95

پٹھان

یہ اصطلاح عام طور پر شمالی مغربی اور بلوچستان کے پشتو بولنے والے قبائل کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور افغانستان کے پشتو بولنے والے قبائل کے لئے افغان کی اصطلاع استعمال کی جاتی ہے ۔ مگر پٹھانوں کو یہود النسل بتانے والوں کا دعویٰ ہے کہ صرف قیس عبدالرشید کی نسل سے تعلق رکھنے والے ہی پٹھان ہیں اور باقی دوسرے پشتو بولنے والے قبائل افغان ہیں ۔ اگرچہ کڑانی قبائل کو بھی بعض اوقات یہود النسل بتایا جاتا ہے لیکن پٹھان نہیں ۔ نعمت اللہ ہروی کا کہنا ہے کہ یہ اگرچہ پٹھان مشہور ہیں ۔ جب کہ غوری النسل یا متو یا مٹو کے گروہ کے قبائل کو ضحاک کی نسل سے تسلیم کیا جاتا ہے اور انہیں سامی النسل بھی کہا جاتا ہے ۔ کیوں کے ان کا کہنا ہے کہ ضحاک عربی النسل تھا ۔ 
	پروفیسر احمد حسین دانی کا کہنا ہے کہ افغان اور پٹھان میں امتیاز نہ پٹھانوں کے نذدیک صحیح ہے اور نہ ہی تاریخی طور پر ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کڑلانی قبائل وزیریِ ، بنوچی ، خٹک ، بنگش اور آفریدی وغیرہ اپنے کو پٹھان کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور پختوں ولی (پٹھان ولی) پر دیگر اقوام سے زیادہ اپنے کو ممتاز سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یوسف زئیوں کے بر عکس پٹھان رسم و رواج کو افغان رسم و رواج پر ترجیع دیتے ہیں ۔
	افغانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پانچ طبقات ہیں ۔ (۱) سٹر بنی (۲) پتنی (۳) غور غشی (۴) متی (۵) کڑلانی ۔ ان طبقات میں تین طبقے سٹر بنی پٹنی اور غور غشی اصلی ہیں ۔ یعنی یہ عبدالرشد کی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جب کہ دو طبقے متی اور کڑلانی الحاقی ہیں ۔ کیوں کے یہ قبیلے عبدالرشید کے صلب سے نہیں ہیں ۔ اگرچہ یہ پٹھانوں میں ضم ہوکر یہ پٹھان کہلاتے ہیں ۔ کیوں کے طبقہ متی شاہ حسین غوری بن معزز الدین محمود بن جمال الدین حسین بن شاہ بہرام غور کی ضحاک النسل سے ہیں اور عربی النسل ہیں ۔ کڑلانی مجہول النسب اور افغان نسل سے ہیں ۔ چوں کہ دونوں طبقہ غور میں رہنے کی وجہ سے افغان اور پٹھان مشہور ہوگئے تھے اور ان گروہوں کے بارے میں افغان ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ لہذا بلا تفاق افغان اور پٹھان مان لئے گئے ہیں ۔ 
	نعمت ہروی نے لکھا ہے کہ قیس عبدالرشید کو حضور ﷺ نے اس کی بہادری سے خوش ہوکر پٹھان کا خطاب دیا تھا ۔ پٹھان اس لکڑی کو کہتے ہیں جس پر جہاز یا کشتی کی عمارت استوار ہوتی ہے ۔ مگر یہ کلمہ پٹھان بائے فارسی اور تائے معجمہ نوخانی کے ساتھ تھا یعنی بتان ۔ مگر کثرت استعمال سے پٹھان مشہور ہوگیا ۔
	شیر محمد گنڈا پور کا کہنا ہے کہ قیس عبدالرشید کو حضور ﷺ کو اس کی بہادری کی وجہ سے کہا تھا یہ میرے دین کا بطان ہے ۔ چنانچہ اس کے بعد عرب کے لوگ عبدالرشید کو بطان کہنے لگے ۔ یہ بطان لغت عربی ہے ، فارسی میں اس کے معنی زیریں کے ہیں اور اردو میں اسے پیندا کہتے ہیں ۔ بطان عربی میں بَطَنَ ، بَطنَ سے بنا ہے اس اس کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہوتا ہے جو نیچے پوشیدہ ہوں ۔ مثلاً زیر جامہ جو لباس کے نیچے پہناجاتا ہے اور کشتی کا وہ تختہ جو پانی کے نیچے ہوتا ہے ۔ ہندی زبان میں سخان کشتی کہتے ہیں ۔ بطان عام طور پر مستعمل ہے ۔ جب یہ لفظ عجم پہنچا تو ’ب‘ ’پ ‘ سے بدل گئی اور ’ط ‘ ’ت ‘ ہوگیا اور بعد میں یہ ’ٹ ‘ ہوگیا اور پٹھان ہوگیا ۔ مگر اسماء رجال کی کتابوں اور شرح صحابہ کی کتابوں میں اس روایت کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے ۔ اس لئے اس میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی ہے ۔
	فرشتہ کا کہنا ہے کہ افغانوں کو پٹھان اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے پہل سلاطین کے عہد میں ہندوستان آئے تو یہ پٹنہ میں مقیم ہوگئے تو اہل ہند انہیں پٹھان کہنے لگے ۔ 
	روشن خان کا کہنا ہے کہ افغان جس وقت ہندوستان پر قابض ہوئے تو اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو بٹنی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ جو افغانوں کا بڑا قبیلہ ہے اور اس میں لودھی ، سوری ، سروانی اور خلجی وغیرہ اسی قبیلہ کے متعلق ہیں ۔ اس قبیلے کے لوگ شام کے اس شہر سے تعلق رکھتے تھے جو اردن کے شمال میں واقع ہے اور بٹھانیا کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔ یہاں روشن خان نے پٹھانوں اور افغانوں کی نفی کردی ہے ۔
	معارف جنوری ۱۹۴۷ء میں ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اس قوم کو افغان کے سے ابتداً لٹیری طور پر غیر ملکیوں نے موسوم کیا ۔ پھر رفتہ رفتہ درانیوں اور بعض دوسرے پٹھان قبائل نے اپنے آپ کو افغان کے نام سے موسوم کرلیا اور باقی ماندہ دوسرے قبائل غلزئی ، آّفریدی ، بنگش ، شیرانی ، استرانی وغیر حسب سابق پٹھان کہے جارہے ہیں ۔ بلکہ اصلیت کے لحاظ سے ان کا قومی نام پُشتان یا پکھٹانا کی طرف سے منسوب تھا اور یہی قدیم لفظ آگے چل کر پٹھان بن گیا ۔ البتہ آگے چل کر ان میں بعض کے وطن میں تبدیلی ہوئی اور ان کے بعض قبائل مغرب سے مشرق کی سمت قندھار وغیرہ میں آباد ہوگئے تو ان کی آبادی دوسری قوموں کی آبادی سے مخلوط ہوگئی ۔ اس وقت سے انہیں ان دوسری قوموں سے ممتاز کرنے کے لئے خاص طور پر ان کے قدیمی نام سے موسوم کیا گیا ۔ کیوں کہ یہ لوگ گندھار (قندھار) میں ہندوستانی نو آبادی سے ملے تھے اور انہی سے انہوں نے پشتو سیکھی ۔ کیوں کہ یہ زبان بھی پراکرت کی شاخ تھی ۔ 
	یہ جتنے بیانات ہیں ان میں اتنے ہی تضاد ہیں اور تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں اس لیے ان کا حقائق سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ اس کلمہ کی حقیقت تک پہچنے کے لئے ایک تفصیلی بحث کیا ضرورت ہے ۔ 
	سولویں صدی سے پہلے یہ کلمہ کسی کتاب میں نہیں ملتا ہے ۔ لیکن ٹھ کا استعمال بتاتا کہ یہ اس سے بہت پہلے وجود میں آیا تھا ۔ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کلمہ دو لفظوں پارت + استھان = پارٹھان سے مل کر بنا ہے ۔ یعنی اس کی ابتدائی شکل پارٹھان ہوگی ۔ پارت قدیم زمانی میں موجودہ خراسان کو بولتے تھے اور استھان ہند آریائی کلمہ ہے ۔ جس کے معنی مقام یا ٹھکانے کے ہیں ۔ پارتھی جنہوں نے قدیم زمانے میں شمالی برصغیر کو پنے قبضہ میں کرلیا تھا اور انہوں نے ستھیوں کے ساتھ مل کر شمالی ہندمیں نیم آزاد حکومتیں (سٹراپی) قائم کیں تھیں ۔ غالب امکان یہی ہے کہ کلمہ پٹھان پارٹھان یا پارتھان سے بنا ہے اور اس کلمہ میں تکرار سے ’ر‘ خارج ہوگیا اس طرح یہ پٹھان بن گیا ۔ 
	اکثر زبانوں میں ’ر‘ خارج ہوجاتا ہے اور اس کا کوئی قائدہ متعین نہیں ہے ۔ مثلاً آذری زبان میں فعل کے صعیفے ، جمع ، مخاطب اور صیفعہ غائب میں ہمیشہ ’ر‘ گر جاتا ہے ۔ مثلاً Dir کی جگہ Di بولا جاتا ہے ۔ اس طرح سنسکرت میں بھی بعض اوقات ’ر‘ گر جاتا ہے ۔ مہابھارت میں کوہ آبو کا نام ’آربو‘ اور ’اربد‘ آیا ہے ۔ اشکانی کے بانی کا نام ارشک تھا اور اس کے نام سے یہ خاندان اشکانی مشہور ہوا ۔ اس میں سے بھی ’ر‘ خارج ہوگیا ۔ یہ قائدہ خود پشتو میں بھی ہے اور پشتو میں ’لڑکے‘ کو ’ر‘ خارج کر ’لکا‘ کہتے ہیں ۔ 
	پارتی آریائی تھے اس لئے ایرانیوں اور برصغیر کے باشندوں کے ہم نسل تھے اور ان کا مذہب اور زبان تقریباً ایک تھی ۔ صرف لہجہ کا فرق تھا ۔ کیوں کہ قدیم ایرانی کے غیر کشیدہ حروف صحیح میں بدل گئے ۔ اس لئے پارتھی سے پارتی ، پارتھ سے پارت اور پارتھیا  سے پارتیا کہلانے لگے ۔ جبکہ یہ جگھڑالو حروف ہندآریائی میں بدستور استعمال ہوتے رہے بلکہ ان کی بندشیں بڑھ گئیں ۔  بھارت ہندو دیو مالائی ہیرو تھا جس کے نام پر اس ملک کا نام رکھا گیا ہے ۔ رگ ویدمیں بھارت قبیلے کا ذکر ملتا ہے جو سروتی و جمنا کے کنارے آباد ہوا تھا ۔ ان بندشوں کے بڑھ جانے سے پارت ہی بھارت ہوگیا ۔ اس طرح بالاالذکر کلمات بھٹی ، بھاٹی ، بھٹ ، بھٹہ اور بھٹو میں تبدیل ہوگئے ۔ ان سب کلمات کی اصل ایک ہی ہیِ
	پ / پھ / ب / بھ دو لبی صوتے ہیں اور یہ سب مسودے ہیں ۔ اس لئے ماہرین لسانیات ان کو ایک سلسلے کے صوتے تسلیم کرتے ہیں اور یہ ترتیب پاننی اور دوسرے قدیم ماہرین لسانیات سے لے کر آج دور جدید کی تحریروں میں قائم ہے ۔ یہی وجہ ہے آج بھی پنجابی میں بھائی کو پرا اور بھابی کو پابی کہا جاتا ہے ۔ جب کہ ہند آریائی میں بھائی ، بھرائی کہلاتا ہے ۔ بٹ ایک کشمیری قبیلہ ہے اور ہند آریائی میں یہ بھٹ کہلاتا ہے ۔ نام نہاد قیس عبدالرشید کا نام نہاد لڑکا بٹن جس کاایک تلفظ بطان بتایا جاتا ہے ۔ اس سے ایک قبیلہ بٹانی نکلا ہے اور بٹائیوں کو ڈیرہ جات میں بھٹانی کہا جاتا ہے ۔ اس سے بھی تصدیق ہوتی ہے ان سب کلمات کی اصل ایک ہی ہے اور یہ سب کلمات پارت یا پارتھیا کے معرب ہیں ۔ 
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں