64

کاما ستر کے مندر

دور جدید میں شوشل میڈیا آنے کی وجہ ہماری رسائی ایسی بہت سی چیزوں تک ہو چکی ہے جس کہ بارے میں ہم نہیں جانتے تھے یا ان کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں ۔ اب بہت سی ایسی چیزوں کے بارے میں ہمیں گھر بیٹھے معلومات مل جاتی ہیں جو ہم عموماً ہماری نگاہ سے اوجل تھیں اور ان تک ہماری رسائی نہیں تھی ۔ اب ہمیں بہت سی ان چیزوں تک رسائی ہوگئی ہے جن تک ہم نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔ ان ایک بھارت میں بنائے گئے ہندوؤں کے عظیم انشان قدیم مندروں کا وہ سلسلہ ہے جن کی تعمیرات آٹھویں صدی عیسوی سے چودویں صدی عیسویں کے درمیان ہوئی ۔ ان مندروں کی خصوصیت ان کی بیرونی دیواروں پر نقاشی کا نہایت عمدہ کام ہے ۔ مگر یہ یہ سب کی کاما یا تنترا کام کی برہنہ مورتیوں سے بھرا ہوا ہے ۔ ان میں سب سے زیادہ عالی شان مندر جو کہ تعمیر کا شاہکار ہے کھجورا کے مندر ہیں ۔ ان مندروں کی بیرونی دیواروں پر نہ صرف برہنہ موتیاں ہیں بلکہ کاما کے مختلف آسن بتائے گئے ۔ یہ آسن انسانوں کے انسانوں اور انسانوں کے جانوروں کے ساتھ بھی ہیں ۔

بھارت میں صرف یہی ایک جگہ مندر کاما کے آسن نہیں ہے بلکہ سو سے زیادہ چھوٹے بڑے مندروں ہیں ۔ جو کہ پورے بھارت میں بکھرے ہوئے ہین ۔ جن میں اس طرح کی چتر کاری کام ہے ۔ اس کے علاوہ بھی اکثر قدیم مندروں کی بیرونی دیواورں پر کچھ ایسے آسن بنے ملتے ہیں ۔ ان مندروں کی شہرت پوری دنیا میں ہے ہر سال سیکڑوں سیاح بیرونی ممالک سے دیکھنے آتے ہیں ۔ اس طرح ان مندروں کی بدولت بھارت کو کثیر زر مبادلہ کی آمدنی حاصل ہوتی ہے ۔ مگر موجودہ دور بھارتی ہندو جو ان مندروں میں آتے ہیں یا شوشل میڈیا پر ان سے روشناس ہو رہے ہیں ۔ وہ یہ سوال کر رہے ہیں کہ ان کاما کی مورتیوں کو بنانے کا مقصد کیا ہے ؟ جس کے جواب میں بہت سی تاویلیں پیش کی جارہی ہیں ۔ مگر وہ تاویلیں ایسی نہیں ہے کہ ان سے لوگ مطمعین ہوجائیں ۔ بشتر لوگ یہ جواب یہ دے رہے کہ یہ مورتیاں اس لیے بنائیں گئیں ہیں کہ مندر میں آنے والا یہ سب خرافات کو باہر چھوڑ آئے اور مندر میں من سے بھگوان کی پوجا کرے ۔

مجھے کسی بھی ہندو کا یہ سوال بہت ہی عجیب لگتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والا یا بیرون ملک رہنے والا کوئی ہندو یہ سوال کرے تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ مگر ایک ہندو کا یہ سوال مجھے حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ کیوں کہ یہ بشتر شیو مندر ہیں ۔ جہاں شیو کی مورتی نہیں بلکہ اس کے لنگ (عضو تناسل) کی پوجا کی جاتی ہے ۔ یہ لنگ ایک خاص وضع کی شکل میں پیوست ہوتا ہے ۔ یہ شکل پاروتی کی یونی (نہم انداہانی) کہلاتی ہے ۔ اس کے علاوہ پاربتی کی یونی پوجا عام ہے اور اس کے ایسے مندر بھی ملتے جن میں کالی کی یونی پوجا ہوتی ہے ۔ ان مندروں کی موجودگی یا پوجا پر ہندو ایسے سوال کیوں نہیں کرتے ۔

ہندو مت جنسیات سے عبارت ہے اور ان کے پرانوں میں ان خرافات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہیں ۔ جس میں دیوتاؤں رشیوں اور منیوں نے دوسروں کی بیویوں اور لڑکیوں کے علاوہ اپنی بیٹیوں کی ساتھ بھی جینسی ہوس کی داستانیں ہیں ۔ یہاں چند پرانوں کا خلاصہ دیا جا رہا ہے ۔

شیو پران

شیو پران میں ہے کہ پہلے شیو نے ایک تالاب پیدا کیا ۔ جس کے ناف سے کیول اور کیول سے برہما پیدا ہوا ۔ برہما نے تلاب کے پانی کو چلو میں اٹھا کر گرادیا ۔ جس سے حباب اور حباب سے وشنو پیدا ہوا ۔ برہما نے وشنو سے کہا اے بیٹے دنیا پیدا کر ۔ وشنو نے کہا تو میرا بیٹا ہے یا تو میرا بیٹا ۔ْ آپس میں لڑائی شروع ہوئی اور دونوں دو ہزار برس تک لڑتے رہے ۔

شیو نے دیکھا کہ برہما اور وشنو دونوں دنیا پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے اور لڑائی میں مصروف ہیں ۔ اس لڑائی کو موقوف کرنا چاہیے ۔ چنانچہ شیو نے رفع شر کی غرض سے برہما اور وشنو کے درمیان ایک لنگ مرد کا عضو تناسل پیدا کیا اور وہ نمودار ہوکر اس قدر بڑھا کہ آسمان سے اوپر نکل گیا ۔ برہما اور وشنو لنگ کی درازی دیکھ متحیر ہوئے اور لڑائی موقوف ہوگئی ۔ یہ دونوں اس امر پر متفق ہوئے کہ جو شخص لنگ کی ابتدا اور انتہا کا سراغ لگائے وہ باپ اور جو سراغ لگانے سے قاصر رہے وہ بیٹا سمجھا جائے گا ۔ برہما لنگ کا سراخ لگانے کی غرض سے ہنس بن کر اوپر اڑا اور وشنو کچھوا بن کر نیچے اترا ۔ دو ہزار سال تک دونوں بلندی اور پستی کی منزلیں طہ کرتے رہے ۔ مگر کسی کو کچھ کامیابی نہ ہوئی ۔

اتفاقاً برہما نے دیکھا کہ ایک گائے اور کیتکی دونوں اوپر سے اتر رہے ہیں برہما نے ان دونوں اترنے والوں سے پوچھا کہ یہ لنگ کس قدر لمبا ہے ۔ دونوں نے متفق جواب دیا ہم نہیں بتاسکتے ہیں کہ کس قدر لمبا ہے ۔ برہما نے جواب سن کر کہا آئندہ ایسا مت کہنا ، گائے سے مخاطب ہوکر کہا تم یہ کہنا میں لنگ کے سر پر دودھ کی دھار بہاتی تھی اور کتیکی کو مخاطب ہوکر کہا تم یہ کہنا کہ میں لنگ کہ سر پر پھول چڑھاتی تھی ۔ گائے اور کیتکی دونوں چھوٹی گواہی کے لیے راضی ہوگئے ۔ برہما اب بجائے اوپر چڑھنے کے گائے اور کیتکی کو لے کر نیچے اترنے لگا ۔ جب وشنو کے پاس پہنچا اس سے پوچھا کہ تم لنگ کا پتہ چلا ، وشنو نے عاجزی ظاہر کی ۔ برہما نے کہا میں نے پتہ لگایا ہے گائے اور کیتکی میرے گواہ ہیں دونوں سے پوچھ لو اور مجھ کو اپنا باپ سمجھو ۔ وشنو نے گائے اور کیتکی سے لنگ کی درازی دریافت کی ۔ گائے نے برہما کی مرضی کے مطابق کہا میں لنگ کے سر پر دودھ کی دھار بہاتی ہوں ۔ کیتکی نے کہا میں لنگ کے سر پر پھول چڑھاتی تھی ۔

اس دروغ گوئی پر لنگ نے کہا یہ تینوں جھوٹے ہیں ۔ اس جھوٹ بولنے پر تینوں کو اپنے جرم کی سزا بھگتنی پڑے گی ۔ برہما کی پرستش کوئی نہیں کرے گا ، کیتکی کا پھول کوئی دیوتا پسند نہ کرے گا ۔ لوگ گائے کی پرستش منہ کے بجائے دم کی پرستش کریں گے ۔ وشنو سچا ہے اس کی سچائی کی وجہ سے لوگ اس کی پرستش کریں گے ۔ یہ کلام سن کر برہما اور وشنو دونوں نے مل کر لنگ کی تعریف کی فوراً لنگ سے ایک دیوی نمودار ہوئی ۔ اس نے برہما اور وشنو سے پوچھا کہ تم نے اب تک دنیا کیوں پیدا نہیں کی ۔ برہما اور وشنو دونوں نے کہا کہ ہم بلا اسباب ہم لوگ دنیا کو کیسے پیدا کریں ۔ دیوی نے اپنی مانگ سے راکھ کا گولا نکال کر دیا اور کہا کہ اس راکھ سے دنیا پیدا کرو ۔ برہما اور وشنو نے اس راکھ کے گولے سے تمام دنیا کو پیدا کیا ۔ یہ ہے شیو پران کا خلاصہ ۔

بھاگوت پران

بھاگوت پران میں ہے کہ سری پور کی ملکہ سری دیوی نے تمام دنیا کو اس طرح پیدا کیا کہ پہلے اس نے اپنے ہاتھ کو رگڑا جس کی وجہ سے ہاتھ میں آبلہ پڑا آبلہ سے برہما پیدا ہوا ۔ سری دیوی نے برہما سے کہا تجھ کو اس لیے پیدا کیا کہ تو مجھ سے جماع کرے ۔ برہما نے جماع کرنے سے انکار کردیا ۔ دیوی نے ناراض ہوکر برہما کو جلا کر خاک کردیا ۔ دوبارہ ہاتھ رگڑا تو دوبارہ آبلہ پڑا اس میں سے دشنو پیدا ہوا ۔ دیوی نے دشنو سے میں نے تجھ کو اس لیے پیدا کیا کہ تو فورا مجھ سے جماع کر اور میری شہوت کی آگ بجھا ۔ وشنو نے کہا یہ مجھ سے ہر گز نہیں ہوگا ۔ دیوی نے نافرمانی کی وجہ سے اس کو بھی جلا کر خاک کردیا ۔

دیوی نے تیسری دفعہ ہاتھ رگڑا پھر آبلہ پڑا اس آبلہ میں شیو پیدا ہوا ، دیوی نے شیو کو جماع کرنے کا حکم دیا ۔ شیو نے کہا پہلے تو اپنا جسم بدل ، برہما اور وشنو میرے بھائیوں جن کو جلا کر خاک کردیا دوبارہ زندہ کر اور ان کے لیے دو عورتیں پیدا کر ۔ دیوی نے اپنے پیدا کردہ شیو کے حکم چشم زون میں تعمل کردی ۔ یعنی برہما اور وشنو کو دوبارہ پیدا کیا ، اپنا جسم بدل ڈالا اور دو عورتوں کو پیدا کیا ۔ تینوں نے تینوں عورتوں کے ساتھ جماع کیا جس سے یہ سلسلہ جاری ہوا ۔

اس طرح مہابھارت بھی جینسی داستانوں سے بھری ہوئی اور وید میں بھی ایسے اشلوک ملتے ہیں ۔ جس راجہ اپنی رانیوں کو گھوڑے جینسی مواصلت کرواتے تھے ۔ تری مورتی کے تینوں دیوتاؤں برہما ، بشن ، مہیش اور اندر کو جینسی دیوانہ بتایا گیا ہے ۔ جس معاشرے ننگے سادھوں اور مذہبی پیشواں کی عزت و توقیر اس درجہ کی جاتی ہے کہ انہیں اپنی بیویاں ، کنواری بہنیں اور بیٹاں پیش کی جاتی ہیں اور کا قبول کرنا یا طلب کر ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے ۔ جہاں کرشن کی ہوس ناکی کا داستانیں جس کی سولہ سو سے زہادہ گوپیاں تھیں بڑے ذوق و شوق سے سنائی جاتی ہیں ۔ جہاں اولاد نہ ہونے کی صورت میں نیوگ یعنی اور اور آدمی سے اولاد پیدا کرنے کی اجازت ہے ۔ اس اولاد کو انگریزوں قانون نے بھی دھرم شاستروں کی اجازت کی بنا پر درست تسلیم کیا ۔ کیا ایسے مذہب اور معاشرے میں ایسا سوال کرنا چاہیے ؟ اس سوال کا مطلب یہی ہے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھے ہیں ۔ مگر عقیدت مندی اور ضیعف اعتقادی نے ان ذہنوں کو ایسا جکڑ رہا ہے کہ انہیں کچھ سمجھ اور نظر نہیں آتا ہے ۔ ہم یہاں رگ وید کے کچھ حوالے دے رہے ہیں ۔

اے ورن ہم برا کہا ہم پر رحم کر ، ہمارے باپوں کی خطاؤں کو معاف کر ہمارے دشمنوں کو اس مدح سرائی کے صلہ میں ہلاک کر ، کالے چمڑے والوں کو غارت کر ، جس کے بدلے ہم نے تیرے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ (رام اور کرشن دونوں کالے چمڑی والے تھے) جیسے بیج دینے والا سانڈ گایوں میں جفت ہونے کے اپنی طاقت سے پہنچتا ہے ۔ ویسے ہی اندر عمدہ صفات کی بارش کرنے والا ثروت والا کل دنیا کو بنانے والا اپنے بل سے دہر ماتما آدمی تک پہنچتا ہے ۔ جیسے باپ اپنی کنواری بیٹی سے جماع کرتا ہے ۔ ویسے ہی بادل زمین پر اپنی بوندیں برساتا ہے ۔ (رگ وید) جیسے باپ اپنی بیٹی سے جماع کرتا ہے ویسے ہی سورج صبح صادق میں کرنیں چھوڑ دیتا ہے ۔ جیسے پیاسا ہرن دوڑ کر تالاب یا ندی سے پاندی پیتا ہے ویسے اندر ہمارے قابل تعریف یجہ کا پانی پیتا ہے ۔ (رگ وید سوکت ۱۶ منتر ۵) جیسے کبوتر کبوتری کے پاس جاتا ہے ویسے ہی اندر ہماری فریاد پر پہنچتا ہے ۔ (رگ وید سوکت ۳۰ منتر ۴) جیسے گھوڑا گھوڑیوں سے جفت ہوتا ہے ۔ ویسے ہی لیٹی ہوئی عورت بھی ہوتا ہے ۔ (رگ وید سوکت ۵۶ منتر ۱) اے سیکڑوں ترکیبیں جانے والے راجہ میں تیری رعیت اور فوج کے گیت گانے والا ہوں مجھ کو پڑوسی ایسا سناتے ہیں جیسے خاوند کو اس کی بہت سی بیویاں ایذا پہنچاتی ہیں ، جیسے چوہے سوت کو کاٹ کر کھاتے ویسی ہے مجھے بھی مدد دے ۔(رگ وید سوکت ۱۰۵ منتر ۸)

یہ لوگ پہلے اپنی بیٹی کے ساتھ جماع کرتے تھے اور برہما نے بھی اپنی بیٹی سے جماع کیا تھا ۔ بعد میں اسے سمجھا جانے لگا تو منو نے تلفین کی کہ بیٹی کے ساتھ جماع کرنے سے پاپ ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اس فعل کا ارتکاب کرے تو برت رکھے اور گائے کا پیشاب نوش کرے ۔ آریہ اب تک شراب پیتے جوا کھیلتے اور زنا کرتے تھے ۔ پہلے زمانے میں ہندو راجے اپنی رانیوں سے فخریہ یہ ارتکاب کراتے تھے ۔ گورگھپور کے راجہ کا قصہ مشہور ہے کہ اس نے اپنی پیاری رانی کا سماگم گھوڑے کروایا جس کی وجہ سے رانی مرگئی ۔ سلاطین اسلامیہ نے اپنے عہد حکومت میں اس فعل کو جرم قرار دیا ۔ برٹش گورنمٹ نے بھی اس جرم مرتکب ہونے پر سخت سزائیں دیں ۔ جس کی وجہ سے ویدک دہرم کی یہ وحشیانہ تعلیم ہندوستان نیست و نابود ہوگئی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں