69

کالی

ہندوؤں کی مشہور دیوی اور شیو کی بیوی پاروبتی کا ایک اور سب سے خوفناک روپ ہے ۔ اسے درگا ، کالی اور بھوانی کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اسے شیو کی بیوی مانتے ہیں ۔ یہ دیوی شیو کی شکتی کا اظہار بھی ہے ۔ لنگم کے مد مقابل پاروتی یعنی مادہ النٰاث کی پرستش ۔ پاروتی یا کالی جو شیوی کی بیوی ہے زندگی اور موت کی دیوی مانی گئی ہے ۔ گویا یہ سارے عالم کی ماں ہے اور ایک دن سارے عالم کو نکل جائے گی ۔ کالی کی پرستش سے زیادہ کوئی نفرت انگزیز نہیں ہوسکتی ہے ۔ یہ صرف نیچے درجہ کے لوگوں میں مروج ہے ۔ اس دیوی کی شکل بالکل ایسی ہی جیسی افریقہ کی بعض اقوام کی دیویوں کی ۔ جس قسم کی خلاف تہذیب اور بے رحمانہ حرکتیں اس پرستش میں کی جاتی ہیں وہ بیان نہیں کی جاسکتی ہیں ۔ اس دیوی کے مذبح پر قدیم زمانے میں انسانی بلی دی جاتی تھی اور اب بھی اس کی پرستش میں اس قسم کے اعمال اور حرکتیں شامل ہیں جو انسان کو نفرت دلاتی ہیں ۔ کالی کے پوجنے والوں زیادہ وحشی وہ فرقہ جس کو بائیں ہاتھ والا فرقہ کہتے ہیں ۔

 اسے پاروتی اور اوما کا نام دیا جاتا ہے ۔ مگر کالی اس کا مشہور روپ ہے ۔ سری نقطہ نظر سے یہ حق کے ارفع ترین اظہار کی نمائندگی کرتی ہے جو مرتبہ میں ہندو مت کے پریم آتما سے برتر ہے ۔ کالی ابدیت کی نمائندہ بھی ہے ۔ اسے اگنی کے شعلوں کے سات زبانوں میں اسے سات سرخ بہنوں کے لیے کنایتاً استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس اعتبار سے یہ حیات افزا بھی ہے اور حیات کش بھی ۔ اس حثیت میں اس کا مجسمہ چار بازؤں والی ایک عورت کا سا بنا ہوا ہے ، جس کی کنچلیاں ہیں اور یہ ہر چیز کو نکل جاتی ہے ۔ یہ پھندا ، تلوار اور کھوپڑی والا عصا تھامے ہوئی ہے ۔ شمشان گھاٹوں کے ساتھ وابستگی بھی اسی وجہ ہے ۔ خوف کی نوعیت سے آگہی کے باعث خوف کی حالت میں اس کی دھائی دیتے ہیں ۔ کالی کو سیاہ رو ہاتھی جیسے دانت نکالے اور منہ کو خون سے سرخ کئے دیکھایا جاتا ہے ۔ اس کا ایک دوسرا روپ اب بھوانی کا جو اب ٹھگوں کی دیوی ہے ۔ 

کالی کا سب سے مقدس مندر کالی گھاٹ کلکتہ میں ہے ۔ کالی کے نام سے ہی کلکتہ کا نام پڑا ۔ اس مندر کی اہمیت سے وابستہ اسطورے کے مطابق مہادیو  شیو اپنی بیوی کی لاش اٹھائے سارے عالم میں گھوم رہا تھا کہ اسے تباہ کردے ۔ وشنو نے مداخلت کرتے ہوئے اپنے چکر سے کالی کی لاش کے اکاون حصوں میں کاٹ دی ۔ یہ ٹکڑے جس جگہ گرے وہ جگہ متبرک بن گئی اور وہاں مندر بنا دیا گیا ۔ اس کا ایک روپ درگا ہے اور بنگال میں درگاہ پوجا عام ہے اور وہ نسوانی شکل رب اعلیٰ ہے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق شیو کی بیوی بنے سے کالی یا درگاہ کے قادر مطلق ہونے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ ہندوؤں کا ایک فرقہ کالی کی پوجا کرتا ہے اور اسے شکتی پکارتا ہے ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ شکتی مونث ہے اور وہ ایک عورت کی حثیت سے تشخیص کی جاسکتی ہے اور وہ نسوانی شکل رب اعلیٰ ہے ۔ 

دیوی یا مہادیوی ۔ شیو کی جوجہ ، ہیم دت کی بیٹی ۔ شیوجی کی مادہ طاقت ظاہر کرنے کے شکتی کی صورت ظاہر ہوتی ہے ۔ پس ایسی صورت میں اس کی حالتیں یا خاصیتیں دو قسم کی ہیں ۔ ایک نرم دل اور دوسری خونخوار یا غضبناک اور خاص کر کالی یعنی دوسری حالت میں پرستش کی جاتی ہے ۔ دیوی کے لحاظ سے اس کے اوصاف و افعال شکل کے بہت سے نام ہیں ۔ لیکن شہرت اور صحت کے ساتھ ان سب ناموں کا استعمال نہیں ہوتا ہے ۔

بحالت نرم دل ہونے کی صورت میں دیوی کے نام اما یعنی روشن اور خوبصورت ، گوڑی یعنی زرد اور چمکیلی ، پاوتی ، کوہستانی پیدائش ، ہماوتی یعنی ماں کے نام سے یہ نام پڑا ، لتھگبن ماتا یعنی دنیا کی ماں ، بہوانی یعنی غضبناک صورت میں ، درگا ، یعنی غیر وصل پزیر یعنی کالی شیاما یعنی سیا رنگ ، چنڈی یا چنڈکا یعنی غضبناک اور خونخوار ، بھیروی یعنی خوفناک یعنی ایسی حالت اور شکل میں دیوی کی حصول مہربانی کی تمنا پر تنتر شاستر کے مطابق اس کی پرستش کی جاتی ہے ۔

دیوی کے دس ہاتھ ہیں اور ہر ایک ہاتھ میں ہتھیار پکڑے ہوئے ہیں ۔ درگا کی صورت میں یہ خوبصورت زرد رنگ کی عورت سواری چیتا ، خونخوار اور غضبناک حالت میں کالی یا کالکا کی صورت سیا رنگ مہیب اور خوفناک شبہیہ خون آلودہ ، سانپوں کا حلقہ زیب تن ، انسانی سروں اور کھوپڑیوں کی مالا گلے میں ڈالی ہوئی نہایت ڈاؤنی اور دہشت انگیز شکل ہوتی ہے ۔ وندیا داسنی یعنی کہ وندیا کی داسی ۔ باشندہ مرزاپور کے قریب جہاں پر کوہ دندی دریائے گنگا سے ملتا ہے وہاں اس کا مندر ہے جہاں اس کی پرستش کی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی مورتی کے سامنے خون خشک نہیں ہونا چاہیے ۔ چندی مہاتم میں ہے اس نے بہت سے اسروں اور دیتوں کو قتل کیا اور اس وجہ سے اسے درگا ، وش پھچا، سنکھ داہنی ، بہیش پرونی ، جگدھار تری ، کالی ، مکت کیشی ، تارا ، جہن ستا اور جگدگوڑی کے خطابات دیئے گئے ۔

شیوجی کے دیئے ہوئے کچھ نام یہ بھیروی ، بھگوتی ، ایشیانی ، ایشوری ، کالنجری ، کپالی ، کوشکی ، کرانی ، مہیشوری ، مرڈا ، مریڈانی ، ردورانی ، سراولی ، شیوا ، میتربمکی وغیرہ ہیں ۔ اس کے علاوہ اس کو اورجا ، گرجا ، کوجا ، دکش ، دختردکش وغیرہ کے نام سے بھی پکارا جاتا ۔

اس کے علاوہ اس کے ناموں میں کنیا کنواری یعنی جوان لڑکی ، امبکا یعنی ماں ، آدرا یعنی سب سے جوان ، اننتا متیا یعنی قائم دائم ، آریا یعنی عمدہ ، رجیا یعنی فاتح ، روھی یعنی دولت ، ستی یعنی نیک ، دکشنا یعنی راست والی ، پنگا یعنی سیاہ ، کھرپوری یعنی داغ ، مانشاندار ، مہرمری یعنی مکھی ، کوٹری یعنی برہنہ ، پدم لانچھلا یعنی کنول کے پھول سے تمیز کی جانے والی ، سرو منگلا یعنی ہر وقت خوش رہنے والی ، شاکمبری یعنی ساگ پات کھانے والی ، شو دولی ، شو کی قاصد اور سنکھ رتہی یعنی شیر سوار ۔

ریاضت کے لحاظ سے دیوی کے نام یہ ہیں ۔ اپرنا ، کاتیانی ، بھوت نائیکی یعنی بھوتوں کی سردار ، گن نائیکی یعنی گنوں کی رہنما ، وغیرہ ۔ اس کے علاوہ کام آکشی ، کام آکشیا یعنی یعنی مست آنکھ والی یہ رحم کی حالت میں مگر غضب نام اور وحشی حالت مٰن بہدر کالی ، بہیم دیوی ، چامنڈا ، ہاکالی ، مہاماری ، مہاسری ، ماملگی ، رجسی ، رکت دنتی یعنی یعنی سرخ خون کے دانتوں والی ۔ ڈاکنی کالی کی مدد گار ہے اور اس کی خوراک انسانوں کا گوشت ہے ۔

اس کو ماننے والے دو بڑے فرقے ہیں ، دکشن مرگ یعنی دائیں بازو کے پوجنے والے اور دام مرگ یعنی بائیں بازو کے پوجنے والے ۔ یہ ایک خفیہ فرقہ ہے جو ان کے نزدیک پانچ ’م‘ نجات کا ذریعہ ہیں ، یعنی مادی (شراب) ، متسی (مچھلی) ، مانس (گوشت) ، مدر (اناج) اور میتھون (جنسی اختلاف) ۔ ان لوگوں میں ایک مذہبی رسم ہے جسے یہ چکر پوجا کہتے ہیں ، اس پوجا میں اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت سے اختلاط کرنا کار ثواب سمجھا جاتا ہے اور وہ عورت ہمیشہ کے لئے اس کی رومانی بیوی بن جاتی ہے ۔ اس فرقہ کی اہم کتابیں تنترا ہے ۔ یہ ہری مس اور مارکنڈیہ پران کو بھی اہمیت دی جاتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں