69

کیلاش اور مان سرور کی یاترا

کیلاش اور مان سرور کی جاترا کس طرح ہونی چاہیے اس کا حال ہندوؤں کے شاشتروں میں تفصیل سے لکھا ہے ۔ جاترا کا آغاز پہاڑ کے نیچے ٹب پور سے ہوتا ہے جہاں کالی ندی یا دریا ئے سارودھا الموڑا اور نیپال جدا کرتی ہے ۔

جب کوئی یاتری پتھروں کے ان ڈھیروں تک پہونچتا ہے جو یاتریوں نے پھیکے ہوئے ہوتے ہیں (عام دستور ہے ایک پتھر اٹھا کر چوٹی کی طرف پھنکا جاتا ہے) اور جارٹنس یعنی موت کی یادگاروں کو دیکھتا ہے جو رشیوں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی ہیں اور درہ کیلاش کی مقدس چوٹی کا پتہ دیتی ہیں ۔ اس وقت تھکے ماندہ یاتریوں آنکھیں روشن ہوجاتی اور انہیں دیکھ عقیدت مندوں کے بدن میں تازگی کہ لہر دور جاتی ہے اور بے اختیار ان کے لبوں پر دعائیں بلند ہوتی ہیں ۔ جوش و جذبہ کم ہونے پر طبیعت میں وہ ایک طرح کی طمانیت اور محسوس کرتا ہے اور اس کا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے کہ اسے وہ دیکھنا نصیب ہوا جس کے درشنوں کو بڑے بڑے راجہ مہاراجہ ترستے رہے ۔ مگر انہیں اس مقدس مقام کے درشن نصیب نہ ہوئے ۔

دارچنگ (تکلا کوٹ) جو کیلاش کے نیچے واقع ہے اور یہاں جاتری پرکرام (طواف) سے پہلے جمع ہوتے ہیں ۔ اس راستے میں جگہ جگہ ریت کے ٹیلے بھی ہیں اور ندیاں بے شمار ہیں جن میں چڑھائیاں اور ڈھلانیں ہیں ۔ کانگڑی یا کوہستان کیلاش کے نیچے یہ خطہ تک کسی وقت جھیل راکش تال میں شامل تھا ۔ اس لیے یہاں کی زمین راکش تال کی سطح سے کچھ ہی اونچی ہے اور جب بارش زیادہ ہوتی ہے تو یہاں چلنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اس خطہ کے دوسرے آثار سے اس کی نشادہی ہوتی ہے ۔ راکش تال میں ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق یہاں راون نے بیس ہزار سال تبیسہ کی تھی ۔ حیرت کی بات ہے اس جھیل میں پرندے نظر نہیں آتے ہیں ۔

یہاں کا ایک علاقہ ہے جو براست بھوٹان کے زیر کنٹرول تھا یہ اصل میں مذہبی وقف تھا ۔ اس علاقہ میں یعنی کیلاش کے متبرک راستے پر دو خانقاہیں واقع تھیں ۔ مان سروور جھیل کی خانقاء جیکپ (جتحاب) نامے گوپا کا ، خانقاء کھجرناتھ کا رنگنگ اور خانقاء ذوکا جو دریائے کرنالی کی بالائی وادی میں واقع ہیں ۔ گارٹیگ قریب خانقاء گیزن کا اور ڈابائے جنگ پن کا کے علاقہ میں خانقاء اٹی گان فو جسیر اور سامر کی چار خانقاہوں کا منتظم اعلیٰ تھا ۔

کیلاش کے مقدس و متبرک پہاڑ کا طواف جو شیو جی کا بھٹ ہے کا طواف تین دن میں ختم ہوتا تھا ۔ اس کے گرد کا فاصلہ 25 میل ہے لیکن راستہ اچھا نہیں ہے لیکن پیدل چلنا لازم ہے ۔ تاہم بعض یاتری گھوڑوں پر اپنی یاترہ مکمل کرتے ۔ یہاں راہ میں ایک چھوٹی سی جھیل گوری کنڈ کہلاتی ہے یہ ایک ایسی جھیل ہے جس کا پانی سال پھر جما رہتا ہے اور یہاں بہت اونچی چڑھائی ہے ۔ بعض لوگ راستہ میں پوجا کرنے کے لیے یا گوری کنڈ میں نہانے کے لیے (حالانکہ عام جاتری برف ہٹا کر چلو بھر پانی سر میں ڈالیتے ہیں) ٹہرنا چاہتے ہیں ۔ اس کنڈ کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ یہاں شیو اور باربتی غسل کرتے ہیں ۔ اس راستہ کو بعض یاتری اپنے قد سے ماپتے ہیں (ڈنڈوت) ۔ یعنی ڈنڈوت کرتے چلتے ہیں ۔ کیلاش بربت کا جلد طواف کرنے والے کو اچھا نہیں سمجھا تھا اور اسے کوکر (تیز ڈورنے والا کتا) کہتے تھے ۔ جو صاحب مقدر ہوتے تھے وہ اپنے ساتھ خیمہ وغیرہ لے جاتے تھے اور آرام و سکون سے سفر کرتے تھے ۔ لیکن عام لوگ وہ گومپاؤں یعنی خانقاہوں میں ٹہرتے تھے اور دعا دیتے تھے کہ انہوں نے مسافروں کے ٹہرنے کا انٹظام کر رکھا ہے ۔ یہ یاتری اس جھیل اور کیلاش پہاڑ کے گرد مشرق سے مغرب کی سمت چکر بھی لگاتے ہیں ۔ جو کہ پچیس میل لمبا ہے اور ان میں بعض زیادہ ثواب کے لیے ہر قدم پر لیٹ کر ہاتھ کو پھیلا کر دعائیں مانگتے اور پھر آگے بڑھتے تھے ۔ یہ جگہ جو کھڑدری اور سرد ہے اس لیے زائرین کو پیروں کے علاوہ ہاتھوں میں لکڑی کی کھڑاویں پہن کر کوئی تین ہفتہ میں یہ سفر طہ کرتے تھے ۔ ان کے عقیدہ کے مطابق اس کے گرد ایک سو آٹھ چکر لگانے سے روحانی مسرت حاصل ہوتی اور بعض سادھو یہ ایک سو آٹھ چکر لگاتے تھے ۔

سب سے پہلے نندی قو کی خانقاہ ملتی تھی ۔ جہاں بہت سی کندہ دار بندوقیں ، ڈھالیں اور تلواریں جو لوگوں نے تحفہ دی ہوئی ہیں ۔ دوسری خانقاہ ڈیڈی فو Dedephu جہاں سے راستہ گوری کنڈ کی مجمند جھیل ہوتا ہوا زوٹل فو یا جمدل فو جاتا تھا ۔ اس کے بعد گنگتا Gangta کی خانقاہ تھی جہاں مذہبی کتابوں کا ایک کتب خانہ تھا ۔ وارچنگ وہ مقام ہے جہاں سے طواف شروع ہوتا ہے اور ختم ہوتا ہے ۔ آج بھی بھارت سے یہاں ہر سال یاتری یہاں یاترہ کے لیے آتے ہیں ۔ کیلاش کی یاترہ بھارتی یاتریوں کی چینیوں کے قبضہ کے بعد بھی مسلسل جاری رہی ۔ صرف 1962ء کا دور ایسا تھا کہ جنگ اور تعلقات کی کشیدیگی کی وجہ سے کچھ عرصہ تک یہ یاترہ رکی رہی ۔ یہ یاتری مئی سے لے کر ستمبر کے دوران آتے ہیں ۔ مختلف ٹریول ایجنساں حکومت بھارت کے تعاون سے ان کی یاترا کا بندوست کرتی ہیں ۔ مگر ان یاتریوں کی تعداد کسی سال بھی چند ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی ہے ۔ پہلے ان میں بعض ضعیف العمر افراد اور بعض کے ساتھ عورتیں بھی ہوتی تھیں ۔ اب پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کی یاترہ پر پابندی ہے اور بھارت سے آنے والے بشتر یاتری عموماً اپنی بیویوں کے ساتھ یاترہ پر آتے ہیں اور نہ ہی اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو آنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ان یاتریوں کا بلڈ پریشر اور دوسرے میڈیکل ٹیسٹ کے بعد انہیں جانے کی اجازت ملتی ہے ۔

یاترہ کے کئی روٹ ہیں اور ان میں سب سے پہلا روٹ نیپال کے دارلحکومت کھٹمنڈو سے براستہ لاسہ جدید ہوائی جہاوں کے ذریعے پہنچا جاتا ہے اور وہاں سے آرام دہ بسوں کے ذریعہ جھیل مانسرور اور کیلاش پہنچا جاسکتا ہے ۔ دوسرا روٹ بھارت سے نیپال کے دالحکومت کھٹمنڈو ہوائی جہازوں کے ذریعے پہنچے ہیں اور وہاں سے ہیلی کوپٹر کے ذریعے نیپال کے ایک چھوٹے سے سرحدی شہر ہنسا جو کہ دریائے کرنالی کے کنارے پہنچتے ہیں ۔ جہاں سے یہ دریا پر ایک پل کو پیدل غبور کرکے چین کے سرحدی شہر تکلاکوٹ پہنچتے ہیں ۔ ہیلی کوپٹر سے آئے ہوئے یاتریوں کو یہاں ہوٹلوں میں دو دن تک رکنا پڑتا ہے تاکہ وہ بلندی کے عادی ہوجائیں ۔ تیسرا راستہ نیپال سے پیدل چل کر یاتری تکلا کوٹ پہنچتے ہیں ۔ ان کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار ہوتی ہے اور ان کے ساتھ میڈیکل کی ٹیمیں جگہ جگہ ان کا بلڈ پریشر وغیرہ چیک کرتی رہتی ہیں اور تکلا کوٹ سے انہیں اگلے روز مان سرور کی یاترا پر یہ بسوں کے ذریعہ جاتے ہیں ۔

یہ یاتری جھیل مانسرور کی پوجا کے بعد وہیں ریسٹ ہاؤسوں میں رکتے ہیں اور اگلے روز وہیں سے یا واپس ٹکلا کوٹ سے بسوں کے ذریعے کیلاش کی یاترا کے لیے جاتے ہیں ۔ یہ یاترا ایک چھوٹے سے مندر جو موت کے دیوتا یم کے نام سے بنا ہے شروع کرتے ہیں ۔ یہاں مذہباً گاڑیوں پر یاترا ممنوع ہے ، اس لیے پیدل یا گھوڑوں پر سفر کرتے ہیں ۔ غالباً اس لیے کیلاش کے گرد چینوں نے سڑکیں تعمیر نہیں کیں ہیں اور نہ ہی یہاں کے ناہموار پتھریلے راستہ کو صاف کیا ہے ۔ یاتری یہاں پتھریلے اور ناہموار راستے پر ہی کیلاش کی یاترا کرتے ہیں ۔ اس پہاڑ پر عقیدت مند یاتریوں کو کیلاش پر شیو لنگ ، پاربتی ، گنش ، کارٹیکا اور ترشول کو تلاش کرتے ہیں اور عقیدت مندوں کو وہ نظر بھی آتے ہیں ۔ یہاں بہت سے یاتری ایسے بھی ملتے ہیں جو کہ ہر قدم پر ڈنڈوت کرتے ہیں اس طرح یہ یاترہ کرتے ہیں ۔ یاتری اپنی رات وہیں ہوسٹلوں میں گزارتے ہیں ۔ کیلاش کے گرد بہت سی گھپائیں ہیں ۔ جن میں برف اکثر جمی رہتی ہے مشہور ہے کہ یہاں رشی رہتے ہیں ۔ تاہم کسی رشی کو یہاں دیکھا نہیں گیا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں