40

پُوشن

وید کی درخشاں ہستیوں میں پوشن کا درجہ گو بڑا نہیں مگر وہ ان کے اعزاز میں وہ بھی شریک ہے اور ہمیشہ محبت اور احترام کے ساتھ اس کا نام لیا جاتا ہے ۔ دیوتا پوشن انسان کا دوست ہے اور ہر کام میں اس کی مدد کرتا ہے ۔ ویدوں کے فرانسیسی محقق برگین نے اس کے فضائل کا بالاختصار ذکر کیا ہے ۔  
پوشن دراصل زراعت پیشہ اور چرواہوں کا دیوتا ہے ۔ اس سے درخواست کی جاتی ہے کہ ہل کا رخ بتائے ۔ اس کے ہاتھوں میں بیل ہانکنے کا آنکس ہے ، مویشوں کا وہ محافظ ہے ، ان کو بھٹکنے سے محفوظ رکھتا ہے اور اگر گم ہوجائے تو ان کو تلاش کر کے لاتا ہے ۔ اس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ مویشوں کے ساتھ رہے ، ان کی حفاظت کرے ، ضائع ہونے سے بجائے اور صحیح و سلامت انہیں واپس لائے ۔ ہر قسم کی جائیداوں کا محافظ ہے اور ضائع ہونے پر پھر ڈھونڈ لاتا ہے ۔ مخفی خزانوں کو بھی وہ برآمد کرتا ہے ۔ خزانوں میں گائیں بھی شامل ہیں ۔ پوشن انسانوں کو گمشدہ چیزوں کو تلاش میں مدد دیتا ہے اور ہر طرح سے ان کے کام آتا ہے ۔ مختصر وہ مسافروں ، کسانوں اور چرواہوں کا دیوتا ہے ۔ اس سے دعا کی جاتی ہے کہ سڑک اور راستہ سے دشمنوں اور دوسری رکاوٹیں ختم کرے ، اپنی پرستش کرنے والوں کو بہترین راستوں سے لے جائے ۔ کیوں کہ وہ ہر مکان کو جانتا ہے اور راہ کا دیوتا ہے ۔
یہ زراعت پیشہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کی یہ مکمل تصویر ہے ۔ مگر یہ بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ یہ مناظر آسمانی چراہگاہوں کے عکس ہیں اور جو خود زمین کے مناظر سے نقل کیے گئے ہیں ۔ ہمارے کان ان آسمانی سڑکوں اور چراہگاہوں سے آشنا ہوگئے ہوں گے ۔ جہاں آسمان کے مویشی مثلاً بادل اور روشنی کی گائیں ٹہلتی رہتی ہیں ، چرائی جاتی ہیں یا گم ہوجاتی ہیں اور پھر مل جاتی ہیں ۔ مگر آسمان کے مخفی خزانوں میں صرف گائے ہی نہیں ، بلکہ اگنی اور سوما بھی وہی مخفی رہتا تھا اور وہیں سے ملا اور بیان کیا گیا ہے کہ پوشن اس کو بھٹکے ہوئے بیل کی طرح لایا اور وہی کرنوں والا پوشن اس چھپے ہوئے راجہ (اگنی) کو لایا جو قربانی کی گھانس کی زینت دے رہا ہے ۔ اسی کار نمایاں سے پوشن کو سب اونچے آسمان یعنی منبع نور میں جگہ ملی ہے اور وہیں اپنی بہن سوریا پر عاشق ہوتا ہے اور ہوا کے سمندر میں اپنے سنہرے جہازوں میں سیر کرتا ہے ۔ اس نرم دل دیوتا کی مناظر قدر میں بہ ہیت ہے مگر اس کے روحانی پہلو کا تعلق زمانہ بعد کے ارتقائی خیالات سے ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں