84

پہلوی مسودات

پروفیسر کرسٹین لکھتے ہیں پہلوی زبان کی تقریباً زرتشتی مذہبی کتابیں اور آج بھی موجود ہیں ساسانیوں کے اور بعد کے زمانے کی تصنیف ہیں اور خاص کر یہ نویں صدی عیسویں میں علمائے زرتشت نے لکھیں ہیں ۔ زرتشتی مذہب کی وہ کتابیں جو اوستا میں لکھی گئیں اور ساسانی اوستا کہلاتی ہیں دوسری ژند کتب پہلوی کا ترجمہ اور شرح ہیں ۔ جب کہ اوستا ساسانی عہد کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے ۔ ان اکیس گمشدہ نسکوں کا خلاصہ پہلوی کتاب دین کرد کی آٹھویں اور نویں جلد میں دیا گیا ہے ۔ ژند کے جو حصہ باقی بچے ہیں ان میں اور پہلوی کتب دینی میں ان کے شارحین کے نام ابہرگ ، ماہ گشناسب ، گوگشناسب ، کے آذر بوزیذ ، سوشینس ، روشن ، آذر ہرمزد ، آذر فربگ نرسی ، میذوگ ماہ ، فرخ ، افروغ اور آزاد مرد درج ہیں ۔ ان میں سے اکثر غالباً عہد ساسانی کے آخری عہد میں گزرے ہیں ۔ 

ان میں کتاب ’داوستان مینوگ خرد’ (تعلیم عقل انسانی) جو غالباً ساسانی عہد کے آخر میں لکھی گئی تھی موجودہ شکل میں ساسانی عہد کے بعد وجود میں ۔ ’رویای ارواگ وراز کتاب’ بھی ساسانی دور کی ہے اور ان میں سب سے اہم ’دین کرت’ ہے ۔ کتاب بندہشن جس میں ساسانی اوستا اور ژند کے ان حصوں کا خلاصہ ہے جن میں مسلہ آفزاینش ، اساطیر ، علم کائنات اور تاریخ طبیعی کے متعلق ہے ۔

ویسٹ کا خیال ہے کہ دین کرت ، بندہش اور آردہ وراف نامک نویں صدی عیسی میں تالیف ہوئیں ہیں اور کتاب مذکور میں اوستا کے جتنے مفسرین کا ذکر آیا ہے اس میں ایک نے غالباً چھٹی صدی عیسوی کے بعد کچھ لکھا ہو ۔ لیکن پروفیسر ڈارمشٹیٹر کا کہنا ہے مہ بہمن یشت کی تدوین ۱۰۹۹ء؁ اور ۱۳۵۰ء؁ کے درمیان ہوئی ہے ۔ کجستک اَبالش جو دلچسپ کتاب ہے جو کہ ایک پارسی دستور اور ابالش کا مناظرہ خلیفہ مامون کے روبرو ہوا تھا کی رواداد ہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتاب نویں صدی عیسویں صدی سے پہلے کی نہیں ہوسکتی ہے ۔ 

ویسٹ کی تحقیقات کے مطابق جو مذہبی کتب ہیں وہ تعداد مین ۵۵ اور الفاظ کی تعداد ۴۴۶۰۰۰ ہیں ۔ ان میں تفاسیر ، ادعیہ روایات ، پند و نصائح ، وصایا ، اقوال مقدس کے علاوہ ذیل کی مہتم بانشان اور دلچسپ کتابیں ہیں ۔ ان کتابوں کی تفصیل نیچے درج کی جاتی ہے ۔

دین کرت ۔ دین کر (کردار ہائے دینی) ایک عظیم انشان ذخیرہ معلومات کا ذخیرہ معلومات ہے ۔ پارسی مسائل ، رسوم و روایات ، تاریخ و ادب کا ’آتور فرن بگ‘ جو دین زرتشت کا پہلوان بن کر المامون کے روبرو مردود ابالیش کے مقابلے میں آیا تھا اس کا مولف ہے ۔ یہ کتاب نویں صدی کے آخر میں تالیف ہوئی ۔

بندھشن ۔ (بنیاد بخش) ایک صخیم مقدس مذہبی رسالہ ہے اور اس کا ایڈیٹ شدہ چوبیس ابواب پر مشتمل اور ایرانی کے نام سے موسوم ہے ۔ یہ گیارویں یا بارویں صدی میں اہتمام کو پہنچی تھی ۔ اگرچہ بظاہر اس کا زیادہ تر حصہ پہلے لکھا گیا تھا ۔ نیبرگ نے بندہ ہشن کے مسلہ آفرنیش کے الجھے زروانی بیانات کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ بعد میں اس میں اضافہ کیا گیا اور پھر اس میں مزید تصریات کی گئی ہے ۔ جس کے آثار اب بھی ہندوستانی بندہشن میں ہوجود ہیں ۔  

داتستان دینیک یا آرائے مذھبیہ ۔ یہ کتاب مانوش چیر پسریووان ی دستور الاستیر فارس و کرمان کی تصنیف ہے جو نویں صدی میں گزرا ہے ۔ اس کے بانویں موضوعات ہیں اور حسب رائے ویسٹ کے سمجھنے اور ترجمہ کرنے میں اس کتاب کو جس قدر مشکل پیش آئی اس کی نظیر نہیں ہے ۔

شکندہ کمانیک ویجار ۔ یعنی شرح شک آبا نویں صدی کے آخر میں لکھی گئی تھی ۔ اس میں مذہب متنازعہ فیہ مسائل درج ہیں ۔ زرتشتی ثنویت کی حمایت اور بڑائی کی حقیقت اور ابتدا کے متعلق یہودی ، عیسوی ، مانوی اور اسلامی خیالات کی تردید کرتی ہے ۔ بقول ویسٹ پہلوی ادب میں صرف یہی کتااب ایسی ہے جو کہ فلسفہ سے ٹکراتی ہے ۔

مینوے خور ۔ اس کتاب کے دو نام اور ہیں ’دینائے منیو یا مائے نوگ خرد (روح دانشکی رائیں) اس میں یہ روح دانش کے ۶۲ سوالوں کے جواب دیئے ہیں ۔ اس کا انگریزی ترجمہ کے علاوہ سنسکرت کا ترجمہ بھی ہوچکا ہے ۔ اس کتاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلوی سیکھنے کے لیے بہترین کتاب ہے ۔

اردہ ویراف نامک ۔ یہ پہلوی کی مشہور کتاب ہے ۔ اس میں پارسی بہشت و ذوزخ پر بحث کی گئی ۔ یہ کتاب اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ اس میں ملون سکندر رومی کے حملے سے ملک کے مادی و مذہبی انتشار ، تیسری صدی عیسوی میں سلاطین ساسان کے مذہبی و قومی احیاء اور حیات بعد الموت کی نسبت زرتشتی عقائد کا مفضل حال مذکور ہے ۔ ذوزخ کے بیان میں چینوت پل اور اسلام کے پل صراط میں جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہے اور بائرن نے اپنے اشعار میں اس سے گہری مشابہت پائی جاتی ہے ۔ اسلام میں حوروں کا زیادہ روحانی نمونہ بظاہر اس خوبرو دوشیزہ میں پایا جاتا ہے جو نیک پارسی کی موت بعد اس کی روح سے ملاقات کرتی ہے اور روح کے سوال پر اپنے ان نیک اعمال ، نیک الفاظ اور نیک خیالات کا مجسمہ بیان کرتی ہے جو پارسی سے سرز ہوئے تھے ۔ اس کتاب کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے ۔

ماتی کان گجستک ۔ مردود ابائش کا حوالہ بار بار دیا جاتا ہے جاماسپ نامک مکمل پاژندی اور فارسی ترجمہ موجود ہے ۔ اس میں ایران کی قدیم روایتیں اور قصے کہانیاں ، بادشاہوں کے متعلق دلچسپ روایاتیں ہیں ۔

اندوز خسروئے کواتاں ۔ اندوز میں نوشیرواں بادشاہ (انوشک زبان سند۵۳۱۔۵۷۸ء) نے بستر مرگ پر اہل ایران سے خطاب کیا تھا اور یہ کتاب بہت مختصر ہے ۔ تاہم یہ کتاب محققانہ طور پر کوشش ہے ۔   

دساتیر ۔ یہ کتاب دو جلدوں میں پہلوی زبان میں ہے اس میں ایران کے قدیم پیغمبروں کے ملفوظات درج ہیں ۔ تاہم بعد میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جعلی کتاب ہے اور بمبئی میں ۸۱۸۱ء؁ اسے ملا بن کاؤس نے شائع کرایا تھا ۔ غالباً یہ کتاب اسماعیلیوں کی تالیف ہے ۔ کیوں کہ اس میں اسماعیلی عقیدے درج ہیں ۔

دساتیر اور اس کی زبان کی ولیم جونز نے بڑی تعریف کی ہے ۔ مگر اس کے بارے میں پروفیسر ایڈور براؤن کا کہنا ہے کہ اس کی زبان لایعنی کلمات کا مجموعہ اور مروجہ فارسی کا ایک ناقص چربہ ہے جس میں یہ تفسیر قلمبند ہے اور اس کے معافی و مطالب کو دور قدیم کے ایسے بیش بہا واقعات بتاتا ہے جو غلط طور پر آریان قوم کو پیش کرکے کیومرث کی تخت نشینی سے قبل ایران کا مذہب برہمنی مذہب تھا ۔

نامہ تنسر ۔ بنام شاہ طبرستان ۔ جسے مختصر نامہ تنسر کہا جاتا ہے اور اصل پہلوی کتاب اور عربی ترجمہ دونوں ناپید ہیں ۔ تاہم عربی مورخوں مثلاً مسعودی ، البیرونی نے اسے اپنی تصانیف میں درج کیا ہے ۔ نامہ تنسر ایک تاریخی ، سیاسی اور اخلاقی مراسلہ کی شکل میں ہے جو ہیر بد بزرگ تنسر و شاہ طبرستان کو جس کو ایران جو کہ سیاسی حالات سے پوری طرح واقف نہ رکھتا تھا اور اردشیر کی اطاعت قبول کرنے تذب کا شکار تھا ۔ اس نامہ تتسر میں شاہ طبرستان کو اردشیر کی اطاعت قبول کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ مارکورٹ کا کہنا ہے کہ یہ جعلی تصنیف ہے اور خسرو اول (انوشیروان) کے زمانے کی تصنیف ہے اور اس زمانے میں تاریخی حوالے سے اس وقت بادشاہ کا نام دلخش تھا ۔ تاہم یہ ساسانی عہد کی کتاب ہے اس لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔

یات کار زریراں ۔ ایک قدیم پرانی ایرانی داستان ’یات کار زریزاں‘ جو کہ ۵۰۰ عیسوی کے قریب تصنیف ہوئی تھی ۔ یہ کتاب مختصر سی ہے اور اس کا ماخذ قدیم روایات ہیں جو بعد میں فردوسی کے شاہنامہ میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ پیش کیا تھا ۔ یہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ ساسانی بادشاہ اپنے کو دیوتا یا ربانی وجود جو پہلوی میں بغ ، کلدانی میں الااہا اور یونانی میں تھیاس کہتے تھے اور قدیم کیانی خاندان کی اولاد ہونے کے علاوہ اپنے آپ کو حکومت و فرکیانی کا جائز وارث سمجھتے تھے ۔ آسمانی حق کی تعلیم نے ایران کی آئندہ تاریخ پر نہایت وسیع و وقیع اثر ڈالا ۔ مذہب شیعہ یا علی کی ہمنوائی پر ایرانیوں کا اصرار اس کی نہایت بین مثالیں ہیں ۔

فارسی میں اہم زرتشتی کتابیں یہ ہیں ۔

(۱) زرتشت نامہ ۔ تیرویں صدی میں رے میں تصنیف کی گئی تھی ۔

(۲) صد در (صد ابواب) دین زرتشت کا خلاصہ ہے ، اس کے تین متن ہیں ، ایک نثر میں اور دو نظم میں ۔ اس کا نثر کا قصہ قدیم ہے ۔

(۳) علمائے اسلام ۔

(۴) روایات مذہبی کا مجموعہ ۔

(۵) قصہ سنجان (اسلامی فتوحات کے بعد پارسیوں کے ہند آنے کا حال ہے) ۔

(۶) دبستان مذہب ۔ یہ کتاب کیخسرو نے ہندوستان میں لکھی تھی ۔ اس میں ایسے عقائد اور خیالات پیش کیے ہیں جو اس سے پہلے پیش نہیں کیے گئے تھے ۔ اس طرح اس میں آفرنیش کی داستان بھی ایک نئے فسانہ کے ساتھ پیش کی گئی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں