102

پنتھ

ہندو مذہب کے فرقے اور مکتبہ فکر

ہندوئوں پنتھوں تشکیل

ہندوؤں میں مختلف پنتھ ہوتے ہیں اور ان کے لیے کچھ کو مذہب ، کچھ کو فرقہ اور کچھ مکتبہ فکر کہہ سکتے ہیں ۔ ان میں کچھ تصوف کے سلسلوں کی طرح بھی ہیں اور کچھ فرقوں کی طرح ۔ گو ان کے عقائد اور رسومات بعض اوقات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں اور اس طرح انہیں فرقہ کے علاوہ مذہب اور کچھ کو مکتبہ فکر بھی کہا جاسکتا ہے ۔ مگر یہ سب ہندو کہلاتے ہیں ۔ اگرچہ ان میں سے بشتر ہندو مت کے مختللف دیوتاؤں یعنی وشنو ، شیو اور دوسری دیویوں وغیرہ پوجا کرتے ۔ اس کے علاوہ کچھ پنتھوں کا تعلق جین مت اور سکھ مت سے بھی ہے ۔ ان پنتھوں کا ہندوؤں پر بہت اثر ہے اور چاہے وہ کسی مت کا پنتھ ہو ہندو اس کی بہت تعظیم کرتے ہیں ۔ یہاں تک کے وہ مسلمان اہل تصوف کی بھی بہت تعظیم کرتے ہیں ۔ ان پنتھوں میں بعض بہت ہی غلیظ اور گندے ہیں یا ایسی رسومات ادا کرتے ہیں جو عام ہندو بھی پسند نہیں کرتے ہیں ۔ مثلاً گوشت خوری یا بھینٹیں چڑہانا وغیرہ شامل ہیں ۔ تاہم ان سے خوفزدہ ہونے کے ساتھ ان کا احترام بھی کرتے ہیں ۔ برصغیر کے مسلمان بھی ان پنتھوں اور ان کی ریاضتیں دیکھ کر ان سے مرغوب رہے ۔ یہی وجہ ہے برصغیر میں اسلام کے اہل تصوف ان کی پیروی میں ان کے بہت سی رسومات اور عقائد اپنائے ہیں ۔ ان میں پیری مریدی ، مجاوری ، کٹھن ریاضتیں ، گیرو رنگ کا چغہ پہننا ، خواجہ پیا کی دلہن بننا اور چار ابرو یعنی جسم کے تمام بال کو کاٹنا شامل ہیں ۔ اس طرح کی بہت سی رسومات اہل تصوف نے انہیں اسلامی رنگ دے کر اپنا لیں ۔ جن کا اوئل اسلام میں کوئی حوالہ نہیں ملتا ہے ۔

یہاں ہندوئوں کے کچھ پنتھ کو پیش کیا گیا ہے ، ورنہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ہر دور میں پنتھ بنتے رہے اور مٹتے رہے ہیں ۔ مثلاً ان میں ایک پنچ دیو کے پوجنے والے ، ایک لچھمی سمپردائے والے ہیں ۔ ایک اور رودر سمپر دائے والے ۔ تیسرے سنکادی سمپر دائے والے ، چوتھے سنکادی سمپر دائے والے ہیں ۔ ان کے علاوہ ایک سری ویشنو ہیں ۔ ان کے چار حصے ہیں ۔ دیوانند ، رامانند ، ہر نانند ، رائے وانند ۔ سری وشنو رامانند کے چیلے ابد ہوت مارکی کی بارہ شاخیں ہیں ۔ (۱) ایشٹانند (۲) کبیر جولاہا (۳) ریداس چمار (۴) بیپار راجپوت (۵) سرسرانند (۶) سکھا نند (۷) بھاو انند (۸) دہنا جاٹ (۹) سیتا ناؤ (۱۰) ہر نانند (۱۱) پر مانند (۱۲) سری انند ۔

ان بارہ میں س ایشٹا نند کے تین چیلے ہوئے ، کرشن داس ، اگر داس اور کپل بابا ۔ کپل بابا کے چیلے ملوک داس اور ملوک داس کا چیلا بھگت رام ، جیون داس ، گوبر دہن داس ، گومتی داس ۔ یہ وہ چیلے ہیں جنہوں نے کچھ نہ کچھ پنٹھو میں تبدیلیاں ۔ مثلا سری انند کے چیلے بیراگی جٹا دہاری ہوتے ہیں ۔

ہنج دیوا پاسک کے جو رودر سمپر دائے والے ہیں ان میں پہلے وشنو سوامی آچارج ہوئے ۔ ان کا چیلہ بلیہ چارج اور اس کی اولاد میں سے بٹھل داس ، برہم بھگت سری گروہرائی ۔ گوبند رائے بالکشن ، گوگل ناتھ ، رگو ناتھ ، حدو ناتھ گھنشام ہوئے ۔

ان میں ادہو نندی دکن میں ہیں اور سنسکاری سمپر دائے والے گوکل کے گوسائیں ہیںاور مرجا دسمپر دائے والے ترڈنڈی روپ دکھنی برہمن ہیں ۔ ان کے علاوہ رادہا بلبہی ہیں ۔ ان کی دو شاخیں ہیں ۔ چرنداس رادہا بلبہی ، سکھی بہادر رادھا بلبہی زنانہ لباس پہنتے ہین ۔

سنیاسی فقیروں میں سرسولی پوری بھارتی تین شاخیں ہیں ۔ پوری اور بھارتی پانچ چیلے ہوئے ، سموہ لنگی ، سموہ گوڈر ، سموہ اوگھڑ سوگھڑ ، سموہ اور وباہو ۔ پرم ہنس ۔

ان پانچوں نے ساتھ پنتھ چلائے ۔ ایک بیراگیوں کا پنتھ ، دوسرا جگیوں کا پنتھ ، تیسرا گورکھ ناتھی کن پٹھوں کا پنتھ ۔ چوتھا شبیوں کا پنتھ ، پانچواں بام مارگیوں کا پنتھ ۔ چھٹا کانچلوی کا پنتھ ۔ ساتھواں اگھوریوں کا پنتھ ۔

ایک گروہ فقیروں کا کان پتی ہے ۔ ان کے نو گروہ بن گئے ہیں ۔ ادداسی ، گنج بخشی ، رام رے ، ستہرے شاہی ۔ گوبند سنگھی ۔ نرملی ، ناگاہ ۔ دادود پنتھی ۔ پران ناتھی ۔ 

ان پنتھوں کے علاوہ اور بھی بہت سے فرقے ہیں جو سنیاسی کہلاتے ہیں اور پھرتے رہتے ہیں ۔ ان میں سے بعض کچھ کام نہیں کام کرتے ہیں ْ۔ صرف ہاتھوں کو چپڑ چپڑ کیا کرتے ہیں ۔ بعض اگھوری ہوتے ہیں ۔ بعض کا کوئی گروہ نہیں ہوتا ہے ۔ بعض مختلف لباس میں پھرتے ہیں ۔ بعض صرف مچھلی اور گوشت کھاتے ہیں ۔ بعض آزاد ہیں اور اپنے فرائض کی کچھ پروا نہیں کرتے ہیں ۔ بعض شراب یا نشہ آور چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں ۔ بعض ایک یا تین یا پانچ یا سات افراد مل کربھیک مانگتے ہیں ۔ بعض صرف میوے کھاتے یا کوشا گھاس یا گئو کا دودھ یا گہیوں کی کھیر یا دی یا مکھن یا شیر کھانا ہی ثواب شمجھتے ہیں ۔ بعض گاڑی بان طوطے اڑانے والوں اہلکاروں کے جسم کو دھوکا دے کر اس کا تھرک بناتے ہیں ۔ بعض دیہاتوں یا جنگلوں میں اپنی خواہش کے لیے رہتے ہیں ۔ بعض گھوڑا ، گائے ، ہرن ، سور بندر ہاتھی کی پوجا کرتے ہیں ۔ بعض ایک جگہ مراقبہ کرتے رہتے ہیں ۔ بعض دن رات ایک دفعہ کھاتے ہیں ۔ بعض پندرہ دن میں ایک دفعہ ہی کھاتے ہیں ۔ بعض الو یا گدھ کے پر پہنتے ہیں ۔ بعض تختہ پر بعض چارپائی پر ، بعض چٹائی پر سوتے ہیں ۔ بعض کوشا گھاس یا اونٹ کے بال یا بکری کے بالوں کا کمبل اوڑھتے ہیں یا چمڑہ پہنتے ہیں ۔ بعض بالکل ننگے رہتے ہیں ۔ بعض لمبے بال ، ناخن اور ڈارھی رکھتے ہیں ۔ بعض صرف تل چاول پر گزارہ کرتے ہیں ۔ بعض اپنے بدن پر راکھ ملتے ہیں ۔ بعض اپنے جس اور ہاتھوں میں منجھا گھاس ، بال ، ناخن ، چھیٹرے ، کیچر یا ناریل کے چھلکے یا بھیک مانگنے کا برتن لیے پھرتے ہیں ۔ بعض گرم پانی پیتے ہیں یا چاول کی پیچ یا چشمہ کا پانی یا وہ پانی جو مٹی کے برتنوں رکھا جائے تو پیتے یعیٗ کوئی دھات یا کوئی سمٹنے والی چیز یا تین پایہ لکڑی یا کھوپڑی یا تلوار پر رکھتے ہیں ۔ اور اپنی پاکی پر مغرور رہتے ہیں ۔ بعض دھوئیں یا آگ کے قریب رہتے ہیں ۔ یا سورج کے سامنتے تبتے رہتے ہیں ۔ یا ایک پیر پر کھڑے رہتے ہیں ۔ یا ایک ہاتھ اٹھائے رہتے ہیں ۔ یا گھنٹوں چھکے رہتے ہیں اور انہی باتوں کو اپنی نجات کا ذریعہ جانتے ہیں ۔ بعض ڈھکتی ہوئی آگ یا کوئلوں میں گھس کر یا دم روکنے سے یا اپنے کو پتھروں میں جلانے سے یا کسی آگ یا پانی میں کود پڑنے سے اپنے کو ہلاک کرنے سے اپنی مکتی ہونا بیان کرتے ہیں ۔ بعض اوم ، وشٹ ، سواہا ، یا سودہا کا وظیفہ پرھتے ہیں اور اسی کو اپنی مکتی جانتے ہیں ۔ بعض اس پر مطمعین ہیں کہ وہ اندر ، رودر ، وشنو ، دیوی کماری ، ماتری ، کاتیا ، منی ، چندرا ، اوتیا ، ورن ، باسو ، اسونی ، ناگا ، جکش ، گندھروب ، اسور ، کرڑ ، کہنر ، مہورگ ، راکشش ، پریت ، کسمندڈا ، پرشاد ، گنپتی ، دیورشی ، برہم رشی ، راج رشی ، کو نمشکار کرتے ہیں ۔ یا زمین ، پانی ، ہوا ، پہاڑ ، ندی ، چشمہ ، جھیل ، سمندر ، جوہڑ ، کنواں ، درخت ، جھاری ، بیل اور گھاس وغیرہ کو پوجھتے ہیں ۔ کچھ نہیں معلوم ان عقیدوں کے درمیان کس طرح اور کس وقت ہوئی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان فقیروں نے ایک دوسرے سے اپنا فرقہ علحیدہ کرلیا ہے ۔ مگر بلا لحاظ کسی خاص فرقہ کے اعتقاد کے جوگ شاستروں کے مطابقں عام جوگیوں کے عقائد یہ ہیں ۔

جوگیوں کہ عام عقائد

کوئی سب سے برتر ہے ، وہ ایشور ہے جو پاک ہے اور وہ ایک ایسی روح ہے جو پوری دنیا پر محیط ہے اور تمام تکلیفوں اور خواہشوں سے آزاد ہے ۔ اس کا نشان اوم ہے ۔ وہ پیدا کرنے والا اور حفاظت کرنے والا دنیا کا نہیں ہے اور ان باتوں سے اس کا تعلق کچھ نیں ہے ۔

دنیا میں بے شمار روحیں ہیں ، جن سے سب جاندار موجود ہیں اور وہ سب اناوی (ازلی) ہیں ۔ وہ روحیں پاک ہیں ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہے ۔ لیکن وہ دنیا میں رہنے میں سے رنج و راحت معلوم کرتی ہیں اور جوراسی لاکھ قسم کی جون قالب میں جنم لیتی ہیں ۔

 دنیا کسی کی پیدا کی ہوئی نہیں ہے ۔ بلکہ ازلی ہے ۔ دنیا کے ظہور بدلتے رہتے ہیں یکساں رہتی ے ۔ اس کی ذاتی یا اصلی حالت کو جس وہ بنتی ہے پرکرتی (مادہ) کہتے ہیں ۔ ۔ جس میں تین گن (صفات) ہیں ۔ ستو گن ، رجوگن اور موگن  ۔ مادہ بھی انادی ہے ۔ اس کی حالت تبدیل ہوتی رہتی ے ۔ اس کی حالت کے تغیر و تبدل سے دنیا کا ظہور ہے ۔ جس سے تمام دنیا مرکب ہے ۔

علاوہ روح کے ایک چت بھی ہے ۔ جس کو خیال و من کہتے ہیں اور وہ من تینوں گن مذکور بالا کے تابع ہے ۔ انہی کی وجہ سے من میں مختلف تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ من خو چپتین نہیں بلکہ روح کی نذدیکی سے اس میں احساس پیدا ہوتا ہے ۔ بیرونی تعلقات کا اثر من پر پڑتا ہے ۔ اس کے مطابق من میں تغیر ہوتا ہے ۔ پھر گیان کا عکس اس پر پڑتا ہے ۔ اسی سے من دنیا کے رنچ و راحت کو معلو م کرتا ہے ۔ اصل میں من روح کی عینک ہے ۔

خیال کے پانچ کام ۔ اول صحیح رائے قائم کرنا ۔ دوم غلط کی تمیز کرنا ۔ سوم کسی بات کا خیال کرنا ۔ چہارم نیند ۔ پنجم یاداشت ۔ یہ پانچوں کام رجو گن ، ستو گن ، تمو گن میں سے کسی ایک کے غلبہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔

مثل دنیا کے تمام موجودات جو محسوس ہوتی ہیں ۔ با اعتبار انادی ہیں ۔ صرف ان کے ظہور میں تبدیلی ہوتی ہے ۔ جب ایک صورت دوسری صورت کی طرف پلٹتی ہے وہ محض صورت جاتی رہتی ہے ۔ اس مادہ کی کوئی دوسری صورت پیدا ہوجاتی ہے ۔

جو ظہور تبدیل صورت میں ہوتا ہے وہ محض خیالی نہیں بلکہ واقعی ہے ۔

جو مادہ خیال جسم میں ہے وہ اشیاء محسوسہ کا اثر کسی گن پر عمل کرنے کی وجہ سے اس گن کی تاثیر کے موافق قبول کرتا ہے اور وہی اثر شے اور جو دونوں پر موثر ہوتا ہے ۔ ورنہ اشیاء بذات باعث احساس ہیں ۔ نہ قوت حس باعث اشیاء محسوسہ ہے ۔

اگرچہ مادہ خیال کے تابع تغیر و تبدل سے پاک ہے ۔ اور جب تک مادہ خیال کو روح سے قوت و تمیز نہیں ملتی ہے تب تک وہ کسی شے کو دریافت نہیں کرسکتا ہے ۔

جو اثر خیال مادہ خیال پر پڑتا ہے وہ مرنے کے بعد بھی باقی رہ جاتا ہے اور وہی باعث دوسرے جنم اور سکھ دکھ کا ہوتا ہے ۔

خواہشات ہی تکلیف کی جڑ ہے ۔

چونکہ دنیا ازلی ہے اس لیے خواہشات بھی ازلی ہیں ۔ لہذا یہ دریافت کرنا لاحاصل ہے کہ پہلا کرم کیا تھا جس سے خواہش پیدا ہوئی ۔

دنیا کے ظہور کے ساتھ تکلیفات ہیں اور ی ذمہ داری ہر ایک شخص کی ہے ۔ کہ وہ دنیاوی تکلیفات سے باہر نکلنے کے لیے کوشش کرتا ہے ۔

تکلیفات اس طرح رفع ہوتی ہیں کہ خیال کوبشتر بے مہار کی طرح آزاد نہیں چھوڑ دیا جائے ۔ بلکہ اس کی مہار اپنے ہاتھ میں رکھ کر جوگ کے قاعدے کے مطابق اسے چلایا جائے ۔

من ہر قسم کے دنیاوی خیال صرف سماداہی (مراقبہ) سے رفع ہوتے ہیں ۔

جب خیالات کی روک تھام مکمل طور پر ہوجاتی ے اور دنیاوی اسباب کو کوئی اثر من پر نہیں ہوسکتا ہے ۔ تب روح دنیا کے بندھن سے علحیدہ ہوجاتی ہے اور تمام ذمہ داریوں کے آزاد ہوکر جینے

مرنے سے چھوٹ جاتی ہے اور یہی آخری پھل انسانی زندگی کا ہے ۔
وشنوی
رامانند نے بنارس میں بت پرستی کی مخالفت کی جو کہ شیو کی مخالفت تھی ۔ اس کے مطابق پیدا کرنے والا وشنو ہے ۔ جو انسانوں کی ہدایت کے لیے مختلف اوتار لیتا ہے ۔ یعنی کسی شخص میں حلول کرتا ہے ۔ یہ نو دفعہ اوتار لے چکا ہے اور ایک مرتبہ اس کو اوتار لینا باقی ہے ۔ نجات پانے کے واسطہ صلح کل اور محبت صرف دو وسیلے ہیں ۔ پنجاب میں گورکھ ناتھ نے اس کی تائید کی ۔ دیوتاؤں کی پرستش کرنے اور ذات پات کی تفریق کے خلاف لکچر دیئے اور ظاہر کیا کہ صرف ایک پیدا کرنے والے کی پرستش کرو جس کا نام وشنو ہے ۔ رام کو وشنو اور رامانند کو رام کا اوتار مانو ۔
بارویں صدی کے وسط میں رامانج رامانند کی تعلیم کی تبلغ پر کمر بستہ ہوا ۔ سرپرنگ پٹم پہنچا ۔ جہاں اس نے شیوالوں پر قبضہ کرکے شیو کی مخالفت اور وشنو کی حمایت کی ۔ جب سرپرنگ پٹم کے راجہ کو خبر ہوئی تو اس نے رامانچ کی گرفتار کا حکم دیا ، رامانچ جان بچا کر بھاگ کر ٹانک پہنونچا ۔ یہاں کے راجہ کو جو جینی مت تھا اسے وشنوی بنالیا اور اس کی سرپرستی میں وشنوی مت کی بڑے زور شور سے پھیلایا اور رام کی پرستش کو مروج کیا ۔ ناوا ، تلسی داس ، جیدیو ، سورداس وغیرہ نے رامانند کے مذہب کو اپنی اپنی تصانیف کے ذریعہ پھیلایا ۔ جس کی وجہ سے ناوا کی بھگت مال ، تلسی داس کی رامائن جیدیو کی گیت گوبند اور سورداس کے کتبوں پر شیو دہرم کا انحصار ہوگیا ۔
سورداس اکبر کے عہد سلطنت میں تحصیلداری کے عہد پر مامور تھا ۔ اس نے تحصیل کا کل زر محاصل مدن موہن کے مند صرف کرکے صندوق میں پتھر بھر کر دربار شاہی میں روانہ کئے ۔ اکبر کے وزیر ٹوڈر مل نے سورداس کو خیانت کے جرم میں قید کردیا ۔ اکبر بادشاہ نے ازراہ خسروانہ سورداس کی خطا معاف کرکے رہا کردیا ۔ تلسی داس راجہ بنارس کا دیوان تھا ۔
ان لوگوں کی تبلیغ اور تصانیف کی وجہ سے دشنوی مت کا عروج اور شیومت کا ذوال شروع ہوا ۔ وشنوی مت کے قواعد و ضوابط منو کی دھرم شاستر ، شیو مت والوں کی نظریات نیز راماین اور مہابھارت کے قصوں سے اخذ کرکے مرتب کئے گئے ۔ ظاہر کیا گیا یہ تمام چیزیں اور اسباب کا پیدا کرنے والا صرف ایک ہے جس کا نام وشنو ہے ۔ انسان نہ تو وشنو کا کوئی حصہ ہے اور وشنو ہے ہوسکتا ہے ۔
رامانج
کے پیروکار چکرانت کہلاتے ہیں باریں صدی عیسویں میں یہ مدارس کے قریب پیدا ہوا تھا ۔ اس کے پیروکار رام چندر جی کی پوجا کرتے تھے سنکر چکر کا داغ اپنے بدن پر لگاتے تھے ۔ اس اودیت کے خلاف برہم شنکر اچارج کی دلیل میں روح کو محدود اور علحیدہ مانا اور مایا کی ترید کی ۔ رامانچ کو رام بھگت اور اس کا اوتار بھی مانا جاتا ہے ۔
راما نند
یہ چودھیں صدی عیسیوی میں پیدا ہوا تھا ۔ اس نے رامانچ سے اختلاف کرکے اپنے الگ پنتھ جاری کیا ۔ یہ وشنو کو مانتا تھا ۔ اس کے پیرو کار بہت ہیں ۔ تلسی داس گوشائیں جس نے رامائن کا ہندی ترجمہ کیا اسی فرقہ میں سے تھا ۔ رامانند کا کہنا ہے کہ مایا ، جیو اور پرمیشر تین چیزیں اتاریںہیں ۔ سوامی دیانند جی بانی آریا سماج نے اسی کی تقلید کی تھی ۔
گوشائیں
1406ء میں چے تنتہ قوم کا برہمن ندیا کے ضلع میں پیدا ہوا ۔ اس نے بتانا شروع کیا کہ پیدا کرنے والے کا نام جگناتھ ہے اور مکتی حاصل کرنے کے لیے ذات بات کی ضرورت نہیں ۔ ہندو مسلمان مرد و عورت سب برابر ہیں ۔ اس کے چیلوں نے عورتوں کو چیلا بنانا شروع کیا اور عورتیں بھی مردوں کی طرح لباس پہنے اور سر کو گھٹانے لگیں ۔ پہلے پہل انہوں نے مجرد رہنے کی قید لگائی ۔ مگر عرصہ کے بعد اس میں کنوارے اور بیاہے دونوں اس پنتھ میں شامل ہونے لگے اور یہ گوشائیں کہلانے لگے ۔
سری شنکر اچارج
یہ وید کا مفسر تھا اور اس کی پیدائش میں اختلاف ہے ۔ مگر راجہ بکرکے ماجیت عہد موجود تھا ۔ یہ کلالی مدارس کے علاقہ میں پیدا ہوا اور آٹھ برس کی عمر میں سنیاسی ہوگیا ۔ نربداندی کے گوبند جوگی جو سکھدیو بھٹ کے نام سے مشہور ہے اور راجہ بکرماجیت کا باپ تھا اور اپنا گورو بنالیا ۔ بتیس سال کی عمر میں بعض کا کہنا ہے چالیس سال کی عمر میں مرگیا ۔ اس نے گوتم بدھ کے مذہب کے خلاف انقلاب برپا کیا اور ہندوؤں نے بدھوں کو ہندوستان سے نکال دیا ۔
گوشائیں بندرا بن
یہ برہمن ہیں اور رادھا اور کشن کے کو پوچھتے ہیں ۔ ان میں مزید اندرونی فرقوں میں تقسیم ہے ۔ یہ رادھا اور کشن کی موتیاں یا تصویریں اپنے گھروں میں رکھتے ہیں اور انہیں بلبھہ جی ، بہاری اور جوگل جوری وغیرہ سے پکارتے ہیں ۔ یہ ان تصاویر یا مورتیوں کی پرستش صبح و شام کرتے ہیں اور کچھ خاص دنوں میں ان کے عقیدت مند اور چیلے بطور بھینٹ نقد اور جنس کی شکل میں ان تصاویر پر چڑھاتے ہیں ۔ گوشائیں جو کہ ان کا گرو ان تمام اشیاء کا حقدار ہوتا ہے ۔ یہ گوشائیوں کا ذریعہ معاش ہے ۔ یہ برہمن ، چھتری ، ویش اور شورد کو چیلا بنا کر انہیں رادھا اور کشن کی پرستش کی تلفین کرتے اور گلے میں کنٹہی اور قشفہ کی لگانے کی بھی ہدایت کرتے ہیں اور یہ چیلا بناتے وقت اپنے ہاتھ سے چیلے کے گلے کھنٹی ڈالتے ہیں ۔
گوشائیں گوگل
ان کی ظاہری وضع و قطع گوشائیں گوگل بندر بن کی طرح ہوتی ہے ۔ لیکن ان قشقہ الگ طرح کا ہوتا ہے اور ان کی رسومات بھی الگ ہیں ۔
یہ اپنے گرو کو وشنو کا اوتار اور اس ارشاد وحی سمجھتے ہیں ۔ اس لیے دل و جان اور مال سے اپنے گروؤں کی خدمت کرتے ہیں ۔ مرد و عورت دونوں روزانہ اپنے گرو کی زیارت کرتے ہیں اور ان میں بعض دن میں تین دفعہ یہ زیارت کرتے ہیں ۔ یہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو پہلے اپنے گرو کی خدمت میں پیش کرتے ہیں کہ گرو اس سے لطف اندوز ہو ۔ اگر کوئی چیلا ایسا نہیں کرے تو اسے بہت برا سمجھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی کسی چیلے کی بیوی جب گرو طلب کرلیتا ہے ۔ یہ اس گرو کے اس فعل کو اپنے لیے اعلیٰ اعزاز سمجھتے ہیں اور جس کا ثواب بے انتہا ہے ۔ اور اس کا تذکرہ کسی سے نہیں کرتے ہیں ۔ یہ لوگ ہلکی غذا اور لباس کی صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ یہ زیادہ تر گجراتی ہیں اور دکانداری و مہاجنی کا پیشہ کرتے ہیں اور یہ لوگ اکثر مال ہوتے ہیں ۔ دیگر لوگ ان کی پیروی کم کرتے ہیں ۔ غٖالباً ان کا اثر اسمعیلی خوجوں اور بوہروں پر پڑا ہے اور یہ بھی اپنے اماموں اور داعیوں کی اتنی ہی توقیر کرتے ہیں ۔
آزاد
یہ کسی قسم کی رسومات ادا نہیں کرتے ہیں ۔ یہ بدن کے تمام بال مونڈ ڈالتے ہیں اور بدن پر صرف ایک لنگوٹی ہوتی ہے اور ایک چادر جو کہ زرد مٹی سے رنگی ہوتی ہے ۔ یہ نقد و جنس کو رکھنا برا سمجھتے ہیں اور مانگ کر کھانا کھاتے ہیں ۔ مسلمانوں میں بھی جو قلندر کہلاتے ہیں وہ اپنے جسم کے سارے بال مونڈھ کر ان بھیک مانگ کر کھاتے ہیں ۔ ان پر اسی پنتھ کا اثر ہے ۔
اداسی
اس پنتھ کے لوگ زیادہ تر خاموش رہتے ہیں اور سوال کم کرتے ہیں ۔ ان کا لباس خرفہ اور ٹوپی ہے ۔ یہ ڈاڑھی ، مونچھ اور سر کے بال نہیں کاٹتے ہہیں ۔ یہ جس مسکن میں رہتے ہیں اسے سنگت کہتے ہیں ۔
اسادھارن برہمو سماج
چند دنوں کے بعد کچھ لوگ اس خیال کے پیدا ہوئے کہ عورتوں کو مردوں کے برابر کے حقوق ملنا چاہیے ۔ مکان کے اندر عورتوں کو محبوس کرنا ظلم ہے ۔ پردہ داری کی ضرورت نہیں ۔ پیدا کرنے والے نے عورتوں کو مردوں کی مانند آزادی سے گھومنے پھرنے کا حق عطا کیا ہے ، شادی بیاہ کرنے کے لیے ذات پات کی تفریق نہیں ہے اور غیر ذات میں شادی بیاہ کرنا جائز ہے ۔ اس جماعت کے لوگوں نے علحیدیگی اختیار کرکے ایک نئی سماج قائم کی ۔ جس کا نام اسادھارن برہمو سماج رکھا ۔
اوگہھڑ
اس پنتھ کے لوگ ڈارھی مونچھ منڈاتے ہیں اور تمام بدن پر راکھ ملتے ہیں ۔ یہ نہایت گندے رہتے ہیں اور ان کا کھانا پینا بھی گندہ ہوتا ہے ۔ یہ کتے کو ساتھ رکھتے ہیں اس کے ساتھ ہی کھاتے ہیں ۔ یہ اکثر نشے میں رہتے ہیں ۔ گزر بسر کے لیے بھیک مانگے ہیں اور اس کے لیے اکثر لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں ۔
اگہوری
یہ غلیظ ترین انسان ہیں ، ان کی قطع و وضع مجدوبانہ و مجنونانہ ہیں ۔ یہ لوگ ہر طرح کا گوشت حتیٰ کہ مرد انسان کا گوشت بھی کھا جاتے ہیں ۔ یہ پیشاب و پخانہ اپنے بدن پر ملتے ہیں ۔ یہ بھیک مانگتے ہیں اور اگر انہیں انکار کردیا جائے تو یہ پیشاب و پخانہ کرکے غلاظت کرکے پھیلاتے ہیں ۔ پیسہ زیادہ تر مے نوشی میں خرچ کرتے ہیں ۔
اوجین کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی پر اگھوڑی رہتے تھے ۔ جب ہندو اپنے مردوں کو جلانے مرگھٹ لے جاتے اور چتا کو آگ دیتے تھے تو یہ اگھوڑی فوراً پہنچ جاتے اور جلتی ہوئی نعش کو چتا سے نکال کر کھاتے ۔ مردوں کے ورثہ اس خیال سے کہ اگھوڑی شیو کے پجاری ہیں اگر ان سے مزاحمت کی گئی تو شیو جی ناراض ہوں گے اور مردے کو سخت عذاب میں مبتلا کریں گے اور کوئی شخص اس خوف سے اگھوڑیوں کو روکتا نہیں تھا ۔ بعض لوگوں نے اس قبیح رسم کو دیکھ کر مہاراجہ سندھیا سے سے شکایت کی ۔ ۱۸۸۶ء میں مہاراجہ سندھیا نے اگھوڑیوں کے لیے عمدہ خوراک بہم پہچانے کا بندوست کیا ۔ جس کے بعد اگھوڑیوں ننے مردار و نجس چیزیں کھانا ترک کیں ۔
اگہوری تمام نجس و ناپاک چیزین جو جسم سے خارج ہوں دوبارا اپنے جسم میں داخل کرنا ، یعنی بلغم ، خون و پیشاب پینا اور بزار کھانا ۔ رات دن ننگے مادرزاد رہنا ، خواہ کیسی سخت سردی پڑے کپڑوں کا استعمال نہ کرنا ۔ بعض سادھو درختوں میں جھولے کے سہارے سے لٹکے رہنا ہیں ۔
الکھ نامی
یہ سیاہ کمبل پہنتے ہیں اور سر پر لانبی ٹوپی پہنتے ہیں ۔ یہ الکھ لکھ کا ورد کرتے ہوئے بھیک مانگتے ہیں اور زبان سے کچھ نہیں کہتے ہیں ۔ اگر کوئی ان کو دیتا ہے تو لے لیتے ہیں ورنہ چلے جاتے ہین ۔ اس لیے لوگ ان کی آواز سن کر جو دینا ہوتا ہے وہ انہیں دے دیتا ہے ۔
اکاس مکھی
اس پنتھ کے لوگ ہمیشہ اپنا منہ آسمان کی طرف بلند کر کے رکھتے ہیں ۔ اس لیے گردن اکڑ جاتی ہے اور حرکت نہیں کرسکتی ہے ۔ یہ رفع ضروریات دوسرے سے کرواتے ہیں ۔ یہ جٹا ، ڈاڑھی اور مونچھیں رکھتے ہیں ۔ یہ تمام بدن پر راکھ ملے رہتے ہیں ۔ ان میں سے بعض رنگین لباس بھی پہنتے ہیں اور گزر بسر بھیک اور پیشوائی سے کرتے ، ان میں بعض دوکانداری بھی کرتے ہیں اور بعض صرف توکل پر زندگی بسر کرتے ہیں ۔
اودہوت
یہ مادرزاد برہنہ رہتے ہیں اور جٹائیں ، ڈاڑھی اور مونچھیں رکھتے ہیں ۔ ان کے پنتھ میں کپڑا پہننا ممنوع ہے ۔ یہ سردیاں آگ کے سامنے گزارتے ہیں مگر کپڑے اڑھتے یا پہنتے نہیں ہیں ۔ یہ توکل اور گدائی پر زندگی گزارتے ہیں اور مجرد رہتے ہیں ۔
ادر دہا ہو
ٰیہ عجیب و غریب پنتھ ہے اور یہ ایک یا دونوں ہاتھ اوپر رکھ کر زندگی گزارتے ہیں یا دونوں ہاتھوں کے ناخن کٹواتے نہیں ہے ۔ حتیٰ کے یہ بڑھ کر انگلی بلکہ اس سے بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ یہ ہاتھ اوپر رہنے کی وجہ سے ان کے ہاتھ خشک ہوکر ناکارہ ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے ایک ہاتھ اوپر ہونے کی صورت میں دوسرے ہاتھ سے کھاتے ہیں اور دونوں ہاتھ اوپر رہنے کی وجہ سے کوئی اور انہیں کھلاتا پلاتا ہے ۔ یہ بعض برہنہ مادرزاد برہنہ رہتے ہیں اور بعض گیرو رنگ کی چادر استعمال کرتے ہیں اور یہ سر پر جٹائیں رکھتے ہیں ۔ ان کا معاش گدائی اور توکل پر ہے ۔
ایتت
انہیں گوشائیں اور سناسی بھی کہا جاتا ہے ۔ اس پنتھ میں ہندوؤں کی ہر ذات شامل ہوسکتی ہے ۔ یہ لوگ مہادیو کی پوجا کرتے ہیں اور گیرو رنگ کا لباس پہنتے ہیں ۔ اکثر دنیا داروں کی طرح تجارت ، پیوپار ، نوکری اور بعض بھی مانگ کر گزارہ کرتے ہیں اور چاروں ذاتوں کا کھانا کھا لیتے ہیں ۔
یہ پہلے ایک لڑکا جو کسی بھی ذات کا ہو خرید کر اس کی پرورش کرتے ہیں اور اسے چیلہ کہتے ہیں ۔ چیلوں میں جس کو وفادار اور قابل سمجھتے تھے اسے اپنے کاروبار کا مختار بنا دیتے تھے ۔ یہ لڑکا ان کے مرنے کے بعد مہت کہلاتا ہے ۔ لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ یہ اس کے لیے حسین اور خوبصورت لڑکا تلاش کرتے ہیں اور اسے چیلا بناکر اسے سے گھر کی تمام خدمتیں لیتے ہیں ۔
اس پنتھ میں بہت کم لوگ ہیں جو فقر کا طریقہ اخیتار کرتے ہیں اور بشتر دنیاداری پر عمل پیرا رہتے ہیں اور یہ لوگ مال دار بھی ہوتے ہیں ۔ یہ دس گروہ میں تقسیم ہیں ۔
برہمو سماج
1772ء میں راجہ موہن رائے قوم کا برہمن بردون میں پیدا ہوا ۔ اس نے انگریزوں کی سوسائیٹیاں دیکھ کر 1828ء یا 1830ء میں برہمو سماج قائم کیا اور اعلان کیا کہ میں پیدا کرنے والے کو ایک مان کر وید کا طریقہ اختیار کرتا ہوں اور بت پرستی کو چھوڑتا ہوں ۔ اس کی ماتحتی میں بیس سال کی تحقیقات کرنے کہ بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ویدوں کی تعلیم قبول و تسلم اور اپ نشد حق ودیانت بیان کرنے کا مکتب ہیں ۔ اس کے مطابق انگریزوں کے ساتھ کھانے میں کوئی نقص نہیں ۔ راجہ موہن رائے انکلینڈ کے شہر برسٹل میں فوت ہوگیا ۔ برہمو سماج کے پاس کوئی کتاب قابل تقلید نہ ہونے کی وجہ سے سماجیوں کے دھرم کا انحصار قومی لیڈروں کے لیکچروں پر منحصر تھا ۔
بھارت ورشی برہمو سماج
راجہ موہن رائے کہ جانشین کیشو چند نے اعلان کیا جس طرح انسان کا جسم دیکھتا سنتا ہے اسی طرح روح بھی دیکھتی اور سنتی ہے ۔ میں نے پیدا کرنے والے کی طاقت حاصل کرلی ہے ، جس کو بھی یہ طاقت حاصل کرنا ہے وہ مجھ سے حاصل کرے ۔ اس اعلان سے سماجیوں میں اختلاف ہوگیا ۔ بعض نے کیشو چند کی تائید کی اور بعض لوگوں نے جماعت سے علحیدیگی اختیار کر کے ایک دوسرا سماج قائم کیا جس کا نام بھارت ورشی برہمو سماج رکھا ۔
بھیکھا پنتھ
سولویں صدی عیسوی میں دہلی کے صوبہ دار نے بھرکوار کے زمیندار مردان سنگھ کو مالگزاری ادا نہ کرنے کے جرم میں قید کردیا ۔ مردان سنگھ کا ملازم موہن سنگھ محمدباری شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے آقا کی رہائی کے لیے دعا کا خواستگار ہوا ۔ شاہ صاحب نے فرمایا جاؤ میں دعا کروں گا ۔ اگر مستجیب الدعوات میری دعا قبول فرمائے تو رہائی کے بعد مردان سنگھ کو لے کر میرے پاس آنا ۔ شاہ صاحب نے دعا نے قبول ہوئی اور مردان سنگھ رہا ہوگیا ۔ حسب وعدہ موہن سنگھ اپنے آقا مردان سنگھ کو لے کر شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ مردان سنگھ روحانی قوت حاصل کرنے کے شوق میں کچھ عرصہ تک مقیم رہا ۔ جب کسی قدر روحانی قوت حاصل ہوگئی تو شاہ صاحب اجازت لے اپنے مسکن کو واپس آیا ۔ مسکن پہنچ کر اس نے غریب محتاجوں کی حاجت روائی اور عام طور پر انسانی ہمدردی کی تلفین کی ۔ بھیکھا اس کا چیلا ہوگیا ۔ اس نے بڑا گاؤں میں گدی قائم کرکے آتماکی پرستش کرنے کا رواج دیا جو کہ ضلع بلیا کے راجپوتوں میں مروج ہوگیا ۔ یہ پنتھ بھیکھا پنتھ کھلاتا ہے ۔
بھگت
ان کو سنت بھی کہتے ہیں ۔ یہ دیوی کی پرستش کرتے ہیں اور ان میں بعض گوشت بھی کھاتے ہیں ۔ لیکن شراب سے دور رہتے ہیں ۔ دنیادار اور تاجر اس پنتھ میں کثرت سے ہیں ۔ یہ ہر مہینے کی اشٹمی کو گہیوں کے آٹے کا ایک برتن بناتے ہیں اور اس میں ایک شمع روشن کرتے ہیں ۔ ساکتکی اسے جوت یعنی نور الہی کہتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں ۔ یہ ماہ کنوار و چیت میں نو دن متواتر دیوی کا روزہ رکھتے ہیں اور کھٹن ریاضتیں کرتے ہیں ۔
دیوی پوجا کا روازج تمام برصغیر میں ہے کانگڑہ میں ایک پہاڑ میں ایک ٖگڑہے سے شعلے نکلتے ہیں ۔ یہ اسے جوالا کہتے ہیں ۔ یہ اس کی پوجا کرتے ہیں اور اس سے مدد کے طلب گار رہتے ہیں ۔ یہاں اکثر آدمی برہنہ پاجاتے ہیں اور ماہ کنوار و چیت میں بروز اشٹمی کے روز ہر ذات کے آدمی وہاں کثرت سے جاتے ہیں اور اشیاء خودرنی وغیرہ کی بھینٹ اس گڑہے میں دیتے ہیں ۔ دیوی کے مندر ہندوستان میں مختلف مقامات مثلاً بنارس ، مرزا پور میں ہے ۔ مرزا پور کے مندر میں جوالا مکھی کے چھ ماہ وہاں ایک میلہ ہوتا ہے اور اسے میں دیوی کو بکری و بھینسوں کی بھینٹ دی جاتی ہے ۔
بیراگی
یہ ذات پات کو نہیں مانتے ہیں اور ہر فرقہ کے لوگوں کو یہ مرید کرلیتے ہیں ۔ یہ سر اور ڈارھی کے بال منڈاتے ہیں ۔ یہ کنٹھی اور قشقہ بھی لگاتا ہے اور کرشن کی پوجا کرتا ہے ۔ بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں ۔ ان میں بعض پیسے والے ہوتے ہیں ۔
پرم ہنس ۔
اس پنتھ کے لوگ برہنہ مادر زاد اور خاموش رہتے ہیں ۔ سرما میں بھی کپڑے نہیں پہنتے ہیں ۔ کتنی ہی ضرورت ہو یہ بولتے نہیں ہیں ۔ انہیں دوسرے لوگ کھلاتے پلاتے ہیں ۔ انہیں لوگ اپنے گھر لے جاکر اپنے ہاتھ سے کھلاتے ہیں ۔ اگر انہیں کوئی کھلانے پلانے والا نہیں ملے تو یہ بغیر کھائے پیے رہتے ہیں ۔
اس پنتھ کا خیال ہے انسان کر تکلیف و راحت جو کچھ ملتی ہے وہ اس کے کرم کا بدلہ ہے ۔ جو انہوں نے پچھلے جنم میں کئے تھے ۔ اس لیے اسی فکر میں رہنا چاہیے اور دنیاوی امور اور جسم کے لیے کوشش کرنا بیکار ہے ۔
جنگم
اس پنتھ کے لوگ گیرو لباس میں گلے میں مہادیو کی تصویر آویزاں رکھتے ہیں ۔ یہ اپنے گلے ، ہاتھوں اور تمام بدن پر کثرت مالائیں پہنے رہتے ہیں ۔ بدن پر یہ راکھ ملے رہتے ہیں ۔ ان کا ذریعہ معاش گدائی یا درپردہ تجارت ہے جو یہ گھومنے پھرنے کے دوران کرتے ہیں ۔ ان میں بعد دولت مند بھی ہیں ۔ بنارس میں ایک نام جگہ باڑی مشہور تھا جہاں یہ رہتے تھے ۔
جتی
ان میں سیورہ میں فرق نہین ہے ۔ بس یہ سفید پوش ہوتے ہیں ۔
جوکری
اس پنتھ کے لوگ مہادیوں کی تصویر اپنے سر پر تاج کی طرح سجاتے ہیں اور گیرو رنگ کے کپڑے پہنے رہتے ہیں ۔ ان کے ساتھ ایک بیل سدھا ہوا ہوتا ہے ۔ جو ان کے اشاروں پر عمل کرتا ہے ۔ یہ اپنے بیل کو کوڑیوں سے سجاتے ہیں اور اس کے ذریعے ہی اپنا معاش حاصل کرتے ہیں ۔ یہ ایک پیتل کی گھنٹی بجاتے جاتے ہیں اور مہادیوں کی شادی کا قصہ اور مختلف لڑائیوں کے قصے سارنگی بجاکر گاتے ہیں ۔ یہ لوگ عیال دار اور دنیا دار ہوتے ہیں اور ان بھی ذاتوں کی تفریق نہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس پنتھ میں مسلمان بھی پائے جاتے ہیں ۔
جوگی
روایت کے مطابق اس طریقہ کار کو مہادیو نے جاری کیا تھا اور بعد میں گورکھ ناتھ مچھندر نے جوگ کے قوانین بنائے تھے ۔ جس کے مطابق جب یہ چیلا بناتے ہیں تو کان کے حلقہ میں بلور یا کچکر ڈال دیتے ہیں ۔ یہ تمام بدن پر خاکستر ملے رہتے ہیں اور خرقہ گیر دار کہتے ہیں ۔ یہ بھیک مانگتے اور مجاوری کرتے ہیں ۔ بہیرون ناتھ و ہنومان کی پوجا کرتے ہیں ، یہ گوشت کھاتے شراب پیتے ہیں اور اکثر فسق و فجور میں مشغول رہتے ہیں ۔
اس پنتھ میں مسلمان بھی پائے جاتے ہیں جو ہندوؤں لباس میں پھرتے اور بھیک مانگے اور مرید بناتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہندو تھے اور مسلمان ہونے کے باوجود انہوں نے اس طریقہ کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ ان کی عورتوں کا لباس بالکل ہندوؤں کی طرح کا ہوتا ہے ۔
چرنداسی
یہ دہلی کا رہنے والا تھا اور بچپن سے ہی فقرا میں شامل ہوگیا تھا اور ریاضت کے لیے جنگل میں رہتا تھا ۔ سکھ دیو بیاس کے بیٹے نے اسے اپنا چیلا بنالیا ۔ اس کے فیض سے اس نے اپنا پنتھ قائم کیا اور ہزاروں آدمیوں کو چیلا بنایا ہے ۔ اس نے عرفان اور جوگ بھگت کے بارے میں ایک کتاب بھاکا زبان میں لکھی تھی ۔ اس کے چیلے اس کا ورد کرتے تھے ، اس پنتھ میں تارک الدنیا اور فقرا دونوں شامل ہیں ۔ ۔ قشقہ ، کنٹھی اور زرد لباس ان کی پوشاک ہے ۔
داؤد پنتھی
داؤد ایک درویش تھا اور اس نے اپنا پنتھ جاری کیا ۔ اس کے چیلے کوں قشقہ اور کنتھی بھی رکھواتا اور اپنے کلام کو جس میں عبادت اور معرفت کا بیان ہے ورد کرنے کی تلفین کرتا تھا ۔ اس پنتھ کے لوگ ٹوپی اور جبہ بیراگیوں کی طرح پہنتے ہیں ۔ اس میں شامل ہونے بشتر عام لوگ اور فقرا ہوتے ہیں ۔
دھرم مارگی
دام مارگی دہرم کے مرد عورتوں کو اور ان کی عورتیں مردوں کی پرستش کرنے کی غرض سے برہنہ ہوتی ہیں ۔ ان کا اچاریہ شراب کا پیالہ لے کر کہتا ہے کہ بھیرو اہم شودہم یعنی میں شیو ہوں یہ کہہ کر اچاریہ ایک گھونٹ شراب کا پیالہ حاضرین مجلس کو دیتا ہے ۔ تمام لوگ تھوڑا تھوڑا پی کر عضو مخصوص کی پوجا کرتے ہیں اور مست ہوکر مجاعت کرتے اور کہتے ہیں مرد شیو ہیں اور عورت پاربتی ۔ شیوی برہمن شیو کے آلہ تناسل اور پاربتی کے مخصوص شکل بنا کر شیوالہ میں رکھتے اور اس کی پوجا کرتے ۔ پیپل کے درخت کی بھی پوجاکرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ درخت شیو کو اور تمام دیوتاؤں کو پیارا ہے اور اس کے ہر پتہ میں دیوتا بستا ہے ۔
دامی
یہ ایک خفیہ پنتھ ہے ۔ اس پنتھ میں وشنویوں کے علاوہ ہندوں کی ہر ذات کے لوگ شریک ہوتے ہیں ، ان میں بشتر کا مقصد حصول لذت نفسانی ہوتا ہے ۔ چونکہ اس پتنھ کی عبادت کو عام طور پر پسند نہیں کیا جاتا ہے اس لیے اس پنتھ میں خفیہ طور پر شریک ہوتے ہیں اور پیروی کرتے ہیں ۔ ان کی کتابوں میں بھی انہیں اپنا پنتھ چھپانے کی سخت تاکید ہے ۔ اس لیے اس پنتھ کے لوگ وشنویوں جو اس مذہب کے مخالف ہیں اس لیے دامی نہیں بلکہ آتمک کہتے ہیں ۔
یہ لوگ متبرک ایام مثلاً دیوالی ، ایکادشی ، پورماشی ، اماوس ، دسہرہ اور ہولی وغیرہ میں اپنی عورتوں کے ساتھ پنتھ کے گرو کے زیر اہتمام کسی مقررہ جگہ شریک ہوتے ہیں اور ساتھ طرح طرح کے کھانے بھی لے جاتے ہیں ۔ وہاں ایک لکڑی کی میز پر برہنہ تلوار کو دیوی مان کر اس کے سامنے تمام کھانے ، شراب اور دوسری اشیاء رکھ کر اس کی پوجا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد ان کا گرو مذہبی کہانیاں کتاب میں پڑھ کر سناتا اور اس کی تشریح و وضاحت کرتا ہے ۔ اس کے بعد کل کھانے پینے کا سامان حاضرین میں تقسیم کردیا جاتا ہے ۔ پھر یہ کھانے وہاں ایک دوسرے کو اپنے ہاتھ سے کہلاتے ہیں اور اس میں کسی قسم کا امتیاز نہیں رکھا جاتا ہے کہ اجنبی ہے یا کوئی اور ۔ کھانا کھلانے کے بعد جینسی ملاپ بھی کیا جاتے ہے ۔
ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اگر کوئی ان کے پنتھ میں شریک ہو اور پھر ان سے علحیدہ ہوجائے تو اس کو وہاں کسی طرح لاکر اس کے گوشت کے ٹکرے کھا کر بقیہ حصہ دفن کردیتے ہیں ۔ اس طرح کوئی دامی بیمار ہوجائے تو اس کو بھی یہ کھالیتے ہیں ۔ یہ پنتھ پہلے دکن اور بنارس میں ملتے تھے ، مگر اب نظر نہیں آتا ہے ۔ غالباً انگریزوں کی سختیوں کی وجہ سے ختم ہوگیا ہے ۔
ڈنڈی
اس پنتھ میں صرف برہمن اور چھتری شامل ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ ایک لکڑی یا بانس رکھتے ہیں ۔ جس میں کچھ گرہیں ہوتی ہیں اور اوپر کی گرہ میں گیرو کے رنگ کا ایک چھوٹا کپڑا کو دھاگے سے مظبوطی سے باندھ کر ہاتھ میں رکھتے ہیں اور اس چھڑی کو کبھی زمین پر نہیں رکھتے ہیں ۔ چونکہ اس کو زمین پر رکھنے کی ممانیت ہے اس لیے یہی ڈنڈ یعنی تاوان ہے ۔ یہ ایک ٹوٹی دار لوٹیا بھی رکھتے ہیں اور جملہ خورد نو نوش اور رفع احتیاج اسی سے کرتے ہیں ۔ ان کے تمام بدن پر راکھ ملا ہوتا ہے اور تمام بال منڈاتے ہیں ۔ ایک لنگوٹی پہنے کی اور چادر گیرو کے رنگ کی اوڑھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ روپیہ پیسہ اور دیگر دنیاوی اسباب اور پکے ہوئے کھانے کو حرام سمجھتے ہیں اور مانگ کر کھانا کھاتے ہیں ۔ لیکن سوائے برہمن کے کسی اور کا کھانا نہیں کھاتے ہیں ۔ یہ نارائن نارائن کی صدا لگاتے رہتے ہیں ۔ اس پنتھ میں زیادہ تر لوگ گیانی اور وید و شاستروں سے واقف ہوتے ہیں ۔
ٍ جب کوئی ڈنڈی ہوجاتا ہے تو زنار اور بال اس سے دور کرتے ہیں ۔ یہ اپنے مردے جلانے کے بجائے پانی میں بہا دیتے ہیں ۔ ہندؤں میں ان کا نہایت اعلی مرتبہ ہے ۔ شاستروں میں بھی اس طریقہ کو افضل جانا ہے ۔ اس لیے اکثر برہمن اور پنڈت بوڑھے ہوجاتے ہیں تو حصول ثواب کے لیے اس طریقہ کو اختیار کرلیتے ہیں ۔
رادھا سوامی پنتھ
1818ء میں شیو دیال سنگھ قوم کا کھتری پیدا ہوا ۔ اس نے آگرہ میں اعلان کیا کہ کرہ کے تین حصہ ہیں ۔ پہلا حصہ پیدا کرنے والا رہتا ہے ۔ جس کی کی نسبت کچھ نہیں معلوم ہے ۔ دوسرے حصہ میں صاف مادہ روح کی ماتحتی میں رہتا ہے ۔ جس کو ست چنا نند کہتے ہیں ۔ تیسرے حصہ میں روح مادہ کی ماتحتی میں رہتی ہے ۔ جس کو برہم یا پرماتما کہتے ہیں ۔ حبس دم روح کو صاف کرنے کا طریقہ جو سنیاسیوں میں مروج ہے مضر صحت ہے ۔ یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ حبس دم روح کو صاف کرتا ہے ۔ لیکن ہر گز یقین کیا جاسکتا کہ سانس روح کو پستی سے بلندی کی طرف لے جاتی ہے ۔ اس وجہ سے کہ سانس خود روح نہیں روح کی آلہ کار ہے ۔ اس نے کبیر ، دولن ، جگ جیون ، چونداس ، نانک تلسی ، داؤد ، دریا ، سور داس ، بھیکھا اور مولانا روم کے خیالات سے نتیجہ اخذ کرکے رادھا سوامی پنتھ قائم کیا ۔
رادھا سوامی پنتھ کے مرنے کے بعد رائے سالک رام بہادر محکمہ ڈاک کا پوسٹ ماسٹر جنرل اس کا جانشین ہوا ۔ جس کی وجہ سے یہ پنتھ زور پکڑتا گیا ۔ اس پنتھ کے لوگ ممالک متحدہ آگرہ و اودھ کے ہر قصبہ ہر قریہ میں ڈاکخانہ کے ہرکاروں کی طرح دیکھائی دینے لگے ۔ جب یہ شخص اپنے عہدے سے علحیدہ ہوا اور محکمہ ڈاک کی آسامیاں رادھا سومی پنتھ سے وابستہ نہیں رہی اور اس پنتھ کا زور گھٹنے لگا یہاں تک کہ موجودہ دور میں برائے نام رہ گیا ہے ۔
راما نندی
رامانندی نے اس پنتھ کا بانی تھا ۔ یہ اپنے مریدوں کو رام اور ہنومان کی پرستش کرنے کی تلفین کرتا تھا ۔ اس نے قشقہ لگانے کا طریقہ بھی دوسروں سے جدا تھا ۔
روکہڑ
ان کی وضع و قطع ناگہ اور ایتت کی طرح بلکہ ان سے بہتر ہے ۔ یہ لوگ انگیٹھی میں عود جلا کر گدائی کرتے ہیں ۔ یہ خاص وضع ٹوپی پہنتے ہیں ۔ جو بڑی اور گول ہوتی ہے اور بڑا سا گیرو جبہ بھی پہن کر بھیک مانگتے ہیں ۔
رام رئی
اس پنتھ کا بانی رام رائے تھا ۔ یہ بھی نانک شاہیوں کی طرح ہے ۔
روداس پنتھی
اس کا بانی روداس چمار تھا اور کمسنی سے ہی اس کا رجحان عبادت کی طرف تھا ۔ اس کی عبادت کی شہرت ہوئی تو اس کا شمار عابدوں میں ہونے لگا ۔ اس پنتھ میں چمار شامل ہیں اور یہ بھی قشقہ اور کنتھی رکھتے ہیں ۔
رامان نوجی
انہیں وشنوی کہا جاتا ہے مگر یہ رام کے بھائی لچھمن کی پوجا کرتے ہیں اور رام بجائے اسے وشنو کا اوتار کہتے ۔ یہ قشقہ اور کنٹھی ضروری نہیں سمجھتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ کنٹھ رکھتے ہیں تو کنولگٹہ کا دونوں شانوں پر سنکھ چکر اور پدم جو کے بشن یا وشنو کے ہتھیار ہیں کے نشان گرم لوہے سے کندھوں سے داغتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنا کھانا پینا نہایت خفیہ طور پر کرتے ہیں ۔ ان سے اور وشنوی اس نشان کی وجہ سے ہندو انہیں پسند نہیں کرتے ہیں ۔
سادہوی
سادھو نے اسلامی تعلمات یعنی قران ، حدیث اور انبیا کو اہل ہنود کے اوتاروں کو ویدوں اور شاستروں سے مطابقت دی اور وید و شاستروں کے بر خلاف اپنے احکامات کی تعلیم دیتا تھا ۔ یہ ہندو اور مسلمانوں دونوں کو اپنے پنتھی میں شامل کرلیتا تھا اور اس نے لاکھوں کو مرید کیا ۔ جب یہ کسی کو مرید کرتا تھا تو چنے کی کڑی پکا کر مجمع عام میں دوسروں کے ساتھ کھلاتا تھا ۔ اس کے انہیں اپنے عقائد اور کلام کی تلفین کرتا تھا ۔
اس پنتھ میں شادی کا طریقہ یہ کہ عورت محفل میں یہ کہے کہ سادہ سدہنی کو بہایا ، سادہ گلے لگایا ۔ یہ کہہ کر جس سے شادی کے لیے راضی ہوتی تھی اس پر ہاتھ رکھ دیتی تھی ۔ اس طرح وہ شخص اس کا شوہر ہوجاتا تھا ۔ اس پنتھ میں عورتیں پردہ نہیں کرتی ہیں اور اکثر بندیل کھنڈ میں اس پنتھ کے لوگوں بڑی تعدا میں پائے جاتے ہیں ۔
سدنا پنتھی
سدنا ایک قصاب تھا اور گوشت بیچا کرتا تھا ۔ چونکہ یہ عبادت گزاری کی طرف مائل تھا اس لیے اس نے ایک پجاری سے کہا کہ اسے اپنے بت خانے سے ایک بت دیدے ، تاکہ وہ اس کی پرستش کرے ۔ پجاری اس کے پیشہ اور ذات کے پیش نظر بت دینے میں تامل کیا ۔ مگر جب سدنا نے تقاضہ کیا تو اس نے ایک پتھر اسے دے دیا کہ اس بت کی پرستش کیا کرے ۔ سدبا زور شور سے اس پتھر کی پرستش کرنے لگا ۔ اس کی درویشی کی شہرت ہوگئی ۔ وہی پجاری جس نے اسے پتھر دیا تھا وہ میں اس کا عقیدت مند ہوگیا ۔ اس نے بھی ایک پنتھ جاری کیا تھا ۔
سنجوگی
یہ ایتوں کی طرح ہوتے ہیں ۔ ان فرق یہ ہے یہ شادیاں بھی کرتے ہیں اور ان کے بچے بھی ہوتے ہیں ۔
ستھرہ شاہی
اس پنتھ کا بانی ستہرہ تیغ بہادر جو کہ سکھوں کے گورو گوبند سنگھ کا باپ کا چیلا تھا ۔ یہ اوباش ، آزاد مشرب اور اس کا کلام اس کا مائل مزاح تھا ۔ یہ شخص ہزل گو اور ظریف تھا اس لیے گرو کی خدمت میں اس قدر گستاخی کرنے لگا تھا کہ ان کے ساتھ بھی ظرافت کے ساتھ مزاق کرتا رہتا تھا ۔ اس پنتھ کے ماننے والے اپنے بانی ستھرا نام سے ستھرا شاہی کہلاتے ہیں ۔ ان کی وضع آزادانہ پیشانی پر قشقہ سیاہ ار ہاتھ میں دو چھوتے آبنوس کے ڈنڈے رکھتے ہیں اور ان دونوں کو آپس میں ایک دوسرے پر مارتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ستھرے کے اقوال پنجابی میں ہر دوکان کے سامنے پڑھتے جاتے ہیں ۔ انہیں اگر ایک پیسہ سے کم دیتا تھا تو نہیں لیتے تھے اور دوکان کے سامنے جم کر بیٹھ جاتے تھے اور فحش قسم کی گالیاں دینا شروع کردیتے تھے ۔ دوکان دار مجبور ہوکر ایک پیسہ دیتا تھا ۔
اس فرقہ میں زیادہ تر جاہل طبقہ ہے ۔ مشہور یہ تھا کہ شرفا کے لڑکے اوباش اور آوارہ ہوکر مفلوک الحال ہوجاتے تھے تو ستھرا شاہی میں شامل ہوجاتے تھے ۔
ست نام پنتھ
چھتیس گڑھ میں گھاسی داس چمار نے 1820ء میں اعلان کیا کہ پیدا کرنے والے کا نام ست نام ہے جو ذات پات کو نہیں پہچانتا ہے ۔ جس طریقہ سے چاہو اس کی کی پرستش کرو ۔ اس کی پرستش کا کوئی طریقہ معین نہیں ہر شخص بیراگی ہوسکتا ہے ۔ بت پرستی ناجائز ہے ۔
ست نام پنتھ
1683 میں جگ جیون داس قوم چندیل کا ٹھاکر بارہ بنکی ضلع میں پیدا ہوا ۔ اس نے اعلان کیا کہ پیدا کرنے کا نام ست نام ہے جو ہدایت کے لیے اوتار لیتا ہے ۔ رام اور کشن دونوں اوتار تھے اور تمام انسان برابر ہیں ۔ کسی کو کسی پر فضیلت نہیں ۔ ہر شخص کو مکتی حاصل کرنے کا برابر حق حاصل ہے ۔ گوشائیں داس ، اوپدھیا برہمن ، دیبی داس چمار ، ودلم داس ٹھاکر ، کھنی داس تیواڑی برہمن اس خاص چیلے تھے ۔ ان لوگوں نے گوشت خواری ، شراب نوشی کی قطعی ممانیت کرکے ست نامی پنتھ جاری کیا ۔ اسی زمانے داؤد جو قوم کا دھنیا تھا احمد آباد میں ظاہر ہوا ، ان نے ظاہر کیا کہ پیدا کرنے والے کا نام ست رام ہے ۔ مندر بنانا بت پرستی کرنا گوشت کھانا شراب پینا جائز نہیں یہ شخص 1703 میں مرگیا ۔
سراوگی
یہ جین مت کو ماننے والے ہیں اور ہندو دیوتاؤں ، وید اور شاستروں کو نہیں مانتے ہیں ۔ یہ دنیا دار ہیں ان میں تین ذات اوسوال ، سریمال اور مہیسری شامل ہیں ۔ جو کہ بشتر جوہری ہیں اس لیے جوہری مشہور ہیں ۔ یہ لوگ گوشت کھانے سے کلی طور پر پرہیز کرتے ہیں ۔ بلکہ ان کے گرو سبزیوں کو بھی جاندار کہہ کر انہیں کھانے سے پرہیز کرتا ہے ۔ یہ جاندار کی جان کی حفاظت کرنا ان کے مذہب کا خاص اصول ہے اس لیے یہ اندھیرے میں کھانے سے پرہیز کرتے ہیں کہ کھانے میں کوئی کیڑو آکر مر نہیں جائے ۔
سیوڑہ
یہ فقرا اور گروہ جین مت سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہندو مذہب کی کتابوں میں ان کی برا کہا گیا ہے اور ناستک کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ دنیا بغیر صنانع کے پیدا ہوئی ہے ۔ چنانچہ وجہ تسمیہ ناستک یعنی منکر واجب الوجود کے ہیں ۔
یہ جاندار کی بڑی حفاظت کرتے ہیں ۔ اس لیے ہمیشہ منہ پر کپڑا باندھے رکھتے ہیں کہ چھوٹے کیڑے جو دیکھائی نہیں دیتے ہیں اڑ کر منہ میں چلے جائیں گے ۔ یہ راہ چلتے وقت رسی سے بنی ہوئی جھاڑن ساتھ رکھتے ہیں کہ اس سے راستہ صاف کرکے قدم رکھیں ۔ تاکہ چھوٹے کیڑے ان کے پیروں تلے دب کر مر نہیں جائیں ۔ یہ جوتا بھی نہیں پہنتے ہیں ۔ یہ پانی کو صرف کرنے اجتناب کرتے ہیں کہ اس سے بھی جاندار ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے یہ غرارے اور مسواک بھی نہیں کرتے ہیں ۔ جس کے دانتوں میں کثافت جمی ہو اسے کامل سیورہ مانتے ہیں ۔ غسل اور طہارت بھی ان کے مذہب میں نہایت مکروہ ہے ۔ یہ سبزیاں بھی نہیں کھاتے ہیں ۔ یہ سر کے بال بھی حجام سے نہیں کٹواتے ہیں بلکہ سال میں ایک مقررہ جگہ پر جمع ہوکر اپنے سر کے بال کاٹتے ہیں ۔
ٓ ان کا گروہ ایام میں مذہبی کتب کا وعظ کرتا ہے ۔ شاستروں میں ان سے پرہیز کا کہا گیا ہے ۔ اگر کوئی مست ہاتھی سامنے آجاتا تو سیوڑہ کا معبد یا مکان نہیں ہوتا تو سیوڑہ اس میں داخل نہیں ہوتے ہیں ۔ یہ کھانے کے لیے پیالہ لے کر اپنے چیلوں کے پاس جاتے ہیں اور ان سے کھانا لاکر کھاتے ہیں ۔ یہ رات کو کھانا کھاتے ہیں نہ پانی پیتے ہیں ۔
سکھی بہاؤ
یہ پنتھ والے بھی رادھا اور کشن کو مانتے ہیں اور اپنے کو صنف نازک یا رادھا سمجھتے ہیں ۔ ان کا لباس و بول چال ، سکنات اور حرکات عورتوں کی طرح ہوتی ہیں ۔ یہ ہر ماہ عورتوں کی طرح اپنے کپڑوں کو سرخ رنگ لگا کر یہ ظاہر کرتے ہیں انہیں حیض آرہا ہے اور تین دن کے بعد پاک ہونے کے لیے غسل بھی کرتے ہیں ۔ بعد غسل کے یہ لوگ سری کشن کی تصویر میں لیٹ کر اپنے دونوں پاؤں بلند کرکے عورتوں کی طرح آہ لال جی میں مری اور اس طرح کے الفاظ تمام رات چیختے ہیں کہ وہ کرشن کے ہم بستر ہیں ۔ یہ فرقہ بندرابن اور اس کے اطراف میں عام پایا جاتا ہے ۔ برصغیر کے مسلمانوں میں بھی بعض افراد خود کو خواجہ پیا کی دلہن سمجھتے ہیں اور زنانہ لباس پہنے ہیں یہ اسی پنتھ کا اثر ہے ۔
شوی مت
تقریباً 750ء سے شوی مت شروع ہوا ۔ بنگال کے کمارل بھٹ نے ظاہر کیا کہ لوگ وید کی تعلیم سے بے خبر ہیں ۔ میں خبردار کرتا ہوں کہ تمام جہاں کا پیدا کرنے صرف ایک ہے ۔ شنکر اچاریہ اس کا چیلا ہوگیا اس نے اعلان کیا کہ وید شیو کو رودر کے نام سے پکارتا ہے جو تمام صفات سے معرا ہے اس کی پرستش تنہاہی میں خاموشی کے ساتھ کرنا چاہیے ۔ صرف دھیان کرنے سے ہر شخص شیو ہوسکتا ہے ۔ عورتوں کو اپنے شوہر کی پرستش کرنی چاہیے ۔
1824ء یا1828 ء مول شنکر ولد امبا شنکر گجراتی شیوی برہمن مقام مروی ریاست کاٹھیاوار میں ، ہمالیہ پہاڑ پر بجیہ ناتھہ ، کاٹھیاوار میں دوارکا ، اوڑیسہ میں جگناتھپوری تین مٹھ بنائیں ۔ وید ، اتنا اور میماسہ کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دے کر قومی دہرم بنایا ۔ شریف اور رذیل ہر طبقہ کے لوگوں کو یہ کہہ کر چیلا بنایا کہ میں ہر دو ذاتوں کا مرکب ہوں ۔ اس کی وجہ سے شیوی مت آریہ قوم سے نکل کر قدیم اقوام میں پھیلنے لگا ۔ کچھ زمانہ کے بعد شیو کا نام بھیم اور مہادیو بتایا گیا اور یہ ظاہر کیا گیا کہ اس میں موجود اور معدوم کرنے کی دونوں طاقیتں موجود ہیں ۔
برہمنوں نے کہا کہ شیو وسوپتی جانوروں کا پیدا کرنے والا گائے کا محافظ ہے ۔ اس کے سرپر گنگا بہتی ہے اور بیل ہمیشہ اس کے پاس رہتا ہے ، اس کی شکل و صورت خوبصورت مرد کی مانند ہے اور اس کی استری گوری پاربتی نہایت حسین ہے ۔ قدیم اقوام نے معدوم کرنے کی طاقت کی وجہ سے اس کا نام اگھوڑا رکھ دیا گیا اور اس کی مورتی کی شکل نہایت خوفناک اور مہیب ایسی بنائی گئی کہ پانچ چہرے اور چار بازوں ہیں ۔ ہاتھ میں انسانی سر اور تمام جسم میں سانپ لپٹے ہوئے ہیں ۔ جس کی بدشکل اور خونخوار استری کالی دیبی ہے برہنوں نے شیو اور پاربتی کو حسین سمجھ کر اور اگھوڑیوں بدشکل مرد اور عورت کی مورت کا پوجنا شروع کیا ۔ بعض برہمنوں شیو اور پاربتی کی مورتی کے بجائے اس کے عضو تناسل لنگ کی شکل بنا کر پرستش کرنا شروع کیا ۔ جس بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور اب شیو کی مورتی کے بجائے لنگ اور کالی کے بجائے یونی پوجا کی جاتی ہے ۔
شنکر اچارجی
بہت سے ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ شنکر اچارج مہادیو کا اوتار تھا اور اس نے اصول وید و ارکان جو کہ لوگوں نے ترک کریئے گئے تھے ۔ مہادیو نے شنکر اچارج کی شکل میں مجسم ہوکر ویدوں کو منکروں کو پھر دوبارہ ویدوں کی طرف رائج کیا ۔ اصل مین شنکر اچارج نے بدھوں کے خلاف مہم چلائی اور اس کوششوں کی بدولت اس سرزمین سے بدھ مت کا خاتمہ ہوگیا ۔
کانچلیہ
کانچل جنو بی ہند میں انگیا یا بریزر کو کہا جاتا ہے ۔ اس میں مقرہ پوجا سے پہلے عورتیں اپنے گرو کی خدمت میں حاضر ہوتی ہیں اور گرو کو اپنی انگیا پیش کرتی ہیں ۔ گرو ان انگیاؤں کو ایک گھڑے میں جمع کرتا ہے اور ایک اندھرے کمرے میں رکھ دیتا ہے ۔ پھر ان لوگوں میں جو کنوارے ہوتے ہیں انہیں گھڑے میں سے ایک انگیا نکالنے کی اجازت دیتا ہے ۔ جب تمام انگیا بٹ جاتی ہیں ہیں تو گرو حکم دیتا ہے کہ جس کہ پاس جس عورت کی انگیا ہے اس سے تعلقات پیدا کروو ۔ اس کے بعد اس انگیا کی مالک عورت سے ملتا ہے ۔ اس موقع پر پہلا ادا کیا ہوا لفظ بہت اہم ہوتا ہے ۔ مثلاً اگر کسی نے اس عورت کا ماں یا بہن کہہ دیا تو وہ عورت ہمیشہ کے لیے اس کی ماں یا بہن سمجھی جاتی اور اس کے حقوق پورے کرنے پڑتے ہیں ۔ اگر کسی نے استری کہہ دیا تو وہ اس کی بیوی بن جاتی ہے اور اسے ان لفظوں کا پاس رکھنا پڑتا ہے ۔ یعنی پہلا فقرہ کی پابندی یا اس کی حرمت ان پر لازم ہوجاتی ہے ۔ جو عورت ان لفظوں کی پابندی نہیں کرے اس بہت بڑا پابی سمجھا جاتا ہے اور اسے اپنے پنتھ سے خارج کردیتے ہیں ۔ یہ پنتھ اب دامیوں کی طرح نظر نہیں آتا ہے ۔
کراری
یہ پنتھ والے دیوی کی پوجا کرتے ہیں اور آدمی کی بھینٹ دیوی کو دیتے ہیں ۔ ان میں داماد اور بھانجہ کی بھینٹ افضل ہے ۔ اگر یہ دونوں میسر نہیں ہوں کسی کو بھی بہانے سے بلاتے ہیں اور کھانے میں زہر یا کسی طریقہ سے مار کر دیوی کی نذر کرتے تھے ۔ برہمنوں کے نذدیک یہ مذہب نہایت مکروہ ہے اور اب یہ لوگ نہیں ملتے ہیں ۔ کیوں کہ انگریز دور میں سختی کی وجہ سے ان کا پنتھ ختم ہوگیا ہے ۔
کڑا لنگی
یہ اپنے عضو تناسل میں سوراخ کرکے اس میں تامبے کا حلقہ مع زنجیر کے ڈالے رکھتے ہیں ۔ ان میں بعض لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے یہ عمل کرتے ہیں اور کڑا اس طرح ڈالتے ہیں کہ ضرورت کے وقت نکال لیں ۔ ان وضع اور عقائد زیادہ تر ناگہ یا ایتوں جیسے ہیں ۔
کبیر بنتھی
تقریباً 1380ء میں ایک بیوہ برہمنی کے لڑکا پیدا ہوا ۔ جس نے شرمندگی کی وجہ سے اپنے نوزایدہ بچہ کو جنگل میں پھینک دیا ۔ ایک ہندو جولاہا اس کو اٹھا لایا اور پرورش کی ۔ اس ولد الزنا کا نام کبیر رکھا ۔ جب کبیر بالغ ہوا تو لولی کے ساتھ اس کا بیاہ ہوگیا ۔ کبیرا رامانند کاچیلا ہوکر شہر کے باہر ایک کھو میں رہنے لگا اور گداگری کے ذریعہ سے بسر اوقات کرنے لگا ۔ ایک دن کبیر کو گداگری کے ذریعہ کچھ نہ ملا اس کی بیوی لوئی نے کہا دہرم داس مجھ پر ہزار جان سے عاشق ہے اگر تم مجھے اس کے پاس شب باشی کی اجازت دو تو جس قدر روپیہ چاہو اس سے لے لو ۔ کبیر خوش ہوکر کہا جاؤ جاؤ جس قدر روپیہ ملے فوراً لاؤ ۔ کبیر کی مرضی کے مطابق لوئی دہرم داس کے پاس گئی ہنسی مذاق دل لگی کرنے لگی ۔ اپنے عاشق کو تسلی دی اور شب باشی کا وعدہ کرکے جسقدر روپیہ وصول کرسکی لے کر اپنے مسکن کو واپس آئی ۔
کبیر نے حاجت روائی کرکے رات کے وقت لوئی کو لے کر دہرم داس کے مسکن پر پہنچا ، لوئی کو خلوت خانہ میں بھیج دیا اور خود دروازے پر پاسبانی کرتا رہا ۔ دہرم داس ممنون ہوکر کبیر کا چیلا ہوگیا ۔
کبیر نے ہندو اور مسلمانوں کی تفریق کو مٹانے کی غرض سے ایک نیا دہرم جو نہ ویدانتی تھا اور نہ اسلامی جاری کرنے کی کوشش کی اور اعلان کیا کہ وید اور پران دونوں ناقابل تسلیم ہیں ۔ بت پرستی ناجائز ہے ۔ انسان مرتا ہے پھر پیدا ہوتا ہے پھر مرتا ہے ۔ اسی طرح سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ ہرشخص اپنے کرم کا پھل پاتا ہے ۔
مکتی حاصل کرنے لیے تیرتھ ، جاترا ، یجہ(قربانی) وغیرہ کی بالکل ضروت نہیں ہے ۔ ذات پات کی تفریق بیجا ہے ۔ ہرشخص برابر ہے ، اللہ کی عبادت اور رام کی پرستش کرنے والوں پیدا کرنے صرف ایک ہی ہے ہندو اور مسلمان دونوں برابر ہیں ۔ سب کو ایک ساتھ کھانا کھانا نیز اپنے معاملات کو گرو کے سپرد کرنا ، گوشت خواری اور شراب نوشی سے گریز کرنا چاہیے ۔ ہر شخص خواہ خواہ ہندو ہو یا مسلمان نرانکار ، ہری ، رام ، گوبند اور سیتا پرش کا نام لے کر اور سانس کے ذریعہ سے ہرڈی میں جپ کر مکتی حاصل کرسکتا ہے ۔
گوبند سنگھی
اس پنتھ میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک تو نانک شاہی یعنی سکھ ہیں اور دوسرے خالصہ ۔ اگرچہ یہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن ان کے اصول ایک ہی ہیں ۔ یہ ڈٓاڑھی ، مونچھ اور بال کٹوانا گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں ۔ نیلا لباس پہنتے ہیں ۔ لوہے بہت پاک سمجھ کر اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ یہ کھانے سے پہلے لوہے سے کھانے چھلا پہنتے ہیں ۔ یہ لوگ گھڑ سواری بندوق بازی میں مہارت رکھتے ہیں ۔ ان میں ہندوؤں کی چاروں ذاتیں شامل ہیں ۔ جو ایک دوسرے کے ساتھ کھاتے ہیں ۔ یہ ایک ہی وضع ار طریقہ پر ہیں ۔ یہ مسلمان کا قتل اور توہین اسلام کو عبادت جانتے ہیں ۔ یہ دن رات گرنتھ پڑھتے ہیں ۔ یہ بت پرستی کو مکروہ جانتے ہیں اور وید اور شاستر کو نہیں مانتے ہیں ۔ یہ فسق و فجور اور شراب خواری میں مشغول رہتے ہیں ۔
گوشائیں
1406ء میں چے تنتہ قوم کا برہمن ندیا کے ضلع میں پیدا ہوا ۔ اس نے ظاہر ہوا کہ پیدا کرنے والے کا نام جگناتھ ہے اور مکتی حاصل کرنے کے لیے ذات بات کی ضرورت نہیں ۔ ہندو مسلمان مرد و عورت سب برابر ہیں ۔ اس کے چیلوں نے عورتوں کو چیلا بنانا شروع کیا اور عورتیں بھی مردوں کی طرح لباس پہنے اور سر کو گھٹانے لگیں ۔ پہلے پہل انہوں نے مجرد رہنے کی قید لگائی ۔ مگر عرصہ کے بعد اس میں کنوارے اور بیاہے دونوں اس پنتھ میں شامل ہونے لگے اور یہ گوشائیں کہلانے لگے ۔
گنج بخشی
اس پنٹھ کا بانی ایک برہمن تھا جو گرو نانک کا چیلا تھا ۔ اس نے گرو کی اتنی خدمت کی کہ اسے گنج بخش کا خطاب دیا ۔ اس پنتھ کی جملہ رسوم نانک شاہیوں یعنی سکھوں کی طرح ہیں ۔
گن ہوتری
یہ آگ کی پوجا کرنے والے ہیں اور اسے سوائے برہمن کے جو بیوی رکھتا ہے کوئی اور اس پنتھ کو اختیار نہیں کرسکتا ہے ۔ یہ ڈاھی اور مونچھ مونڈ کر اپنے گھر میں ایک گڑھا ویدوں کی ہدایت کے مطابق بناتے ہیں اور اس میں وہ آگ جو گرو سے ملتی ہے روشن کرکے مع اپنی بیوی کے اس کی پوجا کرتے ہیں ۔ یہ آگ کو ہمیشہ یا پوری زندگی روشن رکھتے ہیں ۔ اگر کبھی یہ آگ بجھ جائے تو دو پیپل کی دو لکڑیوں کو رگڑ کر اس آگ کو دوبارہ روشن کرتے ہیں ۔ اس دوران وید کے اشلوک مسلسل پڑھتے رہتے ہیں ۔ یہ اس آگ میں دن میں تین دفعہ ہوم یعنی گھی ڈالتے ہیں اور ویدوں کے اشلوگ مسلسل پڑھتے ہیں ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہوم کی بدولت آفتاب ، ماہتاب اور دوسرے ستاروں کو قوت پہنچتی ہے اور وہ خوش ہوکر اس عمل کی قوت سے افعال انسانی کو خوبی و شفقت کی نظر سے کرتے ہیں ۔ جب ان دونوں میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اسی آگ سے اسے نذر آتش کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس آگ کو بجا دیتے ہیں ۔ کیوں کہ اس کی روشن پوجا کے لیے ضروری ہے کہ میاں اور بیوی دونوں موجود ہوں ۔ تنہا اس آگ کی پوجا یا روشن نہیں کی جاسکتی ہے ۔ اس عمل کی وید میں بہت فضیلت بتائی جاتی ہے ۔
مادھوی
مادھو ایک فقیر تھا اور اس پنتھ کے ماننے واکے گزر اوقات کے لیے بھیک مانگے ہیں اور ایک قسم کا ساز جسے بلبان کہتے ہیں بجاتے ہیں ۔
نکھی
سنسکرت میں نکھ ناخن کو کہتے ہیں اور نکھی یعنی ناخن والے ۔ اس پنتھ کے لوگ ناخن نہیں کٹواتے ہیں اس لیے ان کے ناخن بہت بڑے جانوں کی طرح ہوجاتے ہیں ۔ ان کے نذیک ناخن رکھنا عبادت ہے ۔ ورنہ ان میں ایتت اور سناسی پنتھوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ اپنی گزر بسر بھیک مانگ کرتے ہیں اور زبردستی بھیک حاصل کرتے ہیں ۔
نانک
ہندوؤں اور مسلمانوں کی تفریق مٹانے کی کوشش کرنے والا دوسرا شخص لاہور کے گرد نواح میں تقریباً 1669ء میں نانک پیدا ہوا ، اس نے ویدوں کی مخالفت کرکے کہا وید پڑہت برہما مرے چارو وید کہانی سنت کی مہماوید نہ جانے نہ جانے برہم گیانی آپ
پریمشور سری چند اور لکشمی داس اس کے دو لڑکے تھے ۔ سری چند شراب پیتا گوشت کھاتا اور سر منڈاتا تھا ۔ اس نے اپنے چیلوں کو سھجد ہاری کا خطاب دیا ۔ لکشمی داش نے اپنے بال بڑے بڑے بڑھائے اور اپنے چیلوں کو گیس دہاری کا خطاب دیا ۔ نانک گرو کہلاتا تھا اور اس کے جانشین بھی گرو کہلائے ۔ نانک سے لے کر گوبند سنگھ تک دس گرو مسلسل ہوئے ۔
تقریباً 1707ء میں گوبند سنگھ نے اس پنتھ کے قواعد و ضوابط مکمل کرکے ایک علحیدہ دھرم بنایا ، اس وقت سے گرو ہونا موقوف ہوگئے ۔ نانک سے لے کر گوبند سنگھ کا کلام جو پنجابی زبان میں تھا جمع کیا گیا اور یہ مجموعہ گرنتھ کے نام سے موسوم ہوا ۔ نانک نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہمی اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کیں ۔ لیکن گوبند سندھ نے اس کے برعکس بغض اور عداوت کا بیج بویا اور مسلمانوں کے کو نیست و نابود کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ اس نے کہا میں ایسا ایک سکھ بناؤں گا جو سوا لاکھ سیکھ مارے گا ۔ چوں کہ گوبند سنگھ شیخ کا صحیح تلفط ادا نہیں کرسکتا تھا اس لفظ کو شیخ کو بولا کرتا تھا اور ان کو ہلاک کرنے والوں کو سکھ نام رکھا ۔
سکھ ہندوؤں کی طرح آواگون کے قائل ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ گرو کے زمانے میں چالیس پوڑیاں تھیں ۔ جن کو پڑھ کر سکھ لوگ کو جو لڑائی میں مارے جاتے تھے زندہ کرکے دوبارہ مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا کر دیتے تھے ۔ موجودہ زمانے میں چالیس کے بجائے اڑتیس پوڑیاں ہیں جن میں دو مخلوط ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پوڑیاں اب اپنی اصلی حالت میں نہیں ہیں اس لیے جو اثر پہلے زمانے میں ان کے پڑھنے سے ہوتا تھا اب وہ نہیں ہوتا ہے ۔ پوڑیوں کی تعریف کرتے وقت یہ لوگ آواگون کے مسلے کو بالکل بھول جاتے ہیں ۔
نانک پنتھی
یہ پنتھ کبیر سے ملتا ہے ۔ بابا نانک ذات کا کھتری تھا ۔ نانک صاحب کا گرنتھ مشہور ہے ْ۔ نانک پنتھی سر پر بال رکھتے ہیں اور گردن سے اوپر استرے سے بال نہیں منڈاتے ہین ۔ اس کو کیس کہتے ہیں ۔ اکثر نیلا لباس پہنتے ہیں ۔ ان میں ذات کی تمز نہیں ہوتی ہے ۔ سب کے ساتھ کھالیتے ہیں ۔ یہ سلام میں واہ گروہ کی فتح کہتے ہیں اور اکالی کہلاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک اور اسی میں ہیں جو گرو گو بند سنکھ کے گرنتھ کو نہیں ماتے ہیں ۔ ان میں ستھری اور سادیو بھی ہوتے ہیں اور ستھرے ڈنڈے بجاکر کالی دیوی کا اپاسک بیان کرتے ہیں ۔ مختلف ذاتوں کے ہندو نانک پنتھی ہیں ۔
ناگہ
یہ برہنہ رہتے ہیں اور بعض لنگوٹی پہنتے ہیں ۔ یہ ڈاڑھی ، مونچھ اور سر پر جٹا رکھتے ہیں ۔ یہ بدن پر مٹی یا راکھ ملتے ہیں ۔ یہ لوگ سر پر جٹائیں رکھتے تھے اور ستر پوشی کے لیے صرف یہ ایک لنگوٹ باندھتے تھے ۔ باقی بدن پر زرد مٹی مل لیتے تھے ۔ سامان لڑائی کے ساتھ اپنے گورو کے ساتھ گھومتے پھرتے رہتے ہیں ۔ یہ ہاتھ میں ہتھیار مثلاً نیزہ ، تلوار اور بندوق وغیرہ رکھتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہر وقت اپنے مقالفوں سے لڑائی کرتے رہتے تھے ۔ تاہم انگریزوں کے دور سے یہ نقلی ہتھیار رکھنے لگے ۔ یہ بھیک مانگتے ہیں اور بعض اوقات زبردستی مانگے ہیں ۔ گھومنے پھرنے کے بہانے چھپ کر کچھ تجارت بھی کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض نوکریاں بھی کرتے ہیں ۔ یہ بیراگیوں سے نہایت کینہ رکھتے ہیں ۔ جب کوئی بدچلن و بد وضع چیلہ ایتت سے قابل اعتماد اور تجارت کے قابل نہیں سمجھا جاتا ہے تو وہ بھی آلات حرب سے مسلح ہوکر گروہ ناگہ میں مل جاتا ہے ۔ جس کو کھانا ملتا ہے پھر جب وہ چاہتا ہے تو سرمایا تجارت جمع کرکے بھی ایتت کے پنتھ میں شامل ہوجاتا ہے ۔ ان میں نرملہ ، ناگہ اور اداسی میں فرق بہت کم ہے ۔
نرملہ
جس کے معنی پاک و صاف ہیں ۔ اس پنتھ کے اصول سکھوں کے گوبند سنگھی کی طرح ہیں ۔ لیکن یہ محض فقیر ہیں اور صرف ایک لنگوٹی اور چادر کے کچھ نہیں پہنتے ہیں ۔ ان میں اکثر سکھوں کی نسبت صاحب علم اور گوشہ نشین ہیں ۔ ان کی ظاہری وضع و قطع اداسیوں کی طرح ہے ۔ مگر یہ یہ زیادہ تر وید کی طرف رغبت رکھتے ہیں اور اس لیے وید کے احکام کو نانک شاہی سے مطابقت دیتے ہیں ۔ یہ ترک منہیات و ممنوعات کرکے متوکلانہ زندگی گزر بسر کرتے ہین ۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو ویدانت میں برہمنوں پر فوقیت رکھتے ہیں ۔
ہری چندی
کہا جاتا ہے کہ ہری چند قدیم زمانے میں ایک مشہور راجہ گزرا ہے ۔ مگر گردش آسمان میں مبتلا ہوکر بنارس آکر ڈوموں میں شامل ہوگیا ۔ اگرچہ اس نے کوئی پنتھ نہیں جاری کیا مگر ڈوم اپنے کو فخریہ ہری چندی کنتھی کہتے ہیں ۔
ویتنہ سوامی
1520ء میں ویتنہ سوامی نے سب سے نرالا پنتھ جاری کرکے اعلان کیا کہ پیدا کرنے والا شہروں اور بازاروں ویسا ہی موجود ہے جیسا کہ پہاڑ کے غاروں میں سمجھا جاتا ہے ۔ وشنو نے کرشن کا اوتار لے کر سمجھا دیا کہ جسم کو نقصان پہونچانے ، تنہا ، ننگا اور بھوکا رہنے سے سوائے تکلیف اور نقصان کے کچھ فائدہ نہیں ۔ زندگی کے دن ہنسی مسخرا پن میں گزارنے اور نفس کی جملہ خواہشوں کو پورا کرنے دل کو ہمیشہ خوش و خرم رکھنے سے روح کی وشنو تک رسائی اور مکتی حاصل ہوسکتی ہے ۔ خوبصورت حسین شکلوں کی دیکھنے سے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے ۔ اس وجہ اس پنتھ کے لوگ دو خوبصورت لڑکوں کا پرستش کے لیے انتخاب کرتے ہیں ۔ مورتوں کو شکیل خوشنما بنا کر لباس اور زیور سے آرستہ کرتے ہیں ۔ بالا گوالہ کرشن اور اس کی دلہن راھا کی پوجا کرتے ہیں اور اس دہرم کا سارا دار و مدار دل کو خوش رکھنے پر منحصر ہے ۔ پریم ساگر اس دھرم کی معتبر کتاب سمجھی جاتی ہے ۔
آریا سماجی
1824ء یا1828 ء مول شنکر ولد امبا شنکر گجراتی شیوی برہمن مقام مروی ریاست کاٹھیاوار میں پیدا ہوا ۔ یہ شخص 1845 ء میں سنیاسی ہوگیا ۔ 1860 میں اس نے سنیاس چھوڑ کر متھرا میں قیام کیا ۔ یہاں اس نے ورجانند سرستی سے سنسکرت زبان میں مزید تعلیم حاصل کی اور اپنا نام بدل کر دیانند سرستی رکھ لیا ۔ اگرچہ اس نے اپنا نام بدل دیا لیکن اس کا دل دیا کے مادہ سے بالکل خالی تھا ۔ اس کی سنسکرت عبادت کا ہندی میں ترجمہ کیا کرتا تھا ۔ بیان کرتا ہے کہ جب ملکہ وکٹوریہ کا دربار دہلی میں منعقد ہوا تو یہ شخص جلسہ دیکھنے کی غرض سے چار نوکروں کو ہمرا لیتا گیا ۔ وہاں ہجوم کی وجہ سے اتفاقاً اس کی گھٹری جس میں اس کے پرانے کپڑے تھے گم ہوگئی ۔ اس نے گھتری کے پیسے ان نوکروں کی تنخواہ سے کاٹ لیے ۔
برہم سنیاسی
چونکہ دیانند نے خاندانی شودر خجستہ اطوار کو منتر سنگھتا پڑھائے اور اپ نین کرانین کی ممانعت کی جس سے ذات پات کی تفریق پائی گئی ۔ لہذا اس نقص کو دور کرنے کے لیے 1880ء میں آسام کے ضلع گوال پاڑہ میں شبورائن نے اعلان کیا کہ پیدا کرنے والے کی نظر میں تمام آدمی یکساں ہیں ۔ ذات پات اور دھرم کی تفریق باطل ہے ۔ شراب اور سور کا گوشت نہ کھانا چاہیے ۔ بہت سے لوگ اس کے چیلے ہوگئے اور اپنے نام کے ساتھ برہم کا لفظ لگا کر سنیاسی کہلانے لگے ۔
مایالال
مایا لال مالوہ کا رہنے والا راجپوت تھا ۔ اس کے پیرو کار دارشکوہ کو سادھو مانتے ہیں ۔
پران ناتھی
یہ پران ناتھ کے پیرو ہیں جو قوم کا کھتری تھا اور ہندو و اسلام دونوں کو حق پر مانتا ہے ۔
مادھو آچاریہ
اس کا اصل نام باسدیو اچاری تھا ۔ جب وہ سنیاسی ہوا تو اس نام مادھو اچاریہ ہوگیا ۔ یہ برہمن تھا اور اس کو آنند تیرتھ بھی کہتے ہیں ۔ اسے پورن پرگیا ، یعنی کامل گیا بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے باپ کا نام مدھیاک بھٹ تھا ۔ 1119ء میں یہ پیدا ہوا تھا ۔ اس کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ یہ بایو کا اوتار ہے ۔ سری رام چندر جی کے عہد میں ہنومان بایو کا اوتار تھا اور کلجگ میں وشنو کی اجازت سے بایو نے مادہو اچاریہ کے روپ اوتار دہارن کیا ہے ۔ اس کا اعتقاد ہے ویشنو بھگوان ہی قائم و دائم ہے ۔ مادہ اور روح کا اس کے حکم سے ظہور ہوتا ہے ۔ جیو (روح) اور مادہ سے مل کر عمل ہوتا ہے اور بھگتی سے روح کو نجات ملتی ہے اور یہ سلسلہ دوامی ہے ۔ جب دنیا کا ظہور ہوتا ہے وہ برہم کا دن کہلاتا ہے اور جب قیامت ہوتی ہے تب برہم رات کہی جات ہے ۔ برہمی استری (بیوی) لچھمی پرکرتی (مادی ٰ) کو طاقت بخشتی ہے اور جب جیو اور پراکرتی مل جاتے ہیں تب اس میں تین گن (صفات) پیدا ہوجاتی ہیں ۔ رجو گن ، تمو گن اور جیو تین قسم کے ہیں ایک مکت جوگ جو دائم و اصل ذات ہیں دوسرے تم جوگ جو ہیمشہ جہنم میں رہیں گے ، تیسرے سنساری جو ہمیشہ دنیا میں رہیں گے ۔
پنڈت شیو نارائن
یہ غازی پور کا راجپوت تھا اور کسی گورو کو نہیں مانتا تھا اور تصوف کا قائل تھا ۔ یہ مورتی پوجا کے خلاف تھا اور خاص کر بلبہ چاری گوسائم کے بالکل خلاف تھا ۔
بشنوئی
یہ لوگ نہ ہندو ہیں نہ مسلمان ۔ مرٹھ کی تحصیل موانہ میں ان کی کثیر تعداد آباد ہے ۔ یہ لوگ تمامی نام کے پیر کے مرید ہیں ۔ یہ جانداروں کو تکلیف نہیں دیتے ہیں ۔ غیر شخص کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے ہیں اور مشرق کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں ۔ خدا کا نام اور میکائک ، عزائیل ، جبرائیل اور محمدائیل فرشتوں کے نام لیا کرتے ہیں ۔ یہ اپنے مردے دفن کرتے ۔ یہ لوگ ایٹیہ اور دانا پور کی طرف بھی آباد ہیں ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں