97

ڈاکٹر احمد سہیل صاحب کے سوالات

ڈاکٹر احمد سہیل صاحب نے کچھ سوالات ادب کے حوالات کے سے اٹھائے اور لوگوں سے ان کی رائے طلب کی ۔ ان سوالوں کے جواب مجھ جسیے کم علم شخص کے لیے دینا آسان نہیں تھا ۔ تاہم میں نے اپنی عقل و فہم کے مطابق ان کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے اور ضروری نہں ہے کہ دوسرے اس سے متفق ہوں ۔ سوالات یہ تھے 
(1) کیا تخلیقی و فکری متن کو سیاسی ، تاریخی اور ایقان کی بنیاد پر مسترد کیا جاسکتا ہے ؟ 
(2) کسی ادبی متن کو تاریخی ، سٹلجیائی اور استعارے کے طور پر مطالعہ کیا جاسکتا ہے ؟
(3) کسی ادبی متن کی ادبی یا غیر ادبی کی شناخت کرنے کے بعد قرات کرنا چاہیے ؟ 
(4)  کیا اردو کا قاری نظریات ، رویوں اور فکری تحریکوں کو درست سمجھ پا رہا ہے ؟   
محترم احمد سہیل صاحب آپ کے سوالات بہت اہم ہیں ۔ ان کے جوابات مختصر جوابات دینا آسان نہیں ہیں ۔ اگرچہ میری علمی استعداد اتنی نہیں ہے کہ میں اتنے بلند پایہ سوالات کے جوابات دوں ۔ تاہم میں کو شش کرتا ہوں کہ ان کے جواب دوں ۔
(1) ہاں ! بعض اوقات ایسا ادب تخلیق کیا جاتا ہے جو کسی نظر یہ یا عقیدے کو سامنے رکھ کر لکھا جاتا ہے ۔ مثلاً کیمونسٹ یا نازی نظریہ ۔ اس صورت میں اسے مسترد کرنا بہتر ہوتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات کسی نظریے کے تخت ایسا ادب بھی لکھا جاتا ہے کہ اسے مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ مثلاً گورکی کا ناول ماں اور یہ بھی حقیقت ہے ادب کی ابتدا اساطری اور مذہبی داستانوں سے ہوئی ہے ۔ مصر کے فرعون آمن راع کی مناجات ہوں ، ویدوں کی مناجات ہوں ، بائیل کے ایوب اور داؤد کی مناجاتیں ہوں ، سمیری گلمش کی داستانیں ہوں ، مہابھارت اور رامائن کی داستان ہو ، ہومر کی ٹرائے کی داستان ہو یا قران کی آیتیں جن کا سحر ایسا تھا کہ مکہ کے کافر چھپ کر سنتے تھے ۔ ہم ان کو ادب سے خارج نہیں کرسکتے ہیں اور انہی پر موجودہ ادب کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔ 
(2) ہاں ! وہ ادب ہی نہیں ہوتا ہے جو اپنے عہد کی منظر کشی نہیں کرتا ہو ۔ لہذا کسی بھی عہد یا علاقہ میں جو ادب تخلیق کیا جاتا ہے وہ اپنے عہد کا عکاس ہوتا ہے اور جتنا اچھا ادب لکھا جائے گا اتنا ہی بہترین اپنے عہد کا عکاس ہوگا ۔ اس لیے جب ہم کسی عہد کے ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس عہد کا مطالعہ کر رہے ہوتے ہیں تو اس کا استعارے کے طور پر کیوں مطالعہ نہیں کیا جاسکتا ہے ! 
(3) نہیں ! ہم کسی ادبی متن مطالعہ کرتے ہیں تو ادب کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ ہم کسی رپوٹ کا مطالعہ نہیں کر تے ہیں اور مطالعہ کرنے والے کو اتنی تمیز ہونی چاہیے کہ وہ جس تحریر کا مطالعہ کر رہا ہے وہ ادب ہے یا نہیں ؟ اگرچہ ہم لکھنے والے سے اختلاف یا اسے پسند نا پسند کرسکتے ہیں ۔ ایک اچھا لکھنے والا قاری کے ذوق کے مطابق ماحول کی عکاسی کرتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے قبول عام ہو ۔
(4) احمد سہیل صاحب ! اردو کیا دنیا کی کسی زبان کا قاری جب مطالعہ کرتا ہے تو وہ اس کے پیش نظر فکری یا ادبی تحریکیں نہیں ہوتی ہیں ۔ وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ لکھنے والے نے اس کے جذبات کو پیش نظر رکھا ہے یا نہیں ۔ فکری تحریکوں میں تقسیم کرنا تو تنقید نگار کا کام ہے ۔ ایک عام قاری کے ادب کا مطالعہ کا محرک کسی تحریک یا نظریہ کا مطالعہ نہیں ہوتا ہے ۔ اگر تحریک کو پیش نظر رکھ کر مطالعہ ہی کرنا ہے تو اس زمرے میں مذہبی لٹریچر اور کیمونسٹ لٹریچر بھی ادب میں شامل کرنا ہوگا ۔

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں