69

کاغذی زر

کرنسی نوٹ کیا ہے ؟ یہ کسی بھی حکومت کا وعدہ ادائیگی زر ہے ۔ جبکہ سرکاری کفالتیں بھی حکومت کا وعدہ ادائیگی ہے ۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ سرکاری کفالت حامل سود ہے ، جب کہ کرنسی نوٹ سود سے مبرا ہے ۔ حکومت نوٹوں کو چلانے کے موجودہ طریقہ کار میں مرکزی بینک کو حامل سود ہنڈیاں دیتی ہے تاکہ نوٹ چھاپے جائیں ۔ جب مرکزی بینک کو احساس ہوتا ہے کہ ضرورت سے زیادہ نوٹ گردش کررہے ہیں تو وہ ان کفالتوں کو تجارتی بینکوں کے ہاتھ فروخت کردیتا ہے ۔
کاغذی زر میں عمدہ زر کی خصوصیات موجود ہیں ، لیکن ان خصوصیات سے جو خرابیاں جنم لیتی ہیں وہ اس میں موجودہیں ۔ یہی وجہ ہے اس نظام میں سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ کاغذی نوٹ بڑی تعداد میں چھپ جائیں ۔ کیوں کے بعض اوقات حکومت قرض لینے کے بجائے نوٹ چھاپ لیتی ہے ۔ اس طرح نوٹوں کی رسد میں{ XE "نہعغف" }{ OL 86 }اضافہ سے جہاں اخراجات بڑھ جاتے ہیں وہیں ملک میں افراط زر بھی ہوجاتا ہے ۔جس سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس طرح کاغذی زر ہمیشہ ملک میں قبول ہوتا ہے ۔ کیوں کہ بیرون ملک کے مابین مشترکہ معیار کے لیے دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کاغذی زر کی قدر غیر مستحکم رہتی ہے اور اس کی رسد میں اضافے کی بدولت اس کی قدر میں تبدیلی آجاتی ہے ۔ 
موجودہ کاغذی زر کی وجہ سے بہت سہولت حاصل ہوگئی ہے ۔ اس پر خرچہ بھی کم آتا ہے ۔ اسے باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منقل کیا جاسکتا ہے ۔ ہنگامی حالات میں نوٹوں کی بڑی تعداد کو چھاپہ جاسکتا ہے ، اس طرح حکومت اپنے بڑھے ہوئے اخراجات سے عہدہ براہ ہو جاتی ہے ۔ کاغذی زر کی وجہ سے بینکوں کے کاروبار کو فروغ حاصل ہوا ہے ۔ کیوں کہ بینک واجب الادا رقوم کے مقابلے میں محفوظ زر کی جگہ رکھ سکتا ہے اور اس کی وجہ سے لین دین میں بڑی سہولت ہو گئی ہے ۔                
کاغذی زر میں خرابیاںہیں لیکن اس کی خرابیوں کے مقابلے میں خوبیاں زیادہ ہیں اور انہیں حکومت اپنی مالیاتی پالیسی کے ذریعے کنٹرول کر سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے دور جدید میں کاغذی زر ایک مستحکم عنصر کی حیثیت سے اخراجات ، دولت ، بچت ، سرمایاکاری اور روزگار کی قدرتی گردش پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے اس کی بدولت پیداوار ، کھپت، تجارت غرض زندگی کے تمام شعبوں میں سہولتیں حاصل ہیں ۔ اس کی بدولت نہ صرف خرید و فرخت میں آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں ، بلکہ اس سے معاشیاتی سرگرمیوں میں تسلسل قائم ہے ۔ غرض صنعت ، زراعت ، مواصلات ، بینکاری ، کھپت ، پیداوار ، معاشی سرگرمیوں اور روزگار پیدا کرنے میں اس کا کردار بہت اہم ہے ۔ کینز کے خیال میں زر ایک سیالی اثاثہ ہے ، کیوں کہ اس مدد سے ہم اپنی ضرورت کی تمام اشیاء فوری طور پر خرید سکتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں