247

پشتو (پختو) زبان کی قدامت کا دعوی

جس طرح پشتو زبان کی قدامت کا دعویٰ کیا جاتا ہے اس طرح پشتو ادب کو بھی قدیم بتایا جاتا ہے ۔ لہذا اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

مولانا عبدالقادر لکھتے ہیں کہ کہا جاتا ہے پشتو نثر کی ابتدا چوتھی صدی ہجری/دسویں صدی عیسویں میں سلطان محمود غزنوی کے ایک وزیر احمد بن میمندی کی تھی ۔

عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ غوریوں کی زبان پہلے پشتو تھی ۔ زشتہ صدی کے وسط میں پشتو کی کوئی کتاب سترویں صدی سے پہلے کی شائع نہیں ہوئی تھی ۔ لیکن ۱۹۴۰ء۔۱۹۴۱ء میں عبدالحئی حبیبی نے سلیمان ماکو کے کچھ اجزاء شائع کئے ۔ یہ ایسی نظموں پر مشتمل ہے جن کے متعلق دعویٰ کیا جاتاہے کہ یہ گیارویں صدی میںلکھی گئیں تھیں ۔

۱۹۴۴ء میں عبدالحئی حبیبی نے کابل میں محمد ہوتک کی ’پٹہ خزانہ‘ (تکمیل ۱۷۲۹ء) میں شائع کی ۔ جس کے متعلق دعویٰ کیا گیاکہ یہ قندھار میں لکھی گئی تھی ۔ یہ آٹھویں صدی سے مولف کے عہد تک کے شعرا کی بیاض ہے ۔

ڑاورٹی لکھتا ہے کہ شیخ ملی نے ۱۴۱۷ء میں یوسف زئیوں کی ایک تاریخ لکھی تھی ۔ لیکن اس تصنیف کے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے ۔ایک مخطوطہ موجود ہے جو بایزید انصاری (م ۱۵۸۵ء)کی خیر البیان ہے ۔ اس کا معائنہ کیا جاچکا ہے ۔

سترویں صدی کی ابتدائی دور سے ہمارے پاس بایزید انصاری کے راسخ العقیدہ مدمقابل اخوندہ درویزہ کی دینی اور تاریخی کتاب (مخزن افغانی ، مخزن اسلام) موجود ہیں ، جو طعن و تشنع سے لبریز ہیں ۔

سترھویں اور اٹھارویں صدی میں متعدد شعرا پیدا ہوئے ۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر فارسی کے نقال ہیں ۔ جدید معیار کی رو سے اور جدید افغانستان کے قومی شاعر کی حثیت سے ان میں سب سے نمایاں خوشحال خان خٹک (۱۰۲۲ھ/۱۶۱۳ء تا ۱۱۰۶ھ/۱۶۹۴ء) ہے ۔

سلیمان ماکو اور محمد ہوتک کی کتابیں معتدد لسانی اور تاریخی گنجلکیں پیدا کرتی ہیں اور ان کے صحیح ہونے کا سوال حتمی طور پر اس وقت تک طہ نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک ان کے اصلی مخلوطات لسانی تحقیقات کے لئے سامنے نہیں لائے جاتے ہیں ۔

اگر محمد ہوتک کی پٹہ خزانہ کی صحت تسلیم کرلی جائے تو یہ امر بھی پھر بھی مشتبہ رہتا ہے کہ محمد ہوتک نے نظموں کی جو تاریخی لکھی ہیں وہ کہاں تک درست ہیں ۔

پٹہ خزانہ اور حسن میمندی کے متعلق دعویٰ کی صھت کو تسلیم کرنا مشکل ہے ۔ دیمز کا کہنا ہے کہ یہ بات فرض کرنے کے لئے کوئی شہادت نہیں ہے کہ غور کے باشندے شروع میں پشتو بولتے تھے ۔

صاحب طبقات ناصری منہاج سراج جو غور میں رہائش پزیر رہا اور غوریوں کا ہم عصر اور اس نے غور کے شاہی محل میں پرورش پائی تھی ۔ اس کے غور کے حکمرانوں سے ذاتی تعلقات رہے اور اس کی کتاب طبقات ناصری غوریوں کے دور کے بارے میں مستند ماخذ ہے ۔ مگر منہاج سراج ایسا کوئی تذکرہ نہیں کرتا ہے کہ غوری ابتدا یا کبھی پشتو بولتے تھے ۔ کیوں کہ غوری اگر ابتدا میں پشتو بولتے تھے تو عوام الناس کی زبان تو پشتو ہونی چاہیے تھی مگر ہمیں ایسا کوئی سراغ نہیں ملتا ہے ۔ اس طرح منہاج سراج نے غوریوں کے دور کے متعدد شعرا کا ذکر کرتا ہے ۔ جس میں بعض حکمران بھی شامل ہیں اور منہاج نے علاؤالدین جہاں سوز کا کلام بھی درج کیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے اس دور کی علمی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ مگر پشتو کے بارے میں کچھ نہیں کہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے ڈیمز کو کہنا پڑا کہ اس بات کی کوئی شہادت نہیں ہے کہ غوریوں کی زبان ابتدا میں پشتو تھی ۔

اگرچہ عبدالحئی حبیبی نے تقلیمات طبقات ناصری میں متعدد ایسے کلمات کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہ پشتو میں استعمال ہوتے ہیں ۔ مگر خود عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ پشتو پہلوی سے نکلی ہے ۔ ہم بالا الذکر کرچکے ہیں کہ پشتو پر حملہ آور قوموں کی زبان کے اثرات بھی پڑے ہیں اور پشتو ایرانی کی مشرقی شاخ جو کہ ساکائی یا سیکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے اور مسلمانوں کی آمد کے وقت وہاں ترکی اقوام بھی آباد تھیں ۔ وہاں اس وقت ان اقوام کی مقامی حکومتیں قائم تھیں اور وہاں مقامی طور پر ہند آریائی کی بولیاں ، ترکی ، سیھتی اور دوسری بولیاں بولی جاتی تھیں ۔ لہذا ان اثرات کے تحت چند کلمات میں اس قسم کا اشارہ ملا ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ پشتو کی تشکیل ساسانی عہد یا اس سے پہلے ہی تشکیل پاچکی تھی اور وہ علمی اور ادبی زبان بن چکی تھی ۔ کیوں کے محض دعوں کے علاوہ کسی قسم کا ثبوت نہیں ملا ہے ۔ لہذا یہ تمام نام نہاد دعویٰ بے بنیاد ہیں ۔

اگر ہم پٹہ خزانہ پر اعتبار کریں تو شنسب کا پوتا امیر کروڑ (آٹھویں صدی عیسویں) پشتو کا پہلا شاعر تھا ۔ مگر معتدد وجوہات اس بیان کو جھٹلاتی ہیں ۔ اس لئے ان پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

پتہ خزانہ میں امیر کروڑ کا نام پہلی دفعہ سامنے آتا ہے ۔ جسے پولاد غوری کا بیٹا بتایا گیا ہے ۔ اس کے کلام (جسے ہم آگے درج کریں گے) کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھا اور نہ صرف غور بلکہ سارے افغانستان میں اس کی حکمرانی کا سکہ چلتا تھا ۔ اس نے بہت سی لڑائیاں لڑیں اور اس نے بڑی فتوحات حاصل کیں اور وہ ایک طاقتور حکمران تھا ، اس لئے اس کا نام دور دور تک پھیلا ہوا تھا اور اس کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ حیرت کی بات ہے اس کا ذکر کسی اور ماخذ میں نہیں ملتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت ہے کہ اس وقت (۱۳۹ھ) اس علاقہ میں اسلام آچکا تھا ۔

پرفیسر پری شان لکھتے ہیں کہ دوسری صدی ہجری میں امیر کروڑ کی نظم جو ۱۲۹ھ میں لکھی گئی اور پشتو کی ایک کتاب پٹہ خزانہ میں محفوظ ہے ۔ اس نظم کے ساتھ مولف نے تاریخ سوری کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس شاعر کا پورا نام امیر کروڑ جہان پہلوان تھا اور یہ امیر پولاد کا بیٹا تھا ۔ یہ پشتونوں کا ایک شاہی گھرانا تھا ۔ جس کی حکومت موجودہ افغانستان کے غور کے علاقے میں قائم تھی ۔ امیر کروڑ ایک مظبوط اور طاقت ور آدمی تھا جو تن تنہا سو آدمیوں کے خلاف لڑا کرتا تھا ۔ وہ زبر دست شاعر اور صاحب کلام تھا ۔ اس کی پشتو شاعری دوسری زبانوں کے اثرات سے پاک ہے ۔ خود اس کی نظم کے معیار سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تک پشتو زبان ارتقائی عمل سے گزر چکی تھی ۔ ایسے معیاری کلام کے پس منظر میں شاعری کی ارتقائی تاریخ ضرورہوگی جو ہمارے پاس نہیں ہے ۔ پروفیسر پری شان نے بھی صرف قیاس کے گھوڑے ڈورائے ہیں ۔

 شنسب کے بارے میں منہاج سراج لکھتا ہے کہ گمان غالب ہے اس نے حضرت علیؓ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا اور ان سے جھنڈا اور فرمان حکمرانی حاصل کیا ۔ امیر فولاد غوری ملک شنسب کا بیٹا تھا اور کوہستان غور اسی کے قبضے میں تھے ، اس نے باپ دادا کے نام کو زندہ کیا ۔ جب مسلم مروزی نے عباسیوں کے لئے دعوت کا پرچم بلند کیا اور بنی امیہ کے عاملوں کو خراسان کے علاقوں سے خارج کردیا تو امیر فولاد غور کا لشکر لے کر ابو مسلم کی مدد کو پہنچا ۔ اس نے عباسیوں اور اہل بیت کے زمانہ حکمرانی کی بڑی کوششیں کیں ۔ مدت تک مندش اور کوہستان غور کی عمل داری اس کے متعلق رہی ۔

منہاج سراج نے جس طرح یہ بیان درج کیا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ خود اسے اس پر اعتماد نہیں تھا ۔ کیوں کہ ابتدا میں گمان غالب کا کلمہ درج کیا ہے ۔ جب کہ غور میں اسلام چو تھی صدی میں آیا تھا ۔ منہاج سراج سے پہلے کسی مورخ نے اس طرح کی روایات درج نہیں کیں ہیں ۔ غالباً باطنیوں کے زیر اثر یہ نام نہاد روایتیں وضع کی گئیں تھیں اور علاقہ غور میں عام گردش میں تھیں ۔ کیوں کہ منہاج سراج نے پہلی دفعہ امیر فولاد (پٹہ خزانہ میں پولاد) کا ذکر کرتا ہے ۔ اس سے پہلے اس کا تاریخ کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے ۔

جب کہ روشن خان نے امیر کروڑ کا باپ ماہویہ سوری کو بتایا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ماہویہ سوری نے یزدگر کے قتل کے بعد اپنی حکومت کے دائرے کو وسعت دی اور حضرت علیؓ کی خلافت کے زمانے میں ماہویہ کوفہ گیا ۔ حضرت علیؓ نے اس کو جزیہ جمع کرنے اور خراج و مالیات کا (مزبان) گورنر مقر کیا ۔     

روشن خاں نے یہ روایت فتوح البلدان سے لی ہے ۔ جس میں بلازی نے لکھا ہے کہ ماہویہ مرو یعنی خراسان کا مزبان (گورنر) تھا ۔ اس نے یزدگر کو فریب سے قتل کیا تھا ۔ جب عربوں نے پیش قدمی کی تو ماہویہ پیچھے ہٹ گیا اور عربوں سے صلح کرلی ۔ مزید وہ لکھتا ہے کہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کے دور خلافت میں مرو کا مزدبان کوفہ آیا ۔ حضرت علیؓ نے اس کے لئے زمنداروں اسادرہ اور بتلاریں کے نام فرمان لکھا کہ آئندہ جزیہ اسی کو دیا کریں ۔ اس پر خراسان نے عہد توڑا ۔ حضرت علیؓ نے جعدہ بن ہیرۃ المخروی کو بھیجا ۔ لیکن جعدہ فتح حاصل نہ کرسکے اور خراسان میں تا شہادت حضرت علیؓ بدامنی رہی ۔ 

ماہویہ کبھی غور کا حکمران نہیں رہا ہے اور نہ ہی غور سے اس کا کوئی تعلق رہا ہے ۔ تاہم وہ مرو کا مزبان ضرور تھا اور اس کے بارے میں یہ روایت کہ وہ کوفہ میں آیا تھا بلازری نے جس طرح درج کی ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے خود بھی اس روایت پر یقین نہیں تھا ۔ کیوں کہ اس نے ’کہتے ہیں ‘ سے درج کی ہے ۔ تاہم اس سے اور دوسری معاصر تاریخوں سے اس کا کہیں پتہ نہیں چلتا ہے کہ اس نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ تاہم یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ اس نے جزیہ اور خراج کی شرط پر مسلمانوں سے صلح کرلی تھی ۔ اس لئے اس کے ذمہ خراج کی ادائیگی اور جزیہ جمع کرنا لازم تھا ۔ لیکن اس کی کوفہ میں آمد کسی مستند روایت سے تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔ تاہم اس روایت کو ہم تسلیم کر بھی لیں تو ماویہ کا غور سے تعلق ثابت نہیں ہوتا ہے اور دوسری طرف امیر کروڑ جس کا تعلق غور سے تھا اس کا دور دوسری صدی ہجری کی چوتھی دھائی (۱۳۹ھ) بتایا جاتا ہے ۔ اس طرح دونوں کے مابین سو سال کا فرق ہو جاتا ہے یہ بھلا کس طرح ممکن ہے ۔

واضح رہے کہ یہ تمام روایات موضع اور وضع کی گئیں ہیں ۔ چوتھی صدی ہجری تک یہاں کے لوگ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور محمود غزنوی کے دور میں یہاں کے اکشر قبائل مسلمان ہوئے ۔

 بالاالذکر ہوچکا ہے پٹہ خزانہ تاریخ سوری اور دوسری کتب کی جو کہ انیسویں صدی کے وسط میں شائع کی گئیں اور ان کے اصلی مخطوطے معائنے اور تجزیہ کے لئے پیش نہیں کئے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ معتدد لسانی اور تاریخی گنجلکیں پیدا کررہی ہیں ، اس لئے ان کی حقیقت مشتبہ ہے ۔ غالباً یہ کتب پشتو کی قدامت کو ثابت کرنے کے لئے مخزن افغانی (جس کی روایتیں تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں) کے اور دوسرے فرضی شعرء اور تاریخی ناموں کی مدد سے یہ کتب مرتب دی گئیں ہیں ۔ تاکہ پشتو کی قدامت کو ثابت کیا جاسکے ۔ ان کتب کے بیشتر نام فرضی یا تاریخی نام ہیں ۔ جن کی حقیقت خود انہیں بھی معلوم نہیں ہے ۔ اس کے لئے ہم چند مثالیں دیتے ہیں ۔ مثلاً جہان پہلوان کا نام ہمیں ملتا ہے وہ پہلی صدی ہجری میں جب عربوں نے خرسان پر حملہ کیا تھا غور پر حکمران تھا اور اس کے نام پہلوان سے یہ فرض کیا گیا کہ وہ بہت طاقت ور آدمی تھا ۔ حالانکہ یہ نسبتی کلمہ ہے اور پہلوی کی ایک شکل ہے ۔ علاوہ ازیں یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا ۔ اس کے علاوہ ملتان کے اسماعیلیوں کو راسخ عقیدہ مسلمان اور افغان بتایا گیا ہے ۔ جن کے مذہبی عقائد کے بارے میں ہم عصر مصنفین اور سیاحوں نے تفصیل سے لکھا ۔

بالاالذکر بیانات جن میں نہایت تضاد ہے اور تاریخ سے ماخذ بھی نہیں ہیں اور ان کے تجزیہ واضع ہوتا ہے کہ یہ تمام روایات ، دلائل غلط اور موضع ہیں ۔ انہیں محض اپنی نسلی اور لسانی برتری کے لئے وضع کی گیا ہے اور انہیں پیش کرتے ہوئے تاریخی حقائق کو مد نظر بھی نہیں رکھا گیا ہے ۔ لہذا انہیں تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

اب ہم ان کے دعویٰ کے مطابق قدیم پشتو شعرا کی تاریخی حثیت پر بحث کرچکے ہیں اور اب ان کے کلام کا بھی تجزیہ کرلیا جائے ۔   

پروفیسر پری شان لکھتے ہیں کہ اس دور کہ جتنے بھی شعرا کا ذکر ہوا ہے وہ سب کہ سب پٹہ خزانہ اور تذکرہ اولیا کے حوا لے سے ہے ۔ اس دور کی پشتو شاعری میں دو روئیے بالکل واضع ہیں ۔ اول زبان کو بیرونی اثرات سے پاک رکھنا اور دوسری بات مختلف زبانوں سے استفادہ کرنا ۔ امیر کروڑ کے قصیدے میں شعوری طور پر یہ کوشش کی گئی ہے کہ صرف پشتو زبان کے الفاظ استعمال کئے جائیں ۔ ورنہ امیر کروڑ کے نام کے ایک حصہ سے پتہ چلتا ہے ان دنوں پشتون علاقے تک عربی اثر پہنچ چکا تھا اور اسی اثر کے تحت کروڑ اور پولاد نے اپنے ناموں سے ساتھ امیر کا لقب استعمال کیا ہے ۔ امیر کروڑ کے مقابلے میں ابو محمد ہاشم (۲۹۲ھ) کے شعر میں خاوند ، زر اور درہم جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ جن میں سے دو فارسی کے اور ایک عربی کا ہے ۔ شیخ رضی کے ایک شعر میں الحاد عربی اور کرد فارسی کا لفظ ہے ۔ پھر بیت بابا کی مناجات میں خالص پشتو الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ یہی رجحان اسمعیل سڑبنی کے کلام میں بھی ہے ۔ اسعد سوری کے مرشیہ میں جو اشعار نمونے کے طور پر پیش کیے گئے ہیں ان میں خاک ِ، بہاؤ ، ظلم ، جانور اور خونخوار جیسے غیر پشتو الفاظ کا استعمال ہوا ہے ۔ شیخ برہمن کی شاعری میں بھی خالص پشتو ہے ۔ تمینی نے پھر صفت ، غازی ، ملک ، جیسے عربی الفاظ کو جہان اور کوہ فارسی کے الفاظ کا استعمال کیا ہے ۔ اس لئے یہ نقطہ نظر میں رہنا چاہیے کہ اس زمانے میں بھی زبان کو خالص رکھنے اور دوسری طرف دیگر زبانوں سے استفادہ کرنے کی شعوری تحریکیں جاری تھیں ۔

آپ بالاالذکر پروفیسر پری شان خٹک کا تبصرہ ملاحظہ کرچکے ہیں کہ پشتو شاعری اپنے ابتدائی دور میں بھی خالص رہی ہے ۔ پشتو خزانہ کی یہی بات کھٹکتی ہے ۔ حلانکہ جب کوئی بولی ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن ہوتی ہے تو ارد گرد کی ترقی یافتہ زبانوں کی نقالی کرتی ہے ۔ اگر پٹہ خزانہ کو تسلیم کرلیا جائے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے کون سے ارتقائی مراحل طے کئے ہیں ؟ اگر اس نے ارتقائی مراحل طے کئے ہیں تو تہذیبی اور ثقافتی مراحل بغیر کس طرح ممکن ہے ؟ مگر ہمیں اس کا کوئی ایسا جواب نہیں ملتا ہے جو کہ تاریخ سے ماخذ ہو ۔ جب کہ اس دور میں فارسی میں شاعری کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے ۔

دنیا کے تمام ادبوں کی ابتدا شاعری سے ہوئی ہے ۔ شعر زندہ قوت ہے جس کا وجود نثر سے بیشتر کا معلوم ہوتا ہے ۔ جب کہ فن تحریر ایجاد نہیں ہوا تھا ۔ شعر اپنے زبردست اثر سے دماغ میں محفوظ رہے سکتا ہے تھا اور مجموع کو سنانے کے قابل شعر ہی ہوسکتے ہیں ۔ گو ظاہراً نثر ہمارے خیالات اور گفتگو کا آسان طریقہ ہے مگر غور کرنے کے بعد تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسمی گفتگو کہ لئے موزوں ہے ۔

کوئی بھی زبان جس کے الفاظ کا خزانہ محدود ہو وہ بولی کہلاتی ہے ۔ وہ اپنے محدود خزانے کی وجہ سے محض معمولی ضروریات پورا کرتی ہے ۔ چونکہ اس کا دائرہ محدود ہوتا ہے اس لئے اس زبان میں کوئی ادب بھی نہیں ہوتا ہے ۔ جب وہ بولی ارد گرد کی زبانوں کے الفاظ کی شمولیت سے اپنے الفاظ کے خزانے کو بڑھاتی ہے تو وہ بولی ترقی کرتی ہے اور غیر زبانوں کے الفاظ قطع برید کے بعد اسی کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اس طرح وہ بولی سے زبان بن جاتی ہے ۔ الفاظ خیالات کے تابع ہوتے ہیں اور زبان کی ترقی کے لئے جس قسم کے الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے اسی قسم کے الفاظ پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ نہیں ہوتا ہے کہ الفاظ پہلے پیدا ہوں اور ان سے بعد میں کام لیا جائے ۔ جس قسم کے خیالات اور مضامین اسی زبان میں ادا کئے جائیں گے ۔ اسی قسم کے الفاظ اور اسالیب پیدا ہوجائیں گے ۔ یہ کوئی بحث طلب مسلئہ نہیں ہے ۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی ملک کی مذہبی اور معاشرتی ترقی ہوئی وہاں زبان کو بھی فروغ نصیب ہوتا ہے ۔ ایسا کہیں نہیں ہوتا ہے کہ زبان میں پہلے وسعت پیدا ہو اور پھر تہذیبی ثقافتی زندگی میں ترقی کے آثار ہوں ۔

کوئی بولی جب ترقی کرتی ہوئی زبانوں کی صف میں قدم رکھتی ہے تو ارد گرد کی زبانوں کے زیر اثر ہوتی ہے اور قدم قدم پر ان کی پیروی بلکہ نقالی کرتی ہے ۔ اس سے فائدہ یہ ہے کہ اسے ترقی کے جو مدارج طے کرنے ہوتے ہیں وہ اسے طے نہیں کرنے ہوتے ہیں ۔ خود اردو شاعری دیسی شاعری نہیںہے بلکہ فارسی سے پیدا ہوئی ہے اور فارسی کے نمونے اس کے پیش نظر تھے ۔ شروع میں اکثر اردو کے اشعار فارسی کا لفظی ترجمہ ہوتے تھے ۔ اردو کے ابتدائی شعرا نے غزل میں فارسی شعرا کی تقلید کی ۔ ولی کے دور میں مشکل سے کوئی ایسا شاعر ملے گا جس نے ہر بات میں فارسی کی تقلید نہیں کی ۔ کوئی بھی زندہ زبان ساکن نہیں رہتی ہے اور اسے زندہ رہنے کے لئے مسلسل ارتقائی مراحل سے گزرنا ہوتا ہے ۔ اس میں نئے الفاظوں کی شمولیت اور غیر ضروری الفاظوں کی قظع برید اسے زندہ رکھنے کے لئے ضروری ہے ۔ اگر کسی زبان میں اس عمل کو روکا جائے تو وہ زبان روز مرہ یا عام لوگوں کی بولی سے بہت دور ہوجاتی ہے اور رفتہ رفتہ اس کا شمار مردہ زبانوں ہونے لگتا ہے ۔ ہمارے سامنے اس کی مثالیں سنسکرت اور لاطینی کی ہیں جو اب مردہ ہوچکی ہیں ۔ لہذا کوئی زبان ابتد میں جب بولی ہوتی ہے اور اس کے ترقی یافتہ ہونے تک اس میں اس حد تک تبدیلیاں واقع ہو چکی ہوتی ہیں کہ وہ ابتدائی بولی سے بہت دور ہوجاتی ہے ۔ اس زبان کے بولنے والوں کے لئے زبان استعمال کرنا تو درکنار اسے سمجھنا بھی دشوار ہوجاتا ہے ۔ 

بالاالذکر ہوچکا ہے کہ کسی بھی زبان کی ابتدائی شاعری محض نقالی ہوتی ہے ۔ جیسا کہ سولویں اور سترویں صدی عیسوی میں پشتو شعرا کا کلام ہے ۔ لیکن کسی زبان کا ابتدائی کلام نہایت پختہ اور ارد گرد اور کی ترقی یافتہ زبانوں کے الفاظوں سے عاری ہو تو وہ ابتدائی کلام یقینا من گھڑت ہوگا ۔ اس کو مانے میں تامل ہوگا اور عقل سلیم بھی اسے تسلیم نہیں کرے گی ۔ جب کہ زبانوں کے ارتقائی مراحل میں وقت کے ساتھ الفاظوں میں قطع برید کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور ابتدائی دور کی زبان اور بعد زبان میں بہت تغیر آّجاتا ہے ۔ مثلاً شکپیر کے ڈرامے اگرچہ انگریزی میں ہیں لیکن آج کی انگریزی سے بہت مختلف ہے ۔ اس طرح ایران میں ساسانیوں کے دور کی ترقی یافتہ زبان پہلوی ارتقائی مراحل سے گزر کر موجودہ فارسی بنی ہے ۔ خود ابتدائی اردو اور وہ بھی اردو کہلاتی ہے موجودہ زبان سے بہت دور ہے ۔ اگر ہم اس دور کی زبان کو استعمال میں لانا تو درکنار اب اس کو صرف ماہرین ہی پڑھ سکتے ہیں ۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پشتو شعراء کی زبان موجودہ دور کی زبان سے مطابقت کیوں رکھتی ہے ؟ بقول عبدالحئی حبیبی کے پشتو زبان پہلوی سے نکلی ہے جو کہ عربوں کے دور تک مروج رہی ۔ ایسی صورت میں پشتو شعرا کے کلام کو درست تسلیم کر لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نے پہلوی اور فارسی کے ساتھ ارتقائی مراحل طے کئے ؟ اس صورت میں ہمیں پشتو زبان کو اور قدیم تسلیم کرنا پڑے گا ۔ مگر یہاں سوال وہی آجاتا ہے کہ پشتو نے کون کون سے ارتقائی مراحل طے کئے ہیں اور کون کون سے تہذیبی و ثقافتی مرحلے طے کئے ہیں ؟     

ایران میں مسلمانوں کی آمد کے بعد علمی و ادبی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور اس کا تحریری ورثہ بہت مختصر تھا اور نظم تو عربوں کے وجود میں آئی ۔ اس وقت تھے پختون علاقہ میں بولیاں رائج تھیں اور مسلمانوں کی آمد کے بعد بھی یہ بولیاں رائج رہیں ۔ جب کہ علمی سرگرمیوں کے لیے فارسی استعمال کی جاتی تھی ۔ یہی وجہ ہے افغانستان میں بڑے بڑے فارسی کے شعرا پیدا ہوئے ۔ مگر اس دوران ہمیں پشتو کی کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے ۔

بارویں صدی عیسوی میں منگولوں کے حملے میں وہاں کے مختلف لسانی گروہ نے آپس میں میل جول بڑھایا ۔ اس وقت وہاں اسلام آچکا تھا اور منگولوں کے خلاف ان کے مفادات مشترک تھے ۔ اس طرح منگولوں کا حملہ ایک طرف متحدہ قومیت اور پشتو کی تشکیل کا سبب بنا ۔ اس کے بعد بھی اسے علمی زبان بننے کیں تین سو سال لگے اور پشتو چودویں پندرویں صدی میں اس قابل ہوئی کہ بولی سے زبان کہلائی جاسکے ۔ اس کا واضح ثبوت اس سے ملتا ہے کہ پشتو مسلمانوں سے قبل تشکیل پاچکی ہوتی اور علمی و ادبی زبان بن چکی ہوتی تو اس میں دو لہجہ نہیں ہوتے ۔ کیوں کے علمی اور ادبی ترقی زبان کو ایک ہی لہجہ پر مرکوز ہوجاتی ہے ۔ اس کی واضح مثال اردو کی ہے ، یہ اپنے ابتدائی دور میں کئی لہجوں میں بولی جاتی تھی ۔ بعد کے دور میں اس کے کئی دبستان قائم ہوگئے اور ہر دبستان اپنی زبان کو مستند سمجھتا تھا ۔ لیکن اردو کی علمی ترقی اور مقبولیت نے اسے ان دبستانوں کی قید سے نکال کر آزاد کردیا ۔

ان شعرا کا جو کلام پٹہ خزانہ میں ہے وہ مختلف فارسی شعرا کے کلام کی نقالی ہے ۔ مثلاً ان کے دعویٰ کے مطابق پشتو کے معلوم پہلے شاعر امیر کروڑ کے کلام کا ترجمہ ملاحظہ کریں ۔

میں ایک شیر کی طرح ہوں مجھ سے کوئی بہادر نہیں ہے ۔

ہند سندھ بخارا اور کابل میں نہیں

نہ زابل میں کوئی بہادر نہیں

مری بہادری کے تیر بجلی کی طرح دشمنوں پر گرتے ہیں

زخمی کرنے ڈورتا ہوں ٹوٹ پڑتا ہوں بھاگنے والوں پر

شکست خوردہ لوگوں پر مجھ سے کوئی بہادر نہیں ہے

میری فتوحات کی بناء پر آسمان فخر اور خوشی سے گردش کرتا ہے

میرے گھوڑے سیم زمین کو لراتے ہیں پہاڑ برباد ہوجاتے ہیں

میں ممالک کو تباہ کرتا ہوں مجھ سے بہادر کوئی نہیں

ہرات اور جروم میری تلوار کے زیر سایہ میں

غرج بامیان اور تخار میرے نام کو عزت سے پکارتے ہیں

مجھے روم کے لوگ بھی پہچانتے ہیں مجھ سے بہادر کوئی نہیں

میرے تیر ہر طرف برستے ہیں دشمن مجھ سے ڈرتا ہے

ہری ورد کے کنارے کنارے چلتا ہوں اور چلنے والے مجھ سے ڈرتے ہیں

یہادر بھی میرے سامنے کانپتے ہیں مجھ سے کوئی بہادر نہیں ہے

میں نے تلوار سے زرنج کو فتح کیا

میں بہادری سے سوریوں کے خاندان کا سر بلند کیا

میں نے عزیزوں کو سر بلندی دی مجھ سے بہادر کوئی نہیں

میں اپنے رشتہ داروں پر احسان کیا کرتا ہوں 

میں ان کی پرورش خوب کرتا ہوں اور خوب سہارا دیتا ہے

ہمیشہ ان کو ترقی دیتا ہوں مجھ سے کوئی بہادر نہیں ہے

ساری دنیا میری ہے میری تعریف مساجد میں منبروں پر کی جاتی ہے

دن رات اور سالوں تک مجھ سے بہادر نہیں ہے  

آپ نے امیر کروڑ کا کلام ملاحظہ کیا ۔ اب آپ غوری سلطان علاؤالدین جہاں سوز جس نے اپنے بھائیوں کی موت کے انتقام میں غزنہ کو جلا کر راکھ کردیا تھا کا کلام ملاحظہ کیجئے ۔

دنیا جانتی ہے میں جہاں کا بادشاہ ہوں

عباسیوں کے خاندان کا چراغ ہوں

میں علاؤالدین حسین غزالدین کا فرزند ہوں

میرے خاندان میں ہمیشہ بادشاہی قائم رہے

میں جب سلطنت کے سرخ گھوڑے پر سوار ہوتا ہوں

تو میرے لئے زمین و آسمان یکساں ہوتے ہیں

امید میری سپاہ کے گرد چلتی ہے

موت میرے نیزے کی پر بازی گری میں مصروف رہتی ہے

میں سکندر کی طرح پوری دنیا پر قبضہ کرلوں گا

اور ہر شہر میں نیا بادشاہ مقرر کردوںش گا

 میں عزم کئے بیٹھا تھا کہ غزنہ کے اوباشوں سے

دریائے نیل کی ماند خون کی ندیاں بہاؤں گا

لیکن بوڑھے پھوس رہے گئے یا لڑکے

ان کے لئے میرا جوان نصیبہ سفارش کررہا ہے

میں ان کی جانیں انہیں بخش دوں

خدا کرے ان کی جانیں میری جان میں پیوست ہوجائیں

ایک دوسری جگہ لکھتا ہے

میں وہ ہوں جس کے عدل سے زمانے کے لئے فخر زیبا ہے

میں وہ ہوں جس کی فیاضی اور سخاوت سے خزانے پر ظلم ہوتا ہے

دشمن ہاتھ کی انگلی حیرانی اور حیرت سے دانتوں میں دبا لیتا ہے

جب میں کمان کے چلے پر انگشتیانہ رکھتا ہوں

جب میرا گھوڑا جنگی صفوں میں خانہ بخانہ اچلتا ہوا چلتا ہے

تو دشمن کے کوچے اور گھر میں کوئی جان باقی نہیں رہتی

بہرام شاہ نے میری دشمنی میں تیر چلانے کے لئے کمان کھنچی

تو میں نے نیزہ اٹھا کر اس کی کمر سے تیر کھنچ لیا

اگرچہ دشمن کی حمایت میں ہندوستان کے رائے اور رانے فوج لئے موجود تھے

اب میں نے تلوار سے بدلہ لینے کا ڈھنگ سکھادیا

وقت کے بادشاہوں اور زمانے کے تاجداروں کو

اے خوشنوا مطرب جب میں جنگ سے فارغ ہوجاؤں

تو یہ زمزمہ گا اور ترانہ سنا

جب سلطنت ہاتھ میں آجائے تو ترک کرنا زیبا نہیں

گانوں والوں کے ترانے اور شراب فرشوں کی شراب کو

آپ نے پٹہ خزانہ کے امیر کروڑ اور علاؤالدین جہاں سوز کا کلام ملاحظہ کیا ۔ دونوں کے کلام کا ایک ہی انداز ہے ، وہی خود نوائی ، وہی لاف زنی ، وہی بہادری کے دعویٰ ، وہی رشتہ داروں پر احسان کا دعویٰ ، وہی شہرت کا دعویٰ ، وہی خاندان کا نام بلند کرنے دعویٰ ، وہی انتقام اور بدلہ لینے والے ان دونوں کے کلام کو دیکھ کر کوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ ایک نے دوسرے سے متاثر ہوکر اس کی پیروی کی ہے اور علائوالدین جہاں سوز کا زیادہ فصیح و بلیغ ہے ۔ اگر آپ امیر کروڑ کو حقیقی ہستی تسلیم کریں گے تو یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ علاؤ الدین جہاں سوز نے امیر کروڑ کی پیروی کی ہے ۔ مگر اس کا کیا جائے تاریخی اور لسانی حقائق امیر کروڑ کی ہستی کی نفی کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ عبدالحئی حبیبی نے علاؤ الدین جہاں سوز کی نقالی کر کے امیر کروڑ کی شخصیت کو جنم دیا گیا کہ اس سے پشتو کی قدامت کو ثابت کیا جائے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں