72

پشتو (پختو) ادب

عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ غوریوں کی زبان پہلے پشتو تھی ۔ گشتہ صدی کے وسط میں پشتو کی کوئی کتاب سترویں صدی سے پہلے کی شائع ہوئی تھی ۔ لیکن 1940ء 1941ء میں عبدالحئی حبیبی نے سلیمان ماکو کے کچھ اجزاء شائع کئے ۔ یہ ایسی نظموں پر مشتمل ہے جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتاہے کہ یہ گیارویں صدی میںلکھی گئیں تھیں ۔ 
1944ء؁ میں عبدالحئی حبیبی نے کابل میں محمد ہوتک کی ’پٹہ خزانہ ‘ (تکمیل 1729ء؁) میں شائع کی ۔ جس کے متعلق دعویٰ کیا گیاکہ یہ قندھار میں لکھی گئی تھی جو آٹھویں صدی سے مولف کے عہد تک کے شعرا کی بیاض ہے ۔
ڑاورٹی لکھتا ہے کہ شیخ ملی نے 1417ء؁ میں یوسف زئیوں کی ایک تاریخ لکھی تھی ۔ لیکن اس تصنیف کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے ۔ایک مخطوطہ موجود ہے جو بایزید انصاری (م 1585ء؁)کی خیر البیان پر مشتمل ہے اس کا معائنہ کیا جاچکا ہے ۔
سترویں صدی کی ابتدائی دور سے ہمارے پاس بایزید انصاری کے راسخ العقیدہ مد مقابل اخوندہ درویزہ کی دینی اور تاریخی کتاب (مخزن افغانی ، مخزن اسلام) موجود ہیں ، جو طعن و تشنع سے لبریز ہیں ۔
سترھویں اور اٹھارویں صدی میں متعدد شعرا پیدا ہوئے ۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر فارسی کے نقال ہیں ۔ یورپی معیار کی رو سے اور جدید افغانستان کے فومی شاعر کی حثیت سے ان میں سب سے نمایاں خوشحال خان خٹک (1022ھ/1613ء تا 1106ھ/1694ء) ہے ۔
سلیمان ماکو اور محمد ہوتک کی کتابیں معتدد لسانی اور تاریخی گنجلکیں پیدا کرتی ہیں اور ان کے صحیح ہونے کا سوال حتمی طور پر اس وقت تک طہ نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک ان کے اصلی مخلوطات لسانی تحقیقات کے لئے سامنے نہیں لائے جاتے ہیں ۔ 
اگر محمد ہوتک کی پٹہ خزانہ کی صحت تسلیم کرلی جائے تو یہ امر بھی پھر بھی مشتبہ رہتا ہے کہ محمد ہوتک نے نظموں کی جو تاریخی لکھی ہیں وہ کہاں تک درست ہیں ۔
پٹہ خزانہ اور حسن میمندی کے متعلق دعویٰ کی صحت کو تسلیم کرنا مشکل ہے ۔ دیمز کا کہنا ہے کہ یہ بات فرض کرنے کے لئے کوئی شہادت نہیں ہے کہ غور کے باشندے شروع میں پشتو بولتے تھے ۔ 
صاحب طبقات ناصری منہاج سراج جو غور میں رہائش پزیر رہا اور یہ غوریوں کا ہم عصر اور اس نے غور کے شاہی محل میں پرورش پائی تھی ۔ اس کے غور کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات رہے اور اس کی کتاب طبقات ناصری غوریوں کے دور کے بارے میں مستند ماخذ ہے ۔ مگر منہاج سراج ایسا کوئی تذکرہ نہیں کرتا ہے کہ غوری ابتدا میں پشتو بولتے تھے ۔ اگر غوری ابتدا میں پشتو بولتے تھے تو عوام الناس کی زبان تو پشتو ہونی چاہیے تھی ۔ مگر ہمیں ایسا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے ۔ اس طرح منہاج سراج نے غوریوں کے دور کے متعدد شعرا کا ذکر کر تا ہے ، جس میں بعض ان میں حکمران بھی شامل تھے اور منہاج ان کا کلام بھی درج کیا ہے ۔ ان میں علاؤالدین جہاں سوز قابل ذکر ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے اس دور کی علمی سرگرمیں پر بھی روشنی ڈالی ہے ، مگر پشتو کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے ڈیمز کو کہنا پڑا کہ اس بات کی کوئی شہادت نہیں ملتی ہے کہ غوریوں کی زبان ابتدا میں پشتو تھی ۔
اگرچہ عبدالحئی حبیبی نے تقلیمات طبقات ناصری میں متعدد ایسے کلمات کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہ پشتو میں استعمال ہوتے ہیں ۔ مگر خود عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ پشتو پہلوی سے نکلی ہے ، اوپر بالا الذکر ہوچکا ہے کہ پشتو پر حملہ آور قوموں کی زبان کے اثرات بھی پڑے ہیں اور پشتو ایرانی کی مشرقی شاخ جو کہ ساکائی یا سیکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور مسلمانوں کی آمد کے وقت وہاں ترکی اقوام بھی آباد تھیں ۔ وہاں اس وقت ان اقوام کی مقامی حکومتیں قائم تھیں اور وہاں مقامی طور پر ہند آریائی کی بولیاں ، ترکی ، سیھتی اور دوسری بولیاں بولی جاتی تھیں ۔ لہذا ان اثرات کے تحت چند کلمات میں اس قسم کا اشارہ ملا ہے ، تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ پشتو کی تشکیل ساسانی عہد یا اس سے پہلے ہی تشکیل پاچکی تھی اور وہ علمی اور ادبی زبان بن چکی تھی جیسا کہ پشتو موخین دعویٰ کرتے ہیں ۔ کیوں کے محض دعوں کے علاوہ کسی قسم کا ثبوت نہیں ملا ہے ۔ لہذا یہ تمام نام نہاد دعویٰ بے بنیاد ہیں جن کا مقصد یہی ہے کہ حقیقت کے برعکس پشتو کی قدامت کو ثابت کیا جائے ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں