55

کشمیر اور ہمارے اقدامات

آج وزیر اعظم نے قوم کو بارہ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک باہر نکل کر کشمیریوں کے لیے احتجاج کرنے کے لیے کہا تھا اور قوم اس کے لیے باہر بھی نکلی ۔ مگر اس کا دنیا یا مودی پر کیا اثر ہوا یہ ایک الگ سوال ہے ۔ مجھے ایک کہانی یاد آگئی جو کہ میرے مرحوم سسر نے کہانی سنائی تھی وہ آپ کو سنا رہا ۔ 
ایک دفعہ جنگل کا بادشاہ مرگیا جنگل کے جانوروں نے بندر کو اپنا بادشاہ بنالیا ۔ دوسرے ہی دن بندر کے پاس ایک چڑیا گھبرائی ہوئی آئی اور بندر سے گڑگڑا کر کہنے لگی بادشاہ سلامت ، بادشاہ سلامت سانپ میرے بچوں کو کھانے کے لیے درخت پر چڑرہا جلدی کچھ کریں ۔ بندر نے کہا اچھا میں ابھی کچھ کرتا ہوں ۔ یہ کہہ کر اس نے ایک درخت پر چھلانگ لگائی دوسرے درخت پر چھلانگ لگائی اور کچھ دیر چھلانگ لگانے کے بعد اس نے چڑیا سے کہا اب جاکر دیکھو ۔ 
چڑیا تھوڑی دیر میں ہی دوبارہ روتے ہوئے آئی اور بندر سے کہنے لگی بادشاہ سلامت وہ تو درخت پر چڑھ گیا ہے جلدی کچھ کریں ۔ بندر نے کہا اچھا میں کچھ کرتا ہوں ۔ پھر بندر نے ایک درخت پر چھلانگ لگائی دوسرے درخت پر چھلانگ لگائی اور طرح کچھ دیر تک چھلانگ لگانے کے بعد اس نے چڑیا سے کہا اب جاکر دیکھو ۔ 
کچھ دیر بعد چڑیا دوبارہ بندر کے پاس آئی وہ رو رہی تھی اور روتے روتے کہنے لگی بادشاہ سلامت سانپ تو میرے گھونسلے تک پہنچ گیا ہے اور اب وہ میرے بچوں کو کھانے والا ہے ۔ بندر نے نے اچھا میں کچھ کرتا ہوں یہ کہہ کر ایک درخت پر چھلانگ لگائی دوسرے درخت پر چھلانگ لگائی اور کچھ دیر تک چھلانگ لگانے کر بعد اس نے چڑیا سے کہا اب جاکر دیکھو ۔ 
کچھ دیر بعد چڑیا دوبارہ بندر کے پاس آئی وہ بری طرح رو رہی تھی اور روتے روتے کہنے لگی بادشاہ سلامت سانپ میرے سارے بچوں کو کھاچکا ہے ۔ بندر نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور چڑیا سے کہا تم نے خود دیکھا میں نے کتنی کوشش کی مگر اس کے باوجود سانپ تمہارے بچوں کو کھا گیا ۔ اب میں کیا کرسکتا ہوں ۔
یہاں میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر کی آزادی ہو یا ان پر ظلم و ستم ہمارے اقدامات کچھ اسی بندر کی طرح کے ہیں ۔ قوم نے آدھ گھنٹے نکل کر احتجاج کیا مگر مودی اور دنیا پر کچھ اثر ہی نہیں ہوا تو وزیر اعظم کیا کرسکتے ہیں ۔ اس طرح ملکی معاملات میں بھی ہمارے اقدامات اور فیصلے اسی طرح کے ہیں ۔ اب نتیجہ درست نہیں نکل رہا ہے تو بے چارے ہمارے حکمران کیا کرسکتے ہیں ۔ وہ تو کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

کیٹاگری میں : فکر

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں