119

پنجاب کے میدان

جہاں آج شمالی مغربی ہندوستان کے میدان اور گنگا کی وادی واقع ہے وہاں پہلے سمندر تھا ۔ جب ہمالیہ کے پہاڑ نمودار ہوئے تو ان پہاڑوں سے بہت سے دریا نکلے اور انہوں نے پیچھے ہٹے ہوئے سمندر سے نئی زمینیں حاصل کرنی شروع کیں ۔ چنانچہ پنجاب کا میدانی علاقہ دریائی مٹی کے ایک عظیم ذخیرہ سے پر ہوکر میدان کی شکل اختیار کی ہے ۔ یہ مٹی کئی ہزار فٹ کی تہہ کی شکل موجود ہے اور یہ میدان ان دریاؤں کے کناروں کی مٹی کے جمع ہونے سے بنا ہے ۔   
دریا جب نیم پہاڑی علاقہ میں داخل ہوتے ہیں تو خاصے تیز رفتار ہونے کی وجہ گہرا راستہ اپنا لیتے ہیں اور میلوں تک یہ میدانوں کی پست دادی میں بہتے ہیں اور ہر موسم میں پانی کے بہاؤ کی رفتار تیز رہتی ہے ۔ یہ زمین کاٹتے کاٹتے وہ اپنا راستہ بنالیتے ہیں اور یہ کئی میل چوڑا علاقہ ہوتا ہے ۔ جس میں دریا مسلسل کڑوٹیں لیتے ہوئے بہتے ہوئے میدانوں میں داخل ہوتے ہیں ۔ جہاں پھیل جاتے ہیں اور درمیان کی زمین زبان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۔ یہ کئی کئی میل چوڑا راستہ ہوتا جسے یہ بلند کرتے رہتے ہیں ۔ تیز بہاؤ سے دونوں طرف کی زمین کٹ کر پانی میں شامل ہوتی رہتی ہے ۔ جس سے دریا کی رفتار سست اور تہہ کی زمین بلند ہوتی رہتی ہے اور زمین کے کٹاؤ کی قوت ماند پڑ جاتی ہے ۔ یہ دریائی بہاؤ کا تیسرا مرحلہ ہوتا ہے اور دریا آس پاس کی سطح سے تھوڑی پستی میں بہتا ہے ۔ یہاں تک دریائی مٹی بیٹھتی رہتی ہے اور اس کی سطح اونچی ہوجاتی ہے ۔ دریا نشیب میں کوئی علاقہ اختیار کرلیتا ہے ۔ شمال مشرقی پنجاب کا نصف حصہ اسی قسم کی زمین پر مشتل ہے ۔
جب ہمالیہ کی برفیں پگھلتیں ہیں اور ترائی میں بارشیں ہوتی ہے تو دریاؤں میں طغیانی آجاتی ہے پانی کا اخراج بیس سے چالیس گناہ کا اضافہ ہوجاتا اور سیلاب آنے سے دریاؤں کا پاٹ دس سے بیس گناہ زیادہ چوڑا ہوجاتا ہے ۔ پانی رفتار میں اضافہ اور مٹی کی مقدار زیادہ ہوجاتی ہے ۔ سیلابی پانی یہ تمام نشیبی علاقہ میں پھیل جاتا ہے لیکن بر یا اونچے علاقہ میں نہیں پھیلتا ہے ۔ یہ ہوسکتا ہے پانی کے تیز دباؤ سے اس کے کناروں کو کاٹ دے اور سیلابی پانی دریا کے کناروں سے نکل کر سے نکل کر وسیع علاقے میں پھیل جاتا ہے ۔ یہاں اس کی رفتا کم ہوچکی ہوتی ہے اور مٹی اور ریت بیٹھنے لگتی ہے ۔ پہلے بھاری اور نوکیلے زرات تہہ میں بیٹھتے ہیں اور بعد میں باریک باریک زرات بھی نیچے بیٹھنے لگتے ہیں ۔ سیلابی پانی میں مٹی کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے ۔ مسلسل اس عمل سے کبھی نہ کبھی دریا اپنے پشتوں کو چھوڑ کر راستہ تبدیل کر دیتا ہے اور نئے راستہ پر بھی زمین کی سطح بلند اور پشتے بنانے کا عمل شروع کر دیتا ہے ۔ نئے اور پرانے راستوں کے بہچ جو وادی چھوٹ جائے گی ۔ ایک نہ ایک دن دریا وہاں بھی بہہ گا اور اس کی سطح کو بھی بلند کر دے گا ۔ْ چنانچہ ہزاروں سالوں کے پنجاب کے علاقہ میں دریا اپنا راستہ بلدلتے رہے ہیں اور علاقہ کی سطح کو بلند کرتے رہے ہیں ۔ یہ گڑھوں اور نشیب جن میں مٹی ملا پانی برابر پہنچاتا رہا ہے ۔ یہ مٹی سے بھر کر اسے بلند کرتے رہے ہیں ۔ کیوں کہ ان میں جو پانی پہنچتا ہے اس کی مٹی تہہ میں بیٹھ کر سطح کو بلند کر دیتا ہے ۔
دریاؤں میں شامل مٹی کی کثیر مقدار پانی کے ساتھ ہی آگے بڑھتی ہے ۔ یہ مٹی زیادہ تر راستہ میں بیٹھ جاتی ہے اور سیلابی زمانے میں نشیبی زمین کے بیرونی کناروں پر یہ اس مٹی جمع ہو جاتی ہے ۔ سیلاب کے اصل آبی راستہ میں مٹی پھر جانے سے مذکور دوسرے علاقہ دریا کی بڑی گذر گاہ بن جاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دریا کا راستہ اور اس کے زیر اثر راستہ ہی بدل جاتا ہے ۔ اس طرح سے دریا کی تہہ اور پشتوں کی زمین کی حالت بھی دریا کے بہاؤ کے مطابق علاقہ میں بدلتی رہتی ہے اور دریا اپنی رفتار کو ان زمینوں کے تقاضہ کے مطابق ڈھال لیتا ہے ۔ جہاں زمین نرم ملتی ہے جو آسانی سے پانی میں شامل ہوجاتی وہاں بتدریح پھیل کر سست رفتاری سے بہتا ہے ۔ ایسا کرنے میں دریا کے لیے صرف ایک ہی صورت ممکن ہوتی ہے کہ وہ اپنے بہاؤ کے راستہ کو طویل کردے یعنی بل کھاتا ہوا بہے ۔ چنانچہ پنجاب کا میدانی ذرخیر علاقہ اسی دریائی مٹی کی بدولت وجود میں آیا ہے ۔ 
یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیلابی پانی ایک وسیع چادر کی شکل میں سے گزرتا ہے غلط ہے ۔ سیلابی پانی صرف اپنی شاخوں میں سے گزرتا ہے ۔ جو اپنا آبی راستہ کاٹ لیتی ہیں اور زمانہ گزرنے کے ساتھ جب ان کی تہہ بلند ہوجاتی ہے تو کثرت آپ ان کناروں سے باہر نکل کر مزید چھوٹی چھوٹی شاخوں میں پھیل جاتا ہے ۔  
پنجاب میں نہروں کا جال بچھانے سے پہلے زراعتی زمینیں بہت کم تھی اور بنجر زمینیں اور ریگستان زیادہ پھیلے ہوئے تھے ۔ کیوں کہ زراعت کے لیے پانی چاہیے اور پانی بارش دریا کے سیلاب پر منحصر ہوتا تھا اور اس علاقہ میں زراعت کا دارو مدار بارشوں پر تھا ۔ کیوں کہ دریا دور تھے اور ان کا سیلابی پانی وہاں پہنچ نہیں پاتا تھا ۔ ان صحراؤں میں بھی ایسی صدیوں پرانی آبی گزرگاہیں موجود ہیں ۔ جہاں کبھی سیلابی پانی آیا کرتا تھا ۔ مگر دریا کا راستہ بدل جانے کی وجہ سے وہاں پانی کی آمد بند ہوگئی اور علاقہ صحرا میں تبدیل ہوگیا ۔ پنجاب کے صحرا اسی طرح وجود میں آئے ہیں ۔ جب سیلاب دریائی علاقوں اور اس کی شاخوں کی نشیبی میں گزر چکا ہوتا تو زراعت کی جاتی تھی ۔ یعنی یہ دریا ایک بڑے درخت کی طرح اپنے شاخیں ہر طرف پھیلائے ہوئے تھے اور اپنی شاخوں کے ذریعے زمینوں کو سیراب کرتا تھے ۔ مگر پھر بھی بہت جگہیوں دریائی پانی کی پہنچ سے دور تھیں ۔ سیلابی علاقے میں دریائوں کے پشتوں کی وجہ سے اس سے ملحقہ جنگلات میں زیر زمین کی سطح خاصی اونچی رہیتی تھی ۔ دریا کے قریبی علاقوں میں سبزہ کو پورا سال پانی ملتا رہتا ہے ۔ مگر جیسے جیسے دریا سے فاصلہ بڑھتا جاتا ہے پانی کا دورانیہ بھی کم ہوتا جاتا ہے ۔ قدیم زمانے میں جہاں سے کبھی سیلابی پانی پہنچتا تھا اگر ہم ان گزرگاہوں کا مشاہدہ کریں تو ایہ ایک ایسا نشیبی علاقہ معلوم ہوگا جس کی مٹی میں کنڈی اور بیر کی جھاٹیاں جو کہ کم پانی میں زندہ رہ سکتی ہیں اور خشکی کا طویل زمانہ برداشت کرسکتی ہیں نظر آئیں گیں اور نشیب اس بات کی علامت ہے کہ پیاسے ریگستان کی وسعتوں کے درمیان اس مقام تک کبھی کبھی پانی پہنچتا رہتا ہے ۔ 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں