66

چونسٹھ یوگنیاں

ہندوؤں میں دوسرے بدھ پرستوں کی طرح مانوق الفطرت طاقتوں کی دیوی اور دیوتاؤں کی شکل میں پوجی جاتی ہیں ۔ یہ دیویاں و دیوتا مختلف طاقتوں کی مالک تصور کیے جاتے ہیں ۔ یعنی یہ دیوی یا دیوتا ان مانوق الفطرت طاقتوں کے نمائندے ہیں ۔ ان طاقتوں میں ایک چونسٹھ یوگنیوں بھی شامل ہیں جن کی پوجا کی جاتی ہے ۔ جس کی پوجا کے بارے میں ہم لوگ بہت کم واقف ہیں ۔ اگرچہ انہیں یوگنیاں (جوگنیاں) کہا جاتا ہے مگر یہ دیویوں کی حثیت سے پوجی جاتی ہیں ۔ یہ دیویاں یہ مختلف طاقتوں کی نمائندہ اور مالک ہیں اور ہر دیوی سے کسی خاص قسم کی شکتی منصوب کی جاتی ہے ۔ جب ان دیویوں کو جب یکجا پوجا جاتا ہے تو یہ یوگنیاں کہلاتی ہیں ۔
چونسٹھ یوگنیوں کی پوجا عام نہیں ہے اور بہت کم پوجی جاتی ہے ۔ اس لیے چونسٹھ یوگنیوں کے مندروں کی تعداد بھارت میں پانچ سے زائد نہیں اور یہ سارے مندر بارھویں صدی عیسوی کے بعد کے بنے ہیں ۔ اگرچہ انہیں دسویں صدی کی تعمیر بتایا جاتا ہے ۔ ان مندروں میں پوجا کرنے والے بہت کم لوگ آتے ہیں ۔ ان مندروں میں آنے والے بشتر سیاح ہوتے ہیں ۔ ان یوگینوں کے مندر عموماً اجاڑ جگہ پر واقع ہیں ۔ صرف تانترک (جادو ٹونے) پوجا یا سادھنا پوجا (قابو) کرنے والے ہی ان مندورں میں آتے ہیں ۔ یعنی ان کی پوجا تعلق اب جادو ٹونے سے ہوگیا ہے ۔ ان مندروں سے بہت سی دیویوں کی مورتیاں چوری ہوگئیں ہیں ۔ اس لیے کئی مندروں میں سے ان موتیوں کو نکال کر میوزم میں محفوظ کرلیا گیا ہے ۔ ان مندوں کا ایک جیسا نقشہ ہے ۔ یعنی ایک وسیع گول دائرے میں دیوار کھنچی گئی اور اس میں اندرونی سمت دیوار کے ساتھ برآمدہ بنا ہے ۔ جس کی چھت کو ستونوں سے سہارا دیا گیا ہے ۔ اس برآمدے میں اندرونی سمت چونسٹھ طاق بنے ہوتے ہیں اور ان طاقوں میں ان یوگیونیوں یا دیویوں کی مورتیاں رکھی ہوئی ہیں ۔ اس عمارت کے درمیاں میں میدان ہے اور اس کے وسط میں مرکزی مقام پر ایک عمارت بنی ہوتی ہے ۔ ان میں اب شیو لنگ استادہ کرکے شیو مندر بنا دیا گیا ہے ۔ یہ مندر اپنی قدامت کے علاوہ صناعی اور سنگ تراشی کا نہایت عمدہ شاہکار ہیں ۔ اس لیے ہر سال بیرونی ممالک سے ہزاروں سیاح ان مندروں کو دیکھنے آتے ہیں ۔ ان مندروں کے نقشہ پر ہی بھارت کی مہا سبھا کی عمارت کا تعمیر کی گئی ہے ۔ 
اگرچہ یہ چونسٹھ یوگنیاں یا دیویاں کہلاتی ہیں مگر ان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بلکہ ہزاروں کی تعداد بتائی جاتی ہے ۔ بلکہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی کنیا (عورت) یوگنی بن سکتی ہے ۔ غالباً اس سے مراد جوگ اختیار کرنے سے ہے ۔ مگر یہ مندر چونسٹھ یوگنیوں اصل میں دیویوں کے ہیں ۔ ان میں ہر یوگنی یا دیوی الگ الگ شکتی یا طاقت کی مالک بتائی جاتی ہے ۔ ان میں ہندوؤں کی تقریباً تمام معروف دیویاں شامل ہیں ۔ جن کی عام طور پر پوجا کی جاتی ہے اور ان کے الگ سے مندر بنے ہوئے ۔ مثلاً کالی ، لکشمی اور باربتی وغیرہ ۔ اس کے علاوہ کالی کی دس مہا ودیاؤں (عظیم طاقتوں) کالی ، درگاہ ، چنڈرا اور تارا وغیرہ بھی شامل ہیں ۔ اس لیے بہت سے لوگ چونسٹھ یوگنیوں کا کالی سے تعلق بتاتے ہیں کہ یہ کالی کی مختلف شکتیاں (طاقتیں) ہیں ۔ ان دیویوں کی شکل و صورت بھی مختلف ہیں ۔ ان کے چہرے عموماً انسانی ہیں ۔ مگر بہت سی دیویاں کے چہرے جانورں کے ہیں ۔ ان میں شیر ، ریچھ ، ہاتھی ، سور ، گائے ، گھوڑے ، گدھے اور گدھ وغیرہ شامل ہیں ۔ یہ بے لباس دیویاں برہنہ ہیں اور ان کا بالائی بدن کھلا رہتا ہے ۔ جب کہ نچلا حصہ میں زیورات اور مختلف اشیاء سے آرائیش کی گئی ہے اور ان دیویوں کی سواریاں جو ان کے ساتھ بنائی جاتی ہے بھی مختلف ہیں ۔ مثلاً مردہ ، پانی ، مگرمچھ اور بھینس وغیرہ شامل ہیں ۔ مگر ان مندروں کی ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ان میں ہندوؤں کی طاقت ور دیویاں شامل ہیں مگر کسی دیوی بالادست یا برتر نہیں دیکھایا جاتا جاتا ہے اور سب دیویاں ایک برابر کی حثیت سے استادہ کیا گیا ۔
ان یوگنیوں میں وہ ساری معروف دیویاں شامل ہیں جن کی پوجا عام طور پر ان کے شوہر دیوتاؤں کے ساتھ پوجا جاتا ہے اور ان کے مندر جگہ جگہ بنے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے جب مقامی دیوی دیوتاؤں کی پوجا شروع ہوئی تو انہیں یکجا کرکے پوجنے کا رواج دینے کی بعض لوگوں نے کوشش کیں مگر یہ پوجا مقبول نہیں ہوئی اور صرف تانترک یا جادو ٹونا کرنے والوں کی رہ گئیں ۔ مگر ان میں سے جو دیویاں معروف تھیں ان کے باقیدہ مندر بنا کر ان کی تنہا یا کسی دیوتا کی بیوی کی حثیت سے پوجا جانے لگا ۔ کیوں کہ ہندوؤں کی تقریباً تمام معروف دیویاں چونسٹھ یوگنیوں میں شامل ہیں ۔ 

تہذیب و تر تیب
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں