری میں جب محمد بن قاسم حجاج کے حکم سے واپس آیا تو اس نے افغانوں کی جماعت کو فاخرہ لباس ، عمدہ خنجر ، مرضع تلواریں اور دیگر انعام و اکرام کے ساتھ ان کے وطن روانہ کیا ۔ شیر محمد گنڈا پور لکھتا ہے ۸۶ ہجری میں ولید کے عہد میں ھجاج بن یوسف ثقفی نے جو ولید کا سپہ سالار تھا ، بادشاہ کے حسب الحکم اپنے خواہر زادہ عماؤالدین محمد قاسم کو افواج نصرت اسلام کا سالار بنا کر ولایات سیستان ، سندھ اور ملتان کی تسخیر پر مامور کیا ۔ وہ سرحد غورستان تک پہنچا ، تو اس نے افغانوں کے اس گروہ کو جو سوریوں اور بنی امیہ کی جنگ میں مطیع متقاد ہوا تھا اپنے ہمراہ لیا اور اس گروہ کو فوج اسلام کا محافظ مقرر کیا اور کئی سرداروں کو مختلف امور پر متعین کرکے خود سیستان ، بلوچستان ، سندھ اور ملتان کی تسخیر کی طرف متوجہ ہوا اور سخت جنگوں کے بعد راجہ سیستان کو مغلوب کرکے قتل کرڈالا اور ولایت سیتان فتح کرلی ۔ امیر لشکر خوزستان میں ٹہر گیا اور افغان و عرب فوجوں اس ولایت کے اطراف و جوانب کے شہروں کو فتح کرنے پر مقرر کیا ۔ اکثر ممالک بلوچستان ، سندھ و ملتان مفتوع ہوگئے ۔ چونکہ اس آٹھ سالہ مہم میں افغان لشکر عربی کی پشت پناہی کررہا تھا ۔ اس سبب فارس کے لوگ گرد ونواہ کے افغانوں کو پشتوانی کہتے تھے اور اس گروہ کے لوگ پشتوانی لشکر کے خطاب کو باعث فخر و عزت سمجھتے تھے اور خود کو پشتوان کہتے تھے ۔ یہان تک پشتوان کے نام سے معروف موسوم ہوگئے ۔ رفتہ رفتہ حروف علت الیف استعمال میں ساقط ہوگیا اور لفظ پشتون رہے گیا ، اس کے بعد ان کی زبان بھی پشتو کہلانے لگی ۔ 
روشن خان کا کہنا ہے کہ بنی اسرائیل میں بنی پخت یعنی اولاد پخت ایک معزز اور حکمران قبیلہ تھا ۔ یہ لوگ میمان یواب ، اب شیی مائل اور یشع اولاد پخت کے نام سے یاد کئے جاتے تھے ۔ ان میں ایک نامور قبیلہ بنی پخت کے نام سے طاقت اور تعداد میں بڑھ گیا ۔ جب یہ قبیلہ شرق اردن میں سناخریب کے ہاٹھوں قیدی بن کر جلااوطن ہوگیا تھا اور مشرق میں اسے اسرائیلہ کے پہلے جلااوطنوں کے ساتھ جو ان کے ہم نسل تھے بسایا گیا تو بنی پخت کی نامی گرامی شہرت کے سبب سارے جلاوطنوں کا نام پختون ہوا اور اس نام کے تحت سارے قبیلوں نے اپنے ذیلی نام عام شاخوں کی صورت میں قائم رکھے ۔ بنی پخت یا اولاد پخت یونی پختون (پشتون) کا قبیلہ بنی اسرائیل میں نمایاں تھا ۔ یہ قبیلہ طاقت و قوت میں تمام بنی اسرائیل میں معزز اور قابل فخر رہا ہے ۔ ان کے امتیاز کی وجہ سے پختون کا نام تمام جلاالوطن یعنی اسرائیل کے لئے استعمال ہونے لگا جو مشرق میں آباد تھے ۔ 
ڈاکٹر شیر بہادر پنی کا کہنا ہے کہ حضرت موسیٰؑ سے تا حضرت عیسیٰ ؑ (تقریباً 1335 سال تک) تک مصری اور بابل کے بادشاہ ان کو ہمیشہ ایذا پہنچاتے رہے ۔ اس واسطے وہ آوارہ گرد ہوگئے اور ان کے ظلم و ستم سے اپنی جانیں بچانے کے لئے انہوں نے اپنی قوم کا نام بدل دیا اور اپنے آپ کو پشتون یا پختون کہلانے لگے ۔ افغانوں کو شام سے نکالا گیا تو وہ خراسان اور اس کے ملحقہ علاقوں میں آباد ہوگئے ۔ لوگ جب ان سے ان کی قوم کا نام پوچھتے تو وی اپنے آپ کو پہشق یا پہشت کہتے ۔ عبرانی زبان میں پہشق کے معنی آزاد کرنا اور پہشت کے معنی پھیلنا ۔ عربی میں پہشق کے مدمقابل لفظ تسق ہے پہشت پہشق یا پہشت کی تخریب شدہ صورت سے لفظ پشتون نکلا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ عبرانی میںایک دیوتا ایک دیوتا کا نام ہے اور مصر کے ایک شہر کا نام ہے ۔ پشتو زبان میں پستو لفظ کے معنی ایک اندرونی کمرہ کے ہیں ، جس کا ایک ہی دروازہ ہو ۔ چونکہ ان کو خت نصر نے اس ملک میں بسایا تھا ۔ لہذا انہوں نے اپنے آپ کو پختون یا پشتون کہنا شروع کردیا ۔ یہاں وہ اس نام سے چھٹی ق م سے مشہور ہیں ۔    
یہ کچھ بیانات پشتون مورخین کے ہیں اور ان تعبیرات میں بہت سقم ہیں اور یہ بیانات تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں ۔ حقائق کے برعکس ہیں اور اس لئے ہم اس بحث میں نہیں پڑھتے ہیں ۔ تاہم اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تاویلات بہت بعد کی پیداوار ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سامی زبانوں میں ’پ‘ استعمال نہیں ہوتا ہے ۔ اس لئے یہ تاویلات درست نہیں ہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں جن کی کوئی بنیاد نہیںہے ۔
پشتون کی جمع پشتیانہ ہے ، (شمال مشرق کی بولی میں پختون) لیسن نے اور اس تبع میں بعض اور لوگوں نے پشتون کا موازنہ ہیروڈوٹیس کے پکھتولیس Paktolies سے کیا ہے ۔ یہ شناخت ممکن صحیح ہو اگرچہ یقینی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اس کو صوتی اور یگر وجوہ کی بنا پر رد کردینا لازم ہے ۔ آخر جز ’اون‘ آنہ سے مشتق ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زمانہ قدیم کا صوتی مرکب جس کے نتیجے میں پشتو کا شت وجود میں آیا ہے ۔ (بعد کی بولی میں خت) یونانی حروف X سے ادا کیا گیا ہو ۔ زیادہ قرین قیاس بات وہ ہے جو سب سے پہلے ماکوارٹ نے کہی تھی کہ اس نام کا تعلق بطلمیوس کے پارو فامیس کوہ بابا یا کوہ سفید میں آباد ایک قبیلہ پرسوا سے ہو ۔ پشتو کا رس زمانہ قدیم کے رس سے مشتق ہوسکتا ہے اور غالباً اس کی قدیم شکل پرسوانہ تھی ۔ مگر اس سے لازم نہیں آتا ہے کہ ان زیر بحث ایرانی قبیلوں کے درمیان کوئی رشتہ تھا ۔ 
ہیروڈوٹسHerodatieis  کے پکھتولیس اور بطلمیوس کے پرسوا سے پشتون سے تعلق اور اس کی تبدیلیوں کے بارے میں تفصیلی بحث کی صرورت ہے ۔ اس طرح ہی ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ 
ہیروڈوٹس نے اس علاقے کے پانچ قبائل1)) پکتھولیسPaktolies (2) آپارتیوے Apartayway  (3) گندھاریوGandario  (4) ستارگوئےSttagoy  (5) دادایکائےDadichay  کا ذکر کیا ۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ ہیروڈوٹس کا بیان مساکن کے بارے میں ہے ۔ لہذا ان کی وضاحت ضروری ہے ۔ 
ہیروڈوٹس Herodatieis پانچویں صدی قبل مسیح کا مورخ ہے ۔ یہ دور دارا یا داریوش اولDaruess  اور اس کے بیٹے خشاریہ یا کیخسرو یا کزک رس اولKhshayasha or Xeraces   کا ہے ۔ یونانی عموماً ناموں کو بگاڑ کرکے لکھتے ہیں ۔ اس لئے انہیں سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے ۔ لیکن خوش قسمتی ان باپ بیٹا نے مختلف کتبات چھوڑے ہیں ۔ ان کتبوں میں کتبہ بہستون بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کتبہ کی مدد سے ہم ہیروڈوٹس کے ناموں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں ۔ 
ہگتمان ( ہمدان ) کے قریب ہگتمان اور بابل کی قدیم شاہرہ پر کرمان شاہ کے مشرق میں پہاڑیاں واقع ہیں ۔ ان پہاڑیوں کے دامن میں ایک چھوٹا سا گاؤں باستون یا بہستون واقع ہے ۔ اس گاؤں کی قربت کی وجہ سے یہ کتبہ بہستون مشہور ہوگیا ہے ۔ متعدد الوح کے اوپر تین زبانوں عیلامی ، بابلی اور قدیم فرنس یا قدیم فارسی میں لکھا ہوا ہے ۔ اس کی ایک نقل مصر کے العطین کے کاغذات سے ملی ہے ۔ یہ نقل آرانی رسم الخط میں ہے ۔ اس کتبہ میں تحریر کے علاوہ مختلف مناظر ہیں جو پھتروں پر نقوش میں پیش کئے گئے ہیں ۔ ان میں دارا کی شاندار کامیابیوں اور دشمنوں کے عجر و عزمیتوں کو دیکھایا گیا ہے 

پکتھولیس  وہی ہے جس کو دارا کے کتبہ میں باختریش Bectarishکہا گیا ہے ۔ یعنی باختر یا باختریا & Bectaria Bectar اور ہیروڈوٹس Herodatieis نے اس کا پختولیس Paktolies کے نام سے تذکرہ کیا ہے ۔ تاہم بعد کے یونانی ماخذوں میں اس کا تذکرہ باکترا Baktra کے نام سے ملتا ہے اور اس کے لئے رگ وید Reg Veda میں پکھتا اور پکتھ اور اوستا Avesta میں اس کا نام بختہ اور بخت آیا ہے ۔ اس طرح دعویٰ کیا جاتا ہے رگ وید میں آنے والا کلمہ بلہہ یا بلہکا سے مراد بلخ ہے ۔  یہ ممکن نہیں ہے ۔ کیوں کہ اس وقت تک بلخ وجود میں نہیں آیا تھا ۔ یونانی ماخذوں میں باختریہ کا نام باکتر اBaktra  ملتا ہے ۔ جب کہ بلخ کاتذکرہ یونانییوں کے یہاں بخپا Boxtapa کی شکل میں ملتا ہے تاہم سکندر کی مہموں میں بلخ کا تزکرہ نہیں ملتا ہے ۔ غالباً اس وقت تک یہاں کوئی شہر وجود میں نہیں آیا تھا ۔ 
بالہک یا بالہق آریائی زبان کا کلمہ ہے ۔ اس کے معنی شہر کے ہیں ۔ یہ ترکوں میں ’گوا بالق‘ یعنی خوبصورت شہر ۔ غز بلیغ ، قر بالیغ ، قربلیق ، غور بالیغ آیا ہے ۔ مرکورٹ نے ’غز بالیغ‘ یعنی ترکوں کا شہر کو صیح تسلیم کیا ہے ۔ غزبالیق ان کی دستاویزوں میں ملتا ہے جو قرہ خانی خاندان کے متعلق ہیں ۔ صدیوں کے بعد منگولوں نے ’خان بالہق‘ یعنی خان کا شہر کا ذکر کیا ہے ۔ اس لئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ رگ وید میں آنے والا کلمہ بلہہ اور بلہکا سے مراد شہر کے ہیں نہ کہ کسی خاص شہر سے ۔ کیوں کہ رگ وید اور اوستا کی تدوین کے سیکڑوں سال بعد بلخ شہر وجود میں آیا ہے ۔ کیوں کہ بلخ اگر آریاؤں کے دور میں آباد ہوتا تو سکندر کی مہموں میں اس کا تذکرہ ضرور ملتا ۔ مگر ہمیں سکندر کی مہموں کے دوران اس کا کوئی ذکر نہیں ملا ۔ 
سکندرنے اپنی فتوحات کی یاد میں چار شہر سکندریہ کے نام سے بسائے تھے ۔ آخری شہر جیحوں دریا کے کنارے آباد کیا تھا ۔ لیکن آموں دریا کے کنارے کسی شہر کی بنیا د یا آباد کرنے کی تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔ بلخ کا سب سے پہلا تزکرہ یونانی نوآبادی کی حثیت سے یونانی سردار ڈیوٹس کی بغاوت کے دوران سنے کو ملتا ہے ۔ یونانی نوآبادی سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ یونانیوں کا آباد کیا ہوا ہے ۔ مگر اس کے نام سے ترید ہوتی ہے ۔ تاہم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ شہر معمولی آبادی یا قبضہ ہو اور یونانیوں نے موزوں مقام جان کر اس کو نو آبادی بنالیا ہو ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے اسے یونانیوں نے آباد کیا ہو اور مقامی باشندے اس کو بالق یا بالغ یعنی کے شہر کے نام سے پکارتے ہوں گے جس کی وجہ سے اس کا اصل نام محو ہوگیا ہوگا ۔ بحال حقیقت جو بھی ہو یہ شہر بعد کا آباد کیا ہوا ہے ۔ 
قدیم زبانیں ابتدا میں آرامی رسم الخط میں لکھی جاتی تھیں ۔ بعد میں اس رسم الخط میں ترمیم کرکے مقامی رسم الخط ترتیب دیئے گئے ۔ سامی ’پ‘ نہیں ہوتا ہے ۔ اس لئے عہد قدیم میں ’ب‘ اور ’پ‘ کی تمیز نہیں رکھی جاتی تھی اور مختلف کلموں میں ’ب‘ اور ’پ‘ متبادل استعمال ہوتے ہیں ۔ مثلاً ’اسب ۔ اسپ‘ ، ’دبیر ۔ دپیر‘ تب ۔ تپ‘ وغیرہ ہیں ۔ علاوہ ازیں پ/ب دو لبی صوتے ہیں ، اس لئے ماہرین لسانیات ان کو ایک سلسلے کے صوتے تسلیم کرتے ہیں ، اور یہ ترتیب پاننی اور دوسرے قدیم ماہرین لسانیات سے لے کر آج دور جدید کی تحریروں میں قائم ہے ۔ 
سنسکرت میں ’خ‘ کا حروف نہیں ہے اور یہ سنسکرت میں ’ک‘ میں بدل جاتا ہے ۔ سنسکرت میں ’خ‘ کا متبادل حروف کھ کی آواز دیتا ہے یعنی ’ک اور خ‘ کے بین اس کی آواز ہے ۔ اس لئے رگ وید میں یہ کلمہ پکھتا پکھت آئے ہیں ۔ جب کہ یہ کلمات اوستا میں بخت اور بختہ آئے ہیں جو کہ باختریہ کے ہی ہند آریائی اور ایرانی دو مختلف لہجے ہیں ۔ قدیم یونانی میں ’خ‘ کے لئے X استعمال ہوتا تھا ۔ جو اب ’ک اور س‘ کی درمیانی آواز دیتا ہے ۔ اس لئے ہیروڈوٹس نے پکھت یا پکتھ (باختریہ) کے لئے یونانی تلفظ میں پکھتولیس سے ادائیگی کی تھی ۔
رگ وید میں ’داش راجیہ‘ کے نام سے دس بادشاہوں کی لڑائی کا ذکر آیا ہے ۔ یہ ایک بڑی جنگ تھی جس میں ’بھرت‘ قبیلہ کے خلاف دس قبائل نے متحدہ ہو کر جنگ لڑی ۔ جس میں سیاسی اقتدا کا فیصلہ بھرت کے حق میں ہوا اور قبائلی اتحاد کو شکست ہوئی ۔ ان دس شکست خوردہ قبیلوں میں ایک پکھتا بھی ہے ، جو کہ دریائے کروُمو (کرم) کے منبع کے علاقہ میں رہتا ہے ۔ اس پکھت کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پختون یا پٹھان ہیں ۔ مگر یہ گمان غلط ہے ۔ یہ باختریہ کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اس نسبتی کلمہ ہے اور اس سے مراد باختروی ہے ۔  
قرین ترین قیاس یہی ہے کہ کلمہ پشتون (پختون) ’پار تو‘ جو کہ داراکے کتبہ میں پارتھیا کے ’ت‘ سے پشتون کا شت وجود میں آیا ہے ۔ 
قدیم ایرانی زبانوں میں بعض اوقت ’ر‘ کی جگہ ’ش یا س ، یا چ‘ استعما، ہوتا تھا اور یہ تینوں حروف ایک دوسرے کی جگہ استعمال ہوئے ہیں ۔ مثلاً قدیم فارسی زبان میں اوستا کے ’ر‘ کی جگہ ’ش‘ استعمال ہوا ہے مثلاً ’مرت یہ‘ اوستا میں ، جبکہ قدیم فارسی میںمشیہ آیا ہے ۔ اس طرح سوغدی (چغدی) زبان میں میانہ فارسی کے ’تھ+ر‘ کی جگہ ’ش‘ بھی استعمال ہوا ہے ۔ ایک قدیم کتاب جو اوستا میں لکھی گئی تھی ، اس میں فریدون کے لڑکے کا نام توچ آیا ہے ۔ جب کہ فردوسی نے یہ نام تور لکھا ہے جو غالباً اس کا اصل تلفظ ہے ۔ قدیم زبانوں میں اس طرح ’چ‘ ’ش‘ کے متبادل کے طور پر استعمال ہوا ہے ۔ مثلاً تاشقند کے لئے قدیم زمانے میں تاش اور شاش دونوں استعمال ہوتے تھے ۔ اس لئے قرین ترین قیاس ہے کہ ’پار تو‘ جو کہ دارا کے کتبہ میں پارتھیا کے ’رت‘ سے پشتون کا ’شت : وجود میں آیا ہے ۔
ہیروڈٹس نے باقی چار ناموں کا ذکر کیا ہے ، یہ بھی بالاالذکر کی طرح مساکن کے نام ہیں جو درج ذیل ہیں ۔ 
(۱) ستارگوئے کا کتبہ بہستون میں ستاگیدیہSttargydia  آیا ہے ۔ یہ مرو کا علاقہ ہے ۔ 
(۲) گندایوئے کا ذکر کتبہ بہستون میں گندراGandara  آیا ہے ۔ سر الف کیرو کا کہنا ہے کہ یہ وادی پشاور ہے جسے گندھارا کہا جاتا تھا اور یہی درست ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں