52

کولاری

ہندوستان اقوام کا عجائب خانہ ہے ۔ ہاں آریاؤں کے علاوہ دراوڑی ، کولاری اور بہت سی قومیں رہتی ہیں ۔ برصغیر میں آریا دراوڑی کے علاوہ کولاری بڑی تعداد میں رہتے ہیں ۔

کولاری زمانہ قبل تاریخ میں ہندستان میں شمال یا شمال مشرق سے آئے تھے اور آسام و بنگال میں پھیل گئے ۔ اس کے بعد ڈراوڑی داخل ہوئے اور ڈارڑویوں نے انہیں آگے نہیں بڑھنے نہیں دیا جس کی وجہ سے یہ بنگال اور پہاڑوں کی پیچدار وادیوں میں آباد ہوگئے ۔

کولاری ڈاروڑیوں کی نسبت نرم مزاح اور امن پسند ہیں ۔ ان کا سب سے بڑی قبیلہ سنیتال ہے ۔ اس کے علاوہ موند ، بھومی ، سونتال ، ہویس اور بہت سے قبیلے کولاری نسل ہیں ۔ ان سب کی زبان و مذہب ملتا جلتا ہے اور اکثر ایک سی ہیں ۔ یہ چھوٹا ناگپور ، سبگھوم ، مانوبھوم اور کوہستان بھاگلپور میں علاوہ راحمجالی پہاڑ پر ، بردوان علاقوں مغربی ، مدنہ پور اور کٹک میں آباد ہیں ۔ یہ سادہ نیک چلن اور راست گو قبائل ہیں ۔ ان کا علاقہ خوبصورت ہے لیکن یہاں قدیمی قبائل روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں میں اور یہ مزدور پیشہ ہیں ۔ یہ لوگ سڑک ریل اور اس کے علاوہ نیل کے فارموں اور آسام میں کام کرتے تھے ۔ لیکن آسام میں یہ جلد بیمار ہوجاتے ہیں ۔ کیوں کے آسام مرطوب علاقہ ہے ۔ جو نشیبی بنگال میں گنگا کے قریب کے پہاڑوں پر آباد ہیں ۔ یہ غیر آریاؤں میں زیادہ ترقی یافتہ تھے ۔ ان میں زات پات اور راجہ مہارجہ کا تصور نہیں تھا ۔ ان کا ہر گاؤں آزاد اکائی تھا ۔ ان کا مذہب بھوت پریت اور اپنے آبا و اجداد کی اروح کی پرستش ہے ۔ اجداد کی ارواح کی پرستش ڈراوڑیوں اور آریاؤں میں بھی رائج ہے ۔ یہ ان بھوتوں کی پرستش کرتے ہیں وہ پہاڑوں ، جنگلوں ، ندی اور کنویں کے بھوت ہیں اور اس کے علاوہ قبیلہ ، گوت اور ہر خاندان کے دیوتا بھی شامل ہیں اور دیوتا بڑے بڑے درختوں پر رہتے ہیں ۔ اس توہم کو موجودہ ہندوؤں نے بھی برہمن کے دہم میں مع دیگر توہمات کے رائج ہوگئے ہیں ۔ ان کے ہر گاؤں کے باہر ایک بڑا درخت ہوتا تھا ۔ جس مندر جائے عبادت ، سرائے کا کام لیا جاتا تھا ، یہیں دیگر تقاریب بھی ہوتی ہیں ۔ گویا گاؤں کی روزمرہ زندگی کا مرکز یہ درخت ہوتا تھا ۔ اسی درخت کے نیچے بازار اور میلے ہوتے ہیں ، جہاں خوانچے والے اور مٹھائی اور پھل بیچنے والے ، تماشہ گر اور سپیرے اپنے کرتب دیکھاتے تھے ۔ اگر گاؤں کے لوگ ہندو ہیں تو وہ مٹھائی ، شہد اور دودھ چڑھاتے اور دوسری قوم والے مرغے اور دوسرے چھوٹے جانور چڑھاتے ہیں ۔ درخت کی شاخوں پر زیور اور دوسری چیزیں بھی چڑھائی جاتی ہیں ۔ اگر یہ درخت برگد کا ہو تو اپنی وسعت کی وجہ سے خود ایک گاؤں بن جاتا ہے ۔ جو کہ بیرون ملک کے لوگوں کو بھی بہت اچھا لگتا ہے ۔ کولاری جب بھی جنگل صاف کرتے ہیں تو جنگل کا ایک حصہ دیوتاؤں کے لیے چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہر گاؤں کے باہر درختوں کا جھنڈ ہوتا تھا ۔   

کولاریوں کے قدیم باشندے ہونے کی یہ بھی دلیل ہے کہ جس علاقہ میں تینوں آباد ہیں وہاں یہ سب سے خراب زمینوں پر آباد ہیں ۔ ان کے مشرق سے آنے کی دلیل یہ (۱) ان کا خود کا بیان ہے کہ ہم مشرق سے آئے ہیں (۲) کولاریوں کے طاقت ور اور خالص نسل والے قبائل مشرق میں آباد ہیں ۔ ان کی زبانیں جو آسامی اور کمبوجی ، پرہمپترا اور ارادری کے کناروں پر بولتے ہیں ان سے مشابہ ہیں ۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کولاریوں نے ہی سب سے پہلے جنگل صاف کئے اور انہوں نے لوہے کو بھی دریافت کرلیا تھا ۔ بعض مقامات سے پتھر کی کلہاڑیاں ملی ہیں ۔ اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے لوہے کی دریافت سے قبل پتھروں کی کہلاری سے جنگلوں کو صاف کیا ہوگا ۔

اب کولاری قبائل کا کچھ ذکر ہوجائے ۔ ان میں سے جو الگ اور مہذب ہیں اور کلکتہ کے مغربی جانب ایک سو پچاس کوس دور رہتے ہیں ۔ ان کے نام متفرق ہیں ، مثلاً موند ، بھومی ، سونتال  اور ہویس ، لیکن ان سب کی زبان و رسومات اکثر ایک سی ہیں ۔ یہ چھوٹا ناگپور ، سبگھوم ، مانوبھوم اور کوہستان بھاگلپور میں علاوہ راحمجالی پہاڑ پر ، بردوان علاقوں مغربی ، مدنہ پور اور کٹک میں آباد ہیں ۔ یہ سادہ نیک چلن اور راست گو قبائل ہیں ۔ ان کا علاقہ خوبصورت ہے لیکن یہاں قدیمی قبائل روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں میں ۔ یہ اور مزدور پیشہ ہیں ۔ یہ لوگ سڑک ریل اور اس کے علاوہ نیل کے فارموں اور آسام میں کام کرتے تھے ۔ 

چھوٹا ناگپور میں مونڈوں نے اتنا سیکھ لیا ہے کہ گاؤں میں آباد ہوگئے ہیں ۔ تاہم قدیم قبائل کی طرح مشترکہ رہتے رہتے ہیں ۔ مگر ان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ معمولی بات پر یہ اپنے  زمیندار کو چھوڑ دیتے تھے ۔

ہوس و بھومی جو سبگھوم اور مانبھوم کے جنوب کے پرگنے میں آباد اور کم وحشی ہیں ۔ لیکن سنتل لوگ اگرچہ میدان کے پاس رہتے ہیں سب زیادہ نڈر ہیں ۔ اس کوہستان کی آخر میں ایک قبیلہ دونسلہ ہے جن کا لوٹ مار ہے اور ان کی ذات بھی کھاٹ والی کہلاتی ہے ۔

جو قبائل راجپوری پہاڑ بسوی کے شمال اور سرگوجہ کے درمیان اور پالامو آباد ہیں ، ان میں ایک قوم کہورپواہ کی زبان کولاریوں کی زبان سے ملتی جلتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ان کا تعلق ایک ہی نسل سے ہے ۔ لیکن یہ بالکل جنگلی ہیں اور ان کا سر اور قد بھی چھوٹا ہے ۔ ان کی شکل بہ نسبت اور ان ڈراودیوں سے بہتر ہے ۔ منہ پریشان حال اور ہلکی ڈارھی رکھتے ہیں ۔

اس قبیلہ سے مغرب کی جانب دو تین سو کوس تک کوئی قدیم قبیلہ کولاریوں کا نہیں آباد ہے ۔ لیکن کوہ سوتپورا مغربی حصہ میں کاؤ لگہر کے قریب اور وہاں سے اندور کی جانب کور یا کورکوس قبیلہ آباد ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ان کی زبان کولاری ہے ۔ ان کے بعد احاطہ بمبئی شروع ہوتا ہے ۔ اس علاقہ میں اور دوسرے جنگلی قبائل ذات مہار ، نامگ اور راموس بستے ہیں ۔ لیکن ان میں مشہور صرف دو قبیلے کولی اور بھیل ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ کولی کولاری ہی کی ذات ہوگی ۔ لیکن یہ شبہ تھا کہ شاید بھیل دراوری ہیں ۔ تاہم میں جو بھی تحقیق کی اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں قبائل کولاری ہیں اور ان کے درمیان اختلاف کم ہے اور بعض الفاظ مشترک ہیں ۔ مثلاً یہ سر کو بھورو کہتی ہیں اور ہاجن کی لغت کے مطابق دیگر کولاری قبائل مثلاً کول سونتال ، بہومی ، مونڈا سر کو بو یا بوہو کہتی ہیں ۔ یہ نام داوری براہی سر سے بالکل جدا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں