68

کرسمس

کرسمس کا تہورا اب صرف عیسائی دنیا میں نہیں منایا جاتا ہے بلکہ اسے چین اور جاپان میں بھی مقبولیت حاصل ہوگئی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی اور تجارتی ہوگئی ہے ۔ اس لیے اسے غیر عیسائی دنیا بھی منانے لگے ہیں ۔ اس وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا میں مذہب سے زیادہ تجارت اور ہلا گلا اہم ہوگیا اور مذہب ان کی زندگیوں میں اہم نہیں رہا ہے ۔ 
سوال یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کیا واقعی پچیس دسمبر کو ہی پیدا ہی ہوئے تھے یا اس دن کو منانے کی وجہ کچھ اور ہے ؟ کیوں کہ انجیل کے مطابق جب حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے تھے تو چراہے اپنی بھیڑوں کے ساتھ بیت الحم کے کھیتوں میں موجود تھے ۔ جس پر انسائیکلوپیڈیا میں مقالہ نگار نے یہ سوال اٹھایا کہ دسمبر تو فلسطین میں سخت سرد اور بارشوں کا مہینہ ہوتا ہے اور اس موسم میں چراوہے اپنی بھیڑوں کے ساتھ میدانوں میں کس طرح موجود ہوسکتے ہیں ؟ خود قران کریم میں سورۃ مریم میں ہے کہ جب حضرت مریم جب دروزہ کی تکلیف میں تھیں تو انہوں نے کھجور کے تنے کو ہلایا تو تازہ کھجوریں ان پر گر پڑیں اور انہوں نے وہ کھجوریں کھائیں اور چشمے کا پانی پیا تو ان کی تکلیف میں کمی ہوئی ۔ جب کہ کھجوریں فلسطین میں جولائی اگست یعنی موسم گرما میں ہوتی ہیں ۔ لہذا دسمبر میں حضرت عیسیٰ کی پیدائش نہیں ہوئی تھی ۔ مگر اس دن کو منانے کی وجہ کیا ہے اور اس پر ایک طویل بحث کی ضرورت ہے ۔
یونان و روم کی قدیم تہذیب کے دور انحطاط میں وہاں جن مشرقی دیوتاؤں کو مقبولیت حاصل ہوئی ان میں ایک قدیم دیوتا متھرا (سورج) بھی تھا ۔ اسے روم میں اپالو کہا جاتا تھا اور اس کی مقبولیت کا ثبوت وہ یادگاریں ہیں جو سلطنت روما کی حدود میں مختلف مقامات پر کثرت سے ملتی ہیں ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے قدیم متھرائی مسلک اور مسیحت میں بہت سی مذہبی رسمیں مشترک ہیں اور اس کو خود مسیحی علماء نے بھی محسوس کرتے ہوئے اسے ابلیس قرار دیا تھا کہ جس نے جھوٹے مذہب کی جھوٹی نقل کے ذریعے لوگوں کے دل پھیرنے کی شاطرانہ چال چلی تھیں ۔ 
متھرائی دھرم جس کا تاربود باضابطہ رسموں ، نیکی کی تمناؤں اور حیات جاویداں کے امتزاج سے بنا تھا مسیحت کا زبردست رقیب تھا ۔ ان دونوں مذہبوں رسموں کی یادگار کرسمس کا تہوار ہے ۔ جو کلسیا نے اپنے اسی طاقت ور مد مقابل سے لیا ہے ۔ جولیسی تقویم اور قدیم بت برستوں میں مطابق دسمبر کی پچیس تاریخ راس الجدی کی تاریخ ہے اور یہ دن سورج کی پیدائیش کا دن سمجھا جاتا تھا ۔ اس تاریخ سے دن لمبے ہونے لگتے ہیں اور آفتاب کی تپش بڑھنے لگتی ہے ۔ سورج کی پیدائش کی یہ رسم قدیم دور میں شام و مصر میں عجیب و غریب طریقہ سے منائی جاتی تھی ۔ اس رسم کو ادا کرنے کا طریقہ یوں تھا کہ بت پرست بعض مقبروں جاتے اور وہاں سے آدھی رات کو چیختے ہوئے نکلتے تھے کنواری کے ہاں بچہ پیدا ہوگیا ، کنواری کے یہاں بچہ پیدا ہوگیا ۔ مصری اپنے ساتھ ایک شیر خوار بچے کی صورت میں نوزائیدہ آفتاب لے کر نکلتے تھے اور لوگوں کو دیکھاتے تھے اور آج بھی عیسائی اس دن کی ابتدا اس طرح کرتے ہیں ۔ یہ کنواری مشرق کی جلیل القدر دیوی عشرات تھی اور یہ آسمانی دوشیزہ یا آسمانی دیوی کہلاتی اور کنواری کہلاتی تھی ۔ یہ کنواری جو بارور ہوکر پچیس دسمبر کو ایک لڑکا جنتی تھی ۔ یہ دیوی اپنی مقبولیت کی وجہ سے مختلف ناموں سے مشہور تھی اور یہ سامی جو متھرا یا آفتاب کے ساتھ اس کی بھی پرستش کرتے تھے ۔ اس کنواری سے سورج کی پیدائش کی میلاد تاریخ پچیس دسمبر کو آتی تھی ۔ حضرت عیسیٰ بھی عقیدے کے مطابق کنواری کے بطن سے پیدا ہوئے تھے ۔  
انجیل مسیح کے یوم پیدائش کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیتی ہے اور نہ ابتدا میں عیسائی اس دن کو مناتے تھے ۔ لیکن بعد میں مصر کے عیسائیوں چھ جنوری کو نجات دہندہ کے جنم کی خوشی منانے کا دستور شروع کیا اور رفتہ رفتہ یہ دستور پھیلتا رہا اور مشرق میں اسے ہر جگہ اسے میلاد مسیح تسلیم کرلیا گیا ۔ لیکن مغربی کلسیا نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا تھا ۔ لیکن تیسری صدی کے آخر یا چوتھی صدی کے آغاز میں دسمبر کی پچیس کو حضرت عیسیٰ کی یوم پیدائیش مغربی کلسیا نے صحیح تاریخ قرار دے کر منانا شروع کیا ۔ ابتدا میں مشرقی کلسیا نے اس کی مخالفت کی مگر رفتہ رفتہ وہ مان گئے اور انطاکیہ کے کلسیا نے 375ء تک اسے تسلیم نہیں کیا تھا مگر رفتہ انہوں بھی مان لیا ۔   
ایک قدیم شامی عیسائی مصنف نے لکھا ہے کہ ائمہ کلسیا نے چھٹی جنوری کے بجائے پچیس دسمبر کی عید منانی شروع کی اور اس دن کفار سورج کا جنم دن منایا کرتے تھے اور اس موقع پر اپنی خوشی کا اظہار جشن مناتے اور چراغاں اور مختلف رنگ رلیاں منایا کرتے تھے ۔ ان رسموں اور رنگ رلیوں میں عیسائی بھی شریک ہوتے تھے ۔ چنانچہ علماء کلسیا نے اس تہوار کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے صلاح مشورہ کے بعد یہ طہ کیا کہ میلاد کی سچی عید اس دن منایا جائے اور چھٹی جنوری کو ظہور مسیح کے لیے مخصوص کردیا جائے ۔ لہذا پچیس دسمبر سے چھ جنوری تک چراغاں کیا جانے لگا ۔ سینٹ آگسٹائن نے بھی اپنے مسیحوں بھائیوں کو منع کرتا ہے کہ وہ یہ مترک دن کفار کی طرح آفتاب کی نسبت سے نہیں  بلکہ اس ہستی کے لیے منائیں جس نے آفتاب کو پیدا کیا ہے ۔ اس طرح لیوئے اعظم (لیوئے اول پاپائے روم پانچوی صدی عیسوی) نے اس محرب اخلاق عقیدے پر تبرا بھیجا تھا کہ کرسمس کا تہوار نئے دن کے جنم دن کی خوشی میں منائی جاتی ہے نہ کہ میلاد مسیح کی خوشی میں ۔ اس طرح کلسیا نے حضرت عیسیٰ کے جنم دن پچیس دسمبر کو سورج کی پیدائش کے دن جو خوشی اور جشن لوگ مناتے تھے اس کا رخ لوگوں کے دلوں سے پھیر کر حضرت عیسیٰ کی طرف پھیرنے کے لیے اس دن کو مسیح کی پیدائیش کا دن قرار دیا تھا ۔ 
آئمہ کلسیا نے یہ تبدیلی صرف حضرت عیسی کی یوم پیدائش کی دن میں نہیں کی بلکہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی وفات اور دوبارہ جی اٹھنے کے دن یعنی ایسٹر کے تہوار کو ایک دوسرے ایشائی دیوتا ایدوانس کی موت اور دوبارہ زندہ ہونے کے تہوار کے دن منانے لگے ۔ جو قدیم دور میں اسی دن منایا جاتا تھا ۔ اس طرح ایسٹر کی رسمیں رسمیں ایڈوانس کی رسموں کی نقل ہیں ۔ کلسیا نے لوگوں کو مسیحت کی طرف راغب کرنے کے لیے قدیم بت پرستوں کے تہوار سے ہم آہنگ کیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں