86

کھونڈوں کی انسانی بھینٹیں

اکیسویں صدی کی دوسری ڈھائی اب ختم ہونے والی ہے اور اب انسانی شعور اور تہذیب ترقی میں ماضی سے بہت آگے بڑھ چکی ہے ۔ مگر شاید انسان کی فطرت کچھ ایسی ہے کہ وہ کتنی ترقی کرلے اور وہ جس عقیدے اور توہمات اور اس پر ایمان ہو اس پر یقین کامل اور انہیں درست مانتا ہے ۔ اس کے وہ عقائد اور توہمات جو کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں مگر وہ انہیں اپنی نجات کا حصول جانتا ہے ۔ ان غلط عقائد اور توہمات پر چلنے والے کچھ لوگ انجانی شیطانی طاقتوں کو بھی مانتے ہیں اور ان کی رضا جوئی کو اپنی خیر و عافیت کا ذریعہ جانتے ہیں ۔ انہیں خوش کرنے اور رضا جوئی کے لیے مختلف جانوں کی قربانی دینا ایک پسندیدہ اور اعلیٰ فعل مانا جاتا رہا ہے ۔ ان سب سے اہم قربانی انسان کی ہے جو مقاصد کے حصول اور رضا جوئی کے لیے ایک نہایت اعلیٰ قربانی ہے ۔ یہ قربانی پیش کرنے کا مقصد نہ صرف اعلی الوہی طاقتوں کی رضا جوئی بلکہ مقاصد کا حصول بھی ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ یہ قربانیاں جو کہ دور وحشت کی یادگار ہیں اور اکثر مختلف شیطانی طاقتوں کو خوش اور مقاصد کے حصول کے لیے پیش کی جاتی رہیں ہیں ۔ قدیم دور میں اگرچہ انسانی قربانیاں عام تھیں اور ہر قوم ان پر عمل پیرا تھی ۔ تہذیب اور شعور نے ان انسانی قربانیوں کو ناپسندیدہ قرار دے کر ان سے جھٹکارا بہت حد تک حاصل کرلیا ہے ۔ انسان اب دور وحشت کو بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے اور ایسی قربانیاں یا بھینٹیں اب معیوب ہوچکی ہیں ۔ مگر اب بھی ان قربانیوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے ۔ یہ قربانی رضاجوئی کے علاوہ اپنے مقاصد یا تمناؤں کی تکمیل کے لیے بدی کی شیطانی طاقتوں کے آگے پیشی کی جاتی ہیں ۔ ہمارے ملک میں اگرچہ ایسی قربانیوں کا رواج نہیں رہا ہے ۔ تاہم کبھی کبھار انسانی قربانیوں کی خبر اخباروں کی زینت بنتی ہے ۔ مگر بھارت میں اب بھی اکثر انسانی قربانیوں باز گشت سنائی دیتی ہے ۔ 
گو بھارت میں انسانی قربانیوں یا بھینٹ کا رواج نیا نہیں ہے بلکہ قدیم زمانے سے چلا آرہا ہے ۔ کالی اور اس کا ایک روپ بھوانی ، شیو اور دوسرے دیوی دیوتائوں پر انسانی بھینٹیں پیش کی جاتی رہیں اور ان کی رضا کے لیے انسانی بھینٹیں پیش کرنا پہلے عام تھا ۔ ان میں دوسرے انسانوں کی بھینٹوں کے علاوہ عقید مند خود اپنے کو بلی چڑھاتے تھے اور قدیم مسلم سیاحوں نے اکثر اس کا ذکر کیا ہے ۔ اب انسانوں کی جگہ بکرے بھینس اور دوسرے جانوروں کی بھینٹیں ہونے لگی ہیں ۔ مگر بھارت میں یہ قربانیاں ختم نہیں ہوئی ہیں اب بھی انسانی قربانیوں کے واقعات اکا دکا منظر عام پر آتے رہتے ہیں ۔ 
انیسویں صدی کے آخر تک بھارت میں انسانی قربانیاں عام تھیں خاص کر بنگال اور اڑیسہ کے کھونڈوں یا کھانڈوں میں جو دراوڑی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ان میں انسانی قربانیاں عام تھیں ۔ کھونڈ جو کہ انسانوں کو قربان کیا کرتے تھے اس کے بارے میں برطانوی احکام نے تفصیل سے لکھا ہے اور  بڑی جدو جہد کے بعد اس خونی رسم کا صدباب کیا ۔ 
کھونڈوں کے عقیدے کے مطابق یہ قربانی دھرتی دیوی تاری پینوں یا بیرا پنیوں کو دی جاتی تھی ۔ جس کے نتیجے میں ان کی فضلیں اچھی ہوتی تھیں اور وہ حوادث سے محفوظ رہتے تھے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق قربانی کے آدمی میں ایسا جوہر ہوتا ہے جو فضوں کی نشو و نما بڑھاتا ہے ۔ یعنی اس میں زمین ذرخیز کرنے کی طبعی و سحری قوت ہوتی ہے ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس قربانی کے بغیر ہلدی میں گہری سرخی نہیں آتی تھی اور اس طرح کی قوت اس کے آنسوں سے منسوب کی جاتی ہے جو بھینٹ ہونے والے انسان کی آنکھوں سے نکلتے تھے ۔ ان کے عقیدے کے مطابق بھینٹ چڑھنے والے انسان کے آنسوں کی بدولت بارش ہوتی ہے اور اس کے لہو سے ہلدی میں سرخی آتی ہے ۔
بھینٹ کا انسان اسی صورت میں قابل قبول ہوتا تھا جب کہ اسے خریدا گیا ہو یا پھر قربانی کے لیے پیدا ہوا ہو ۔ یعنی اس کے ماں باپ کی بھی قربانی دی جا چکی ہو یا اس کے ماں باپ اسے قربانی کے لیے وقف کرچکے ہوں ۔ مصیبت کے مارے اکثر کھونڈ اپنے بچے قربانی کے لیے فروخت کردیا کرتے تھے ۔ ان کا خیال تھا اس طرح انہیں روحانی سعادت نصیب ہوگی اور بنی و نوح انسانی کی بھلائی کی لیے یہ بھینٹ نہایت ضروری ہے اور ان کی اولاد کی بھینٹ نہایت اعلیٰ بھینٹ ہے ۔ 
ایک کھونڈ کو دوسرے کھونڈ نے لعنت ملامت کی کہ اس اپنی لڑکی کو جس سے وہ شادی کرنا چاہتا ہے بھینٹ کے لیے فروخت کردیا اور اس کے منہ پر تھوک دیا ۔ کھونڈوں کا دوسرا گروہ جو یہ تماشاہ دیکھ رہا تھا اس نے آگے بڑھ کر اسے تسلی دی کہ تمہاری بچی نے اس لیے بھینٹ دی کہ دنیا سلامت رہے ۔ دھرتی دیوی خود تمہارے چہرے کا تھوک صاف کرے گی ۔ 
بھینٹ کا انسان برسوں پہلے یا کم عمر خریدے جاتے تھے اور یہ میریہ کہلاتے تھے ۔ جب میریہ جوان ہوتے تو اسے ایک بیوی مل جاتی تھی جو کہ خود بھی میریہ یا بھینٹ کے لیے ہوتی تھی ۔ اس بیوی کے ساتھ اسے زمین کا ایک ٹکرا اور کھتی باڑی کا سامان بھی دیا جاتا تھا ۔ اس جوڑے کی جو اولاد پیدا ہوتی تھی وہ بھی دیوی پر بھینٹ چڑھائی جاتی تھی ۔
میریہ کی بھینٹ مقررہ یا معیادی تہواروں اور غیر معمولی موقعوں اور تقریبات دھرتی دیوی کو دی جاتی تھی ۔ اس کا طریقہ کار اس طرح ہوتا تھا کہ ہر خاندان کو سال میں کم از کم ایک مرتبہ فضلوں کی بوائی ہو تو کھیتوں کے لیے قربانی کے گوشت کا ایک ٹکرا میسر آجائے ۔ 
میریہ کے بال نہیں کاٹے جاتے تھے ، مگر قربانی سے دس دن قبل اس کے بال کاٹ کر دیوی کی نذر کئے جاتے تھے ۔ قربان کئے جانے والے میریہ کو دیکھنے کے مرد و عورت جوق در جوق آتے تھے ۔ انہیں روکا نہیں جاتا تھا ۔ کیوں کہ قربانی اعلیٰ اعلان کیا جاتا تھا کہ یہ قربانی انسانی فلاح و بہبود کے لیے ہے ۔ اس موقع پر جشن اور فحاشیوں کے کھل کر مظاہرے کئے جاتے تھے ۔ جب قربانی میں ایک دن رہ جاتا تو میریہ کو نیا لباس پہنایا جاتا تھا اور ساتھ رنگ رلیاں مسلسل منائی جاتی تھیں ۔ جو دوسرے دن دوپہر تک جاری رہتی تھیں ۔ پھر قربانی کی آخری رسوم کی تیاریاں ہوتی تھیں اور قربان کئے جانے والے کی ارسر نو آرائش ہوتی تھی اور ہر شخص اسے چھو کر اس کا پس ماندہ تیل اپنے سر پر ملتا تھا ۔
بعض مقامات پر میریہ کو جلوس کی صورت میں گھر گھر لے جاتے ۔ وہاں اس کے کچھ بال اکھاڑتے اور اس کا تھوک اپنے بدن پر ملتے ۔ پھر باضابطہ ایک جلوس کی شکل میں رقص و سرور کے ساتھ ایک شجرزار میں پہنچتے ۔ جو عموماً گاؤں سے کچھ فاصلے پر بلند و بالا درختوں کے جھنڈ پر مشتمل ہوتا تھا ۔ جس پر کلہاڑی نہیں لگی ہو ۔ یہاں پر لوگ اسے کھمبے سے باندھ دیتے ۔ پھر اس کے بدن پر گھی ، نیل اور ہلدی ملتے اور اس کو پھولوں کے ہار پہناتے تھے ۔                 
میریہ کا جو احترام کیا جاتا تھا وہ پرستش سے کم نہیں ہوتا تھا ۔ اس کے بدن پر لگی ہلدی ، گھی ، نیل اور اس کا تھوک بڑا متبرک سمجھا جاتا تھا ۔ خاص کر عورتوں میں اس کے لیے سخت کھنچا تانی ہوا کرتی تھی ۔ مجموع رقص کے ساتھ قربانی کے کھمبے کے گرد رقص کرتا اور زمین کو مخاطب کرکے گاتا جاتا ۔ اے معبود ہم تجھے یہ قربانی دیتے ہیں ، ہم اچھی فضلیں ، ساز گار موسم اور تندروستی عطا کر ۔ پھر قربان ہونے والے میریہ سے کہا جاتا ہے ، ہم نے تجھے خریدا ہے پکڑ کر نہیں لائے ہیں اب ہم تمہیں اپنے دستور کے مطابق قربان کرتے ہیں جس کا گناہ ہم پر نہیں ہے ۔ 
کھونڈ ان بھینٹوں کے لیے مختلف ذرائع سے انسانوں کو حاصل کرتے تھے ۔ بھینٹ کا یہ انسان میریا کہلاتا تھا اور اس کے حصول کے  لیے مختلف ذرائع استعمال کرتے تھے ۔ ان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی خریدارہ اور پہاڑوں کے نیچے وادیوں سے انسانوں کا اغوا بھی شامل تھا ۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ جب قربانی کے لیے کوئی نہیں ملتا تو کھونڈ اپنی اولادوں کو دان یا فروخت کردیا کرتے تھے ۔ ایک شخص نے اپنی دو بیٹیاں بھینٹوں کے لیے دے دیں ۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ بھینٹ کے لیے کوئی میریا میسر نہیں آتا تھا تو لوگ اپنے بوڑھے ماں باپ کو قربانی کے لیے پیش کردیا کرتے تھے ۔ بھینٹوں سے پہلے انہیں بڑی احتیاط و احترام سے دیہاتوں رکھا جاتا تھا ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جب تک وہ انسانوں کی بھینٹیں دیوی کو دیتے رہیں گے دیوی ان پر رحم کرتی رہے گی اور ان کی فضلیں اچھی اور وہ وبا سے محفوظ رہیں گے ۔ بعض جگہوں پر تو پچیس سے زاید انسانوں کو بھینٹ چڑہایا گیا تھا ۔ بھینٹ کے دن آدمیوں کے ہجوم میں میریا کو ایک بلی سے باندھ دیا جاتا تھا اور پہلے پجاری اس کو بسولے سے زخمی کردیتا تھا ۔ پھر دوسرے آدمی چاقوؤں سے اس کے گوشت کے پارچہ کاٹ کر لیجاتے ۔ ان پارچوں کی بوٹیاں ہوکر کنبوں میں تقسیم ہوتیں ۔ وہ اس گوشت کو کھیت میں دفن کر دیا اور یہ عقیدہ رکھتے کہ ہم نے اچھی فضل کا بیج بو دیا ہے ۔
 اڑویسہ میں دریائے مہاندی کے اس کے جنوب میں گھنے درختوں میں گھرے پہاڑوں کے درمیان بودھ اور گیوم سرکی دور افتادہ وادیوں میں کھونڈ قبیلہ رہتا تھا ۔ یہ علاقہ جو کہ چھ ہزار میل کے رقبہ پر پھیلا ہوا تھا اور ۱۸۳۵ء میں گیوم سور کے راجہ نے برطانوی احکام کے خلاف بغاوت کردی ۔ راجہ کے خلاف کاروائی کے لیے دستہ میجر کیمبل کی سردگی میں ایک دستہ یہاں آیا تو انہیں وہاں انسانی بھینٹوں یا قربانی کا پتہ چلا ۔ یہ بھینٹیں پرتھوی دیوی پر چڑھائی جاتی ہیں ۔ جب میجر کیمبل نے کھونڈوں کو ان بھینٹوں سے روکنے کی کوشش کی تو کھونڈوں نے اس کے خلاف مسلح مزاحمت کی ۔ میجر کیمبل نے راجہ کو گرفتار کرکے برطانیوی کیمپ روانہ کیا اور میجر کیمبل نے اس کی اطلاع برطانوی احکام کو دی ۔    
جلد میجر کیمبل بیمار ہوگئے اس لیے ان کو جانا پڑا اور ان کی جگہ میجر میکفرسن آئے ۔ لارڈ پارڈنگ نے چھ انگریزوں اور ایک دستہ میجر میکفرسن کی مدد کے لیے بھیجا کہ انسانی بھینٹوں کو روکا جائے ۔ میجر میکفرسن چار سال تک ان بھینٹوں کو روکنے کے لیے جدو جہد کرتے رہے اور اس کے لیے کھونڈوں کو سمجھایا اور اس کے لیے سختی سے کام لیا اور پہلے بودھ کے علاقہ میں کھونڈوں کو ڈرا ڈھمکا کر انہوں نے سیکڑوں میریاؤں کو چھڑا لیا ۔ برطانوی دستے کی اس کاروائی سے کھونڈوں میں اشتعال پھیل گیا اور وہ سکیڑوں کی تعداد میں جمع ہوگئے اور انہوں نے میجر میکفرسن کے خیمہ کا گھیراؤ کرکے ۱۷۰ میریاؤں کو چھین کر لے گئے ۔ میجر میکفرسن نے ایسی صورت میں گیوم سر کی طرف جانے کی کوشش کی ۔ مگر کھونڈوں نے اسے راستے سے اغوا کرلیا اور مجبور کیا کہ ان کے راجہ کو جو برٹش کیمپ میں قید تھا رہا کردیں ۔ اس اثنا میں مدراس سے آئے ہوئے سپاہ کے ایک دستے سے جو کہ بعض باغیوں کی سرکوبی کے لیے آیا ہوا تھا کھونڈں کے اس گروہ جس کے پاس ٹورے دار بندوقیں تھیں سامنا ہوگیا اور کھونڈ فرار ہونے پر مجبور ہوگئے اور میجر میکفرسن کو رہائی ملی ۔ 
کھونڈوں میں بھینٹوں کو روکنے کی وجہ سے اشتعال پھیل رہا تھا ۔ یہیاں تک برسات گزر گئی اور یہ اشتعال جو کہ پہلے بودھ میں پھیلا تھا مگر اب اس کے شعلے گیوم سر تک پہنچ گئے ۔ بودھ کے کھونڈ راجہ بسوے کے بھتیجے کرلمبوی کی سردگی میں بغاوت کی تیاری کررہے تھے ۔ آنے والے سال میں کھونڈوں کی شورش جاری رہی ۔ کرلمبوی کے پیرو برطانوی سپاہ سے بچنے کے لیے پہاڑوں میں پناہ لی اور ان کے دیہاتوں میں برطانیوی سپاہ کا قبضہ تھا ۔ وہاں ان کے خالی دیہات جلا دیئے گئے ۔ وہ جانتے تھے کہ برطانوی سپاہ ان پہاڑی جنگلوں میں نہیں آئے گی ۔ اگر آئی تو تو وہ یہاں جنگلی بخار سے ان کی موت لازمی ہے ۔ کرنل ڈائس اور میجر کیمبل کے دوبارہ آنے سے گیو م سر کو کنٹرول کرلیا گیا اور دوسری طرف راجہ سام بسوئے کی جلا وطنی ختم کردی گئی اور اسے دوبارہ بحال کردیا گیا ۔ کیوں کہ اس نے مان لیا کہ وہ آئندہ آدمی کی قربانی نہیں کریں گے ۔   
 اگرچہ کرلمبوی کے چچا کی گدی بحال ہوگئی تھی مگر اس نے ہتھیار نہیں ڈالے اور وہ اپنے دوست راجہ انگل کے پاس چلا گیا ۔ میجر کیمبل ۱۸۴۸ء کی ابتدا میں راجہ انگل اور کرلمبوی کو گرفتار کرنے کے لیے ایک دستہ اور چار توپیں لے کر گئے ۔ اگرچہ ان کی کامیابی کے راہ میں قدرتی رکاوٹیں بہت موجود تھیں ۔ تاہم معمولی سے لڑائی کے بعد انگل کے کھونڈوں نے ہتھیار ڈالدیئے اور راجہ نے کو گرفتار کرلیا گیا ۔ مگر کرلمبوی مفرور ہوگیا ۔ مگر جلد ہی اسے بھی گرفتار ہوگیا ۔ راجہ اینگل نے اگرچہ شورش کو ہوا دی تھی لیکن اس کی پینشن مقرر کرکے اسے کلکتہ بھیج دیا گیا ۔ کھونڈ سردار خوفزدہ ہوکر انگریزی کیمپ میں حاضر ہوگئے ۔ میجر کیمبل نے بھی انہیں انسانوں کی قربانی نہ کرنے صورت میں امن و سکون کا یقین دلایا کھونڈوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ انسانی قربانی نہیں کریں گے اور بودھ کے کھونڈوں نے میجر کیبل کو ۲۳۴ میریا دیئے جو کہ قربانی کے لیے رکھے گئے تھے ۔ اس طرح اس علاقے میں دس سال کی جدوجہد کے بعد انسانی قربانیوں کو ختم کیا گیا ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں