131

پنجاب کے راجپوت قبائل

اتیراس
یہ صرف پٹیالہ میں ملتے ہیں ۔ ان کے بارے میں مزید آگہی نہیں ہوسکی ۔ 
اپیسال
یہ فتح جنگ کے علاقہ میں آباد ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ منج کی شاخ ہیں ۔ ان کی رسومات اور شادیوں میں اب بھی ہندوانہ نقوش پائے جاتے ہیں ۔ 
باگڑی
یہ راجپوت کے علاوہ جاٹ بھی کہلاتے ہیں اور مشرقی پنجاب میں آباد ہیں ۔ 
برگوجر
یہ سورج بنسی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ رام کے لڑکے لو کی اولاد میں سے ہیں ۔ دھوندھار اور راجوڑی میں ان کی ریاستیں تھیں ۔ راج گڑھ اور الور بھی ان کے تصرف میں تھا ۔ بعد میں کھچواہا قوم نے انہیں وہاں سے خارج کردیا ۔ یہ صرف مشرقی پنجاب میں ملتے ہیں ۔ 
باریہ
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ سورج بنسی اور مہابھارت کے راجہ کرن کی اولاد ہیں ۔ انہیں جٹ بھی بتایا جاتا ہے ۔
بھکر وال
یہ پہلے راجپوت کہلاتے تھے اور خود کو پنوار کی شاخ بتاتے تھے ۔ مگر اب انہوں نے عباسی ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ یہ راولپنڈی کے جنوب مشرقی حصہ میں آباد ہیں ۔ ان اب بھی بعض رسومات ہندوانہ ہیں ۔  
بدھال
یہ بھی پہلے راجپوت کہلاتے تھے اور خود کو پنوار کی شاخ بتاتے تھے ۔ مگر اب انہوں نے عباسی ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ یہ راولپنڈی کے جنوب مشرقی حصہ میں آباد ہیں ۔ ان اب بھی بعض رسومات ہندوانہ ہیں ۔ بھکر وال نام کا ایک چھوٹا سا قبیلہ بھاولپور میں بھی آباد ہے ۔ 
بھٹی 
یہ یادو کی شاخ ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پنجاب پر حکومت کرنے سے پہلے گجنی (غزنی) و زابل پر حکومت کی تھی ۔ یہ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کی بہت سی شاخیں ہیں اور پنجاب میں اکثر مقامات پر ملتے ہیں ۔ 
پنوار
پرمار یا پنوار کا تعلق اگنی کل سے ہے ۔ پورس جس نے سکندر کا مقابلہ کیا تھا اس کا تعلق بھی پرمار سے تھا ۔ اگرچہ یہ ایسے لڑاکے نہیں تھے جیسا کہ ظاہر کیا جاتا ہے ، مگر ان کی سلطنت بہت وسیع رہی ہے ۔ زمانہ قدیم سے ایک مثل مشہور ہے کہ دنیا پرمار کی ہے ، یہ بھی حقیقت ہے کہ اگرچہ یہ خاندان پرامر اگنی کل میں کمتر ہے اور یہ دولت و حشمت میں انہل وارا کے سولنکھیوں تک نہیں پہنچے اور نہ ہی وہ چوہان راجاؤں کی طرح مشہور ہوئے ۔ لیکن ان کی ریاستوں کی نسبت زیادہ ان کی ریاستیں زیادہ وسیع رقبہ پر پھیلی ہوئی تھیں ۔ ان کی حکومتیں میسر ، دھار ، منڈو ، اوجین ، چندر بھاگا ، چتور ، ابو چنرورتی ، مئو ، میدانہ ، پرماتی ، امرکوٹ ، بھکر ، لوور اور پٹن میں ان کی ریاستیں رہی ہیں یا انہوں فتح کیا تھا ۔ پنجاب کے کئی راجپوت قبیلوں کا دعویٰ ہے کہ وہ پنوار کی شاخ ہیں ۔ یہ پنجاب اور زیرین سندھ میں بڑی تعداد میں ہیں اور جٹ کہلاتے ہیں ۔ 
پھتیال
ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چندیل کی ایک شاخ ہیں ۔ اس لیے راجپوتوں میں پست مانے جاتے ہیں ۔ یہ بلاس پور کے علاقہ میں آباد ہیں ۔ 
پٹھانیہ
ان کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ کانگڑہ کا شاہی خاندان کٹوچ کی شاخ ہیں اور پٹھان کوٹ آباد ہونے کی وجہ سے پٹھانیہ کہلاتے ہیں ۔  
پنڈیر
یہ بھی مشرقی پنجاب میں آباد ہیں اور کہا جاتا ہے یہ دھیما کی شاخ ہیں جو کہ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں شامل ہے ۔ 
باجوہ
باجوہ یا بجو سورج بنسی ماخذ کے دعویدار ہیں ۔ بجوات جو جموں و سیالکوٹ میں پہاڑیوں کے دامن علاقہ کا نام ان پر رکھا گیا ہے ۔ ان کی روایات کے مطابق ان کا مورث اعلیٰ راجہ شیٹپ کو سکندر لودھی کے دور میں ملتان سے بدخل کیا گیا تھا ۔ اس کے دو بیٹے کلس لیس تھے ۔ لیس جموں کی طرف نکل گیا اور ایک راجپوت لڑکی سے شادی کرلی ۔ جب کہ کلس نے پسرور کی ایک جٹ لڑکی کو اپنی بیوی بنایا ۔ ان دونوں کی اولادیں بجوات کے علاقہ میں آباد ہیں اور راجپوت اور جٹ کہلاتی ہیں ۔ ایک کہانی کے مطابق انے مورث اعلیٰ رائے جہسن کو رائے پٹھورا نے دہلی سے نکالا تو وہ سیالکوٹ میں کربلا میں آباد ہوگیا ۔ بجو راجپوت باجوہ جٹوں سے اپنا نسلی تعلق تسلیم کرتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے بجو راجپوتوں میں سکھوں کے دور تک یہ رایات تھی کہ کسی مسلمان لڑکی کو شادی کے لیے ہندو کرنے کے لیے زیر زمین تہ خانہ میں بند کرکے اوپر ہل چلایا جاتا تھا ۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ ان میں شادی ہندو و مسلمان دونوں آپس میں کرلیتے تھے ۔ یہ زیادہ تر سیالکوٹ میں یا اس کے ارد گر علاقہ میں ہیں ۔
تارڑ
تارڑ جو کہ سورج بنسی ماخذ کے دعویدار ہیں ۔ ان کی روایت ہے کہ ان کا جد اعلیٰ تارڑ بھٹز محمود غزنوی کی خدمت میں گیا اور اس کے ساتھ غزنی چلا گیا ۔ جب کہ اس کا بیٹا لوہی بھٹز سے گوجرات چلا آیا ۔ جہاں یہ قبیلہ تشکیل پایا اور تارڑ اسی لوہی کی اولاد ہیں ۔ ایک اور کہانی کے مطابق ان کی آباد کاری ہمایوں کے وقت ہوئی تھی ۔ وہ گوندل ، ورائچ ، گل اور دیگر قبیلوں میں شادی کرتے ہیں ۔ وہ گوجرات ، گوجرانوالہ اور شاپور میں ان کی زیادہ آبادی ہے ۔ انہیں زراعت پیشہ لیکن شورش پسند بھی کہا گیا ہے ۔ اس قبیلے کے نصف افراد راجپوت اور نصف خود کو جاٹ بتاتے ہیں ۔   
تاؤنی
تاؤنی سورج بنسی نسل اور راجہ سلواہن کے اخلاف کے مدعی ہیں ۔ جو اس کے پوتے رائے تان دہندہ ان کا مورث اعلیٰ تھا ۔ ایک اولاد میں سے رائے امبا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے امبالہ (انبالہ) کی بنیاد رکھی تھی ۔ یہ زیادہ تر مشرقی پنجاب میں آباد ہیں ۔  
ٹوانہ
شاپور کوہ نمک کے علاقہ میں ٹوانہ آباد ہیں ۔ پنجاب کی تاریخ میں ان کا اہم کردار ہے ۔ ٹوانہ ، گھیسا اور سیال ہم نسل اور پنوار راجپوت ماخذ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ وہ پہلے جہانگیرہ کے مقام پر آباد تھے ۔ بعد میں شاپور تھل میں آباد ہوگئے ۔ ٹوانوں نے سکھوں کا مطیع ہوجانے کے بعد بھی اپنی مزاحمت جاری رکھی ۔  
ٹھاکر
اس کا شمار کوہستان کانگرہ کی پست ذاتوں میں شمار ہوتا ہے ۔ اگرچہ انہیں راجپوت تسلیم کیا جاتا ہے اور راجپوت ان کی لڑکیاں لے لیتے ہیں مگر اپنی لڑکیاں انہیں نہیں دیتے ہیں ۔
جاتو
انہیں توار یا تنوار کی شاخ بتایا جاتا ہے اور مشرقی پنجاب میں آباد ہیں ۔
جنجوعہ 
ان کا مرکز مشرقی کوہستان نمک ہیں ۔ لیکن وہ ملتان اور ڈیرہ جات میں بھی پھیلے ہوئے ہیں ۔ وہ چندر بنسی ماخذ کے راجپوتوں کی شاخ ہیں ۔ ان کی روایت ہے کہ وہ راجہ مل کی اولاد ہیں جو کہ 989ء میں جودھ پور یا قنوج سے ہجرت کرکے آیا تھا ۔ جس کا بیٹا جودا تھا ۔ جنجوعہ کسی دور میں پورے کوہستان پر قابض تھے ۔ لیکن گھگروں نے انہیں مغرب کی طرف دکھیل دیا تھا ۔ اس خطہ میں ان کی سماجی حثیت گھگروں کے بعد ہے ۔ انہیں راجہ کہا جاتا ہے اور ان میں نسلی تقافر بہت زیادہ ہے ۔  
جودھرا
جودرا یا جودھرا ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جموں سے آئے تھے ۔ ایک روایت کے مطابق وہ ہندوستان سے آئے تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے گھیسا ان کی شاخ ہیں ۔ 
جسوال
یہ ہوشیار پور کے زیریں کوہستانی علاقوں میں آباد ہیں اور کٹوچ سے ان کا تعلق بتایا جاتا ہے ۔  
جوئیہ
یہ سندھ اور پنجاب کے جنوبی حصہ میں آباد ہیں اور مسلمان ہے ۔ یہ جاٹ بھی کہلالتے ہیں ۔ ان کا شمار چھتیس راج کلی میں ہوتا ہے ۔
چدھڑ
ان کا کہنا ہے کہ وہ تنوار راجہ تور کی نسل سے ہیں اور محمد غوری کے دور میں راجپوتانہ سے ہجرت کرکے بہاول پور آگئے تھے ۔ جہاں اچ کے شیر محمد کے ہاتھوں اسلام قبول کیا ۔ بعد میں یہ جھنگ آگئے 
چبھ
یہ کانگڑہ کے کٹوچ راجپوتوں کی نسل کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ ان کا مورث اعلیٰ چبھ نے پندرہ سو سال قبل کانگڑہ چھوڑا اور جموں میں بھمبر کے مقام پر آباد ہوگیا تھا ۔ سب سے پہلے اورنگ زیب کے دور میں سور سادی نے اسلام قبول کیا تھا ۔ مسلمان چبھ اس کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور اس کے مزار پر بچے کی چندیا نظر کرتے تھے ۔ اس رسم کی ادائیگی سے پہلے بچے کو حقیقی چبھ تسلیم نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی اس رسم کی ادائیگی سے پہلے اس کی ماں گوشت کھاتی تھی ۔ دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر کشمیر میں چبھال ان کے نام سے پڑا ۔ جبھ اعلیٰ حثیت کا قبیلہ ہے ۔ وہ جنجوعہ کی طرح راجہ کا لقب استعمال کرتے ہیں ۔ سادات اور گھگر ان کے ساتھ اپنی بیٹیاں بیاہنے میں ہچکچاتے نہیں ہیں ۔    
چوہان
چہومن یا چوہان یہ اگنی کل میں سب سے اعلیٰ ہیں ۔ یہ اگنی کل کیا تمام راجپوتوں میں بہادر اور شجاع ہیں ۔ ان کی ریاست پہلے پہل اجمیر میں قائم ہوئی تھی ۔ پرتھوی راج چوہان اسی خاندان سے تھا ۔ اس کا مقابلہ سلطان محمد غوری سے ہوا ۔ پہلی جنگ میں اس نے سلطان کو شکست دی مگر یہ دوسری لڑائی میں اس نے سلطان محمد غوری سے شکست کھائی اور خود بھی مارا گیا ۔ پنجاب میں بہت سے قبائل کا دعویٰ ہے وہ چوہان کی شاخ ہیں ۔    
دھنیال
یہ کوہ نمک کے رہنے والے ہیں اور چکوال میں دھنی انہیں کا نام ان کی نسبت سے پڑا ۔ یہ اب حضرت علیؓ کی اولاد کا دعویٰ کرنے لگے ہیں ۔ اب وہ مری کی پہاڑیوں پر آباد ہوگئے ہیں ۔ یہ اب خود کو عباسی کہتے ہیں ۔ ان میں سے بعض اپنے کو جٹ بتاتے ہیں ۔ 
دھودھی 
یہ ایک چھوتا سا قبیلہ ہے اور پنواروں کی شاخ ہیں اور اچھے کاشت کار ہیں ۔ یہ ستلج و چناب کے ساتھ بکھرے ہوئے ہیں اور ان کا خاص مرکز میلسی کی تحصیل ہے ۔ ان میں حاجی شیر محمد ایک پیر تھا اس کا مزار ملتان میں ہے ۔  
دودوال
یہ تارپور کا قدیم خاندان ہے جوکہ ہوشیار پور کے علاقہ میں سطح مرتفع کے شوالک کے راجپوت تھے اور اب بھی ہوشیار پور میں آباد ہیں ۔
دھوند 
ڈھونڈ یا دھوند ہزارہ راولپنڈی اور دریائے جہلم کی زیریں پہاڑیوں پر آباد ہیں ۔ اب انہوں نے رسول اللہ کے چچا حضرت عباسی کی اولاد ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اب یہ خود کو عباسی کہتے ہیں ۔ ایک روایت کے مطابق ان کا مورث اعلیٰ تیمور کے ساتھ دہلی آیا تھا ۔ شاہ جہاں کے دور میں اس کا بیٹا ژواب خان کہوٹہ آگیا اور جدوال ، دھوند ، سرارا اور تنولی قبائل کا بانی بنا ۔ اس کا بیٹا کھلورا یا کولو رائے کشمیر بھیجا گیا جہاں اس نے ایک کشمیری عورت سے شادی کی ۔ اس کے بطن سے دھوند نے جنم لیا ۔ اس کی دوسری بیوی سے کیتوال پیدا ہوا ۔ ایک اور ناجائز بیٹے سے ستی کی نسل چلی ۔ یہ روایت بے معنی ہے ۔ تیمور اور شاہ جہاں میں بہت فرق ہے اور کولو رائے ہندانہ نام ہے ۔ ان کے بارے میں انگریزوں نے کہا ہے ان میں اسلام سے شناسی برائے نام ہے ۔ جب کہ معاشرتی آداب میں ان کے ہند ماخذ کی جھلکیاں نظر آتی ہیں ۔ دھوند ، بب ، چبھ کا ماخذ ہندو ہے اور ان سب کا آپس میں تعلق ہے ۔ 
دھاریوال یا دھانیوال یا دھالیوال
 یہ اپنے کو بھٹی راجپوٹ بتاتے ہیں ۔ ان کی روایت کے مطابق اکبر نے ان کے سردار مہر مٹھرا کی بیٹی سے شادی کی تھی ۔ یہ بالائی ستلج میں آبادی ہیں ۔ 
رانگڑ
یہ کلمہ عموماً کسی گنوار کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ کسی مسلمان ہونے والے راجپوت کے لیے اس کے ہم نسل بھائی کہتے ہیں ۔ تاہم پنجاب میں کئی بستیاں رانگڑوں کی آباد ہیں ۔ اس لیے رانگڑ قبیلہ بھی کہا جاتا ہے ۔ 
راوت
یہ چنڈیلوں کی شاخ ہیں اور راجپوتوں میں انہیں پست مانا جاتا ہے ۔ یہ بھی مشرقی پنجاب میں آباد ہے ۔ 
راٹھور
راٹھوروں کے شجر نسب میں یہ رام کے لڑکے کش کے اخلاف ہیں اور اس طرح یہ سورج بنسی ہیں ۔ لیکن ان کے کبشر (نسب داں) اس سے منکر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اگرچہ کش کے اخلاف نہیں ہیں ، لیکن یہ کیوشت ہیں یعنی سورج بنسی اور یہ ویٹ (شیطان) کی لڑکی سے پیدا ہوئے ہیں ۔ یہ قنوج پر حکمران تھے اور بعد میں پنے ایک راجہ سوجی کی نسبت سوجی کہلائے ۔ ان سا دلیر اور بہادر راجپوتوں میں کم ہی ہیں ۔ مغلیہ لشکر میں پجاس ہزار راٹھور تھے ۔ پنجاب میں یہ کم پائے جاتے ہیں ۔
سیال
پنجاب میں سیال ایک اہم قبیلہ ہے اور انہیں پنواروں کی شاخ بتایا جاتا ہے ۔ انہوں نے ضلع جھنگ کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا گیا اور ملتان اور بھیر بھی ان کے زیر تسلط رہا ہے ۔ انہوں نے نول ، منکن ، مرل اور دیگر قبائل کو اس علاقہ سے بیدل کیا تھا ۔ 
ان کی روایت کے مطابق سیال پنوار راجپوت کے رائے شنکر کی اولاد ہیں ۔ جو کہ الہ آباد فتح پور کے درمیان دارا نگر کا رہائشی تھا ۔ قبل اس کے پنواروں کی ایک شاخ جونپور چلی گئی اور وہیں رائے شنکر پیدا ہوا ۔ ایک کہانی یہ بھی کہتی ہے کہ رائے شنکر کے تین بیٹے سیو ، ٹیسو اور گھیسو تھے ۔ جن سے جھنگ کے سیالوں ، شاپور کے ٹوانوں اور پنڈی گھیب کے گھیبوں کی نسل چلی ہے ۔ ایک روایت کے مطابق رائے شنکر کا اکلوتا بیٹا سیال تھا اور ٹوانوں اور گھیبوں کے مورثین شنکر اور سیال کے ہم جد رشتہ دار تھے ۔ رائے شنکر کی موت کے بعد خاندان میں لڑائی جھگڑے پیدا ہوگئے اور اس کا بیٹا پنجاب ہجرت کر گیا ۔ قریباً قریباً یہ وہی دور تھا جب کہ متعد راجپوت خاندان یعنی کھرلوں ، ٹوانوٓں ، گھیبو ، چدھروں اور پنوار سیالوں کے اجداد نے ہندوستان کے صوبوں سے پنجاب ہجرت کی ۔ ان دنوں بابا فرید کے ہاتھوں اسلام قبول کرنا ایک عام بات تھی ۔ سیال پاک پٹن پہنچا تو بابا فرید کے ہاتھوں اسلام قبول کرلیا ۔ بابا فرید نے اسے دعا دی اس کے بیٹے کی اولاد جہلم و چناب کے درمیانی علاقہ پر حکومت کرے گی ۔ مگر یہ پیشنگوئی درست ثابت نہیں ہوئی ۔ سیال اور اس کے ساتھی جہلم کے کنارے کچھ عرصہ رہنے کے بعد رچنا و جچ دو آبوں میں ادھر اوھر بھٹکتے رہے ۔ اسی دوران اس نے ایک عورت بھٹی خان میکن کی بیٹی سہاگن سے شادی کی ۔ روایت ہے اس نے سیالکوٹ میں ایک قلعہ بنایا تھا ۔ بعد میں اس نے تھل اور منکیرہ اور دریائے جہلم کی درمیانی پٹی پر قبضہ کرلیا ۔ یعنی خوشاب سے گڑھ مہاراجہ تک ۔ 
سیال ایک بڑا قبیلہ ہے اور ان کی روایت کے مطابق پانسو سالوں میں پھیل جاتا ممکن نہیں ہے ۔ یہ اپنی ہجرت کا دور علاؤالدین خلجی کا بتاتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب کہ علاقہ سخت متاثر تھا ۔ یہاں خانہ جنگی تھی اور منگولوں کے حملے مسلسل جاری تھی ۔ اس لیے یہاں بدامنی کا دور تھا ۔ اس لیے ممکن نہیں ہے کہ سیالوں کے جد اعلیٰ نے یہاں ہجرت کی ہوگی ۔ اس کی نسبت ہندو راجپوتوں کے راجپوتانہ کا علاقہ خاصہ محفوظ ۔ جب کہ یہی دور یہاں کے بشتر راجپوتوں کا بتایا جاتا ہے ۔ جو کہ ممکن نہیں ہے ۔ یہ روایت اس لیے وضع کی گئی ہے کہ اپنا تعلق راجپوتوں سے ثابت کیا جائے ۔ اصل میں پنوار اس علاقہ میں قدیم زمانے سے آباد ہیں ۔ ان کا شمار راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں ہوتا ہے ۔ مگر یہ بات اس علاقہ کے دوسرے خاندانوں کو معلوم نہیں تھی اس لیے وضع کی گئی ہے ۔   
ضلع جھنگ کا سارا جنوبی علاقہ سیالوں کا گڑھ ہے ۔ چناب کے ساتھ ساتھ راوی سے اس کے ارتصال تک اور راوی و جہلم کے سنگموں کے درمیان بھی راوی کی ساری گزرگاہ کے کناروں پر آباد ہیں ۔ بلکہ ساہی وال ، جہلم سے شاپور اور گوجرات کے علاقہ اور ڈیرہ جات و مظفر گڑھ میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ 
برطانوی رپوٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سیال مویشوں کے شوقین ہیں اور زراعت پر کم توجہ دیتے ہیں ۔ کھرل اور کاٹھیا کی طرح ہندو تہواروں میں حصہ لیتے ہیں اور ان کی عورتیں پردہ نہیں کرتی ہیں ۔         
رانجھا
یہ جہلم اور چناب کے علاقہ میں ، شاپور گجرات کے علاقے میں ملتے ہیں ۔ ان کی اکثریت خود کو جٹ کہتی ہے اور ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھٹی راجپوت ہیں ۔ انہوں نے قریشی ماخذ کا دعویٰ کیا ہے اور خود کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹا جو کو غزنی میں فوت ہوا تھا کی اولاد بتاتے ہیں ۔ تاہم ان میں ہندو روایات باقی ہیں ۔ 
رگھ بنسی
یہ پنجاب کے پہاڑی علاقوں کے دامن میں یعنی سیالکوٹ سے کانگڑہ تک ملتے ہیں اور ان میں سے بعض خود کو منہاس بتاتے ہیں ۔ 
سومرو
یہ بھی پرمار کی شاخ ہیں اور یہ پہلے تھر کے ریگستان میں آباد تھے ۔ لیکن اب مسلمان ہیں اور انہوں نے سندھ پر حکومت کی ۔ ان کی حکومت کو سمہ نے ختم کیا ہے ۔ یہ سندھ اور پنجاب میں خاص کر بھاولپور کے علاقہ میں ملتے ہیں اور جٹ مشہور ہیں ۔ سموں نے ان کا قتل عام کیا تھا اس کے سوگ میں ان کی عورتیں نتھلی نہیں پہنتی ہیں 
ستی 
ڈھونڈوں کا کہنا ہے کہ ان کے جد کھلورا کا ستی ناجائز بیٹا ہے ۔ مگر ستی اس سے انکار کرتے ہیں اور وہ نوشیروان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ 
سلہریہ
یہ چندر بنسی ہیں اور اپنا سلسلہ نسب دیومالائی راجہ سیگل کی اولاد میں چندر گپت سے ملاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ دکن سے دہندہ فوجی دستے کے سپہ سلار کی حثیت سے آیا تھا کہ شیخا کھوکھر کی بغاوت سرد کرے اور سیالکوٹ میں آباد ہوگیا تھا ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بہلول لودھی کے دور میں مسلمان ہوئے تھے ۔ یہ ماضی میں اپنی شادی کی رسومات کے لیے برہمن کی خدمات لیتے تھے ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی تین بیویاں سلہریہ تھیں ۔ جن میں سے ایک ستی ہوگئی تھی ۔ ان میں سے بعض اپنے کو منہاس کی شاخ بتاتے ہیں ۔   
غوریواہا
گوریواہا یا گوریواہا یہ مشرقی پنجاب میں آباد ہیں اور مسلمان ہیں ۔ یہ رام کے بیٹے کش کی اولاد بتاتے ہیں ۔ اس طرح یہ سورج بنسی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے انہیں شہاب الدین غوری نے وسیع زمینیں دیں تھیں ۔ یہ اس وقت ہندو تھے ۔ ان کی ایک شاخ ہندو ہے ۔ 
کھرل 
اس قبیلے کے زیادہ تر افراد نے خود کو جاٹ بتاتے ہیں ۔ یہ راوی کے بڑے قبیلوں میں سے ہے ۔ ان میں بعض نے اپنا تعلق بھٹیوں سے بتایا ہے ، کچھ کھرل اپنے کو پنوار راجپوت کہتے ہیں اور کچھ راجہ کرن سے اپنا رشتہ جورتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مخدوم شاہ جہانیاں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا ہے ۔ ان کی جھنگ کے سیالوں کے شدید دشمنی رہی ہے ۔ یہ فساد پسندی اور بلند ہمتی میں سب سے آگے رہے ہیں ۔ ان کا مشہور رہنما کھرل اور حلیف قبائل کا سربراہ تھا ۔ وہ پانچ باغبانہ تحریکوں کا رہنما تھا ۔ اسے 1857 میں کیپٹن بلیک کی قیادت میں مار دیا گیا ۔ وہ راجپوت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اس لیے کھیتی باڑی خود کرنے کے بجائے مزارع سے کرواتے ہیں ۔ مگر یہ اپنی بیواؤں کی شادیاں کرتے ہیں ۔ ان میں دیکھاوا بہت ہے اور ان کی بہت سی رسومات کا ماخذ ہندوانہ ہے ۔ بٹہ کھرل سرادر تھا اور سلطان محمد غوری کے دور میں پیر شیر شاہ سید جلال نے اسے مسلمان کیا تھا ۔ کسی زمانے میں ان میں دختر کشی کی روایت بھی تھی ۔ ان کی ایک روایت پکی چھت کے نیچے نہ سونے کی بھی تھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں حضرت سلیمان علیہ سلام نے پکی چھت کے نیچے سونے سے منع کیا ہے ۔
کھروال
یہ راولپنڈی کے پہاڑی علاقہ میں آباد ہیں اور جنجوعہ قبیلے میں راجہ مل کی نسل سے ہونے کے داعی ہیں ۔ یہ اپنی بیواؤں کو شادی کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔ 
کنیال
یہ بھی رالپنڈی کے مشرقی حصہ میں آباد ہیں اور یہ بھی پہلے راجپوت کہلاتے تھے اور خود کو پنوار کی شاخ بتاتے تھے ۔ مگر اب انہوں نے عباسی ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ان اب بھی بعض رسومات ہندوانہ ہیں ۔ 
کیتوال
راولپنڈی میں آباد ایک قبیلہ اور وہ بھی پہاڑیوں پر آباد ہیں ۔ یہ سکندر اعظم کی نسل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان یہ بھی کہنا ہے کہ وہ دھوند اور ستی سے قدیم اس علاقہ کے باشندے ہیں ۔  
کاٹل
گورداسپور میں آباد ہیں ۔ ان کے ایک راجہ نے جموں میں ایک قلعہ منگلا آباد کیا اور وہاں ایک شہر خیرپور بسایا تھا ۔ ان کی اولادیں کھوکھر کہلاتی ہیں ۔ یہ سورج بنسی اور باوا ساہی کی نسل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ یہ مہاجنوں ، کپوروں ، اسواروں ، چماروں ، بٹوالوں اور دومنوں کو اپنی شاخیں سمجھتے ہیں ۔ اورنگ زیب کے زمانے میں انہوں نے اسلام قبول کیا تھا ۔ 
کلچی
یہ منج کی شاخ ہیں ۔
کچھی
کچھی چوہانوں کی شاخ ہے ۔ ان کے بارے میں روایت ہے یہ اجمیر سے دہلی آئے تھے وہ زیرین دہ ستلج سے راوی تک ملتے ہیں ۔ یہ ساہیوال میں خاصی تعداد میں آباد ہیں اور کھروں سے ان کے تعلقات خاصے اچھے تھے اور یہ پر امن کاشت کار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہاول حق کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا ۔
کہوٹ 
یہ اب چکوال میں آباد ہیں اور کہوٹہ ان کا بسایا ہوا ہے ۔ انہیں یہاں سے جنجوعوں نے نکال دیا تھا ۔ انہیں بعض اوقات اعوان اور دھوند بھی بتایا جاتا ہے 
کٹوچ
ان کی ریاست پہلے جالندھر میں تھی ۔ جس کی حدود کانگڑہ تک تھیں ۔ بعد میں ان کی ریاست کانگڑہ میں قائم ہوئی ۔ 
گھیبا
یہ سیالوں کی طرح پنوار راجپوت کے رائے شنکر کی اولاد ہیں ۔ یہ قبیلہ فتح جھنگ اور پنڈی گھیب کے علاقہ میں آباد ہے ۔ انہیں جودر کی شاخ بھی بتایا جاتا ہے ۔ 
گولڑیا
یہ گولڑیا کا حکمران خاندان ہے اور کٹوچ کی نسل سے ہیں ۔ 
گوندل
شاہ پور ، ملتان ، ساہی وال اور گوندل بار جو کہ جہلم اور چناب کے درمیانی خطہ میں زیادہ تر آباد ہیں ۔ خود کو چوہان کی شاخ بتاتے ہیں ۔ پہلے راجپوت کہلاتے تھے اب جٹ مشہور ہیں ۔ ان کی روایات کے مطابق ان کے جد امجد نے بابا فرید کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا ۔ 
گوروا
یہ بھی مشرقی پنجاب میں ملتے ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے کریوا یا بیوہ کی شادی کرنے لگے ہیں اور زراعت کی وجہ سے راجپوت کا درجہ کھو کر جٹ بن گئے ہیں ۔
لڈو
انہیں کلچی کی شاخ بتایا جاتا ہے اور یہ ہوشیار پور کے علاقہ میں آباد ہیں ۔ 
مہر
انہیں جوئیہ کے ہم نسل اور اس کے بھائی مہر کی اولاد بتایا جاتا ہے ۔ یہ جنوبی پنجاب اور شمالی راجپوتانہ میں آباد ہیں اور مسلمان ہیں ۔ 
منداہار
یہ کا دعویٰ ہے کہ یہ سورج بنسی اور رام کے لڑکے لو کی اولاد میں سے ہیں اور یہ مشرقی پنجاب میں آباد ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں