80

پٹہ خزانہ

۱۹۴۴ء؁ میں عبدالحئی حبیبی نے کابل میں محمد ہوتک کی ’پٹہ خزانہ ‘ میں شائع کی ۔ جس کے متعلق دعویٰ کیا گیاکہ یہ قندھار میں (تکمیل ۱۷۲۹ء) لکھی گئی تھی ۔ یہ آٹھویں صدی سے مولف کے عہد تک کے شعرا کی بیاض ہے ۔ اگر محمد ہوتک کی پٹہ خزانہ کی صحت تسلیم کرلی جائے تو یہ امر بھی پھر بھی مشتبہ رہتا ہے کہ محمد ہوتک نے نظموں کی جو تاریخی لکھی ہیں وہ کہاں تک درست ہیں ۔ اس کتاب کا اصل مخطوطہ کبھی سامنے نہیں آسکا ۔ یہ ایک مختصر سی کتاب ہے ۔ جس میں ہر شاعر کا کلام چند لائنوں پر مشتل ۔ جس میں پشتونوں کی روایتی اشاعری کے برعکس شاعروں نے اپنی شناخت پر زور دیا گیا ہے ۔ لہذا اس کتاب کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔
 بالاالذکر ہوچکا ہے پٹہ خزانہ ، تاریخ سوری ، مخزن افغانی اور دوسری کتب کی جو کہ انیسویں صدی کے وسط میں شائع ہوئی یہ معتدد لسانی اور تاریخی گنجلکیں پیدا کررہی ہیں ۔ کیوں کہ ان کی روایات تاریخ سے ماخذ نہیں ہیں اس لئے ان کی حقیقت مشتبہ ہے اور یہ کتب پشتو کی قدامت کو ثابت کرنے کے لئے تاریخی ناموں اور فرضی شعرا مدد سے یہ کتب مرتب دی گئیں ہیں ۔ ان کتب کے بیشتر نام فرضی یا تاریخی نام ہیں ۔ مثلاً جب عربوں نے پہلی صدی ہجری میں خراسان پر حملہ کیا تھا تو اس وقت غور پر جہان پہلوان حکمران تھا ۔ اس کے نام پہلوان سے یہ فرض کیا گیا کہ وہ بہت طاقت ور آدمی تھا ۔ حالانکہ یہ نسبتی کلمہ ہے اور پہلوی کی ایک شکل ہے ۔ علاوہ ازیں یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا ۔ اس کے علاوہ ملتان کے اسماعیلیوں کو راسخ عقیدہ مسلمان اور سوری افغان بتایا گیا ہے ۔ یہ غلط فہمی فرشتہ کے بیان سے ہوئی ہے ۔ جس نے انہیں افغان بتایا ہے ۔ جن کے مذہبی عقائد کے بارے میں ہم عصر مصنفین اور سیاحوں نے تفصیل سے لکھا ۔ جس پر میں ایک تفصیلی مضمون لکھ چکا ہوں ۔ مگر پشتو مورخین نے اسے درست جانا اور پٹہ خزانہ میں انہیں شاعر بتایا گیا ہے اور ان میں غالباً اسعد غوری جو تبلغ کے لیے پہاڑوں پر جاتا تھا اور اپنے کلام میں ترید کرتا ہے کہ وہ قرمطی ہے اور اپنے کو راسخ عقیدہ مسلمان بتاتا ہے ۔
ہم پتہ خزانہ میں ہی سب سے پہلے امیر کروڑ کا نام سنتے ہیں ۔ اس کے باپ کا نام پولاد غوری بتایا گیا ہے ۔ اس کے کلام (جسے ہم آگے درج کریں گے) کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھا اور نہ صرف غور بلکہ سارے افغانستان میں اس کی حکمرانی کا سکہ چلتا تھا ۔ اس نے بہت سی لڑائیاں لڑیں اور اس نے بڑی فتوحات حاصل کیں اور وہ ایک طاقتور حکمران تھا ، اس لئے اس کا نام دور دور تک پھیلا ہوا تھا اور اس کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ اس امیر کروڑ کا نام اسے پہلے کسی اور ماخذ میں نہیں ملتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ اس وقت (۱۳۹ ھ) غور کے علاقہ میں اسلام آچکا تھا ۔
پرفیسر پری شان نے جہان پہلوان اور امیر کڑور ایک ہی شخصیت بنا دیا اور انہوں نے لکھا ہے کہ دوسری صدی ہجری میں امیر کروڑ کی نظم جو ۱۲۹ھ میں لکھی گئی اور پشتو کی ایک کتاب پٹہ خزانہ میں محفوظ ہے ۔ اس نظم کے ساتھ مولف نے تاریخ سوری کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس شاعر کا پورا نام امیر کروڑ جہان پہلوان تھا اور یہ امیر پولاد کا بیٹا تھا ۔ یہ پشتونوں کا ایک شاہی گھرانا تھا ۔ جس کی حکومت موجودہ افغانستان کے غور کے علاقے میں قائم تھی ۔ امیر کروڑ ایک مظبوط اور طاقت ور آدمی تھا جو تن تنہا سو آدمیوں کے خلاف لڑا کرتا تھا ۔
 جب کہ منہاج سراج شنسب کے بارے میں لکھتا ہے کہ گمان غالب ہے اس نے حضرت علیؓ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا اور ان سے جھنڈا اور فرمان حکمرانی حاصل کیا ۔ امیر فولاد غوری ملک شنسب کا بیٹا تھا اور کوہستان غور اسی کے قبضے میں تھے ، اس نے باپ دادا کے نام کو زندہ کیا ۔ جب مسلم مروزی نے عباسیوں کے لئے دعوت کا پرچم بلند کیا اور بنی امیہ کے عاملوں کو خراسان کے علاقوں سے خارج کردیا تو امیر فولاد غور کا لشکر لے کر ابو مسلم کی مدد کو پہنچا ۔ اس نے عباسیوں اور اہل بیت کے زمانہ حکمرانی کی بڑی کوششیں کیں ۔ مدت تک مندش اور کوہستان غور کی عمل داری اس کے متعلق رہی ۔ 
منہاج سراج نے جس طرح یہ بیان درج کیا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مقامی روایت درج کر رہا ہے اور خود اسے اس روایت پر اعتماد نہیں تھا ۔ کیوں کہ ابتدا میں گمان غالب کا کلمہ درج کیا ہے ۔ جب کہ غور میں اسلام چو تھی صدی میں آیا تھا ۔ منہاج سراج سے پہلے کسی مورخ نے اس طرح کی روایات درج نہیں کیں ہیں ۔ غالباً باطنیوں کے زیر اثر یہ نام نہاد روایتیں وضع کی گئیں تھیں اور علاقہ غور میں عام گردش میں تھیں ۔ کیوں کہ منہاج سراج نے پہلی دفعہ امیر فولاد (پٹہ خزانہ میں پولاد) کا ذکر کرتا ہے ۔ اس سے پہلے اس کا تاریخ میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا ہے ۔ 
جب کہ روشن خان نے امیر کروڑ کا باپ ماہویہ سوری کو بتایا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ ماہویہ سوری نے یزدگر کے قتل کے بعد اپنی حکومت کے دائرے کو وسعت دی اور حضرت علیؓ کی خلافت کے زمانے میں ماہویہ کوفہ گیا ۔ حضرت علیؓ نے اس کو جزیہ جمع کرنے اور خراج و مالیات کا (مزبان) گورنر مقر کیا ۔      
روشن خاں نے یہ روایت فتوح البلدان سے لی ہے ۔ جس میں بلازی نے لکھا ہے کہ ماہویہ مرو یعنی خراسان کا مزبان (گورنر) تھا ۔ اس نے یزدگر کو فریب سے قتل کیا تھا ۔ جب عربوں نے پیش قدمی کی تو ماہویہ پیچھے ہٹ گیا اور عربوں سے صلح کرلی ۔ مزید وہ لکھتا ہے کہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کے دور خلافت میں مرو کا مزدبان کوفہ آیا ۔ حضرت علیؓ نے اس کے لئے زمنداروں اسادرہ اور بتلاریں کے نام فرمان لکھا کہ آئندہ جزیہ اسی کو دیا کریں ۔  
ماہویہ کبھی غور کا حکمران نہیں رہا ہے اور نہ ہی غور سے اس کا کوئی تعلق رہا ہے ۔ تاہم وہ مرو کا مزبان ضرور تھا اور اس کے بارے میں یہ روایت کہ وہ کوفہ میں آیا تھا بلازری نے جس طرح درج کی ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے خود بھی اس روایت پر یقین نہیں تھا ۔ کیوں کہ اس نے ’کہتے ہیں‘ سے یہ روایت درج کی ہے ۔ تاہم اس سے یا دوسری معاصر تاریخوں سے اس کا کہیں پتہ نہیں چلتا ہے کہ اس نے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ تاہم یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ اس نے جزیہ اور خراج کی شرط پر مسلمانوں سے صلح کرلی تھی ۔ اس لئے اس کے ذمہ خراج کی ادائیگی اور جزیہ جمع کرنا لازم تھا ۔ لیکن اس کی کوفہ میں آمد کسی مستند روایت سے تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔ تاہم اس روایت کو ہم تسلیم کر بھی لیں تو ماویہ کا غور سے تعلق ثابت نہیں ہوتا ہے اور دوسری طرف امیر کروڑ جس کا تعلق غور سے تھا اس کا دور دوسری صدی ہجری کی چوتھی دھائی (۱۳۹ھ) بتایا جاتا ہے ۔ اس طرح دونوں کے مابین سو سال کا فرق ہو جاتا ہے یہ بھلا کس طرح ممکن ہے ۔ 
تحریر و تدوین 
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں