70

چمکنی

نعمت اللہ ہروی لکھتا ہے کہ غوری یا غورا بن کند بن خرشبون بن سربنی بن قیس عبدالرشید کے پانچ بیٹے دولت یار ، منو زئی ، زیرانہ ، خلیل اور جوکن تھے ۔ جب کہ شیر محمد گنڈا پور لکھتا ہے کہ غوریا بن گند بن خرشبون کے چار لڑکے دولت یار ، خلیل ، چمکنی المعروف خوکتی اور زیرانی تھے ۔  اس طرح نعمت اللہ نے چمکنی کا ذکر نہیں کیا ہے اور شیرمحمد گنڈاپور نے منو زئی اور جوکن کا ذکر نہیں کیا ۔

 قدیم آریائی قوموں کی خصوصیت تھی وہ اپنا انتساب کسی خاص جانور سے کرتے تھے ۔ یہ ان جانوروں کی پوجا کے علاوہ اسے اپنا جد امجد بھی تصور کرتے تھے ۔ راجپوتانہ میں خوک (سور) کی پوجا کی جاتی ہے اور وہاں اس کے مندر اب بھی ہیں ۔ بابر لکھتا ہے کہ کابل کے تومات انکار جو کافرستان کے کے قریب ہے یہاں کے باشندے سور پالتے تھے ۔ میں نے معمانت کرادی ۔ اب یہاں کوئی سور نہیں پالتا ہے ۔

شیر محمد گنڈا پور نے چمکنی المعروف خوکتی کے نام سے ذکر کیا ہے اور خوکتی ہی اس کلمہ کی اصل ہے ۔ اس کلمہ کا پہلا حصہ خوک ہے جس کے معنی سور کے ہیں ۔ دوسرا حصہ تی نسبتی ہے ۔ اس طرح اس کے معنی سوروں کا قبیلہ یا سور والے کے ہیں ۔ چمکنی قبیلہ کا قبول اسلام سے پہلے ان کا ٹوٹم سور ہوگا اور وہ اس کی پوجا کرتے ہوں ۔ مگر وہ بعد اس حقیقت کو بھول گئے اور یہ نام ان کی روایتوں میں محفوظ رہا ۔ اگرچہ اس کو انہوں نے چمکنی سے بدل دیا مگر یہ لوگ خوکتی کی عرفیت سے جانے جاتے رہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں