75

کورش اعظم

خورس  یا سائرس کا شمار دنیا کے بڑے فاتحین میں ہوتا ہے ۔ اس نے اپنی غیر معمولی شجاعت ، قوت اور تدبر کے باعث ایک مقامی امیر سے ترقی کرکے اپنے لئے شہنشاہوں کی صف میں جگہ پیدا کرلی ۔ تین بڑی سلطنتیں میدیا ، لیڈیا اور بابل کو زیر و زبر کردیا اور فارس کی چھوٹی سی ریاست کو ایک عظیم انشان سلطنت میں تبدیل کردیا ۔ 
خورس نے تخت نشین ہونے بعد سب سے پہلے پرساگرد کی متوازی حکومت کو ختم کیا اور پورے فارس اور عیلام پر اپنی ڈھاک بیٹھائی ۔ اس کے بعد بابل کے بادشاہ بنو نید یا نیو نیدس Nabu Naibs or Nebu Nidus  کے ساتھ ساز باز کرکے میدیا کے خلاف بغاوت کردی ۔ اس واقع سے پہلے بابل اور میدیاکی ریاستیں ہمیشہ ایک دوسرے کی حلیف رہی تھیں ۔ آشوریوں کے ذوال کے بعد صورت حال بدل گئی تھی ۔ دونوں کے درمیان کشمکش شروع ہوگئی ۔ خورس نے اس فائدہ اٹھاتے ہوئے بنویندس کی حمایت حاصل کی اور استاغیس کے سالاروں کو ساتھ ملا لیا ۔ چنانچہ استاغیس کی فوج نے اسے گرفتار کرکے خورس کے حوالے کردیا ۔ استاغیس کی گرفتاری کے بعد میدیامع توا بع فارس کی ریاست میں ضم کردی گئی ۔ اس فتح کے بعد اس نے ایک متحدہ ایرانی سلطنت کی بنیاد رکھ دی ۔ جس کی سرحد مغرب میں لیڈیااور بابل تک وسیع ہوگئی ۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی تعلقات میں تبدیلی واقع ہوئی ۔ لیڈیا، بابل اور مصر نے ساز باز کرکے خورس کی بڑھتی ہوئی طاقت کو ٹورنے کی کوشش کی ۔ اس سے پہلے یہ اتحاد مستحکم ہوتا خورس نے لیڈیاپر حملہ کردیا ۔ کیوں کہ لیڈیاکی فوج معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے ہیلس Halys کے دوسرے کنارے تک بڑھ آئی تھی ۔ جنگ میں لیڈیاکی فوج کو شکست ہوئی ، خورس نے دارلحکومت سارڈیس Sardis پر قبضہ کرلیا ۔ اس کا حکمران کروئس Crocsus گرفتار ہوگیا ۔ اس کامیابی نے ایران کی سلطنت کو بحیرہ ایجین Aegean تک کردیا ۔ لیڈیاکی سلطنت کے ساتھ ایشائے کوچک اور یونانی مقبوضات خورس کے قبضہ میں آگئے ۔ 
اس کامیابی سے فراغت پانے کے بعد اس نے مغرب کی طرف توجہ دی اور ہرایو Harava موجودہ ہرات کو فتح کیا ۔ پھر دریائے سیحوںOxus اور جیہوںJaxartes کے وسط علاقے سغدیہ Sagdiaکو فتح کیا ۔ اس طرح اس کی سلطنت ماورالنہر اور کوہ ہندو کش تک پھیل گئیں ۔ چند سال کے بعد اس نے (۵۳۹ ق م) بابل پر حملہ کر کے بابل کو فتح کرکے نبویندس کو گرفتار کرلیا اور مغرب کی فتوحات نے ایرانی سرحدوں کو مصر سے ملا دیا ۔ 
خورس کا دوسرا بڑا کارنامہ مذہبی رواداری ہے ۔ فتح بابل کے بعد اس نے اسرائیلیوں کو جو بخت نصر کے عہدسے اسیری کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ فلسطین جانے کی اجازت دے دی اور بیت المقدس کی تعمیر ثانی کا حکم صادر کیا اور اس سلسلے میں ہر طرح کی مدد دی ۔ نیز وہ طلائی اور نفری ظروف جو مذہبی طور پر مقدس سمجھے جاتے تھے ، اسرائیلیوں کے حوالے کردیئے ۔ بابل کے دیوتا مردوخ کی قدر منزلت کی اور تمام بتوں کو جو دوسرے مقامات سے اٹھا کر لائے گئے تھے ان کی جگہ پہنچایا ۔ یہ اس کے کارنامے ہیں جن کی بدولت اس کو ’نجات دہندہ‘ اور قوم کا باپ کا خطاب دیا ۔ نیز تاریخ میں اس کو اعظم  کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ۔ 
خورس اعظم Cyrus The Gart نے پرساگرکو اپنا دارلحکومت قرار دیا اور وہاں ایک بڑا محل تعمیر کیا ۔ اس کی موت اچانک واقع ہوئی ۔ ۵۲۹ ق م میں ماورالنہر کے ایک قبیلہ سک نے بغاوت کردی ، وہ وہاں گیا اور ان کے خلاف جنگ کرتے ہوئے مارا گیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں