105

پنجاب کی پست ذاتیں اور ان کا ارتقاء

یہ معاشرے کے پست ترین طبقات یعنی سیلانی ، جرائم پیشہ ، خدمت گار اور دست گار شامل ہیں ۔ یہ سیاسی طور پر غیر اہم رہے ہیں اور ان کی روایات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ وہ قدیم عنصر کا ایک غیر آریائی انبوہ کثیر شامل ہیں جو اب پورے برصغیر میں اب موجود ہے ۔ ان کی روایات دلچسپ بھی ہیں قدیم حوالہ فراہم کرتی ہیں ۔ دوسری طرف یہ عہد قدیم سے بیشتر دستکاری کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں مزدوری کا کٹھن کام انجام دیتے رہے ہیں ۔ ان میں شکاری ، سیلانی یا آورہ گرد ، جرائم پیشہ ، ، خاکروب ، چمڑا ساز ، جولاہے ، ماشکی ، ماچھی ، ملاح ، ترکھان ، لوہار ، پتھر کا کام کرنے والے ، ظروف ساز ، سنار ، نمک بنانے والے ، دھوبی ، رنگساز ، درزی ، تیل نکالنے والے ، قصاب ، کتان کوپ ، شراب کشید کرنے والے اور دیگر دستگار ، مخصوص خدمت گار شامل ہیں ۔ یہ بشتر چند نسلی گروپ مثلاً چوہرا ، ڈوم اور نٹ وغیرہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ معاشرے کے بشتر طبقات کا خیال ہے ان کے ساتھ قریبی تعلق اور شناخت کی صورت میں ان کی تحقیر ہوگی ۔ 
سیلانی قبائل جو کہ ابتدا میں جنگلی یا جنگل میں رہنا پسند کرتے تھے اور اب بھی یہ گاؤں یا آبادی کے باہر رہائش رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی خوراک کے لیے چھوٹے موٹے جانور جن میں گیڈر ، لومڑیاں اور رینگنے والے جانوروں کے علاوہ مرے ہوئے جانوروں کی نعشیں بھی کھالیتے تھے ۔ یہ جوہروں کے کنارے اگی گھاس سے اپنے لیے بھدے سے چھپر اور عام استعمال کی اشیا بناتے تھے ۔ یہ اپنی عورتوں کی جسم فروشی بھی کروانے میں انہیں کوئی عار نہیں تھا ۔ اس کے علاوہ یہ ہمیشہ چھوٹی موٹی چوریاں بھی کرتے تھے ۔ یہ خانہ بدوش اور سیلانی قبائل کی ادنیٰ ترین قسم ہیں ۔ 
اگر کوئی قبیلہ اپنی خانہ بدوشی کو چھوڑ کر کسی گاؤں میں آباد ہوجانے کی صورت میں ان کا جانوروں شکار اور کھانا چھوڑ کر وہ فضلہ اٹھانے کا کام شروع کر دیتا ہے ۔ لیکن نعش یا مردار جانور بدستور کھاتا رہا تھا اور اس لیے وہ خاکروبی کہلایا ۔ یہ خاکروب یا چوہڑا زات بن گئی تاہم وہ مطمعین تھا اس کا ایک مستقل روزگار لگ گیا ۔ ان چوہڑوں کی ایک شاخ نے خاکروبی کا کام چھوڑ کر چمڑا رنگنے لگا یا اس اور اس کے متعلق دیگر امور جو اس پیشے کے متعلق ہیں اپنا لیے ۔ جو کہ خاکروبی کی نسبت کم غلیظ کام ہے ۔ لیکن وہ مردار خوری بدستور کرتے رہے ۔ کیوں کہ مردہ جانوروں سے اس کا تعلق بدستور رہا ہے اور اب وہ چمار بن گیا ۔ اگر یہی چمار چمڑے کام چھوڑ کر کپڑا بننے کا کام اپنا لیتا ہے اور مردار خوری بھی چھوڑ دیتا ہے تو وہ جولادھ یعنی جولاہا بن جاتا ہے اور وہ ہندو مذہب میں بھی شامل ہوجاتا ہے ۔ 
ضروری نہیں ہے چمار خاکروب سے چمار بنے ۔ جب خاکروب یا چوہڑے نے فضلے کو چھونے سے انکار کردیا تو وہ مصلیٰ یا چمڑے کا کام چھوڑ کر جب اس نے خاکروبی اختیار کی تو وہ رنگریٹا بن گیا ۔ کھیتک جو مشرق میں خاکروب ہے وہ مشرق میں چمڑا رنگنے والا بن گیا ۔ اس طرح کوئی چمار نے جب کپڑا بننا شروع کیا تو وہ جولاہا یا بونیا بن گیا ۔ یعنی کوئی قطعی خط نہیں کھنچا جاسکتا ہے ایک کام کرنے والے پہلے کون سا کام کرتے تھے ۔ لیکن ہر پست ذات میں اپنی حثیت بہتر کرنے کے لیے ارتقائی عمل جاری رہا اور اس میں سے شاخیں نکلتی رہیں ۔ 
ہم دیکھتے ہیں کچھ سیلانی ذاتوں نے مردم خوری چھوڑ دی ۔ مثلاً باوریوں نے اور وہ اعلیٰ شکاری بن گئے ۔ ان میں سے کچھ نے خانہ بدوشی نہیں چھوڑی اور مختلف پیشہ اپنالیے ۔ مثلاً اوڈ یا چنگڑ اور کچھ دیگر کاشت کاری کرنے لگے ۔ ماتہم جرائم پیشہ ہوگئے ۔ بنجاروں کی طرح کچھ نے تجارتی سامان کی نقل و حرکت یا پھیری لگا کر مال فروخت کرنا شروع کر دیا ۔ 
ان پست قبائل میں کچھ پانی کے شکاری ہیں ۔ یہ ہرن یا گیڈر نہیں بلکہ مرغابی ، مچھلی ، مگر مچھ اور کچھوے پکڑتے ہیں ۔ یہ نشیبی علاقوں یا دریا کے کنارے رہتے ہیں ۔ یہ پودوں کی لچکیلی شاخوں سے جھوپڑے بناتے اور دریا کے کنارے اگی گھاس سے اپنے جالوں کے لیے رسے اور ستلیاں بنتے ہیں ۔ کہیل ، مور اور جھیل اس قسم کے ہیں ۔ ان کے ۔کچھوا اور مگرمچھ خوری کرنے پر انہیں معاشرے نے قبول کرلیا ہے ۔ جیسا کہ کہیل اور جھیل ملاحوں اور مچھروں کا ایک باعزت طبقہ ہے اب انہوں نے خود کو مچھلی کھانے تک محدود کر لیا ہے ۔ اب جھنیور ، کہار اور ماچھی ذات ٹوکری ساز ، کشتی بان ، مچھلیاں پکڑنے والے ، پانی بردار اور مسلمان آبادی کے درمیان کھانا پکانے والے ہیں ۔       
جب سماجی حثیت میں ترقی ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقی مذہب کے درجہ میں بھی تبدیلی ہوتی ہے کہ اسے باعزت طبقات کے مذہب سے زیادہ ہم آہنگ کیا جاسکے ۔ اکثر خدمت گاروں کا حقیقی مذہب اور اس کے قاعدے قانون کس قدر گاؤں والوں کے قاعدے قانون سے سے مطابقت اختیار کرلیتے ہیں ۔ مثلاً مسلمانوں کے گائوں میں چوہڑے اپنے مردے دفن کرتے ہیں ۔ جب کہ ہندو گاؤں میں چتا جلائیں گے ۔ تاہم انہیں ہندو اور مسلمان دونوں قبول نہیں کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ایک خاص عقیدے کی کھلی پیروی ، نصف ہندو ، نصف قدیمی مذہب ۔ جو بشتر اچھوت طبقات کو جدا کرتا ہے ۔ اسلام یا سکھ مذہب کے ساتھ تبدیلی برتر طبقات میں آنے کی جدوجہد ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عموماً پرانا پیشہ ترک کرکے ذرا بہتر رتبہ والا پیشہ اختیار کرلیا جاتا ہے ۔ مسلمان ہونے والا خاکروب فضلہ اٹھانے سے انکار کردے گا اور سکھ ہونے کی صورت میں وہ چمڑے کا کام کرنے لگے گا ۔ چمڑے کا مزدور مسلمان ہونے کی صورت میں یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کام اپنالے گا اور سکھ پاہل لے کر کھڈی پر کام کرنے لگے گا ۔ یہ سکھ رام داسیا یا روداسیا کہلاتا ہے اور وہ کبھی اس چمار کے ہاتھ کا پانی نہیں پیے گا جب تک وہ سکھ نہیں ہوجائے ۔ 
اگرچہ یہ متنازعہ ہے کہ تبدیلی مذہب سے ان سماجی رتبہ میں اضافہ ہوا ہے کہ نہیں ۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ مستقبل میں ایک ایسی ذات بن جائیں گے جو اس ذات سے برتر ہوگی جس سے وہ نکلے تھے ۔ ممکن ہے وہ ترقی کرتے ہوئے اس ذات کی نسلیاتی نام میں شامل ہوجائیں جس کا موروثی پیشہ انہوں نے اختیار کیا ۔ ہوسکتا ہے یہ ان ذاتوں کی علحیدہ شاخیں بنائیں اور علحیدہ شاخوں کے نام سے جانے جائیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ان پیشہ ورانہ ذاتوں کے حصے بالکل اسی انداز میں تشکیل پاتی ہیں ۔ کمتر نسل اور روایت کی نسل زندہ رہے گے اور یہ خود بھی اپنے دور دراز ماخذ سے نکلی ہوئی دیگر شاخیں بھی ان کے ساتھ بھائی بندی نہیں رکھیں گیں ۔ 
اگر ان پیشہ ورانہ ذاتوں میں نیچے اوپر آنے والے شاخوں میں بھرتی ہوئی ہے تو اس میں اوپر سے اضافے بھی ہوئے ہیں ۔ خصوصاً جولاہوں کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اعلی اور ادنیٰ دستکاروں کے درمیان ایک حد رکھتی ہے ۔ کیوں کہ غربت یا دیگر حالات و واقعات کے درمیان ایک ہی قسم بحث کی صورت رکھتی ہے ۔ کیوں کہ غربت یا دیگر واقعات کے باعث نشیب میں چلی جانے والی کسی اعلیٰ ذات کا شخص اکثر جولاہے کا پیشہ اختیار کرلیتا ہے ۔ تاہم شاذ و نادر اس سے زیادہ پستی میں چلا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایسا ہونا ممکن ہے کہ حجام ، ترکھان اور لوہار زراعتی ذاتوں سے آئے ہوں ۔      
پہلے معاشرے میں جنگو قبائل بالا دست کہلاتا تھا ۔ اس کے بعد جاگیردار کو اہمیت حاصل تھی ۔ معاشرے میں جیسے جیسے تبدیلی واقع ہوئی جنگجو طبقہ جاگیردار طبقہ میں بن گیا ۔ بعد کے دور میں کاشت کاروں کی اہمیت بڑھی اور زمین دار قابل عزت اور محترم ہوگیا ۔ لیکن یہ بات زیر نظر رہے کہ ہر کاشت کاری کا کام کرنے والا قابل عزت نہیں ہوتا تھا ۔ اس میں صرف وہ قابل عزت ہوتے تھے جو زمینیں رکھتے تھے ۔ چاہے وہ کتنی قلیل کیوں نہ ہو ۔ جب کہ کھیتوں کے مزدور کمتر یا پست سمجھے جاتے ۔ اس لیے انہیں کمی کہا جاتا تھا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں