85

کھتری

کھتری قبیلہ کا خاص پیشہ تجارت ہے ۔ پنجاب و نیز افغانستان کا اکثر لین دین ان کے ہاتھ میں تھا ۔ اس کے علاوہ ملک کے انتظامات اور سلطنت کے امور بھی انجام دیتے ۔ یہ عجیب بات ہے کہ خود اکثر کھتری نانک شاہی (سکھ) نہیں ہیں ، لیکن سکھوں کے گورو مثلاً گورو نانک ، گورو گوبند اور ان کی اولاد سوڈھی و بیدی قوم کھتری سے ہیں ۔ اگرچہ ان کا مذہب سکھ مت اور ہندو مت ملا جلا ہے ۔

کھتری جنگجو نہیں ہیں ۔ لیکن شمشیر کی چمک سے نہیں ڈرتے ہیں ۔ دیوان سانوں مل و پسر مولراج حاکم ملتان اور دیگر کاردار مہا راجہ رنجیت سنگھ کھتری تھے ۔ نیز ٹو ڈر مل دیوان بادشاہ اکبر  مشہور ہے ۔ البتہ اس قوم کی بنیادی پیشہ تجارت ہے ۔ اگرچہ انگریز کھتری یا کشتریا یعنی راجپوت اور بنیوں میں فرق کرتے تھے ۔

درحقیقت کھتریوں کا بنیوں سے کچھ تعلق نہیں ہے اور یہ راسخ عقدہ ہندو مذہب ہیں لیکن ذات پات کی پابندیوں کے کم مانتے ہیں ۔ یہ کابل و بخارہ میں بھی آباد ہیں ۔ اگرچہ دوسری ہندو قوموں یعنی راجپوت و جٹ وغیرہ نے اسلام قبول کرلیا ۔ مگر ان کی بہت کم تعداد نے سکھ مت اور اسلام قبول کیا  ہوئے ۔

کھتریوں سے کچھ پست درجہ میں روڑا قوم ہے ۔ پنجاب میں کوئی گاؤں ایسا نہیں تھا جہاں  کھتری یا روڑا نہیں تھا ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ تھوڑا بہت لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں ۔ زمیندار ان سے دوسری تجارت پیشہ اقوام کے انہیں زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ بلکہ ان کا کام ان کے بغیر چل نہیں سکتا ہے ۔ ایسا ہی افغانستان میں پٹھان اگرچہ ان پر ظلم کرتے ہیں ، مگر وہ کھتریوں کو اپنے پاس رکھتے ہیں اور ان کے نذدیک کھتری بہت قیمتی شے تھی اور اس کا بہت خیال رکھتے تھے ۔ یہاں تک پہلے وہاں کھتری چرائے جاتے تھے ۔

عجیب بات تھی کھتریوں کے کاروبار کی شمال و مغرب میں حد مقرر نہیں تھی ۔ ہندوؤں میں صرف یہی بخارہ میں بھی ملتے ہیں اور سینٹ پیٹر برگ یعنی روس کے دارلسلطنت میں کئی کھتری آباد تھے ۔ اس طرح یہ عرب اور افریقہ کے ساحلی علاقوں میں بھی آباد ہیں ۔ 

یہ عجیب بات ہے کہ کھتری کشمیر میں نہیں ملتے ہیں ۔ کوہستان میں پورب کی جانب دریائے جہلم کے کنارے ایک ذات کگا آباد تھی اور کہا جاتا ہے کہ یہ پہلے کھتری تھے ۔ اس طرح ضلع کانگڑہ میں ایک چراہوں کا قبیلہ گدی جس برہمن اوردوسری ذاتوں لوگ ملتے ہیں ۔ لیکن اکثریت کھتریوں کی ہے اور ان کی روایت ہے کہ یہ پہلے پنجاب پر حکمران تھے اور انہیں بیرون حملہ آوروں نے ہمیں وہاں سے بے دخل کر دیا تو یہ کوہستان میں آگئے ۔

خاص ہندوستان میں کھتری کم ہیں ۔ کیوں کہ جہاں جنگ نہ ہو وہاں بنیا غالب رہتا ہے ۔ بہار میں ایک ذات کشتری ہا چھتری یا کھتری ہیں جو کاشتکاری کرتے ہیں یا سپاہی ہیں ۔ کلکتہ میں دربان وغیرہ اس ذات کے ہیں ۔ سندھ میں بھی کھتری آباد ہیں ۔

کھتری اپنے کو کشتریا بتاتے ہیں اور افغانستان پہلے ایک ہندو ریاست تھا اور اس کی باقیات کھتری کابل وغیرہ میں آباد ہیں ۔ یقینا کشتیریا شاستر کے زمانے میں حکمران اور جنگجو تھے اور آج کل یہ کھتری خاص تجارت پیشہ ہے اور ان کی اور خصوصیات بھی اسی طرح بدل گئیں جیسے کہ یہودی اور یونانی جو کہ جنگجو مشہور تھے اب تاجر ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں