krishan 97

کرشن

ہندو میتھالوجی کے مطابق کرشن وشنو کا اوتار اور اوتاروں کو پرمیشور کا انش (حصہ) بتاتے ہیں ۔ مگر کرشن نے بھگوت گیتا میں خود کو خود بھگوان کہا ہے ۔ ان کے عقیدت مند انہیں بھگوان ، یوگیشور ، پرم پروش اور نارائن بھی کہتے ہیں ۔ جب کہ کرشن کے مخالفین نے انہیں احسان فراموش ، اپنے مالک کا بدخواہ ، فریبی اور دغاباز بتایا ہے ۔ شعرا نے اپنے کلام میں انہیں اوباش دیکھایا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے وشو کی پوجا نہیں کی جاتی ہے اور وشنو کی پوجا کرشن کی صورت میں کی جاتی ہے ۔
کرشن جی کی سوانع مہابھارت ، وشنو پران ، ہر ونش ، بھاگوت اور برہم وی ورت پرانوں میں ملتی ہے ۔ ان میں سب قدیم اور مستند مہابھارت سمجھی جاتی ہے ۔ مگر سری کرشن اس میں بہت بعد میں آتے ہیں ۔ وشنو پران میں ان کے بچپن کا ذکر زیادہ ہے اور ہری ونش ، بھاگوت اور برہم وی ورت میں جو قصے ہیں وہ بھی زیادہ تر تربال لیلا یعنی بچپن کے ہیں ۔ مہابھارت میں سری کرشن کے جو کارنامے درج ہیں ان کا ذکر پرانوں میں کم ہی ہے ۔ مگر عام لوگوں میں بھاگوت پران کے قصے مہابھارت سے زیادہ پسند کیا جاتے ہیں ۔ اگرچہ بھاگوت پران سے زیادہ مہابھارت اہم ہے ۔ بھاگوت پران میں عامیانہ قصہ ہیں اس لیے ان میں عام لوگوں کی دلچسپی ہے ۔ سری کرشن کے قصے جو مختلف ماخذوں میں ملتے ہیں وہ ان کی دوسروں تصدیق یا تائید نہیں ہوتی ہے ۔ مثلاً سری کرشن بال لیلا کے قصے نہ وشنو پران میں نہیں ہیں ۔ دسترخوان کا قصہ کا مہابھات ، ہری ونش اور مہابھارت میں نہیں ملتا ہے ۔ رادھا کا ذکر مہابھارت اور بھاگوت میں صرف ایک جگہ آیا ہے ۔ لیکن مہابھارت ، ہری ونش اور وشنوں پران میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ بھاگوت کے راس پنجادیہائی میں جو قصے تفصیل سے درج ہیں وشنو پران میں اس کی تفصیل نہیں ملتی ہے ۔ اس طرح برہم وئی ورت میں عجیب وغریب قصے ملتے ہیں ۔
اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے جب کرشن کو دیوتا کی حثیت سے عام لوگوں میں مقبولیت حاصل ہوئی تو اس کے پیش نظر یہ قصے تصنیف کیے گئے ۔ یعنی انہیں بھاٹوں اور شاعروں نے بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے ۔ سور داس نے بھی اپنے زور قلم سے نئے رنگ سے اس میں مزید اضافے کئے اور اس کا اثر عوام پر بھی پڑا ۔ کرشن کے بہت سے عقیدت مندوں نے انہیں کرشن لیلا کہا ہے اور بقول ان کے اگر پریمشور سے ملنا ہے تو سب کو چھوڑ کر اس میں ایسے گم ہوجاؤ جیسے گوپیوں نے کرشن کے عشق میں خود کو بھلا دیا یا اپنی ہستی کو متا دیا تھا ۔ اس سے یہ ہوا کہ رادھا اور کرشن کی لیلا کے نام سے ہندوؤں میں بہت سی فحش برائیاں پھیل گئیں ۔
ڈی دی کوسمبی کا کہنا ہے کہ وہ مسلک جو بیسویں صدی تک باقی رہا ہے وہ کرشن کے مختلف عناصر کی پرستش ہے ۔ یہ ایک انسانی دیوتا تھا جس سے ہر کوئی مدد کے لیے دعا مانگ سکتا ہے ۔ بدھ مت اور کرشن کا مسلک بظاہر متضاد ہیں ۔ لیکن حقیقت میں اس میں بہت کچھ بدھ مت سے لیا گیا ہے ۔ جو بعد میں کرشن کے نام سے پیش کیا گیا ہے ۔ کرشن کے القاب بھاگوت ، نرتم ، پرسوتم وغیرہ بدھ کے القاب ہیں ۔ جہاں بدھ ایک تاریخی شخصیت ہے دوسری طرف بے شمار کرشنوں میں سے کسی کی بابت کوئی تاریخی بات معلوم کرنا دشوار ہے ۔ بدھ جاٹکاؤں میں کرشن یا مہابھارت کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے مہابھارت اور کرشن بدھ عہد کے بعد تخلیق کیا گیا ہے ۔
جن کی اساطیر اور روایات باہم متحد ہونے سے سیاہ فام اعلیٰ ترین دیوتا بن جاتا ہے ۔ بعد میں بدھ مت کو بدھ کو الوہی درجہ دینے کے لیے افسانے گھڑنے پڑے ۔ کرشن کی پرستش کی کلی طور پر الوہیت کے افسانوں کے ذخیروں پر ہے اور ان ہی سے اس نے مواد حاصل کیا ہے ۔ وہ سادہ الفاظ اور سلجھے ہوئے خیالات جو کہ بدھ کے تقریروں میں ہے ۔ وہ کرشن کی تعلمات میں نہیں ہے ۔ گیتا اعلی سنسکرت میں اور تضاد رکھتی ہوئی ایک ایسی کتاب ہے جو ہر عمل کا جواز رکھتی ہے اور پڑھنے والے کو آزادنہ نتائج اخذ کرنے دیتی ہے ۔ اس طرح کرشن کی شخصیت متعضاد پہلو رکھتی تھی ۔ یہ ایک الوہی نٹ کھٹ بچہ ، تمام گوالنوں کا عاشق ، لاتعدا یعنی 1608 بیویوں کا خاوند ، زبردست رجولیت کی قوت کا مالک ، لاتعداد دیویوں کا خاوند ، رادھا کا پرستار بھی ہے ، ترک لذت راہبانہ زندگی کا علمبردار بھی ، امن و آتشی کا مظہر ، لیکن خود اپنے ماموں کو ہلاک کرنے والا ، انتہاہی فسادی ، مہمان ششوپال کا سر اتارنے والا ، تمام اخلاقیات کا سرچشمہ ، بیک وقت نجات دہندہ غیبی اور ایک حقیر رتھ بان ، اس کے مشورے شرافت ، دیانت داری اور شجاعت کے قانون کے منافی تھے ۔ اس کی سوانعمری اس بات کی شان دار مثال ہے کہ ایک سچا عقیدت مند کیا کچھ ناقابل یقین باتوں پر عمل کر سکتا ہے ۔ گیتا کے دلائل موقع پرستی کا مظہر ہیں اس میں مخلوط سماج و قدیمی و ابتدائی سطح کی زندگی اور مذہب کے رشتہ کی جھلک ہے ۔
اثریاتی اعتبار سے کرشن کا واحد روایتی ہتھیار سدرشن چکر ہے ۔ جس کو پھینک کر دشمن کا سر اتارہ جاسکتا تھا ۔ مرزا پور کی ایک گھپا میں ایک رتھ بان کو اس ہتھیار سے حملہ کرتے دیکھایا گیا ہے ۔ رگ وید میں کرشن نام کا ایک اسر کا نام ہے جو اندر کا دشمن ہے اور یہ کالا رنگ قبل آریائی باشندوں کا نسلی نام ہے اور اسی داستان کی بنیاد ہے ۔ اس داستان میں بنیادی طور پر ایک سورما تھا جو بعد میں یادو قبیلے کا دیوتا بن گیا ۔ یہ قبیلہ پانچ آریائی قبائل (پنج جنا) میں ایک تھا ۔ یہ پنجاب کی قبائلی جنگوں میں کبھی ایک طرف ہوتے تھے کبھی دوسری طرف ۔ اس لیے وید اشلوکوں میں انہیں کبھی شراب دی جاتی ہے اور کبھی اسلوب ۔ کرشن ایک سات وت ، ایک اندھک درشنی بھی جس کو اس کے ماموں کنس سے بچانے کے لیے ایک گوگل (گوالوں کا گاؤں) میں پروش پاتا ہے ۔ اس سے اس کا ابھیرو سے اس کا رشتہ پیدا ہوتا ہے ۔ جو عیسویں سن کی ابتدا کی ایک پالی قوم تھی اور عہد حاضر کے اہیر ان کے اخلاف ہیں ۔ پیشن گوئی تھی کہ کنس اپنی بہن کے کسی لڑکے ( بعض بیانات میں لڑکی) کے ہاتھ مارا جائے گا ۔ اس لیے دیوکی اپنے خاوند وسدیو کے ساتھ قید خانہ میں ڈال دی گئی ۔ یہ بچہ گوگل میں پروش پائی ۔ اس نے مویشیوں کو اندر سے بچایا ۔ اس متعدد سروں والے ناگ کالیہ کو جس نے متھر کے قریب جمنا کے ایک تلاب کا راستہ روک رکھا تھا پاؤں سے کچل ڈالا مگر مارا نہیں ۔ بعد میں اس نے اور اس کے بھائی نے کنس کی بہادوں اور اس کو قتل کر ڈالا ۔ بعض ابتدائی سماجوں میں بہن کا بیٹا ہی وارث اور جانشین ہوتا ہے اور جانشین کو اپنے پشرو کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔ یہ موت بھی قدیم رواج کی شکل ہے ۔
لڑکیوں ، دیویوں اور الپسراؤں کے ساتھ بوس و کنار کرنے اور شادی رجانے کی عادت کرشن کے قابو سے باہر تھی ۔ دوندا اور رادھا کے علاوہ کرشن کی باقیدہ بیویوں کی تعداد 1608 بتائی جاتی ہے ۔ ان میں سے بعض قدیم قبائل سے تھیں ۔ مثلاً جاموتی جو ریچھ کے خاندان کی تھی ۔ رکمنی (سنہری) کا تعلق بھوج سے تھا جو اس وقت تک وحشی تھے ۔ اس کی بیویوں میں ہزاروں جل پریاں اور الپسرائیں تھیں ، اس سے یہ ہوا کہ کرشن کی پرستش بآسانی رائج ہوگئی ۔ مہابھارت کے مطابق چھتیس سال بعد یادؤں نے ایک دوسرے کے ایک ایک فرد کو قتل کردیا تو اس کے بعد بھی کرشن کی پوجا پھیلتی رہی ۔ چھٹی صدی ق م میں متھرا پر سوسین نسل کے لوگوں کا قبضہ ہوگیا تھا ۔ یہ دور وسطیٰ کے یادو تھے جن کو برہمنوں نے کچھ معاوضہ لے کر ان کا سلسلہ کرشن سے ملا دیا تھا ۔ اگرچہ سوسین کے یادوؤں سے سے کوئی رشتہ نہیں رکھتے تھے لیکن انہوں نے کرشن کی پوجا کو قائم رکھا اور اس کا مرکز متھرا بنا رہا ۔ اس سانولے دیوتا کی شادیاں مرد کی برتری تسلیم کرنے والے آریاؤں کے ساتھ سیر و شکر کرنے کرنے کے لیے اہم قدم ہیں ۔ صرف خوراک جمع کرنے والے ترقی کرکے خوراک پیدا کرنے والے نہیں بن جاتے ہیں ۔ بلکہ آریا بھی ذوال پذیر ہوکر خوراک جمع کرنے والے بن گئے تھے ۔ یہ امیزاج اس وقت ہی ممکن تھا کہ ایک دوسرے کی پوجا پاٹ کے طریقے اپنائے جائیں اور الوہی شادیاں اسی کی عکاس ہیں ۔ اس کے نتیجے میں متحدہ سماج وجود میں آیا جو کے ماحول سے زیادہ آہنگ تھا ۔ کرشن کا ایک اور کارنامہ جس میں گوگل کے مویشوں کی اندر کے خلاف حفاظت کی تھی ۔ یہ لڑائی سہ رخی تھی ۔ کیوں کہ اندر نے بہت سے ناگ لوگوں کو بچایا تھا ۔ جن کو کرشن اور کوروؤں کی چھوٹی شاخ پانڈو جب بھی ممکن ہوتا تھا کچل ڈالتے تھے ۔
کرشن مہابھارت میں ایک اجنبی ہے اور کافی دیر بعد آتا ہے ۔ روایت کے مطابق کرشن نے زمین صاف کرنے لیے کھانڈو جنگل کو آگ لگانے میں پانڈوں کی مدد کی تھی ۔ رگ وید میں مبہم انداز میں صورت حال اور کرشن کی سیہ فامی قدیمی باشندوں کے ساتھ آریاؤں کے ساتھ اتحاد نو کی سمت ایک قدم ہوسکتا ہے ۔ چوتھی ق م میں یونانیوں نے دیکھا کہ پنجاب کے میدانوں میں ہرکولیس کی پوجا کی جا رہی ہے ۔ ہرکولیس بھی سیاہ ہوگیا تھا اور اس نے بھی بہت سی پریوں سے شادی کی تھی یا ان کی عصمت دری کی تھی ۔ اس کے علاوہ کرشن کی موت کا انداز بھی ہندوستانی ہونے کی نسبت یونانی افسانیت کے زیادہ قریب ہے ۔ کرشن کی موت ایک شکاری جرس کے ایک تیر سے ہوئی تھی جو کہ اس کی ایڑی پر لگا تھا اور حقیقت میں جرس کرشن کا سوتیلا بھائی تھا ۔ بہت سی یونانی کہانیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ موت کسی قربانی کے نتیجے میں ہوتی تھی اور اس قربان کو انجام دینے والا بھائی یا ولی عہد ہوتا تھا ۔ لیکن ہندوستانی دیوتا جس کو یونانیوں نے دیکھا تھا وہ اندر ہوسکتا ہے ۔ جس کا کردار وید میں ایک وحشی جنگ جو غیض و غضب میں ڈوبا نظر آتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرشن کے پوجنے والوں نے اندر کو پنجاب کے میدانوں سے نکال دیا تھا ۔ اندر کی جگہ کس کرشن کا اقتدار چوپالی جگہ زراعت کی ترقی ہے ۔ اندر جو کہ جنگ جو دیوتا ہے اور جہاں قربانی کی جارہی ہو وہا اندر ، ورن اور دوسرے ویدک دیوتاؤں سے پراتھنا کی جاتی ہے ۔ لیکن کرشن جو کہ مویشیوں کا محافظ بتایا جاتاہے کسی اگنی قربانی پر دعا نہیں مانگی جاتی ہے جہاں جانور قربان کئے جارہے ہوں ۔ یادو اپنے آبائی دیوتا کی کسی طرح کی قربانیاں دیتے ہوں گے دوسرے قبائل کا انہیں جاری رکھنا ضروری نہیں تھا ۔ چوپانی قبیلے جو زراعات اپنا رہے تھے وہ اندر کے مقابلے میں کرشن کو ترجیع دینے لگے ۔ آریاؤں نے گلہ بانوں سے باہمی تعلقات اور شادیاں اور نئی باتیں سیکھنا شروع کردیا ۔ یہ جو کسی نہ کسی دیوی کو پوجتے تھے ۔ جن کو کرشن کی بیویاں بنا دیا گیا ۔ زراعت پیشہ پنجاب میں آہستہ آہستہ ترقی کر رہے تھے وہ کرشن کے بھائی بلرام کو مانتے تھے ۔ جس کو سنکرشن یعنی قبلہ راں بھی کہتے ہیں ۔ کیوں کہ بلرام کا صفاتی نشان ہل ہے اور کرشن کا سدرشن چکر ہے ۔ کرشن کا یہ بھائی صرف ہل چلانے والوں کا دیوتا نہیں تھا بلکہ قدیمی ناگ باشندے بھی اسی کی طرح اپنا لیے گئے ۔
بلرام کو بعض اوقات کالے ناگ کا اوتار کہا جاتا ہے ۔ جس متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ سمندر میں زمین کو اپنے پھن سے اوپر اٹھائے ہوئے ہے ۔ بدھی کہانیوں میں ناگ قبائل کو اپنے مذہب میں شامل کیا ۔ نالبندہ اور مسکسیہ ایسے بدھ وہار ہیں جو کہ ناگ کی پرستش گاہیں تھیں ۔ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اجنبی قبیلوں نے ایسے دیوتاؤں کی پرستش کیوں کی جو ان کا اپنا نہیں تھا ۔ اس کا جواب یہی سمجھ میں آتا ہے کہ یادوؤں اور دوسرے قبائل میں کوئی باہمی اتحاد اور رشتہ تھا اور یہ اتحاد اس وقت عمل میں آیا جب مشرق میں واقع سلطنت مگدھ سے بچنے کے لیے قبائلی لوگ متھرا سے بھاگ کر مغرب کی سمت منتشر ہوگئے تھے ۔
اب ہم ان کہانیوں کے طرف آتے ہیں جو کرشن کے بارے میں مختلف کتابوں درج ہیں ۔ ان روایتوں کے مطابق راجہ یادو راجہ ییاتی کا بیٹا تھا اور سری کرشن اسی یادو کی نسل سے تھے ۔ اس زمانے میں یادو گلہ بانی کیا کرتے تھے اور وہ جمنا کے کنارے درندابن اور گوکل میں رہتے تھے اور متھرا گل کے قریب واقع تھا ۔ ۔ اس زمانے میں کنس جو ہوج نسل سے تھا راجہ تھا ۔ یہ اپنے باپ اگر سین کو معزول کرکے تخت پر بیٹھا تھا ۔ اگرسین کا ایک بھائی دبوک تھا ۔ اس کی ایک بیٹی دیوکی دسدیو یادو سے بیاہی تھی ۔ اس طرح کنس رشتہ میں کرشن کا ماموں تھا ۔
روایت کے مطابق دشنوجی نے دو حصوں میں اوتار لیا تھا ۔ ایک سیاہ اور دوسرا سفید ۔ ان میں سے ایک حصہ روہنی جو کہ روہنی وت یوتھی کی بیوی تھی اور وہ گوکل کے نند کے گھر میں رہتی تھی اور دوسرا دیوکی کے بطن میں داخل ہوا ۔ بعض جگہ دیوکی کو ہی بلرام کی ماں بتایا گیا ہے ۔ سفید سے بلرام اور سیاہ سے سری کرشن یا کیشو پیدا ہوئے ۔ پانڈو کی بیوی کنٹی واسدیو کی بہن تھی ۔ اس طرح سری کرشن تین بڑے پاندوں کے پھپرے بھائی تھے ۔
رشی نارد نے کنس کو بتایا تھا کہ تیرے بھائی کی بیٹی کا بیٹا تجھے قتل کرکے تیری ریاست چھین لے گا ۔ اس لیے کنس نے دیوکی اور وسدیو دونوں کو قید کر دیا اور دیوکی کے پیدا ہونے والے چھ بچوں کو ماڑ ڈالا ۔ مگر ساتواں حمل وشنو کے اوتار کا تھا ۔ اس لیے ایشر کی مرضی سے دیوکی کا حمل روہنی کے حمل میں تبدیل ہوگیا ۔ یہ پیدا ہونے والا بلرام ہے جو وشنو جی کا اوتار تھا ۔ اس کے بعد دیوکی کو آٹھواں حمل ٹہرا اور ایک اندھری رات میں ایک سیاہ فام بچہ پیدا ہوا اور سیاہ رنگت کی وجہ سے کرشن یعنی سیاہ فام کہلایا ۔ اس کے سینے پر ایک بالوں کا گچھا تھا اوور اس کا نام شر وتش تھا ۔ چونکہ یہ بچہ شری وشنو جی کا اوتار تھا اس لیے اسے زندہ رہنا تھا ۔ تقدیر سے اس دن قید خانے کے قفل کھلے رہے گئے اور پہرے دار غفلت کی نیند سوگئے ۔ وسدیو نے موقع سے فائدہ اتھا یا اور دیوکی اور بچہ کو لے کر قیدخانے سے نکل کر دریائے جمنا کو غبور کیا اور نند ہیر کے گھر چلے گئے ۔ اسی شب نند کی بیوی یسودھا کے ایک لڑکی پیدا ہوئی ۔ وسدیو نے اپنے بیٹے کو یسودھا کو دے کر اس کی بیٹی کو لا کر اپنی بیوی کو دے دیا ۔
صبح کنس کو وسدیو کے گوگل فرار اور دیوکی کے بیٹی پیدا ہونے کی اطلاع ملی تو کنس بھی گوگل پہنچ گیا اور اس نے چاہا لڑکی کو مار دے ۔ مگر لڑکی اس کے ہاتھوں سے نکل کر آسمان پر اڑگئی اور اڑتے ہوئے کہا تیرا قاتل پیدا ہوچکا ہے ۔ کنس سمجھ گیا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے ۔ لہذا اس نے حکم دیا کہ ہر وہ لڑکا جس میں میں غیر معمولی علامات نظر آئیں اسے قتل کر دیا جائے اور اس نے وسدیو اور دیوکی کو رہا کرنے کا حکم دیا ۔ کنس کے اس حکم سے نند بھی خوفزدہ ہوگیا اور وہ یسودھا ، روہنی ، بلرام اور سری کرشن جی کو لے کر گوگل میں چلا گیا ۔ پہلے درج کیا ہے کہ وسدیو قید خانے سے فرار ہوگیا تھا مگر یہاں نند کا دوبارہ گوکل جانے کی بات کی گئی ہے ۔ مگر قدیم زمانے میں ایسے تضاد ہوتے تھے ۔ ورنہ وسدیو بچہ کو کیسے بدلتا ۔کنس کو بھی کرشن جی کے گوگل لے جانے کی اطلاع ملی ۔ وہ انہیں مارنے کی فکر میں رہا اور اس نے پوتنا راکشی کو بھیجا ۔ پوتنا راکشنی ایک خوبصورت عورت کے روپ میں گوگل جاکر کرشن جی کو اپنا زہریلا دودھ پلانا چاہا ۔مگر سری کرشن نے دودھ اتنی شدد سے پیا کہ اس کی جان بھی نکل گئی ۔ مگر پوتنا اس بعد بھی زندہ رہی ۔ کیوں کہ متھرا میںجمنا کے پار پوتنا کا نام چلتا رہا اور درختوں ایک کا جھنڈ درنداون کہلاتا ہے اور اس کے معنی دیوی کے جنگل کے ہیں ۔ یہاں ہر سال مقررہ دن اس دیوی سے کرشن کی شادی رچائی جاتی ہے اور دیوی کی نمائندگی تلسی کا پودا کرتا ہے ۔ اس رسم سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیوی کا خاوند قدیم زمانے میں قربان کیا جاتا تھا اور اس رواج کو کرشن نے توڑ ڈالا ۔ بہرحال گوگل میں سری کرشن بلرام جی کے ساتھ پرورش پائی ۔
وہ جنگل میں ادھر ادھر گھومتے اور کھیل کود اور مختلف طرح کی حرکتیں کرتے ۔ لیکن جلد ہی ان کی دلیری جو کہ دیوتاؤں کی طرح کی تھی شہرت ہوگئی ۔ ایک راکش ترنا ورت سری کرشن کو آسمان پر لے اڑا ۔ مگر سری کرشن نے اسے آسمان سے زمین پر اتنے زور پٹکا کہ وہ مرگیا ۔ ایک ویت چھکڑہ کی صورت میں کرشن جی کو مارنے آیا ۔ کرشن جی نے اس چھکڑے کے ٹکرے ٹکرے کردیے ۔ ایک روز سری کرشن نے دودھ اور چھاچھ کی مٹکے کو توڑ کر مکھن کھالیا ۔ اس سے یسودھا ناراض ہوئی اور ایک رسی ان کے پیٹ سے باندھ کر اوکھل سے باندھ دیا ۔ سری کرشن اس اوکھل کو کھنچ کر باہر لے گئے اور وہ اوکھل دو بڑے درختوں میں پھنس گیا ۔ جب سری کرشن نے زور لگایا تو وہ درخت جڑ سے اکھڑ گئے ۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ معمولی رسی جس نے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا مگر خود کیوں نہیں ٹوٹی ؟ مگر میں کہہ چکا ہوں دیومالائی داستانوں میں حققیقی پہلو کو نہیں بلکہ ہیرو کی طاقت دیکھانی مقصود ہوتی ہے ۔ اس سے سری کرشن کا نام دامور یعنی رسی=دام اور ر=پیٹ پڑا ۔ ایک دفعہ دریائے جمنا میں کالے ناگ کے ساتھ ان کی ایک بڑی لڑائی ہوئی ہوئی اور ناگ کو شکست دینے کے بعد کہا کہ وہ اس دریا سے چلائے ۔ دلچسپ بات یہ ہے ایسی کہانیاں جس میں کرشن کو مارنے کی کوششوں کا ذکر ہے زرتشت کے بارے میں بھی ملتی ہیں ۔ کیا یہ فسانے زرتشت کی کہانیوں کی نقل ہیں ؟
سری کرشن نے نند اور دوسرے تمام ہیروں سے کہا اندر کی پوجا ترک کرکے کوہ گودردھن کی پوجا کرو ۔ کیوں کہ وہی تمہاری اور تمہارے مویشیوں کی حفاظت کرتا ہے ۔ اس پر انہوں نے ایسا ہی کیا ۔ جب اندر کو نذ و نیاز نہیں پہنچی تو وہ سخت ناراض ہوا اور قہر و غضب میں آکر بارش برسائی کے تمام لوگوں کو تباہ کر دے ۔ لیکن سری کرشن نے کوہ گردردھن کو اٹھالیا اور تمام انسانوں اور جانوروں کو اس کے نیچے پناہ دی جس سے وہ خفا ہو ۔ سات دن اور سات رات متواتر بارش میں انہیوں نے یہ کوہ گوردھن پہاڑ کو اٹھائے رکھا ۔ اس طرح اندر کو شکست دی ۔ اس سے سری کرشن کا نام گور دردھن ، اود بنگیش پڑا ۔ اس طرح گایوں کی حفاظت کرنے کی وجہ سے سری کرشن کا نام اوچیندر پڑا ۔
ایک دفعہ گوپیاں دریائے جمنا میں غسل کر رہی تھیں ۔ سری کرشن نے خاموشی سے ان کے کپڑے اٹھا کر ایک درخت پر چڑھ گئے اور جب انہوں نے کپڑوں کے لیے اصرار کہا تو سری کرشن جی نے ان سے کہا وہ برہنہ تن ان کے سامنے آئیں تو ان کے کپڑوں کو واپس کریں گے ۔ آخر کار جب گوپیاں ان کے سامنے برہنہ آئیں تو ان کے کپڑے واپس کیے ۔ سری کرشن جوانی میں نہایت حسین تھے گوپیاں ان پر عاشق تھیں اور وہ اس کا اظہار بھی کرتی تھیں ۔ سری کرشن کے بال کھلے رہتے تھے اور ہاتھ میں بانسری بجاتے اور وہ گوپیوں کے ساتھ خوش گپیاں کرتے تھے ۔ ان میں سے آٹھ گوپیوں کے ساتھ کرشن نے شادی کی تھی اور ان سب سے عزیز اور منظور نظر بیوی رادھا تھی ۔
کنس کے لیے سری کرشن کا زندہ رہنا خطرے سے خالی نہ تھا ۔ چنانچہ ایک ایک ویت آرشٹ بیل کی شکل میں اور ایک کیشی دیت گھوڑے شکل میں سری کرشن کو مارنے بھیجا مگر وہ مارے گئے ۔ یہ تدابیز ناکام ہونے کے بعد کنس نے ایک بڑا دنگل کرانے کا اعلان کیا اور سری کرشن و بلرام کو آروا کے ذریعے اس میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی ۔ سری کرشن اور بلرام جی نے یہ دعوت قبول کرلی اور آروا کے ہمرا متھرا روانہ ہوئے ۔ راستہ میں سری کرسن نے کنس کے دھوبی کے کچھ کپڑے پھینک دیے ۔ وہ اس پر ان کے ساتھ گستاخی سے پیش آیا ۔ لہذا سری کرشن نے اسے قتل کر دیا اور دھوبی کے کپڑوں میں سے جو پسند آئے پہن لیے اور دنگل کے لیے روانہ ہوئے ۔ راستہ میں انہیں ایک کبڑی عورت ملی جس نے انہیں کچھ نذر پیش کی ۔ سری کرشن نے خوش ہوکر اس کا بدن درست کر دیا ۔ راستہ میں ایک مست ہاتھی کو قتل کیا اور اس کے دانت ہاتھوں میں پکڑ کر دنگل میں پہنچے ۔ وہاں شاہی پہلوان چانوڑ کو ماڑ دالا اور دوسرے پہلوانوں اور بہادروں کو قتل کرکے کنس کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور پھر قتل کر دیا اور اس کی جگہ اس کے باپ اگرسین کو تخت پر بیٹھا دیا ۔
اس کے بعد سری کرشن مھترا میں ہی رہائش اختیار کرلی اور ساندنیی سے سپاہ گری کا فن سیکھا ۔ پھر دیوکی کی درخواست پر پاتال میں جاکر اپنے چھ بھائیوں کو لائے ۔ جنہیں کنس نے پیدا ہوتے ہی ماڑ دالا تھا ۔ ان بچوں نے دیوکی کا دودھ پیا اور پھر سورگ میں چلے گئے ۔ اس دوران ایک دیت نے سری کرشن کے استاد ساندنیی کی لڑکی کو کھنچتے ہوئے پاتال لے گیا ۔ سری کرشن نے پاتال جاکر دیت کو قتل کیا اور لڑکی کو واپس لائے ۔ یہ دیت سنگھ کی شکل میں سمندر میں رہتا تھا ۔ اس کے مرنے کے بعد یہ سنگھ کرشن جی کے استعمال میں آتا رہا ۔
راجہ جراسندھ والی مگدہ کی دو لڑکیاں کنس کی بیویاں تھیں ۔ شوہر کے مرنے پر انہوں نے اپنے باپ سے مدد چاہی ۔ راجہ جراسندہ ایک بڑی فوج کے ساتھ سری کرشن کو سزا دینے کے لیے آیا مگر لڑائی میں شکست کھائی ۔ اس طرح اس نے اٹھارہ دفعہ حملہ کیا مگر ہر دفعہ ناکام رہا ۔ پھر ایک اور دشمن کال یون سری کرشن پر حملہ آور ہوا ۔ اس وقت سری کرشن متواتر لڑائیوں سے کمزور ہوچکے تھے ۔ وہ سمجھ گئے کہ انہیں شکست ہوگی اس لیے وہ متھرا سے گجرات کے شہر دوراکا اپنے ساتھیوں کے ساتھ جابسے ۔ مہابھارت میں ہے کہ کرشن جی راجہ جراسندھ کے حملوں سے قبل ہی دوارکا میں چلے گئے تھے ۔
دوارکا میں ان کے قدم جمے تو وہ راجہ ودہہ کی لڑکی روکمنی کو جس کی نسبت شتسال سے ہوچکی تھی زبردستہ دوارکا لائے اور اس سے شادی کرلی ۔ راجہ ستراجت یادو کے پاس کچھ قیمتی جواہر تھے اور سری کرشن انہیں لینا چاہتے تھے ۔ شتراجت نے انہیں سری کرشن سے بچانے کے لیے اپنے بھائی پرسین کے حوالے کر دیا ۔ پرسین شکار کھیلنے کے لیے جنگل گیا وہاں اسے ایک شیر نے ماڑ ڈالا اور اس جواہر کو منہہ میں لے کر روانہ ہوا ۔ اس شیر کو ریچھوں کے بادشاہ جاسپ دت نے قتل کر دیا اور وہ جواہر اپنے قبضہ میں کرلیے ۔ راجہ شتراجت نے جب پرسین کے مارے ہلاکت اور جواہر کے گم ہونے کی خبر ملی تو اس کا گمان کرشن جی پر گیا کہ حرکت ان کی ہے ۔ سری کرشن جنگل گئے اور وہاں انہیں پرسین کی ہلاکت کی وجہ اور جواہر کے جاسب کے قبضہ میں ہونے پتہ چلا ۔ سری کرشن نے جاسب دت سے لڑاے اور وہ جواہر اس سے چھین لیے ۔ جاسب دت نے اپنی لڑکی کا بیاہ کرشن جی سے کر دیا ۔ سری کرشن دوارکا واپس آئے اور وہ جواہر شتراجت کے حوالے کیے ۔ شتراجت بہت نادم ہوا اور اس نے اپنی لڑکی ستیہ بھامان کا بیاہ سری کرشن سے کر دیا ۔ اس کے بعد کالندری جو سوریہ کی بیٹی تھی اور جمنا میں رہتی تھی سے شادی کی ۔ پندان دہند والی نگر کی بیٹی متربیدا سے شادی کی کیوں کہ اس نے عہد توڑا تھا ۔ اس کے بعد سات بیلوں کو ایک ہی وقت میں نہتے مار کر شرط پورا کرنے پر راجہ مگن چت ولی شلانگر کی بیٹی سینا سے شادی کی ۔ نیز راجہ سوکرت کی بیٹی سبہدرا اور راجہ مدرآدپت کی بیٹی لکشمنا کے ساتھ شادی کی ۔ سری کرشن کے کارنامے لاتعداد بتائے جاتے ہیں کہ گاندھاروں کو تباہ کرکے وہاں قید راجہ سدرشن کو چھڑا کر لائے ۔ پانڈیہ کو قتل کیا اور بنارس کو جلا دیا ۔ نشدوں کے راجہ ایک لادیہ ہلاک کیا ، نیز جمییہ دیت کو ہلاک کیا ۔ بلرام جی کے ساتھ مل کر اوگرسین کے شریر اور بدمعاش لڑکے کو قتل کرکے اوگرسین کو سلطنت دلوائی ۔
اندر دوارکا میں آیا اور سری کرشن سے نرک دیت کو قتل کرنے درخواست کی ۔ سری کرشن شہر نرک گئے اور اس ویت کو اس کے محافظوں سمیت قتل کیا ۔ اس کے بعد سری کرشن اپنی بیوی ستیہ بھامان کے ساتھ سورگ گئے اور کپڑوں کے اس درخت کو جو سمندر میں نکلا تھا اٹھا لائے ۔ وہ درخت اندر کی رانی بشیحی کا تھا ۔ اس نے اندر سے فریاد کی تو اندر سری کرشن لڑا مگر ناکام رہا ۔
مارنی رودھ سری کرشن کے بیٹے پردیومن کے بیٹے اوشدیتی بان اسر کی بیٹی عاشق ہوگئی ۔ اس نے اپنی سہلی چتر لیکھا کی مدد سے مارنی رودھ کو اٹھوا کر اپنے گھر میں ایک پنجرے میں قید کردیا ۔ بلرام جی سری کرشن اور پرویومن اسے چھڑوانے کے لیے وہاں پہنچے ۔ بان اسر اپنی فوج کے ساتھ شیو جی اور ان کے بیٹے سکندھ جو کہ دیوتاؤں کا سپہ سالار تھا لڑنے آیا ۔ سری کرشن جی شیو پر غالب آئے اور سکندھ دیوتا اور بان اسر بھی سخت زخمی ہوئے ۔ شیو جی سفارش پر بان اسر کی جان بخشی اور مارنی وددھ کو لے کر دوراکا لائے ۔
درویدی کے سوئمبر کے موقع پر سری کرشن بھی تھے اور دروپدی کو ارجن نے جیت لیا تھا ۔ جب پانڈو اندر پرست میں حکومت کر رہے تھے تو شری کرشن ان کے ساتھ جنگل میں شکار کھیلنے گئے ۔ اگنی دیوتا اس جنگل کو آگ لگانا چاہتا تھا اور اندر اسے آگ لگانے نہیں دیتا تھا ۔ اندر سے جنگ ہوئی ، اس لڑائی میں سری کرشن اور ارجن کو اگنی دیوتا نے اپنا مشہور وجرناھی چکر اور گئو مکہی گدا دیا ۔ اندر نے شکست کھائی اور اگنی نے جنگل کو جلا دیا ۔ اس کے بعد سری کرشن دوراکا پہنچے ۔ جہاں ان کا شاندار استقبال ہوا ۔ ارجن نے شری کرشن کی رضا سے ان کی بہن سہدر کو ورغلا کر لے گیا ۔ بلرام کو پسند نہیں تھا مگر وہ سری کرشن کی وجہ سے خاموش رہے ۔ راجہ یدہشٹر نے راجیہ سویگیہ کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ مگر سری کرشن نے کہا پہلے راجہ جراسندھ والی مگدھ کو فتح کرو اس کے بعد یگیہ کی تیاری کرو ۔ چنانچہ راجہ جراسندھ پر حملہ کیا اور راجہ جراسندھ مارا گیا اور سری کرشن نے اپنے اس دشمن سے بدلہ لیا جس کے خوف سے وہ متھرا چھوڑ کر چلے آئے تھے ۔ راجہ یدہشٹر نے راجیہ سویگیہ کیا اور سری کرشن بھی ساتھ تھے ۔ راجہ ششپال جس کی منگیتر کو اغوا کرکے سری کرشن نے شادی کرلی تھی لڑائی کے لیے مقابلے میں آیا ۔ مگر سری کرشن نے سددرشن سے اس کا سر کاٹ ڈالا ۔
یدہشٹر اور کوروں کے درمیان قمار بازی میں جس میں یدہشٹر نے دروپدی کو جوے میں ہار دیا سری کرشن اس وقت وہیں تھے ۔ دھ ساسن نے بھرے دربار میں دروپدی کے کپڑے اتار کر اسے برہنہ کرنا چاہا ۔ مگر کرشن جی کی وجہ دھ سامن کامیاب نہیں ہوا ۔ وہ دروپدی کی کھلولتا جاتا اور ساری اتنی ہی کھلتی جاتی مگر دروپدی برہنہ نہ ہونے پائی ۔
پانڈوں کی جلا وطن جب ختم ہوئی تو اس وقت سری کرشن ان کے پاس موجود تھے ۔ مہابھارت کی جنگ سے پہلے سری کرشن نے چاہا کہ جنگ نہ ہو مگر حریف اس کے لیے راضی نہیں ہوئے ۔ اس پر کرشن جی واپس دوارکا چلے گئے ۔ ان کے پیچھے پیچھے ارجن اور دریودہن بھی پہنچ گئے کہ سری کرشن کو اس لڑائی اپنے ساتھ شامل کریں ۔ ابتدا میں کرشن جی نے کہا کہ طرفین میرے رشتہ دار ہیں اس لیے اس جنگ میں حصہ نہیں لوں گا ۔ جب فرقین نے اصرار کیا تو کرشن جی نے کہا اچھا میں میدان جنگ میں رہوں گا ۔ ایک فریق مجھے اور ایک فریق میری فوج کو پسند کرے ۔
ارجن نے شری کرشن کو پسند کیا اور دریودہن نے فوج کا انتخاب کیا ۔ سری کرشن نے اس لڑائی میں ارجن کی رتھ بانی منظور کی ۔ جنگ سے پہلے سری کرشن نے پانڈوں کی درخواست پر مصالحت کے لیے ہستناپور گئے ۔ مگر کوروں نے منظور نہیں کیا اس لیے سری کرشن ناکام لوٹے ۔ طرفین نے جنگ کی تیاری کی اور پھر جنگ شروع ہوئی ۔ جنگ سے پہلے وہ سری کرشن ارجن کے رتھ کی کوچبانی کر رہے تھے کہ ارجن گھبرا گیا اور اس نے جنگ سے ہاتھ اٹھانے کو سوچا کہ وہ اپنے رشتہ داروں پر تلوار چلائے گا ۔ سری کرشن نے اس موقع پر ارجن کو جو لیکچر دیا تھا وہ بھگوت گیتا کہلاتی ہے ۔ اس وجہ سے سے ارجن جنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ۔ اس جنگ میں شری کرشن نے دو موقوں پر فریب اور جھوٹ سے کام لیا ۔ پہلی مرتبہ جھوٹ بولا جس یدہشٹر نے درون کے حملے کو ناکام بنا دیا اور دوسری مرتبہ انہوں نے پاندوں کو فریبانہ داؤ بتایا جس سے بھیم نے دریودہن کی ران توڑ ڈالی ۔
مہابھارت کی جنگ کے بعد سری کرشن پانڈوں کے ساتھ ہستناپور گئے اور ان کے اشو میدہیگیہ میں شامل رہے ۔ اس کے بعد دوارکا چلے آئے اور شراب نوشی ممنوع کا حکم دیا ۔ اس کے بعد دوارکا میں بدشگونی اور بری علامتیں ظاہر ہونے لگیں اور دوارکا کے باشندے ڈر گئے ۔ سری کرشن نے انہیں ہدایت کی کہ وہ ساحل سمندر پر جاکر دیوتا کی پوجا کریں ۔ پھر ایک روز شراب نوشی کی اجازت دے دی ۔ اجازت ملنے کی دیر تھی کہ شراب نوشی کا ہنگامہ شروع ہوگیا اور شراب پی کر لوگ نشے میں آپس میں لڑنے لگے ۔ اس دوران سرکرشن جی کی آنکھوں کے سامنے ان کا بیتا پردیومن مارا گیا اور اس ہنگامے میں یادو قوم کے تقریباً تمام سرادر مارے گئے ۔ بلرام جی اس ہنگامے دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے جہاں ان کی موت واقع ہوگئی ۔ سری کرشن بھی ایک درخت کے نیچے جاکر بیٹھ گئے جہاں ایک شکاری بھیل حرس نے انہیں ہرن سمجھے ہوئے تیر چلایا جو ان کی ایڑی میں لگا ۔ جس سے ان کی موت واقع ہوگئی ۔ کرشن جی کی موت کے بعد ارجن دوارکا آیا اور اس نے کرشن جی کی رسم کریا کرم ادا کی ۔ کرشن جی کے ساتھ ان کی تیس رانیاں ستی ہوگئیں ۔ کچھ عرصہ بعد دوارکا سمندر میں غرق ہوگیا ۔ سری کرشن کے وہی القاب ہیں جو وشنو کہ ہیں ۔ یہاں کرشن جی کی سوانعمری تمام ہوئی ۔ اب کرشن جی کے حوالے ہندوئوں فضلا نے جو کچھ کہا ہے اس کا بھی ذکر ہوجائے ۔
مہابھارت میں سری کرشن کو وشنو جی کا اوتار کہا گیا ہے ۔ مگر سبہا پرب سے پہلے اس کا ذکر نہیں ہے ۔ صرف اتنا ہے کہ سری کرشن نے دردپدی کے سوئمبر میں ان راجاؤں کو ہٹا دیا جو دروپدی کو پانڈوں پسند کرتے تھے اور سری کرشن نے ان راجاؤں سے کہا جب پرہمنوں نے (پانڈو برہمن کے روپ میں گئے تھے) کنیا کو جیت لیا تو تم کیوں لڑتے ہو ۔جب یدہشٹر کو اندر پرست کا راج ملا تو کرشن نے ارجن کے ساتھ مل کر کھانڈو جنگل کو جلایا تھا ۔ جب یدہشٹر نے راج سویگ کرنا چاہا تو کرشن جی اور بہیم نے جاکر راجہ جراسندھ کو مارا تھا ۔ راج سویک میں کرشن جی نے برہمنوں کی سیوا کا کام اپنے ذمہ لیا اور جب یہ بحث ہوئی کہ سب سے پہلے کس کو ارگھ دیا جائے تو بہشیم جی نے سری کرشن کو بتایا اور وقت جو اوصاف انہوں نے سری کرشن کے پیش کئے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہ ان کے ہم عصر ان کو کیسا سمجھتے تھے اور کتنا مانتے تھے ۔ اس لیے بہت سے ہندوئوں کا کہنا ہے کہ ششپال نے یہ نہیں کہا تھا کہ تو عیاش یا بدچلن ہے ۔ اگر کرشن ایسا ہوتا تو کیا ششپال اس موقع پر ضرور کہتا ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ جتنی لیلائیں ہیں وہ سب چھوٹی ہیں ۔
ششپال نے سری کرشن پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے پوتنا کو ، گیدہ ورشبہہ ، اشو کو مارا ، شکٹ کو گرایا ، گوبردھن کو ایک ہفتہ تک ایک انگلی پر اٹھائے رکھا اور بہت سا ناج کھایا تھا ۔ یہ کرشن تو احسان فراموش ہوکر اپنے مالک کا بدخواہ ہے ۔ اس نے اپنے ان داتا کنس کو مار ڈالا ۔ جراسندھ اس سے یوں کہہ کر نہیں لڑا تھا کہ یہ تو راج دروہی (مالک کا بدخواہ) ہے ۔ یہ کرشن کی دیکھ کر یہ کہا تجھ کو شرم نہیں آتی کہ تو روکمنی کو کہ جس کا ولدان مجھ سے ہوچکا تو بیاہ لایا ۔
وشنو پران میں راس لیلا کے بارے میں لکھا ہے کہ سری کرشن جی شرد کی سہانی رات کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور سری بلرام جی کے ساتھ گانا شروع کیا اور اس میٹھی آواز سن کر گوپیاں جہاں تھیں وہ ڈوری چلی آئیں اور انہوں نے گانا چاہا تو کرشن کرشن کہہ کر رہ گئیں ۔ نہ مہابھارت میں یہ راس لیلا ہے اور وشنو پران میں یہ قصہ اس طرح بیان کیا گیا کہ کرشن کی اہمیت کم ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ جب سری کرشن بندرا بن میں تھے تو اس وقت ان کی عمر بارہ برس سے زیادہ نہ تھی ۔ اس کے علاوہ شری کرشن شروع میں برا انکسار رکھتا تھا ۔ چنانچہ جب کنس کو مار کر بسسدیو کے گھر آئے تو انہوں نے یہ کہا کہ میں نے بہت سا وقت بغیر آپ کی خدمت کے صرف کیا ہے ۔ مگر یہ میرا ایمان ہے کہ جو وقت گورو ، برہمن ، ماں اور باپ کی خدمت میں صرف کیا جاتا ہے وہ ضائع نہیں ہوتا ہے ۔ پھر جب ان سے متھرا کا راج لینے کو کہا گیا تو انہوں اوگرسین کو راجہ بنایا اور یہ کہا کہ ہم آپ کے فرمانبردار ہیں اور آپ کے حکم کی تعمل کریں گے ۔ ہم آزادی پسندوں جنگل کے رہنے والوں کو راج سے کیا کام ہے ۔ اس لیے بیان کیا جاتا ہے کہ ان باتوں بخوبی اندازہ ہوتا ہے بعد میں شاعروں بہت سی فضول باتیں ان کے لیے لکھیں ہیں ۔ اگر میں اگر اعلیٰ اوصاف نہیں ہوتے تو بہشیم جیسا شخص نے بیان کیا ہے کہ میں نے بہت سے لوگوں کی خدمت کی اور ان سب نے کرشن کی تعریفیں کیں ہیں ۔ میں کرشن جی کی پوجا کسی مطلب سے نہیں کرتا ہوں بلکہ اس لیے پوجتا ہوں کہ دنیا کہ تمام نیک آدمی ان کو پوجتے ہیں ۔ وہ سب کو سکھ دینے والے ہیں ۔ مہابھارت سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقلمند ، فرض نبھانے والے ، خود غرضی سے مبرا ، دوسروں کا فائدہ مد نظر رکھنے والے اور انصاف پسندی کبھی نہیں چھورتے تھے ۔ انہیں اپنی آسائیش و بقاء کی پرواہ نہیں تھی ۔ وہ ہر کام کو محض دھرم سمجھ کرتے تھے ۔ وہ دنیا کے کاموں میں مصروف ہوکر اس سے ایسے الگ ہوجاتے تھے کہ جیسا کہ کنول کو پتہ پانی سے ۔ وہ راج دربار میں ملکی معاملات پر مشورہ دینے والے ، لڑائی کے وقت جوانمردی سے ثابت قدم رہنے والے ، دہرم اور شاستر کے پیچیدہ سے پیچدہ مباحثوں کو حل کرنے میں غریبوں اور بے کسوں کی مدد کرنے میں کرشن کے برابر کوئی نہیں تھا ۔ مہابھارت کا ہر لفظ ثابت کرتا ہے کہ اگر دھرم کا گیان ہے تو کرشن سا کوئی گیانی نہیں ۔ بھگوت گیتا کا ہر لفظ کرشن کو دیکھاتا ہے ۔ مہابھارت نے جگہ جگہ ان جو ان کے اوپدیش انہوں نے کئے ہیں وہ بلاغت کا شاہکار ہیں ۔ ان کا قول ہے کہ گیانی کو اگرچہ کچھ کرنا ضروری نہیں ہے ۔ لیکن اس کو دنیا کے فائدے کے لیے اپنا کام کرنا ضروری ہے ۔ انسان کو کام سے کبھی فراغت نہیں ہوسکتی ہے اگر اس کو سچی بہبودی کی خواہش ہو تو نشکام کرم اور ایکانت کی بھگتی اور گیان کے ذریعہ سے آتما کو سب میں اور سب کو اپنے آتما میں دیکھے ۔
کوروں اور پانڈوں کی لڑائی کے بعد گندھاری نے ان کو شراب دیا کہ تم ہی یہ سارے فساد کا سبب ہو ۔ اگر تم چاہتے تو اس کو روک لیتے ۔ مگر تم نے ایسا نہیں کیا ۔ اس لیے تم جنگل میں چھتیس برس بعد اپنے تمام خاندان اور دوستوں کا ناش دیکھ کر مرو گے ۔ کرشن نے جواب دیا میرے سوا اور کوئی نہیں ہے یادو خاندان کا ناش کرسکے ۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں مگر میں خود اس شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔ تم نے یہ شراپ دے کر میری مدد کی ہے ۔
گیتا میں ایک کرشن جی کا اوپدیش ہے ، اس سے پتہ چلا ہے کہ وہ خود کو کیا سمجھتے تھے ۔ جاہل مجھ کو انسان سمجھتے ہیں وہ میری اصلیت سے واقف نہیں ہیں ۔ مین سب کا آتما ہوں ۔ جو کچھ سامنے ہے یا چھپا ہوا ہے وہ سب میں ۔ میں ہی دنیا کے قائم رکھنے کے کو جگ جگ میں جب دھرم کو نقصان پہنچتا ہے جنم لے کر دہرم کو نئے سرے سے قائم کرتا ہوں ۔ میں تمام دنیا رچتا ہوں مگر اس میں محو نہیں ہوتا ۔ مجھ کو تینوں لوک میں کوئی کام کرنا مطلب حاصل کرنا باقی نہیں ہے ۔ تاہم میں دنیا میں قائم رکھنے کو اپنے کام سے غافل نہیں ہوں ۔ ، میں ہی ان کو جو میرا بھجن کرتے ہیں موکش دیتا ہوں ، ہمیشہ میرا ہی دہیان کرو ، مجھ میں ہی دل لگاؤ ، میری ہی پوجا کرو ، سب دھرموں کو چھوڑ کر میرے پاس آؤ ، میں تم سے اقرار کرتا ہوں کہ تم مجھ میں مل جاؤ گے ۔ یہاں پر میں سے سری کرشن اپنے جسم و اسم سے مراد نہیں لیتے ہیں بلکہ برہمہ یا پرم آتما سے ان کی مراد ہے اور ان کا یہ سدھانت تھا کہ عارف کامل جس نے اپنی آتما کو جان لیا اس میں اور ایشور میں کوئی بھید نہیں رہتا ہے اور وہ ایشور کا ہی روپ ہوجاتا ہے ۔ کرشن جی کی آخر میں جو حالت ہوئی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دنیا کہ حالت سے کیسے باخبر تھے ۔ ان کو معلوم تھا دنیا سے چلے جانے کا زمانہ آگیا ہے اونر جس کام کے لیے ہم آئے تھے وہ پورا ہوگیا تھا اور اب چلنا چاہیے ۔ اس زمانے میں یادوں میں شراب خواری اور زناکاری بہت بڑھ چک تھی ۔ چنانہچہ پربھاس میں جاکر سب یدو بنسی آپس میں لڑ مرے اور جب داروک نے آکر کہا کہ سب یادو مرگئے تو کرشن کو ذرا افسوس نہیں ہوا اور ہو جنگل میں جاکر ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے ۔ وہاں ایک بھیل نے ہرن سمجھ کو ایک تیر ان کے پیروں میں مارا اور کرشن جی جسم کو چھوڑ کر اپنے روپ میں جاملے ۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں