77

پنج تنتر

جنوبی ہند کے شہر مہیلا روبے ایک شہر کے راجہ کا نام امرشکتی نام کا تھا ۔ اس کے تین لڑکے بہت شرارتی تھی اور ہر وقت تینوں ہنگامہ آرائی اور شرارتیں کرتے تھے ۔ انہیں پڑھنے کا زرا شوق نہیں تھا ۔ راجہ کو اپنے بیٹوں کی حرکتوں کی وجہ سے بہت فکر مند اور دکھی رہتا تھا ۔ ایک دفعہ راجہ نے اپنی اس پریشانی کا اظہار اپنے دربار میں کیا ۔ اس پر وشنو شرما نام کے ایک پنڈت نے کہا راجکماروں کو میرے حوالے کردیں ۔ میں انہیں چھ ماہ میں سیاست کے سارے گر سکھا دوں گا ۔ راجہ نے یہ بات مان لی اور اپنے تینوں راج کماروں کے پنڈت کے کردیئے ۔ وشو شرما ان تینوں کو اپنے گھر لے گیا اور ان کو کہانیاں سنانے لگا ۔ یہ کہانیاں پنج تنتر کے نام مشہور ہوئیں ۔ کہانیاں سن کر تینوں راج کمار راہ راست پر آگئے ۔ لیکن وشو شرما کون تھا اس کے بارے کچھ نہیں معلوم ہوسکا کہ یہ حقیقی شخصیت ہے یا خیالی ۔  
خیال کیا جاتا ہے کہ پنج تنتر ۲۰۰ تا ۳۰۰ کے درمیان لکھی گئی ۔ اس کے پہلے حصہ میں ۳۴ ، دوسرے حصہ میں ۱۰ ، تیسرے حصہ میں ۱۸ ، چوتھے میں ۱۳ اور پانچویں میں ۱۲ کہانیاں ہیں ۔ اس کتاب میں ہر حصہ کی پہلی کہانی خاص کہانی ہے اور اس کے بعد چھوٹی کہانیاں ہیں اور ان کہانیوں کے آخر میں پہلی نتیجہ نکلتا ہے ۔پنج تنتر کی کہانیاں صرف دل کو بھلانے کی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ اس میں سیاست کے اصول سمجھائے گئے ہیں ۔ ہر کہانی سیاست کے کسی پہلو کی ترجمانی کرتی ہے ۔ ان کہانیوں میں منو ، شنکر اور چانکیہ کے اصولوں کو آسان انداز میں پیش کیا گیا ۔ ان کہانیوں کے مطلق ولیم جونز نے لکھا کہ ان کی کہانیاں دنیا کی سب کہانیوں سے زیادہ اچھی اور پرانی ہیں ۔ 
ان کہانیوں میں کرادر زیادہ تر جانور اور پرندے ہیں مگر یہ اتنی دلچسپ ہیں کہ آج بھی لوگ شوق سے پڑھتے ہیں ۔ یہ کہانیاں جہاں دلچسپ ہیں وہیں سبق آموز بھی ہیں ۔ ان کہانیوں میں جگہ جگہ دھرم شاشتروں کے حوالے دیئے گئے ۔ ان میں سیاست کے ایسے اصول درج ہیں جن سے دنیاوی زندگی کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے کہ زندگی کیسے گزارنی چاہیے اور دوسروں کے ساتھ سلوک کیسا کرنا چاہیے ۔ ان کی مقبولیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے بے شمار ترجمے ہوئے اور ان کہانیوں کی بنیاد پر نہ جانے کتنے قصے گھڑے گئے ۔ کم از کام پانچ پنج تنتر ملتے ہیں ان میں سب پہلے دتنتر کھیا یکا کا نام پہلے ہے ۔ یہ مجموعہ کب مرتب ہوا یہ بتانا ممکن نہیں ہے ۔ غالباً مغربی ہند میں ۱۱۰۰ء کی ابتدا میں یہ مرتب کیا تھا ۔ ۱۱۹۹ء کے لگ بھگ پورن بھدر نے اسے دوبارہ مرتب کیا ۔ اس وقت پانچ قسم کے پنج تنتر ملتے ہیں ۔ مغربی محقیقین کا کہنا کہ اصل پنج تنتز کی نثر کا تین چوتھائی حصہ اور نظم کا نصف حصہ محفوظ ہے ۔ جنوبی ہند میں اس کا پہلا مجموعہ کوئی بھاردی کا بتایا جاتا ہے ۔ جس کا زمانہ ۵۵۰ مانا جاتا ہے ۔ پنج تنتر کا ایک نیپالی مجموعہ بھی ہے ۔ یہ مجموعہ ہتوپدیش سے پرانا ہے ۔ پنج تنتر کا ایک مجموعہ ہتوپدیش کے نام سے بنگال میں مروج ہے ۔ ہتوپدیش کے مصنف کا نام ناراین اور اس کے سرپرست کانام راجہ دھول چندر تھا ۔ ہتوپدیش میں پنج تنتر کی کہانیاں اور پنج تنتر کی کہانیوں میں فرق ہے ۔
دنیا کی بشتر زبانوں میں پنج تنتر کا ترجمہ ہوچکا ہے ، ان میں سب سے پہلے ایران کی پہلوی زبان میں برزوئی نے ۵۵۰ء کے لگ بھگ پنج تنتر کا ترجمہ کیا تھا ۔ کچھ عرصہ بعد عربی میں اس ترجمہ ہوا ۔ اس کے بعد دسویں یا گیارویں صدی عیسوی میں سامی میں پنج تنتر کا ترجمہ کیا گیا اور اسی زمانے میں یونانی اور عبرانی میں اس کا ترجمہ کیا گیا ۔ تیرویں صدی عیسوی میں جرمنی ، پندویں صدی عیسویں میں اسپینی ، سولویں میں اٹلی اور اس کے بعد انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ۔ پنج تنتر کا ترجمہ فرینچ ، ترکی ، ڈچ ، اور ملائی میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے ۔
پنج تنتر کی بنیاد پر فارسی میں انوار سہلی لکھی گئی اور یہ کہانیاں مشرق بہت مقبول ہوئیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں