61

کسادبازاری


گزشۃ صدیوں میں قیمتوںمیں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ صرف انیسویں صدی اس سے مستثنیٰ ہے ۔ کیوں کہ یہ صدی صنعتی انقلاب ، دخانی انجن ، مشینی چرخوں ، خود کار حرکی تکلوں ، پٹرول انجن اور برقیاتی ایجادات اور انکشافات کی صدی ہے ۔ اس صدی میں نتیجاً پیداوار میں اضافہ اور قیمتوں میں کمی ہوئی ۔ اس انحراف کی بنا پر اس صدی کو چھوڑتے ہوئے دیگر صدیوں میں قیمتوں میں مستقل اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ 
جافری کراؤتھر Geoffery Crowther اپنی کتاب ’زر کے اصول‘ An  Outline ofs  Money میں لکھتا ہے قیمتوں کی اوسط تقریباً ہر صدی میں بہ نسبت زیادہ رہی ہے ۔ باستثنائے انیسویں صدی کے جواس تعیم سے خصوصی طور پر مستثنیٰ ہے ۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ دنیا کے لیے ضرور ی ہو گیا ہے کہ وہ سودی قرضے کے بڑھتے ہوئے بار کو بار بننے سے رو کنے کے لیے قیمتوں کے ہلکے اضافہ کو جاری رکھے ۔             
انیسویں صدی افزائش دولت و آبادی کے لحاظ سے ایک بے نظیر صدی تھی ۔ جس کا ماضی میں جواب نہیں ۔ اگرچہ ماضی کے قرضوں کا حقیقی بوجھ انیسویں صدی میں کم نہیں ہوا ۔ لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ اس بار گراں کو برداشت کرنے کی حقیقی قوت میں اضافہ ضرور ہو گیا ہے ۔ اس سے واضح ہو گیا کہ سائنسی ایجادات کے وہ فوائد جو انسان کو کثیر پیدا وار ، سستی قیمتوں اور اعلیٰ آسائشوں کی شکل میں ہوتے ہیں بڑی حد تک سود کے عواقب کی بدولت کالعدم ہو گئے ۔ 
کسادبازاری Market Decline میں قیمتیں گرتی ہیں ، اس لیے منافع کی شرح گر جاتی ہے ۔ کیوں کہ کسادبازاری Market Decline میں طلب کم ہونے کی وجہ سے کارخانے اپنی پیداوار میں کمی کردیتے ہیں اور مزدوروں کی چھانٹی ہوجاتی ہے اور آخر کار اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے کارخانے بند کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ جس کا نتیجہ شدید بے روز گاری ، قوت خرید میں شدید کمی ، قیمتوں میں شدید کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے بازار میں موجود اشیاء جو کتنی ہی قلیل مقدار میں ہوں فروخت نہیں ہو پاتی ہیں ، ہر طرف بے روز گاری سے یہ بحران بڑھتا ہے اور ہر طرف مایوسی و افسردگی بڑھتی ہے ۔ سرمایاکار اور صنعت کار بینکوں سے لیا ہوا روپیہ واپس نہیں کر پاتے ہیں ، یوں بینک دیوالیہ ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح کی ایک خوفناک کسادبازاری Market Decline  ۱۹۲۹ء؁ تا ۱۹۳۳؁ء تک دنیا پر چھائی رہی ۔ دنیا نے اس کسادبازاری سے نکلنے کے لیے دو جنگ عظیم لڑیں ، مگر اس کے باوجود اس کسادبازاریMarket Decline سے نہیں نکل سکی ۔
ریکاڈو ricardoپہلا معاشین تھا جس نے بتایا کہ ہر قیمتی چیزکا مخزن ’ محنت ‘ ہے ۔ مارکس Marx نے یہ نظریہ قائم کیا کہ سرمایا Capital محفوظ محنت زائد Surpus Labour ہے ۔ یعنی سرمایا محنت کی قیمت کا وہ حصہ ہے ، جو مزدوروںمیں مزدوری کی شکل میں تقسیم نہیں کیا جاتا ہے ۔ بلکہ سرمایادار یہ حصہ بچت کرلیتا ہے اور مشنری Capital Goodsکی صورت میں محفوظ اور جمع کرلیتا ہے ۔ تاکہ اس کی مدد سے وہ مزید قیمتی اشیاء پیدا کرسکے ، مارکس Marx نے اس کانام محفوظ قیمت زائد Surpls Value رکھا ۔  اس کا خیال تھا کہ سرمایا دار نے مزدور کو اس کے اس حصہ سے محروم کردیا ہے اور یہ مزدور یاپورے معاشرے ، جس کو کہ مزدور کی بھلائی مقصود ہو کی ملکیت ہوناچاہیے ۔ جس کے برخلاف سرمایا دار اس محنت زائد کو خطرہ مہم Risk برداشت کرنے کا حق جتاتا ہے ۔ 
کینزKeynes سرمایادارکو اس کے اس حق سے محروم کرتا نہیں ہے ۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ اگر سرمایا داروںکے کاروبار میں حکومت مداخلت نہیں کرے تو وہ ایسے حالات پیدا کردیتے ہیں کہ جن سے ایک ملک کی معیشت میں کسادبازاری  Market Decline اور خوشحالی کے مدوجزرTrade Cyecs آنے شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کینز کی تجویز تھی کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشرے کی اقتصادی سرگرمیوں پر نظر رکھے اور خوشحالی کے وقت افراط زر کو قابو میں کرنے کے لئے محصولات میںاضافہ کرے اور کسادبازاری کے موقع پر کسادبازاری  Market Decline اور بے روزگاری کو دور کرنے کے لئے محصولات میں کمی یا تعمیر عامہ کے کام شروع کرکے مداخلت کرے ۔  

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں